روٹھے رب کو راضی کرلو۔۔ انعام مورگانائیٹ

اگر کسی کو کبھی کویت میں چند سال گزارنے کا تجربہ رہا ہو اور اس نے کویت میں رمضان المبارک گزارا ہو تو  ایسے شخص کو  یہ سمجھانا قطعی مشکل کام نہیں ہے کہ جو مزہ اور لطف کویت میں روزے گزارنے کا ہے وہ شاید ہی مملکت خدادا سمیت دنیا کے کسی اور حصے میں آتا ہو ،کویت میں رمضان کے روزوں کے اپنے ہی رنگ ڈھنگ ہیں ۔

حالانکہ میں خود باوجود کوشش کے کویت میں آدھا رمضان ہی گزار پاتا ہوں ،پھر باقی ماندہ روزے پیارے وطن میں گزرتے ہیں ۔۔ مگر کوشش بہرحال رہتی ہے کہ رمضان المبارک کویت میں گزارا جائے ۔اسکی بڑی وجوہات میں شاید یہاں کی سہولیات ، انواع و  اقسام کے مناسب کھانے ہیں ،  یا موسم کی سردی ، گرمی ،جو ہمارے اوپر کچھ خاص  اثرانداز نہیں ہو پاتی،  بس ایک عجیب سا سماں بندھ جاتا ہےایسا محسوس ہوتا  ہے کہ تجلیوں کا نزول جاری و ساری  ہے۔

عجیب سی کیفیت اور تقویٰ  کے حصول کی جدوجہد اور مسجد کی طرف دوڑ لپک۔۔کہیں نماز جماعت سے رہ نہ جائے اور تراویح و قیام اللیل کے اہتمام کے دوران عبادت بھی اور سوشل رابطوں کا ایک سلسلہ بھی قائم ہو جاتا ہے۔ نیکی کی راہ کے نئے مسافروں سے ملاقاتیں ہو جاتی ہیں پھر ان مستقل رابطوں سے ہمیشہ کے تعلق بن جاتے ہیں ۔

کویت میں آفس ٹائمنگ کم اور ریلکس ہونے کی وجہ سے قیام و صیام کے لیے دل و دماغ اور جسم بڑی حد تک آمادہ عبادت رہتے ہیں۔

عام دنوں کے مقابلے میں اتنی   دوڑ دھوپ کے باوجود آدمی قدرتی توانائی محسوس کرتا ہے اور پھر سونے پہ سہاگہ آخری عشرے میں اگر عمرہ کرنے کا موقع ہاتھ لگ جائے تو اس موقع کو کون بدبخت ہے ،جو ہاتھ سے جانے دے گا ۔ہمارے لیے کویت میں رہتے ہوئے یہ قدرے آسان ہے ،اس نفلی عمرہ سے پورے ماہ کی عبادت کو عروج حاصل ہو جاتا ہے اور اس سے رمضان کے اختتام پر عبادت کی بریکٹ کلوز کرتے ہوئے دل مزید سرور اور اطمینان محسوس کرتا ہے۔کویت میں رمضان کی عید تک افطار یوں کا حساب کتاب رکھنا بھی ایک اچھا خاصا کام ہے۔
ایسا نہ ہو کہیں جانے سے رہ جائیں اور میزبان کی ناراضی مول لینی پڑ جائے۔مگر اس دفعہ کرونا نے زندگی کا طور ہی یکسر بدل ڈالا، عجیب رنگ لیے اب کے رمضان آیا ۔۔

پوری دنیا کی طرح کویت کی دنیا بھی اپنے مقام پر سکڑ کر رہ گئی۔۔کہاں کی افطاریاں ،کہاں کی  ملاقاتیں ۔۔۔ سب کچھ بند ہوگیا۔
ایک سناٹا،مکمل خاموشی،جس نے باہر کی دنیا ہی نہیں اندر کی دنیا کو بھی ہلا ڈالا۔اس دفعہ خضوع سے زیادہ خشوع نے رگ و پے میں سراسمیگی پھیلا دی۔موت کا ڈر اور خوف انسان کے لاشعور میں کہیں نہ کہیں کم یا زیادہ رہتا ہی ہے مگر اس قدر قریب سے یہ خوف پہلی بار محسوس ہو رہا تھا، اس خوف نے ایک اور انجانے خوف کو جنم دیدیا کہ
وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْـهَـوٰى (40)
اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا اور اس نے اپنے نفس کو بری خواہش سے روکا۔”
اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کے احساس نے دل کو ہلا دیا۔۔کیا ہے تمہارے دفتر ِعمل میں جس کو پیش کیا جا سکے  ؟
کیا ہے جس سے بچت کا کوئی معاملہ نکل آئے ۔۔
اللہ کا سامنا کیسے ہوگا ؟
حساب کیا تو وجود لرزنے لگا ۔
کیا اب تک کی زندگی جو گزری اس کا کوئی علم یا عمل اللہ کی رضا کا مؤجب بن سکے گا ؟؟

ہم دنیا بھر کو اپنے جھوٹ سچ کی آمیزش سے منا سکتے ہیں مگر وہاں کیسے منائیں گے ؟جہاں سچ اور جھوٹ سب کچھ کھل جائے گا ۔۔دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

مجھے سر سید احمد خان کی وہ بچپن کی کہانی یاد آگئی جس میں خواب میں وہ دیکھتے ہیں کہ وہ بوڑھے ہوکر مر جاتے ہیں اور اعمال پیش ہوتے ہیں تو ان کو بہت پچھتاوا ہوتا ہے کہ زندگی رائیگاں گئی ،مگر یکلخت ان کی آنکھ کھل جاتی ہے تو وہ اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں ایک تو یہ کہ شکر ہے محض یہ ایک خواب ہی تھا دوسرا یہ کہ کچھ اچھا کرنے کی ابھی ان کی پوری عمر پڑی ہے ۔ابھی سے کچھ کیا جا سکتا ہے یعنی موقع ابھی ہے ۔

کرونا تیرا شکریہ کہ تو نےموت کے خوف کے ذریعے سے ہی سہی دلوں میں چٹانوں کی سی سختی کو گدا ز میں بدل ڈالا ،بے رحمی اور “میری مرضی”والی زندگی میں سوچنے کا اور اپنے رب کی طرف پلٹ آنے کا موقع فراہم کر دیا۔اس لحاظ سے پیشگی معذرت کے ساتھ تو یہ کہا جا سکتا ہے “کرونا تیرا شکریہ” ۔۔

کویت میں کوئی کسی بڑی پوسٹ پر ہو یا عام سا مزدوری کرنے والا ،ہم سب پردیس میں رہنے والوں کی کہانیاں کم و بیش ایک سی ہیں،اور اب کرونا نے تو ویسے ہی سب محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔
یہ وباء کسی امیر غریب ، نیک و بد کی تفریق کے بغیر گھستی چلی آ رہی ہے،آئے دن خبریں مل رہی ہیں کہ اتنے لوگ کرونا وباء کے باعث شہید ہوگئے،اب کے عید پر شاید ہم روایتی طور پر اپنے پیاروں کےگلےبھی نہ لگ سکیں اور پھر کچھ چہروں کو جب نظریں تلاشیں گی تو ان میں سے بہت سارے چہرے ناپید ہونگے،بہت سارے دوست جو پچھلے سال ہمارے ساتھ تھے اس رمضان میں منوں مٹی کے نیچے دفن ہو گئے۔ایسی تنہائی اور بے چارگی کا یہ عالم ۔۔اس عید کو اس لحاظ سے ایک عجب یادگار عید بنا دے گا کہ بقول شاعر
اک نگاہ آشنا کا آسرا جاتا رہا
آج ہم تنہائیوں میں اور تنہا ہو گئے
تیرا ملنا اور بچھڑنا کیا کہیں کس سے کہیں
ایک جان ِ ناتواں پر ظلم کیا کیا ہو گئے

متقین اور اہل خرد کے ذہنوں میں نقش ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے ساتھ ایسا سچا وعدہ کیا ہے ،وہ وعدہ یہ ہے کہ ہر مشکل کےساتھ آسانی ، ہر تنگی کے ساتھ فراخی اور ہرکرب کے پہلو میں کشادگی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔۔۔

فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا – الم نشرح: 5، 6
’’ پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
یہ ماہ مبارک اس لیے سایہ فگن ہوا جس میں حصول تقوی کی کوشش کرنے کا کہا گیا ہے تمام عمر کی عبادت کی بنیاد ایک چیز ہے اور وہ ہے تقویٰ، جوبہترین زاد راہ اور اللہ سے ملاقات کی بہترین تیاری کا دوسرا نام ہے۔ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے ہر مسئلےکا حل نکل آتا ہے۔ بس ہمت صبر اور سب سے بہترین خاموشی سے اپنے رب سے رجوع کیا جائے۔اس موقع کو غنیمت جانیے اور دل کی اس خوفزدہ کیفیت کو تھوڑا اور مزید طاری کر لیجیے اور اپنے رب سے تنہائی میں ملیے ،اگر ہوسکے تو یہیں معاملہ نمٹا لیں۔ ابھی معافی تلافی کرلیں، پتہ نہیں پھر موقع ملے یا نہ ملے۔

میں ایسے بہت سارے دوستوں کو جانتا ہوں جو پچھلے رمضان میں ہمارے درمیان موجود تھے مگر اب نہیں ہیں،اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو دنیا کی اور آخرت کی بہترین خوشیوں سے نوازیں،الھم آمین یا رب العالمین۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *