رہتے ہیں اک مکاں میں مگر بولتے نہیں۔۔۔حسن نثار

رہتے ہیں اک مکاں میں مگر بولتے نہیں کبھی PIAکا یہ نعرہ صحیح معنوں میں قوم کے اجتماعی مزاج کی ترجمانی کرتا تھا۔ ’’باکمال لوگ لاجواب پرواز‘‘ پھر یوں ہوا کہ ’’لاجواب پرواز‘‘ تو ’’شہباز سپیڈـ‘‘میں مبتلا ہو کر ٹی ٹیوں کی بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد اس بری طرح گرائونڈ ہوئی کہ دوبارہ کبھی اٹھنا یعنی ٹیک آف کرنا ہی بھول گئی۔ اب تو اس دن کا انتظار ہے جب پائیلٹ چار خانوں کی دھوتی اور سلوکا پہن کر کندھےپہ پرنا رکھے چھانٹا لہراتا ہوا کچھ یوں جہاز سے نکلے گا کہ لاہور کے پرانے کوچوان بھی دانتوں میں انگلیاں دبانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ PIA اور قوم نے ایک دوسرے کو مایوس نہیں کیا، ساتھ ساتھ ہی ترقی کی منازل طے کی ہیں سو آج جیسی قوم ویسی قومی ایئر لائن۔اقبال نے نجانے کس خیال میں گم کہا تھا۔ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرمرزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومناقبال کو اندازہ نہیں تھاکہ حلقہ ہائے یاراں تو کیا یہاں ’’حلقہ ارباب ذوق‘‘ تک باقی نہیں بچا، اور رہ گیا ’’رزم حق و باطل‘‘ تو رزم ضیا الحق و دیگر کےبعد تو کوئی میدان ہی باقی نہیں بچنا۔ کچھ میدانوں کی چائنا کٹنگ ہو جائے گی اور باقیوں پر قبضے کرکے پلازے بنا لئے جائیں گے تو یہ ملی نغمہ مزید مقبول ہو جائے گا۔’’یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسباں اس کے‘‘واہ کیسے انداز میں ’’حق پاسبانی‘‘ ادا کیا کہ لوگ پینے کے صاف پانی کے لئے بھی ترس گئے اور ہر شعبہ ’’نیلام گھر‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا۔ ’’نیلام گھر‘‘ بھی اپنا، نیلام ہونے والا سامان بھی اپنا، نیلام کرنے والے بھی اپنے اور نیلامی کا سامان خریدنے والے بھی اپنے، اور ہر شے کی قیمت صرف ایک عدد ’’مردہ ضمیر‘‘ اور یوں یہ طے ہوا کہ:’’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں‘‘قصور کی زینب سے لے کر لاہور، لاڑکانہ تک کی شہزادیاں سب ایک ہیں۔ ڈگریاں اٹھائے جوتیاں چٹخاتے ’’ایاز‘‘ اور ایون فیلڈ کے ’’محمود‘‘ بھی ایک ہیں، جاتی اُمرے اور بلاول ہائوس سے لے کر فٹ پاتھوں پر فروکش ’’ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ‘‘۔عجیب ’’کیریکٹر‘‘ ہے کہ اس دھوم دھڑکے اور دھڑلے سے کوئی سچ نہیں بولتا جتنے تام جھام، دھوم دھام سے یہاں جھوٹ پہ جھوٹ بولے جاتے ہیں اور کمال یہ کہ صرف بولے ہی نہیں جاتے، سنجیدگی سے سنے بھی جاتے ہیں ورنہ تھوڑی سی عقل بھی ہو تو آدمی الٹے ہاتھ کا تھپڑ رسید کرے۔ پنجابی کا محاورہ ہے کہ ’’اکھیاں دیکھ لیں تو مکھیاں نگلنا ممکن نہیں ہوتا‘‘ لیکن یہاں ہر کوئی ہر کسی کو مکھیوں کا حلوہ یا پاستا پیش کرتا دکھائی دیتا ہے۔اپوزیشن اور حکومت، آج کل دونوں کی پرفارمنس پورے عروج پر ہے۔ اپوزیشن کے ’’یوم سیاہ‘‘ کا جواب نہیں اور حکومتی ڈھول اور ڈھولکیاں امریکہ کے ’’کامیاب‘‘ دورہ کو امریکہ کی فتح ثابت کرنے پر تلی ہیں۔ باری باری دونوں پر تھوڑا تھوڑا غور کرتے ہیں۔اپوزیشن کا اک مشترکہ اخباری اشتہار (مورخہ 24جولائی) میرے سامنے ہے۔ اپوزیشن کی طرح اس کے بے سرے، بے تکے اشتہار کا بے مغز مضمون تو چھوڑیں، بیہودہ لے آئوٹ کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے اشتہار کے بالکل اوپر چار تصویروں پر غور فرمائیں جو ملکی جمہوریت کی اصلی تصویر ہے۔پہلی تصویر نواز شریف دوسری شہباز شریف تیسری مریم چوتھی حمزہ کی ہےیہ وہ لوگ ہیں جو لفظوں کا بھرم رکھنے کی حد تک بھی کسی تکلف کا تردد محسوس نہیں کرتے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی کسی کے گھر جا کر اہل خانہ سے پوچھے ’’میں تو تشریف لے آیا ہوں، صاحب خانہ کہاں دفعہ ہوگیا ہے‘‘۔ جسے جمہوریت کی جیم سے بھی واقفیت ہو، یہ اشتہار اس کے منہ پر کسی زناٹے دار تھپڑے سے کم نہیں لیکن اک خاص ’’نسل‘‘ کے لئے یہی جمہوریت کا حسن ہے حالانکہ یہ جمہوریت کا جذام، کوڑھ اور ایڈز ہے۔دوسری طرف حکومتی حلقے یوں پھدک رہے ہیں جیسے وزیر اعظم واشنگٹن ڈی سی کی رجسٹری کرا لایا ہو حالانکہ جو کچھ ہوا تقریباً متوقع اور نارمل تھا جس میں اکلوتا اچھوتا پن ایرینا والا جلسہ تھا جو آئیڈیا سے لے کر امپلی مینٹیشن تک خوب تھا۔خارجہ امور نہ کبھی میرا موضوع تھے، نہ ہیں، نہ ہوں گے لیکن مجھ جیسا اناڑی بھی اس دورے سے پہلے ’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں یہ بات تفصیلاً عرض کرچکا ہے کہ …..’’امریکہ اور پاکستان، دونوں کی اپنی اپنی مخصوص ضروریات ہیں جن کی شدت اور اہمیت میں تو فرق ہو سکتا ہے لیکن اہمیت مسلمہ ہے۔ سو خیر ہی خیر ہے‘‘۔ میں نے ہندوستان، افغانستان، ایران، چین ہی نہیں ان برادر اسلامی ملکوں کا حوالہ بھی دیا جنہوں نےپچھلے دنوں ہمارا ہاتھ پکڑا اور ساتھ ہی یہ عرض بھی کیا کہ آئی ایم ایف سمیت ان ملکوں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو امریکن اشیرباد کے بغیر دست تعاون بڑھانے کی مہم جوئی کرتا۔ یہاں تک کہ میں نے صدر ٹرمپ کے اس رعونت بھرے بیان کا ذکر بھی کیا جو اس نے اک عرب ملک کے بارے دیتے ہوئے چند ماہ پہلے کہا تھا کہ ’’یہ تو ہمارے بغیر چند ہفتے بھی قائم نہیں رہ سکتا‘‘۔ یاد رہے یہ وہ ملک ہے جس کے دورے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کو 1.2 بلین ڈالرز مالیت کے سونے اور بیش قیمت پتھروں سے مزین تاریخ کے مہنگے ترین تحائف پیش کئے گئے تھے اور اگران کی تفصیلات میں جائوں تو اس کے لئے اک اور کالم کی ضرورت ہوگی۔عرض کرنے کا مقصد یہ کہ حکومت ہو یا اپوزیشن اصلاً تو دونوں طرف ہم ہی ہیں جو بنیادی طور پر ایک ہی جیسے لوگ ہیں۔ حال ہم سب کا مشہور مصور اسلم کمال کے اس شعر سے ملتا جلتا ہے۔اسلم ہے میرا نام کمال اس کا نام ہےرہتے ہیں اک مکاں میں مگر بولتے نہیںاللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے اور پہچان تبدیل کرنے میں ہماری مدد فرمائے! آمین۔

روزنامہ جنگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *