آپ کہاں مصروف تھے؟ ۔۔۔۔۔آصف محمود

حکومت کے 100 دن مکمل ہو چکے ہیں اور عالم یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں ابھی تک کوئی ایک سٹینڈنگ کمیٹی بھی نہیں بنائی جا سکی ۔ حالانکہ قومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر ایند کنڈکٹ آف بزنس کے رول نمبر 200 کے مطابق یہ لازم ہے کہ وزیر اعظم کے انتخاب کے تیس دنوں کے اندر اندر یہ کمیٹیاں قائم ہو جانی چاہییں ۔ جو لوگ پارلیمانی امور سے واقفیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں اسمبلی میں قانون سازی کے لیے ان قائمہ کمیٹیوں کی کتنی اہمیت ہوتی ہے ۔ رول نمبر198 کے تحت ہر وزارت کے لیے ایک سٹینڈنگ کمیٹی بنانا ضروری ہے تاکہ اس وزارت سے متعلقہ اہم امور اس کمیٹی میں زیر بحث لا کر مناسب قانون سازی کی جا سکے ۔ پارلیمانی نظام میں ان کمیٹیوں کی غیر معمولی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ رول نمبر 122 میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ اسمبلی میں فنانس بل کے علاوہ جب بھی کوئی بل لایا جائے گا تو اسمبلی اس بل کو متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجے گی اور اس کی رائے لے گی ۔یہ کمیٹیاں متعلقہ وزارتوں کے اخراجات سے لے کر کارکردگی اور طریقہ کار تک ہر چیز پر ان وزارتوں سے جواب طلبی کر سکتی ہیں اور وزارتیں ان کے سوالات کے جواب میں اپنی رپورٹ دینے کی پابند ہیں۔

حکومت کے 100 دن ہو گئے ہیں اور ان میں سے کوئی ایک سٹینڈنگ کمیٹی نہیں بنائی جا سکی ۔ قومی اسمبلی کی ویب سائٹس پر جائیں تو معلوم ہوتا ہے ابھی تک نہ کوئی کمیٹی بنی ہے نہ کوئی ممبر ہے نہ ہی کسی کمیٹی کا کوئی چیر مین موجود ہے ۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس کا خرچ آج سے دو سال پہلے کے اسمبلی بجٹ کے اعدادوشمار کے مطابق 257 لاکھ تھاجو اب شاید 300 لاکھ یومیہ سے بھی تجاوز کر چکا ہو ۔ جس اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس پر غریب قوم 300 لاکھ روپے خرچ کر رہی ہے وہ اسمبلی ابھی تک ابھی قائمہ کمیٹیوں ہی کی تشکیل نہیں کر سکی۔ پارلیمان کی کارروائی میں جناب عمران خان کی بھی اتنی ہی دلچسپی ہے جتنی جناب نواز شریف کی تھی ۔ نہ کبھی میاں صاحب نے اسمبلی کی کارروائی کو سنجیدہ لیا نہ ہی عمران خان اسے کوئی اہمیت دینے کو تیار ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک اس طرح چلتے ہیں ؟

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا معاملہ الگ ہے ۔ پورے ایوان میں اس کمیٹی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ۔ یہ نان ڈیپارٹمنٹل کمیٹی کہلاتی ہے اور اس کا دائرہ کار کسی ایک وزارت یا محکمے تک محدود نہیں ۔ اس کمیٹی کا بنیادی کام شفافیت کو یقینی بنانا اور قومی خزانے کا تحفظ ہے تا کہ قوم کا پیسہ ضائع نہ ہو اور درست طریقے سے استعمال میں لایا جائے ۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان آئین کے تحت پابند ہیں کہ کہ آرٹیکل 171 کے تحت وفاق کے تمام اکاؤنٹس کی رپورٹ صدر پاکستان کو پیش کریں ۔ صدر پاکستان اس رپورٹ کو قومی اسمبلی کے سامنے رکھتے ہیں ۔ جب یہ رپورٹ قومی اسمبلی کے سامنے آتی ہے تو اسمبلی کے ضابطہ 177 کی ذیلی دفعہ 2 کے تحت یہ رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بھیج دی جاتی ہے تاکہ وہ اس کا تفصیلی جائزہ لے۔ لیکن اس کے اختیارات یہاں تک محدود نہیں یہ اپنے طور پر بھی کسی بھی وزارت کے مالی معاملات چیک کر سکتی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ قومی اسمبلی کی دستاویزات کے مطابق پارلیمان میں احتساب اور شفافیت قائم رکھنے کا یہ واحد اور اکلوتا ادارہ ہے۔ حکومت کے 100 دن گزر گئے لیکن اس کمیٹی کے نہ ممبران کا کوئی پتا ہے نہ اس کا کوئی چیئر مین بن سکا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ پارلیمان میں شفافیت اور احتساب کا واحد ادارہ ابھی تک عضو معطل بنا ہوا ہے۔ سوال پھر وہی ہے : کیا قوم آپ کی ایک روز کی نشست و برخواست پر 257 لاکھ روپے اس لیے خرچ کرتی ہے کہ آپ سرکاری خرچ پر اسمبلی میں تشریف لائیں ایک دوسرے پر فقرے اچھالیں ، مراعات وصول فرمائیں اور استحقاق کی پگ سر پر رکھ کر گھروں کو لوٹ جائیں؟ کیا ملک اس طرح چلتے ہیں؟

حکومت اور حزب اختلاف نے اپنی ضد میں پارلیمانی امور کو بازیچہ اطفال بنا دیاہے ۔اپوزیشن کا کہنا ہے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جب یہ اصول طے کر لیا گیا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئر مین اپوزیشن لیڈر کو بنایا جائے گا تو اب یہ منصب شہباز شریف کو دیا جائے کہ وہی قائد حزب اختلاف ہیں ۔ حکومت کا موقف ہے کہ ایک ایسے شخص کو یہ منصب نہیں دیا جا سکتا جو نیب کو مطلوب ہو اور جس کا اپنا سگا بھائی عدالت سے سزا یافتہ ہو ۔ یہ جھگرا انا کا ہے اصول کا نہیں ۔ یہ بات آئین اور قانون میں کہیں نہیں لکھی کہ اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئر مین قائد حزب اختلاف کو بنایا جائے گا ۔ یہ محض ایک بندوبست تھا جسے حکومت نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان اصول مفاہمت باہمی سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی ۔ اب حزب اختلاف کو سوچنا چاہیے کہ ایک ایسی چیز پر ضد کرنا جو آئین اور قانون میں کہیں موجود نہیں اور ضد میں پوری پارلیمان کو منجمد کر دینا کیا ایک معقول رویہ ہے؟ اسی طرح حکومت کو غور کرنا ہو گا کہ ایک شخص اسمبلی کا رکن بن سکتا ہے یعنی وہ فی الوقت قانونی طور پر صاق اور امین ہے ، وہ قائد حزب اختلاف بھی بن سکتا ہے تو پھر وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئر مین کیوں نہیں بن سکتا ؟ جو شخص پارلیمان کا رکن ہے وہ پارلیمان کی ایک کمیٹی کی چیئر مینی کے لیے کس قانون کے تحت نااہل قرار دیا جا سکتا ہے؟

اس جھگڑے کا حاصل یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں قانون سازی کا عمل منجمد ہو چکا ہے۔ حکومت ان 100دنوں میں سوائے فنانس ترمیمی ایکٹ کے کوئی ایک قانون نہیں لا سکی۔ قومی اسمبلی کے ایک یا دو نہیں پورے پانچ سیشن ہو چکے لیکن قانون سازی کا عمل شروع نہیں ہو سکا ۔ یاد رہے کہ ایک سیشن ایک سے زیادہ دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان پانچ سیشنز میں قانون سازی تو خاک ہونا تھی قائمہ کمیٹیاں تک نہیں بن پائیں ۔ پارلیمان کی کارروائی میں سنجیدگی سے شریک ہونا کسی کی ترجیح ہی نہیں ۔ پالیسیوں کا ابلاغ اسمبلی کے فورم کی بجائے پریس کانفرنسوں کے ذریعے ہوتا ہے ۔

آپ کا یہ دعوی سر آنکھوں پر کہ ’ ہم مصروف تھے‘ ۔سوال صرف اتنا ہے آپ کہاں مصروف تھے؟

Avatar
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *