امی میرا کیا بنے گا۔۔۔۔ملک آفتاب احمد

امی کے انتقال سے تقریباً دو سال پہلے یہ مضمون لکھا تھا ۔ آج صبح یونہی کسی اور مضمون کی تلاش میں تھا تو یہ نظروں سے گزرا تو سہانی صبح اداس شام میں ڈھل گئی ۔

ماں کے بعد میرا کیا بنے گا۔۔۔
میں موٹر وے پر نظریں  جمائے اپنی سوچوں میں گم گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔ اچانک پچھلی سیٹ سے آنے والی آواز نے مجھے چونکا دیا – ’آفتاب ہم کتنی دیر میں گاوں پہنچ جائیں گے۔‘ امی بس ایک گھنٹہ اور، میں نے جواب دیا -’اچھا اخلاق کب تک پہنچے گا‘ امی بھائی جان اخلاق نے کونسا کہیں دور سے آنا ہے۔ وہ تو گاوں میں ہی رہتے ہیں۔ ’اچھا؟‘ امی نے سوچتے ہوئے کہا۔ ’میں تو سوچ رہی تھی کہ اس نے بھی اسلام آباد سے جانا ہے تو اسے دیر نہ ہو جائے‘۔ میں ہنس پڑا اور بولا ’امی آپ کو یاد نہیں رہتا ناں ۔ بھائی جان اخلاق تو وہیں گاوں میں ہی ہوتے ہیں ۔‘ تھوڑی دیر گاڑی میں خاموشی چھائی رہی پھر امی بولیں ۔’ آفتاب میرا تو دماغ خراب ہوتا جا رہا ہے۔ مجھے تو کچھ یاد نہیں رہتا۔ میرا کیا بنے گا‘۔

میرا کیا بنے گا؟ مجھے یوں لگا کہ اس جملے نے میرے دل کو شکنجے میں جکڑ لیا اور دکھ اور اداسی کی ایک دبیز چادر نے میرے وجود کو ڈھک لیا۔ میں بمشکل بولا ’امی اس عمر میں ایسا ہو جاتا ہے اور آپ کو کیا فکر ہے کہ آپ کا کیا بنے گا۔ ماشاءاللہ آپ کے بچے اور ان کے بچے موجود ہیں آپ کا خیال رکھنے کے لیے۔ آپ ٹھیک بھی ہو جائیں گی اور آپ کا خیال بھی بہت اچھا رکھا جائے گا۔‘
آج اس بات کو کئی ماہ گزر چکے ہیں۔- امی کو اب ایک ہفتہ پہلے کی بات اکثر اوقات یاد نہیں رہتی۔ ان کو تو یہ بات بھول بھی چکی ہو گی مگر میرے دل میں یہ بات پھانس کی طرح اب بھی موجود ہے۔ میری امی جو گھنٹوں بلکہ سارا سارا دن کام کرنے کے بعد بھی ہنستی مسکراتی نظرآتی تھیں ۔ جن سے مشورے اور رہنمائی کے لیے سارے محلے کی عورتیں باری باری ہمارے گھر کے چکر لگاتی تھیں۔ جن کی حسِ مزاح بد ترین حالات میں بھی برقرار رہتی تھی ۔ جن کی ساری زندگی اپنے آرام کو تج کر ہمارے سکون کو یقینی بنانے میں گزری، اور جو خود ہمارا سہارا اور طاقت تھیں وہ آج کتنی بے بسی سے پوچھ رہی تھیں ۔۔آفتاب میرا کیا بنے گا ۔

مائیں ساری زندگی اپنے بچوں کا سہارا اور طاقت بنی رہتی ہیں ۔ ان کو دنیا کی ہر آفت سے بچانے کو کوشش کرتی ہیں زندگی کے ہر طوفان کے سامنے دیوار بن جاتی ہیں۔ پھر ایسا وقت کیوں آتا ہے کہ ان کو اپنے بچوں سے پوچھنا پڑتا ہے کہ میرا کیا بنے گا۔ یہ بے یقینی اور یہ عدم تحفظ کہاں سے دَر آتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ساری زندگی کا لا اُبالی پن اور بے نیازیوں سے گزرنے کے بعد جب ماں کے رشتے کی صحیح قدر سے واقفیت ہوتی ہے اسی وقت جدائی کے خدشات دل میں سرسرانے لگتے ہیں۔ جب اپنے بچے بڑے ہونے لگتے ہیں اور ان کی بے اعتنائیاں اور بسا اوقات سرکشی دل میں چبھنے کے بعد اس تکلیف سے آشنائی کرواتی ہے جو اپنے ماں باپ کو دی تھی تو اس تکلیف کا مداوا کرنے کا وقت کتنا کم باقی رہ گیا ہوتا ہے اور جب یہ احساس بھی ہونے لگے کہ کہیں ایسا وقت نہ آ جائے کہ غلطیوں کا مداوا کرنے کی کوشش بھی ہو تو شاید اس کوشش کا ذہن پر نقش چھوڑنے کا وقت گزر چکا ہو تو یقینا ًایک حزنیہ کیفیت کا دل کو گھیرے رکھنا کچھ عجب نہیں ۔

زندگی کتنی عجیب ہے۔ بہت سی چیزیں بہت عرصے تک ہمارے پاس ہوتی ہیں مگر ان کی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں ہوتا اور اندازہ یا تو ہوتا ہی ان کے چھننے کے بعد ہے یا پھر جب اندازہ ہوتا ہے تو کچھ ہی عرصے کے بعد وہ چیز ہم سے چھن جاتی ہے۔ ان چیزوں میں سے سب سے قیمتی چیز ماں کا رشتہ ہے ۔ مائیں ہماری زندگیوں میں ہوا اور پانی کی طرح موجود ہوتی ہے ۔ہمیں معلوم تو ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کی بقا کے لیے یہ بنیادی چیزیں ہیں مگر ہم ان کی موجودگی کو اہمیت نہیں دیتے۔ ذرا تصور کریں کہ آج آپ کو کوئی بتا دے کہ ایک سال یا چند ماہ بعد ہوا یا پانی کی نعمت آپ سے چھین لی جائے گی تو آپ کا ردِعمل کیا ہو گا ۔ ایک ایک دن قیمتی اور انمول محسوس ہو گا۔ ایک ایک دن ایک ایک لمحے کے ہاتھ سے پھسلنے کا احساس ہمیشہ دل کو کچوکے دیتا رہے گا۔ ماوں کا معاملہ بھی اسی قسم کا ہے ۔ ایک خاص عمر کے بعد ہی ان کے ساتھ گزارا ہوا ہر پل قیمتی اور انمول ہوتا ہے کیونکہ یہ احساس دل کے نہاں خانوں میں جاگزیں ہوتا ہے کہ یہ خوبصورت لمحات ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہے ہیں۔ دعاوں کا سایہ سر سے اٹھنے کا خدشہ چین نہیں لینے دیتا اور محبت بھری آغوش کے ہمیشہ کے لیے چھن جانے کا خوف آنکھوں کو نم کیے رکھتا ہے ۔

مولانا ابوالحسن علی ندوی اپنی کتاب پرانے چراغ میں اپنے پھوپھا مولانا سید طلحہ حسینی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب بھی میری کوئی نئی کتاب چھپ کر آتی تھی تو کوشش ہوتی تھی کہ جلد از جلد مولانا طلحہ تک پہنچے کیونکہ ان کی داد و تحسین یا تعریف میرے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی ۔ ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنی کسی کامیابی کی خبر سب سے پہلے اسے سنائے جو اسے سن کر سب سے زیادہ خوش ہو گا اور سچے دل سے خوشی میں شریک ہوگا اور ماں سے زیادہ بچوں کی کامیابیوں اور کامرانیوں میں سچے دل سے خوش کون ہو سکتا ہے ۔ اچھی خبریں اور کامیابیاں تو ماوں کے جانے کے بعد بھی ملتی رہتی ہیں مگر ان سے وہ مسرت اور تسکین حاصل نہیں ہو پاتی جو کہ ماں کو وہ خبر سنا کر حاصل ہو سکتی تھی ۔

امی ابھی تو آپ کو بہت سی ایسی خبریں سنانا باقی ہیں جن کے لیے ہر دم آپ کے ہاتھ اٹھے رہتے ہیں اور آنکھوں سے آنسوبہتے رہتے ہیں۔ اگر آپ کے بعد وہ خبریں آ بھی گئیں تو کس کو سنانے کی بے چینی ہو گی۔ کون ان کو سننے کے بعد سر پر ہاتھ پھیر کر پیار دے گا۔ امی ابھی تو آپ کی گود میں سر رکھ کر لیٹنے سے جی پوری طرح نہیں بھرا۔ ابھی تو ہماری ذاتوں کو آپ کی دعاؤں کے حصار کی ضرورت ہے ابھی تو ہماری خواہشوں کو آپ کی دعا کی سفارش کی ضرورت ہے ۔ابھی تو آپ کو درمیان میں بٹھا کر چاروں طرف بیٹھ کر خاندان بھر کے پرانے قصوں کو دہرانے سے بھی جی نہیں بھرا ۔ میں یہ ہر گز نہیں کہوں گا کہ ابھی تو آپ کی محبتوں، عنایتوں اور شفقت کا قرض ادا نہیں ہوا کیونکہ ہم ناقصوں اور کم کوشوں سے تو وہ ممکن ہی نہیں۔ میں صرف یہ کہوں گا ۔۔امی یہ نہ پوچھیں کہ آپ کا کیا بنے گا۔ یہ بتائیں کہ میراکیا بنے گا ؟

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *