حکومت کے 100 دن مکمل ہو چکے ہیں اور عالم یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں ابھی تک کوئی ایک سٹینڈنگ کمیٹی بھی نہیں بنائی جا سکی ۔ حالانکہ قومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر ایند کنڈکٹ آف بزنس کے← مزید پڑھیے
کیا اس قوم کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ یہ شاہ معظم نوا ز شریف ، کوہ بصیرت قبلہ آصف زرداری ، شاہِ ذی شان عمران خان ، درویش زمان سراج الحق ، مدبر عصر فضل الرحمن وغیرہ وغیرہ← مزید پڑھیے
قائد اعظم یونیورسٹی میں متحارب گروپوں نے صلح کر لی ہے اور انتظامیہ نے کسی کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یعنی اب اگلے تنازعے اور فساد تک سب ہنسی خوشی رہیں گے ۔ نفرت ،← مزید پڑھیے
قتل تو قتل ہے ، اس کی تائید کیسے کی جا سکتی ہے لیکن جمال خا شگی کے قتل پر مغرب کے رد عمل کو اگر کوئی انسان دوستی اور حقوق انسانی کا استعارہ بنا کرپیش کرنا چاہے تو کم← مزید پڑھیے
حکومت تو بروئے کار آ چکی ، سوال اب یہ ہے کہ ریاست کہاں ہے؟ وہ ریاست جسے آئین نے باب دوم میں مخاطب بنایا ہے اور اس پر عوام کی فلاح کے لیے کچھ فرائض ادا کیے ہیں۔ ریاست← مزید پڑھیے
کیا یہ تجویز درست ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کا چالان 2 ہزار روپے تک، کار اور جیپ کا چالان 10 ہزار روپے تک کر دیا جائے؟ آپ کی طرح میرے نزدیک بھی اس سوال کا جواب نفی میں ہے← مزید پڑھیے
’ووٹ کو عزت دو ‘ تو اب قصہ ماضی ہوا، کیوں نہ اب آگ کو عزت دی جائے جو ہر مشکل میں کام آتی ہے۔ ایسی فرمانبردار اورسمجھ دار آگ آج تک دیکھی نہ سنی۔ کسی عمر رسیدہ ڈاکیے کی← مزید پڑھیے
دکھ کی نسبت سیاست سے نہیں انسانیت سے ہے۔ اس کا عنوان بھی سیاست نہیں انسانیت ہی کو ہونا چاہیے۔ایسا نہ ہو تو پھر روگ جنم لیتے ہیں جو وقت کے ساتھ المیہ بن جاتے ہیں۔ کلثوم نواز ایک ماں← مزید پڑھیے
سوال یہ ہے کیا چندے سے ڈیم بن سکتے ہیں اور کیا ہمیں عمران خان کی اپیل پر چندہ دینا چاہیے ؟ اور جواب یہ ہے کہ باقی ڈیموں کا تو معلوم نہیں لیکن دیامر بھاشا ڈیم اگر آپ نے← مزید پڑھیے
کیا عمران خان احتساب کر پائیں گے؟ ایک خواہش ہوتی ہے اور ایک زمینی حقیقت۔خواہش تو یہی ہے کہ عمران خان یہ کام کر گزریں لیکن زمینی حقیقت چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ یہ ان کے بس کی← مزید پڑھیے
نیند نے آ ہی لیا تھا جب فون بج اٹھا۔یہ سرگودھا سے کزن کا فون تھا۔ گائوں کے روایتی لوگ فون کریں تو دس پندرہ بار ’ اور سنائیں کیا حال ہے‘ کہنے کے بعد کام کی بات کرتے ہے← مزید پڑھیے
پڑھیے اور سر پیٹ لیجیے ۔مسلم لیگ ن کے بارے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میںارسطوئے زماں بقلم خود احسن اقبال فرماتے ہیں مسلم لیگ پاکستان کی ماں ہے۔ مفکر ملت نے یہ نہیں بتایا کہ اس ناطے سے← مزید پڑھیے
قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس نہیں ، یہ قیامت کی گھڑی تھی ۔ یہ عرفان ذات کا لمحہ تھا ۔ صدیوں کے تجربات کا نچوڑ تھا جو صبح گویا بارش کے ساتھ برس پڑا تھا. ایک طرف عمران خان قومی← مزید پڑھیے
ایک طویل جدوجہد کے بعد عمران خان وزیر اعظم بننے میں تو کامیاب ہو ہی چکے ، سوال اب یہ ہے کیا وہ ایک کامیاب حکمران بھی ثابت ہو سکیں گے ؟ میرے خیال میں اس سوال کا جواب اثبات← مزید پڑھیے
عمران خان کے ایک ووٹ کو مسئلہ فیثا غورث بنا دیا گیا ہے ۔ آفرین ہے الیکشن کمیشن پر جو اونٹ نگل رہا ہے اور مچھر چھان رہا ہے ۔ پہلے لوگ صحرا کے جہاز سے پوچھا کرتے تھے :← مزید پڑھیے
عمران کی کامیابی نے سیاست کے تمام اہل تقوی ، درویشوں ، فقیروں اور تارک الدنیا قلندروں کو اکٹھا کر دیا ہے ۔ ان قائدین کی بزرگی ، درد دل ، بصیرت ، سادگی ، اور تقوی سے انکار نہیں← مزید پڑھیے
عمران خان پر جملہ اعضائے رئیسہ کا زور لگا کر تبرا کرنے والے احباب اس کی کامیابی کے ساتھ ہی اس کے خیر خواہ بن کر اسے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازنا شروع ہو گئے ہیں ۔ ان نومولود خیر← مزید پڑھیے
ووٹ کی بجائے اگر معاملہ پروپیگنڈے پر ہوتا تو ن لیگ دو تہائی اکثریت سے جیت چکی ہوتی ۔ شرافت کی صحافت کی ادائیں اور بے تابیاں دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے اس ڈھٹائی کے ساتھ بھی جھوٹ بولا← مزید پڑھیے
کبھی آپ نے سوچا کہ عمران خان میں ایسی کیا خرابی ہے کہ فقیہان سیاست کسی اور چیز پر متفق ہوں نہ ہوں عمران خان کی مذمت میں یوں ہم آواز ہو جاتے ہیں ، بیابان میں جیسے کووں کے← مزید پڑھیے
انتخابات سر پر کھڑے ہیں اور انتخابات کے اس حمام میں سبھی قائدین کرام ننگ دھڑنگ کھڑے ہیں۔ کوئی ایک بھی ایسا نہیں جودوسروں پر اخلاقی برتری کا کوئی دعوی کر سکے۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ کسے کتنا← مزید پڑھیے