میں نے خود۔۔سلیم فاروقی

 میں نے خود تو سنا نہیں لیکن وسعت اللہ خان کی ایک وائرل وڈیو سے معلوم ہوا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس وصولی پر پابندی عائد کردی ہے۔ سادہ لوح لوگوں کا یہ فیصلہ سن کر خوشی کے مارے برا حال ہے۔ ہائے بے چارے سادہ دل لوگ۔ اس قسم کے فیصلے سنانے والے خدا جانے کس دنیا میں رہتے ہیں، زمینی حقائق سے دور کسی دنیا کے۔فیصلے سنا دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں بہت بڑا تیر مار لیا۔ کیا انہوں  نے چینی کی قیمت فروخت والے فیصلے سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک پاپولر لیکن ناقابل عمل فیصلہ ہے۔ کیا عدلیہ نے اس بات کا انتظام کردیا ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران  سکولوں کی عمارتوں کے مالکان کرایہ وصول نہیں کریں گے، اساتذہ تنخواہیں لینا چھوڑ دیں گے،  سکولوں کو بجلی، پانی کے بل نہیں بھیجے جائیں گے، ان دو ماہ کے دوران  سکولوں کو صفائی ستھرائی سے مبرا قرار دیا جائے گا تاکہ یہ خرچہ بھی بچایا جاسکے۔ اور کیا عدلیہ نے والدین کو بھی پابند کردیا ہے کہ وہ بھی مقررہ تاریخ تک ماہانہ فیس ادا کردیا کریں بصورت دیگر وہ بھی توہین عدالت کے مرتکب قرار دیے جائیں گے؟عدلیہ نے کیا اس بات کا اہتمام کرلیا ہے کہ اس قسم کے مریخی فیصلوں پر عملدرآمد کے  باعث جب پرائیویٹ  سکول ختم ہوجائیں گے تو  سکولوں سے فارغ ہونے والے بچوں کو کن کن گلیوں میں آوارہ گردی کی اجازت ہوگی اور کون کون سے جوا کلب دن میں بچوں کے لیے کھلے رہیں گے۔

لگے ہاتھوں اس بات کا تعین بھی کردیا جائے کہ کل آبادی کے کتنے فیصد بچے نشہ کریں گے اور کتنے فیصد کو نشہ فروخت کرنے کی اجازت ہوگی؟ کتنے بچے چوری چکاری کریں گے اور کتنے لڑائی جھگڑوں کو بطور پیشہ اپنائیں گے۔ یہ تمام فیصلے اس لیے ضروری ہیں کہ سرکاری تعلیمی “سہولیات” جیسی اس حر کت کے  بعد جب جج صاحبان کا ہتھوڑا پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بھی توڑپھوڑ کر رکھ دے گا تو اس کے بعد یہی کچھ ہونا ہے۔ بلکہ اس فیصلے کو قابل عمل ثابت کرنے کے لیے عدلیہ کے ججز کو بھی اپنی گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران تنخواہ اور ہر قسم کے الاؤنسز وصول کرنے سے انکار کردینا چاہیے۔ سچ یہ ہے کہ عدلیہ کے اس طرح کے فیصلوں سے بڑی کوئی اور توہین عدالت ہو ہی نہیں سکتی ہے۔

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *