نگارشات    ( صفحہ نمبر 56 )

ملتان کی سرسبز زمین کا المیہ: درختوں کی بے دردی سے کٹائی اور آم کے باغات کا خاتمہ/ادیب احمد راؤ

گزشتہ چند برسوں میں جو ظلم ملتان کی سرزمین، اس کے سائے دار درختوں اور آموں سے لدے باغوں پر ڈھایا گیا، وہ کسی موسمی یا قدرتی آفت کا نتیجہ نہ تھا بلکہ انسانی حرص، مفاد پرستی اور ترقی کے←  مزید پڑھیے

بربادی کے عنوان /ڈاکٹر مختیار ملغانی

فرانسیسی فلسفی رینے گینوں نے جوان عمر میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا، واقعہ یہ ہے کہ علم کے میدان میں کلاسیکی جرمن فلاسفرز ایک طرف ہوں اور دوسری طرف رینے گینوں ہوں تو گینوں کا پلڑا بھاری پڑ←  مزید پڑھیے

بیسویں صدی کا دوسرا عشرہ اور بڑی اماں/ اقتدار جاوید

ایک بے دردیوار صحن تھا اور چار گھر۔ان چاروں گھروں کے سامنے کوئی دیوار کوئی دروازہ نہیں تھا۔ایک گلی تھی جو گاؤں کے ٹبے سے بائیں ہاتھ مڑتی اور کھیتوں کھلیانوں کو نکل جاتی۔یہ چار گھر گاؤں کے ایک Slum←  مزید پڑھیے

خاموشی ،آخر کب تک؟-قادر خان یوسفزئی

بلوچستان کی سرزمین صدیوں سے محبت، مہمان نوازی اور حُریت کی امین رہی ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں اس عظیم خطے کی پہچان صرف اور صرف خوف، دہشت اور تشدد بن کر رہ گئی ہے۔ یہاں پر ہونے والے اندوہناک←  مزید پڑھیے

باقیاتِ نثرِ شبلی : ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کا ایک اور کارنامہ/ تعارف و تبصرہ : شکیل رشید

کچھ تحریریں پڑھ کر لکھنے والے یا لکھنے والوں کی جہالت پر سر پیٹ لینے کو جی کرتا ہے ، لیکن کچھ تحریریں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے ایک دو اقتباس پڑھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے ،←  مزید پڑھیے

عورت سے محبت کا آرکی ٹائپ/قاسم یعقوب

عابد سیال کے مقبولِ عام پرپروگرام ’’ایک سوال‘‘ میں فرخ ندیم سے گفتگو دلچسپ رہی۔ فرخ نے اپنی گفتگو میں سماج کے آرکی ٹائپل تصورات کے پولیٹکل ہونے کی روایت کو کھوجنے کی کوشش کی۔ مزے کی بات کرتے ہوئے←  مزید پڑھیے

جب جنازے روز کا معمول بن جائیں، تو کیا ریاست محض ناظر بنی رہے؟- قادر خان یوسف زئی

مارچ کا مہینہ پاکستان کے لیے ایک اذیت ناک داستان چھوڑ گیا۔ جب ایک کے بعد ایک دھماکے سننے کو ملے، جب جنازے روز کا معمول بن گئے، جب سکیورٹی اہلکاروں کے تابوت کندھوں پر اٹھنے لگے اور جب ماؤں←  مزید پڑھیے

ٹرمپ حکومت کا پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد ٹیرف ٹیکس کا نفاذ /ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد ٹیرف ٹیکس کا نفاذ پاک امریکہ اقتصادی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ وائٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس←  مزید پڑھیے

ویژنری  اور قوم پرست لیڈر قوم و ملک کو بناتا ہے /اطہر شریف

شملہ معاہدہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹونے اپنی زبردست اعلی درجہ کی سفارت کاری کر کے اندرا گاندھی کو مجبور کر دیا بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی بھٹو کو مذکرات کی←  مزید پڑھیے

دیدے کی یاد میں/انور عباسی

ارادہ تھا کہ عید کے بعد عید کےسلام و دعا کے لئے والدین کی قبروں پر حاضری دوں گا مگر خود ہی بستر پر لڑھک گیا۔ آنکھیں بند کیں تو وہ سامنے کھڑی تھیں۔ پانچ فٹ پانچ انچ کے قریب←  مزید پڑھیے

افغان مہاجرین کی واپسی-ایک غلط فہمی/ایڈووکیٹ قاسم اقبال جلالی

افغان مہاجرین کی واپسی کے متعلق ایک غلط فہمی، جسکا شکار بعض دانشور بھی ہیں، وہ یہ ہے کہ مہاجرین کی واپسی کیلئے مناسب وقت نہیں دِیا گیا. دوسرا یہ کہ جن کے پاس Proof of Registration یعنی PoR کارڈ←  مزید پڑھیے

اردو اور استادے,بے استادے/ اختر شہاب

اللہ معاف کرے سوشل میڈیا پر آج کل جو اردو کا بیڑا غرق ہو رہا ہے اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ایک صاحب کے کہنے پر ناول اورافسانہ سے متعلق ایک نام نہاد ادبی←  مزید پڑھیے

آپ اور روح/محمد رضوان خالد چوہدری

اپنا اور روح کا فرق سمجھنے کے لیے بس ایک ہی نُکتہ سمجھ لینا کافی ہے اور وہ یہ ہے کہ میرا نفس ہی میں ہوں، یا یوں کہہ لیجیے کہ نفس میری وہ حقیقی ذات ہے جو اس دنیا←  مزید پڑھیے

تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے/سلیم زمان خان

ایام نوجوانی میں جب اسلامیات کا چسکا پڑا تو اسلامی معیشت میں یہ واقعہ پڑھا۔۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک بوڑھے یہودی کو بڑی خستہ حالت میں دیکھا۔ آپؓ نے فرمایا: خدا کی قسم! یہ انصاف کا تقاضا نہیں←  مزید پڑھیے

بھٹو ایک عشق / اطہر شریف

ذوالفقار علی بھٹو منوں مٹی تلےدفن ہونے کے باوجود ابھی تک کیوں زندہ ہے؟ آج بھی لوگ بھٹو کے حق اور مخالفت اس طرح ہی گرم گرم بحث کرتے ھیں جس طرح بھٹو کی ذندگی میں کرتے تھے۔کچھ لوگوں نے←  مزید پڑھیے

ابلیس کی مجلسِ شوریٰ: ایک پرولتاریہ تنقید (تیسری قسط) – کامریڈ فاروق بلوچ

مارکسی تناظر میں ابلیس کا “نظامِ کہن” اور جدلیاتی مادیت اقبال کے ابلیس کی فکر کا بنیادی محور “نظامِ کہن” کی بقا ہے۔ وہ اپنے مشیروں کو یقین دلاتا ہے کہ اگر پرانی سماجی، سیاسی اور معاشی روایات برقرار رہیں←  مزید پڑھیے

سوچ کا ایک نیا زاویہ ہے، ملاحظ کیجیے/حسین رضا

“کتابوں کا مُوشِگافیانہ علم بمقابلہ تجرباتی اسباق کا عَملی علم ایک سینئر صحافی کے ساتھ جنوبی پنجاب جانا ہوا۔ سفر کی بوریت ختم کرنے کے لیے کتابی اور تجرباتی علم پر تبادلہ خیال ہوا۔ میری رائے یہ تھی کہ کتابی←  مزید پڑھیے

سہارنپور اور اس کے محلے /ناصرالدین مظاہری

حالانکہ سہارنپور شہر کے محلوں کے نام ایک سے بڑھ کر ایک فارسی آمیز اور خوب صورت ہیں، یہاں کے بے شمار محلے اتنے پیارے ناموں پر مشتمل ہیں کہ ممکن ہے محلہ والوں کو بھی ان ناموں کی خوب←  مزید پڑھیے

عید، انرجی اور مائنڈ سائنسز / محمد ثاقب

عید کی آمد آمد ہے برکت کا دن خوشیاں بانٹنے کا دن اور اپنی انرجی کو بڑھانے کا ایک بہت بڑا سورس۔ لیکن عید آنے سے پہلے آپ نے اپنی جیب کو دیکھا تو وہ خالی ہے۔ اس بار بجلی←  مزید پڑھیے

جھوک فنا دی ہئے: ایک شخص، ایک زمانہ، ایک جدوجہد/محمد عامر حسینی

ہجرت کبھی اختیاری نہیں ہوتی، یہ ہمیشہ جبری ہوتی ہے، چاہے اس کے جواز کتنے ہی معقول ہوں۔ مہاجر جس دھرتی پر جا کر بستے ہیں، وہاں کی شناخت کو اوڑھنا پڑتا ہے، اور اس انجذاب میں اختیار نہیں، جبر←  مزید پڑھیے