خود کلامی کا روزنامچہ /اقتدار جاوید
رات سیاّل ہے سیمگوں ظرف میں ہے انڈیلا اسے ایک جرعہ بھرا اور ستارہ ہوئی اندروں ہے نمی ایک سرخی اذیت بھری جھرجھری اک سفیدی کہ لذت سے آمیخت ہے زندگی کھل اٹھی اب ہے سجدہ فگن ایک نوخیزپن روح← مزید پڑھیے
