مہمان تحریر کی تحاریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

عرفان صدیقی کی گرفتاری، چند سادہ سوال جواب۔۔۔۔ عامر خاکوانی ۔

سوال : کیا کرایہ داری قانون پر لوگوں کو ہتھکڑی لگا کر عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے؟ کیا یہ عام روایت ہے ؟ جواب : نہیں ، ہرگز نہیں۔ اس قانون کے تحت مکان کرایہ پر دینے سے پہلے←  مزید پڑھیے

رہتے ہیں اک مکاں میں مگر بولتے نہیں۔۔۔حسن نثار

رہتے ہیں اک مکاں میں مگر بولتے نہیں کبھی PIAکا یہ نعرہ صحیح معنوں میں قوم کے اجتماعی مزاج کی ترجمانی کرتا تھا۔ ’’باکمال لوگ لاجواب پرواز‘‘ پھر یوں ہوا کہ ’’لاجواب پرواز‘‘ تو ’’شہباز سپیڈـ‘‘میں مبتلا ہو کر ٹی←  مزید پڑھیے

ہمارا بابا اوپر ۔۔۔سہیل وڑرائچ

کیا دوست کیا دشمن، سب کی نظریں ادھر ہی لگی تھیں، ان کا بابا عجیب ہے، پتا نہیں کب کیا کہہ دے اور کب کیا کر دے۔ ہمارا بابا بھی بڑا خوددار اور ضدی ہے، یہ بھی کَبّا اور وہ←  مزید پڑھیے

بین الاقوامی عدالت اور کل بھوشن جادھو۔۔۔۔افتخار گیلانی

کل بھوشن کے پاس آخر دو پاسپورٹ کیوں تھے اس کی وضاحت دہلی میں کسی کے پاس نہیں ہے۔ مگر اکثر ماہرین اس بات پر بھی حیران ہیں کہ آخر پاکستان نے خفیہ عدالتی کارروائی کے ذریعے اس کو سزائے←  مزید پڑھیے

امی میرا کیا بنے گا۔۔۔۔ملک آفتاب احمد

امی کے انتقال سے تقریباً دو سال پہلے یہ مضمون لکھا تھا ۔ آج صبح یونہی کسی اور مضمون کی تلاش میں تھا تو یہ نظروں سے گزرا تو سہانی صبح اداس شام میں ڈھل گئی ۔ ماں کے بعد←  مزید پڑھیے

ٹرمپ سے بھی زیادہ گریٹ لیڈر؟ ۔۔۔۔حامد میر

سپر پاور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایک دوسرے کی تعریفوں میں زمین و آسمان ایک کر دیا۔ وائٹ ہائوس میں عمران خان کو خوش آمدید کہنے کے بعد ٹرمپ نے پاکستان کے←  مزید پڑھیے

دورہ کی کامیابی نہیں ریکوری، ٹی ٹی نہیں ٹکٹکی ۔۔۔۔حسن نثار

قدم قدم پر خیال آتا ہے کہ ن لیگ کے نٹ بولٹ بری طرح ڈھیلے ہوتے جا رہے ہیں اور اگر سلسلہ یونہی جاری رہا تو اتفاق فائونڈری میں تیار ہوا یہ مصنوعی سیاسی شہکار پھر سے سکریپ میں تبدیل←  مزید پڑھیے

کارگل کی ذمہ داری کبھی کسی پر عائد نہیں کی جائے گی: مشاہد حسین

کارگل کے محاذ پر ہونے والی لڑائی کو 20 برس بیت گئے ہیں۔ یہ لڑائی مئی سے جولائی 1999 کے درمیان لائن آف کنٹرول کے ساتھ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کارگل کی برفانی چوٹیوں پر لڑی گئی۔←  مزید پڑھیے

شہزادہ زرنونی، قطری شہزادہ اور سلور رولز رائس۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ/دوسرا حصّہ

پہلا حصّہ : ریت میں اُگا ہوا شہر۔۔دوبئی۔۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ ریت میں اَٹا ہوا شہر دوبئی اور میں اجنبی نہ تھے۔ ہماری بہت سی ملاقاتیں ٹھہر چکی تھیں۔ کبھی یورپ سے واپسی پر عارضی قیام اور کبھی اپنے شو ’’شادی←  مزید پڑھیے

پاکستان کی نظریاتی الجھنیں اور ریاستی دانشور۔۔۔ایوب ملک

میرا یہ  آرٹیکل جنگ اخبار میں نہیں چھپ سکا۔ اس میں صفدر محمود کے ان الزامات کا جواب دیا گیا تھا جو انھوں نے میاں افتخارالدیں اور دوسرے ترقی پسند انقلابیوں پر لگائے تھے ۔ ———————————– دنیامیں دانشوروں نے اپنی←  مزید پڑھیے

دوست تیرے ساتھ تو ہاتھ ہوگیا۔۔۔۔ارشاد بھٹی

رات کا تیسرا پہر، اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں سڑک کنارے ڈھابہ، بارش تھم کر پھر سے برسنے والی، تیز بھیگی ہواؤں کے تھپیڑے، میں اور رؤف کلاسرا آمنے سامنے کرسیوں پر بیٹھے ہوئے، ’’اب قہوہ نہ منگوائیں؟‘‘، چائے←  مزید پڑھیے

زمانے کا زیر و زبر۔۔۔حامد میر

اردو کے نامور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو اور ممتاز قانون دان عابد حسن منٹو کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں لیکن عابد حسن منٹو کے خیال میں سعادت حسن منٹو نے←  مزید پڑھیے

ہماری زندگی کا سب سے اہم کام ۔۔۔یاسر پیرزادہ

ہماری زندگیوں میں ایک کام ایسا ہے جو دنیا کے باقی تمام کاموں سے زیادہ اہم ہے، زمانہ قدیم سے اس کام کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی، ہماری زندگی کا ہر لمحہ، ہمارا حال، ہمارا مستقبل اس کام←  مزید پڑھیے

ریت میں اُگا ہوا شہر۔۔دوبئی۔۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

ہم ریت میں اگے ہوئے اس شہر کی جانب پرواز کرتے جاتے تھے جسے عرف عام میں دوبئی کہا جاتا ہے۔ ہم اپنی مرضی سے نہیں مجبوری سے اس شہر کی جانب چلے جاتے تھے جو اب بھی بہت سے←  مزید پڑھیے

افسانہ: ’ لنچنگ

بوڑھی عورت کو جب یہ بتایا گیا کہ اس کے پوتے سلیم کی’لنچنگ‘ ہو گئی ہے تو اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اسے اندازہ تھا کہ  انگریزی کے لفظ اچھے ہوتے ہیں اور اس کے پوتے  کے  بارے میں←  مزید پڑھیے

عمران خان اور عافیہ صدیقی۔۔۔۔حامد میر

وہ ایک عورت نہیں، وہ ایک جیتا جاگتا المیہ ہے۔ پاکستانی قوم کو اس المیے کے متعلق سب سے پہلے عمران خان نے آگاہ کیا تھا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ 2002کے انتخابات سے جنم لینے والی قومی اسمبلی میں←  مزید پڑھیے

جاگ اٹھا ہے سارا وطن، سو رہا ہے حمایت علی شاعر۔۔۔۔حسن نثار

کیس ففٹی ففٹی کا تھا بلکہ زیادہ امکان اس بات کا تھا کہ آج ناغہ ہو گا لیکن حمایت علی شاعر کے انتقال کی خبر کوئی معمولی خبر نہیں، اک عہد کے خاتمہ کا اعلان ہے۔ حمایت علی شاعر، شاعر،←  مزید پڑھیے

ریکوڈک ۔اب آرام ہے؟۔۔۔۔یاسر پیرزادہ

ریکوڈک کا غلغلہ آج سے آٹھ دس سال پہلے اٹھا تھا، ان دنوں اخبارات میں خبریں شائع ہوئی تھیں اور بچے بچے کی زبان پر ریکوڈک کا نام چڑھ گیا تھا، کہانی سب کی ایک ہی تھی کہ سونے اور←  مزید پڑھیے

نہ اوہ مومن، نہ اوہ کافر، شاہ حسین۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

ربا! میرے حال دا محرم توں اندر توں ہیں، باہر تو ہیں، رُوم رُوم وِچ توں توں ہی تانا، توں ہی بانا، سبھ کجھ میرا توں کہے حسین فقیر نمانا، میں ناہیں سبھ توں! محبوب الحق…حضرت شیخ مادھو رحمتہ اللہ←  مزید پڑھیے

میٹرک فیل سے ٹی ٹی پاس تک ۔۔۔حسن نثار

آج کچھ ’’نان سیریس‘‘ اور ہلکی پھلکی باتوں پر ہی اکتفا کریں گے جس کا آغاز میں اپنے آبائی شہر لائل پور سے کروں گا جسے جہالت کی ’’سازش‘‘ نے فیصل آباد بنا دیا، حالانکہ شہروں، شاہراہوں، باغوں وغیرہ کے←  مزید پڑھیے