چہرے نہیں نظام بدلو۔۔۔ممتاز علی بخاری

روز و شب کے میلے میں سیاسی مداری اپنے اپنے کھیل کھیل رہے ہیں کسی کو عوام کے مسائل سے نہ دلچسپی ہے اور نہ ہی ان مسائل کا صحیح ادراک۔
بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اکثر کشیدہ ہی  رہتے ہیں پاکستان نے ہمیشہ ہی مثبت رویے سے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے اور انڈیا کو مذاکرات کی دعوت دینے میں پہل کرتے ہوئے خیر سگالی کے جذبات کے تحت ہمیشہ اپنا قدم آگے بڑھایا لیکن بھارت کا رویہ کبھی بھی مثبت نہیں ہوا۔

ابھی حال ہی   میں ہونے والے واقعے کو دیکھ لیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے خیر سگالی کے تحت کرتارپورہ بارڈر سکھوں کے لیے اوپن کرتے ہوئے کوریڈور بنانے کا اعلان کیا اور ان کے اس اعلان کے جواب میں انڈین وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کرتارپور بارڈر کھلنے کامطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ مذاکرات بحال کر رہے ہیں۔۔۔آپ ہی بتلائیے بھلا اس یک طرفہ  محبت کا کیا فائدہ؟؟؟ ایک طرف انڈیا روزانہ مقبوضہ وادی اور بارڈر پر کشمیریوں کو شہید کرتا ہے ، ان پر ظلم و تشدد کرتا ہے، کشمیری اپنے پیاروں سے خونی لکیر کی وجہ سے مل نہیں سکتے اورپاکستان کی شہ رگ پر اتنے ستم ہونے کے باوجود انڈیا مین مقیم ایک کمیونٹی کے لیے کوریڈور بنائے جا رہے ہیں۔

کل کے حزب اختلاف آج کے حزب اقتدار ہیں اور جن چیزوں پر کل وہ تنقید کر رہے تھے آج وہ خود بھی وہی کر رہے ہیں یہی حال موجودہ اپوزیشن کاہے آج وہ موجودہ حکومت کے جن کارناموں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کل تک وہ خود انہی کاموں میں ملوث تھے۔
چہرے وہی ہیں بس کردار بدلے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی ایک تقریر کی وڈیو گردش کر رہی ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ کنٹرول لائن پر بھارت کی دہشت گردی کے باوجود ہمارے وزیر اعظم (نواز شریف، جو اس وقت برسراقتدار تھے) یک طرفہ طور پربھارت کے ساتھ محبت کی پینگیں کیوں بڑھا رہے ہیں؟؟؟ اور آج ذرا کوئی ان سے پوچھے کہ خان صاحب کی محبتوں پر ان کے لب کیوں خاموش ہیں۔

سو جب تک یہ نظام نہیں بدلتا تب تک کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔۔۔۔اچھے اور مخلص لوگ بھی اس نظام میں آئیں گے تو کچھ عرصے میں اس کرپٹ سسٹم کے ساتھ کرپٹ ہو جائیں گے۔۔۔کانِ نمک کے ساتھ نمک ہوتے جا رہے ہیں سب لوگ۔۔۔۔۔۔
اس ساری صورت حال میں بہترین نعرہ وہی ہے جو چند سال پہلے ڈاکٹر طاہر القادری نے دیا تھا اور وہ یہ تھا کہ “چہرے نہیں نظام بدلو”۔۔۔ لیکن صرف نعرے سے کام نہین چلے گا ۔ اس کے لیے عملی اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ وگرنہ یہ نظام اسی طرح کے کرپٹ حکمران اور اشرافیہ پیدا کرتا رہے گا۔ غریب ظلم و تشدد کی چکی میں پستا چلا جائے گا۔ اور تبدیلی ، احتساب اور انقلاب کا کوئی نعرہ یا جدوجہد اس نظام کے ہوتے ہوئے پنپ نہیں سکے گی۔

ممتاز علی بخاری
ممتاز علی بخاری
موصوف جامعہ کشمیر سے ارضیات میں ایم فل کر چکے ہیں۔ ادب سے خاصا شغف رکھتے ہیں۔ عرصہ دس سال سےطنز و مزاح، افسانہ نگاری اور کالم نگاری کرتےہیں۔ طنز و مزاح پر مشتمل کتاب خیالی پلاؤ جلد ہی شائع ہونے جا رہی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی سازش کو بے نقاب کرتی ایک تحقیقاتی کتاب" عصمت رسول پر حملے" شائع ہو چکی ہے۔ بچوں کے ادب سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔ مختلف اوقات میں بچوں کے دو مجلے سحر اور چراغ بھی ان کے زیر ادارت شائع ہوئےہیں۔ آج کل ایک آن لائن میگزین رنگ برنگ کےچیف ایڈیٹر ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *