• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حقوقِ انسانی ۔سیرتِ نبوی کی روشنی میں(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔۔ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

حقوقِ انسانی ۔سیرتِ نبوی کی روشنی میں(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔۔ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

کم زوروں کے حقوق:

اللہ کے رسولﷺ نے جب لوگوں کے حقوق بیان کرنے شروع کیے تو خاص طور سے سماج کے جو کم زورطبقات تھے، ان کے حقوق پر آپؐ نے زیادہ زور دیااوران کی ادائیگی کی تاکید کی۔آپؐ کے یہ ارشادات خطبۂ حجۃ الوداع میں بھی پائے جاتے ہیں اور اس سے ہٹ کر زندگی کے دوسرے مواقع پر بھی آپؐ نے ان حقوق کی تاکید کی۔اس زمانے میں جو کم زورطبقات تھے ان میں خاص طور سے عورت تھی۔ عورت چاہے ماں ہو،یا بہن ہو ،یا بیوی ہو،یا بیٹی ہو،عرب سماج میں اس کو کسی بھی لحاظ سے بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں تھے۔اللہ کے رسول ﷺ نے اس کے حقوق کی تاکید کی اور عورت بحیثیت عورت کے حقوق بیان کیے۔آپؐ نے خطبۂ حجۃ الوداع میںارشاد فرمایا: اِستَوصُوا بِالنِّسَاءِ خَیراً۔(ابن ماجہ:۱۸۵۱)’’ عورتوں کے ساتھ اچھا برتائو کرو۔‘‘دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:فَاتَّقُواللّٰہِ فِی النِّسَاءِ(مسلم:۱۲۱۸)’’عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو۔‘‘ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عورتوں کے حقوق کی پامالی کے سلسلے میں اللہ سے ڈرنے کی بات کیوں کہی گئی ہے؟ اس لیے کہ تم جو کسی انسان کواس کا حق دیتے ہو وہ دراصل اللہ کا حق ہوتاہے، جس کی تم ادائیگی کرتے ہو۔ گویا کسی انسان کے حق کی ادائیگی درحقیقت اللہ کے تعالیٰ کے حق کی ادائیگی ہے۔

اُس زمانے میں غلاموں کو کسی طرح کے انسانی حقوق حاصل نہیں تھے۔ان کا درجہ حیوانات سے بھی بدتر سمجھاجاتاتھا۔ اللہ کے رسولﷺ نے ان کے انسانی حقوق بیان کیے ۔ آپؐ نے فرمایا:

إخوَانُکُم خَوَلُکُم ،جَعَلَھُمُ اللّٰہُ تَحتَ أیدِیکُم ،فمَن کَانَ أخُوہُ تَحتَ یَدِہِ فَلیُطعِمہُ مِمَّا یَأکُل ، وَلیَلبِسہُ مِمَّایَلبِس، وَلاَ تُکَلِّفُوھُم مَا یَغلِبُھُم،فَاِن کَلَّفتُمُوھُم فَاَعِینُوھُم (بخاری:۳۰،مسلم:۱۶۶۱)

’’یہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارا ماتحت بنادیاہے۔ پس اگر کسی کا بھائی اس کے قبضہ میں ہو تو جو وہ خود پہنے وہ اسے بھی پہنائے اور جو خود کھائے وہ اسے بھی کھلائے۔ان سے کوئی ایسا کام نہ لو جو وہ نہ کرسکتے ہوں۔اگر ان سے ایسا کام لینا مجبوری ہوتو ان کا تعاون کرو اور ان کا ساتھ دو۔‘‘

یہ حدیث حضرت ابوذر غفاریؓنے روایت کی ہے ۔ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ ابوذرؓ کا معاملہ یہ تھا کہ جس طرح کا کپڑا وہ خود پہنتے تھے اسی طرح کا کپڑا اپنے غلام کو پہناتے تھے۔میں نے ان سے پوچھا : حضرت !آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ان کی حیثیت کے مطابق انہیں دوسرا کپڑا پہناسکتے ہیں ۔اس پر انھوں نے یہ حدیث سنائی۔(بخاری و مسلم، حوالہ سابق)

حضرت ابو مسعود انصاریؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے غلام کو ایک تھپڑ مار دیا۔پیچھے سے آواز آئی : ابو مسعود جتنا تم اس پر قادر ہو اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ تم پر قادر ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اللہ کے رسولﷺ تھے۔میں نے فوراً کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! وہ آزاد ہے۔آپؐ نے فرمایا :اگر تم ایسا نہ کرتے تو جہنم کی آگ تم کو گھیر لیتی۔(مسلم:۱۶۵۹)

اس حدیث پر ہم غور کریں۔ دیکھیں کہ اس زمانے میں غلاموں کی کیاحیثیت تھی؟ اور اللہ کے رسولﷺ نے ان کو کتنا بلند مقام عطاکیا۔انہیں بھائی قرار دیا اور حکم دیا کہ ان کے ساتھ ویسا ہی برتائو کیاجائے جیسا بھائی کے ساتھ کیا جاتاہے۔

بنیادی حقوق:

حقوق انسانی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اللہ کے رسولﷺ نے انسانوں کے کیا بنیادی حقوق بیان کیے ہیں؟او ان حقوق کی کیا ضمانت دی ہے؟

سب سے پہلا حق جان کا ہے۔ ہر شخص کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کی جان کے در پے ہواور اس کو قتل کرے۔انسانی جان کی پامالی آج ہمارے سماج میں عام ہوگئی ہے۔ہمارے ملک ہی میں نہیں، بلکہ پوری دنیا میں جتنی پامالی ہورہی ہے اتنی انسانی تاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ۔اس تعلق سے قرآن مجیدکی آیتیں بھی ہیں، لیکن یہاں صرف ایک حدیث پیش کی جاتی ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:

لَوِ اجتَمَعَ أَھلُ السَّمَائِ وَالأَرضِ عَلَی قَتلِ امرَیٍٔ مَسلِمٍ لَعَذَّبَھُمُ اللّٰہ (طبرانی )

’’اگر آسمان اور زمین کے تمام لوگ کسی ایک مسلمان شخص کو قتل کریں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں تمام لوگوں کو عذاب دے گا۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لَزَوَالُ الدُّنْیَا أھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ( ترمذی:۱۳۹۵)

’’پوری دنیا کا فنا ہوجانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے ہلکا ہے۔‘‘

انسانی جان کا آپؐنے کتنا احترام بتایاہے؟ اس کا اندازہ ان احادیث سے لگایاجاسکتا ہے۔ ان میں اگرچہ مسلمان کا تذکرہ ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس میںکسی مسلمان کو قتل کرنے کی سزا بیان کی گئی ہے، کسی غیر مسلم کو قتل کرنے کی یہ سزا نہیں ہے۔ایسی تمام حدیثیں،جن میں کسی مسلمان کا تذکرہ ہو، ان کے بارے میں محدثین کہتے ہیں :ذِکرُ المُسلِمِ غَالِبِیٌّیعنی اللہ کے رسولﷺ نے جس سماج میں یہ باتیں کہی ہیں اس کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی، اس لیے آپ نے مسلمان کا تذکرہ کیا، ورنہ جتنا شنیع عمل کسی مسلمان کو قتل کرنا ہے اتنا ہی شنیع ،گھنائونا اور قابل جرم عمل کسی بے قصور غیر مسلم کو قتل کرنا ہے۔چنانچہ حدیث میں اس کی بھی صراحت ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

مَن قَتَلَ مُعَاھِداً لَم یَرِح رَائِحَۃَ الجَنَّۃِ ، وَإنَّ رِیحَھَا تُوجَدُ مِن مَیِسرَۃِ أربَعِینَ عَاماً (بخاری:۳۱۶۶)

’’جس شخص نے کسی ایسے غیرمسلم شخص کو ،جو کسی معاہدے کے تحت اسلامی ریاست میں رہتاتھا، قتل کیا تو جنت میں جانا تو بہت دور کی بات ہے،اس کو جنت کی خوشبو بھی نہیںملے گی۔‘‘

اسلامی تعلیمات کی عظمت یہ ہے کہ ہم جان داراس شخص کو سمجھتے ہیں جو اس دنیا میں آگیاہو، اس بچے کو سمجھتے ہیں جوپیداہوگیاہو، لیکن اسلام نے حقوق کی ضمانت، پیداہونے سے پہلے دی ہے۔ماں کے پیٹ میںجو جنین ہے، اس کو بھی قتل کرنے کی کسی بھی حالت میںاجازت نہیں ہے۔

آج دنیا آبادی میں تناسب کے بگاڑسے پریشان ہے۔خود ہمارے ملک میں یہ مسئلہ ہے کہ لڑکوںکے مقابلے میںلڑکیوں کا تناسب کم ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ پیدائش سے قبل ہی جنین کی جنس معلوم کرلی جاتی ہے اور اگر وہ لڑکی ہے تومختلف تدابیر سے اس کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔ قتلِ جنین کی مذمّت قرآن کریم میں بھی آئی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَاِذ المَوءُ دَ ۃُ سُئِلَت ، بِأیِّ ذَنبٍ قُتِلَت ۔ (التکویر:۸۔۹) ’’جب قیامت کے دن زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گاکہ اس کو کس جرم میں قتل کیاگیا؟‘‘آیت میں جو شدّت ہے ،اللہ تعالیٰ کا جو غضب ہے ،اس کا اندازہ اس سے کیاجاسکتاہے کہ مجرم سے نہیں پوچھاجائے گا،اگر چہ اس کے جرم کا ثبوت ہوگا،اس کے اعضا گواہی دیں گے،دنیا میں اعمال کا ریکارڈ کرنے والے فرشتے گواہی دیں گے، لیکن مجرم کے گناہ کی شناعت اتنی زیادہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف التفات نہیں کرے گا،بلکہ اس مظلوم لڑکی سے، جس کو زندہ درگور کردیاگیاتھا ،پوچھا جائے گاکہ تم بتائو، تم کو کس جرم میں درگور کیاگیاتھا؟یہ شناعت حدیث میں بھی بیان کی گئی ہے۔اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے: إ نَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیکُم عُقُوقَ الأُمَّھَاتِ و وَأدَ البَنَاتِ (بخاری: ۲۴۰۸۔مسلم: ۵۹۳) ’’اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام کیاہے کہ تم اپنے والدین کی نافرمانی کرو ،اسی طرح اس نے تم پر یہ بھی حرام کیاہے کہ تم لڑکیوں کو زندہ درگور کرو۔‘‘

عزت وآبرو کا تحفظ:

ایک دوسرا حق عزت و آبرو کا ہے۔کسی کو کسی کی عزت سے چھیڑچھاڑ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔خطبۂ حجۃ الوداع میں اللہ کے رسول ﷺ نے اعلان فرمایاتھا: اے لوگو! بتائو، آج کون سا دن ہے؟یہ کون سا مہینہ ہے؟ یہ کون سا شہر ہے؟ہر سوال کے جواب میں صحابۂ کرام نے فرمایا : یہ محترم دن ہے، یہ محترم مہینہ ہے،یہ محترم شہر ہے ۔تب آپؐ نے فرمایا:

إنَّ دِمَائَ کُم وَأموَالَکُم وَأعرَاضَکُم عَلَیکُم حَرَامٌ کَحُرمَۃِ یَومِکُمْ ھٰذَا فِی بَلَدِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا (بخاری:۱۷۳۹،مسلم:۱۶۷۹)

’’تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزت وآبرو ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح آج کا دن ،یہ شہر اور یہ مہینہ حرام ہے۔‘‘

ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

بَایِعُوْنِی عَلیٰ أنْ لاَ تُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئاً وَلاَ تُسْرِقُوا وَلاَ تَزْنُوا وَلاَ تَقْتُلُوا أوْلاَدَکُم (بخاری:۱۸،مسلم:۱۷۰۹)

’’مجھ سے بیعت کرو اس پر کہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک نہ کروگے ،کسی کا مال چوری نہ کروگے،کسی کے ساتھ بدکاری نہ کروگے اور اپنی اولاد کو قتل نہ کروگے۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :ألَا،لَاتَظْلِمُوْا۔’’لوگو! سن لو۔ کسی کے اوپر زیادتی نہ کرو۔‘‘آپؐ نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا، پھرفرمایا:

إنَّہ لَایَحِلُّ مَالُ إمریٍٔ إلّا بِطِیْبِ نَفْسٍ مِّنْہُ (مسند احمد: ۲۰۶۵۹)

’’ کسی شخص کا مال لینا تمہارے لیے جائز نہیں ہے ، اس کی اجازت کے بغیر۔‘‘

ایک حدیث میں ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

مَنْ کَانَتْ لَہ مَظْلِمَۃٌ لِأحَدٍ مِّنْ عِرْضِہِ أوْ شَیْئٍ فَلْیَتَحَلَّلْہَ مِنْہُ الیَوْمَ ، قَبْلَ أنْ لَایَکُوْنَ دِینَارٌ وَلَادِرْھَمٌ، إنْ کَانَ لَہ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنہُ بِقَدْرِ مَظلِمَتِہِ، وَإنْ لَمْ تَکُنْ لَہ حَسَنَاتٌ اُخِذَ مِنْ سَیِّآتِ صَاحِبِہ فَحُمِلَ عَلَیْہِ(بخاری:۲۴۴۹)

’’جس شخص نے کسی کی عزت وآبرو یا کسی اور تعلق سے کسی پر زیادتی کی ہو تو وہ آج ہی اس سے اپنے آپ کو پاک کرلے،یعنی اس سے معافی مانگ لے،اس دن سے قبل جب دینار و درہم کام نہیں آئیں گے، بلکہ اس شخص کے نیک اعمال اس شخص کو دے دیے جائیں گے جس پر اس نے کسی طرح کی زیادتی کی ہوگی اور اگر اس کے نیک اعمال ختم ہوگئے تو اس شخص کی برائیاں اس پر لاد دی جائیں گی اور اس کو جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔‘‘

ایک حق جو بہت زیادہ پامال ہوتاہے وہ ہے نجی زندگی کے تحفظ کا حق۔کسی شخص کو کسی کی جاسوسی کرنے کا حق نہیں ہے،کسی کی نجی زندگی میں جھانکنے کا حق نہیں ہے۔اگر کوئی شخص اپنے گھر کے اندر کوئی برائی کررہاہے تو کسی بھی تدبیر سے اس برائی کو ریکارڈ کرنے اور اس کو عوام میں پھیلانے کا حق نہیں ہے۔یہ بات قرآن میں کہی گئی ہے: وَلَا تَجَسَّسُوْا۔(الحجرات:۱۲)’’اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگو۔‘‘یہ بات اللہ کے رسولﷺ کی احادیث میں بھی بار بار آئی ہے۔ایک شخص آپؐ سے ملنے آیا ۔ اس نے اجازت لینے کے بجائے دیوار میںسوراخ سے جھانکا۔آپؐ کو اندازہ ہوگیا ۔اس وقت آپؐ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے سر کھجارہے تھے ۔آپؐ نے فرمایا: اگر مجھے پتہ چل گیا ہوتا تو یہ لکڑ ی میں تمہاری آنکھ میں گھسادیتا۔پھر آپؐ نے فرمایا:

إنَّمَا جُعِلَ الأذْنُ مِنْ قِبَلَ الأبْصَارِ۔(بخاری:۵۹۲۴)

’’اجازت لینے کا حکم اسی لیے تو دیاگیاہے کہ کسی کی نگاہ کسی ایسی چیز پر نہ پڑجائے جس کو آدمی ناپسند کرتاہے۔‘‘

ایک حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک صاحب نے اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا: کیا میں اپنی ماں کے گھر جائوں تب بھی اجازت لوں؟آپؐ نے فرمایا :ہاں اجازت لو۔انہوں نے کہا :میری ماں الگ مکان میں رہتی ہیںتوکیا وہاں جائوںتب بھی اجازت لوں؟آپؐ نے فرمایا :ہاں ،وہاں جاؤ تب بھی اجازت لو۔انہوںنے پھرکہا :مجھے بار بار جانا پڑتاہے ۔ کیا بار بار اجازت لوں؟اللہ کے رسول ﷺ نے سمجھانے کے انداز میں فرمایا: اگر تمہاری ماں کسی ایسی حالت میں ہو جس کو دیکھنا تمہارے لیے مناسب نہ ہو اور تم اچانک وہاں پہنچ جائو اور ان پر تمہاری نظر پڑجائے تو کیا تم اس کو پسند کروگے؟انہوں نے کہا :اے اللہ کے رسول !میں پسند نہیں کروں گا۔آپ نے فرمایا :اسی لیے اجازت لینے کا حکم دیاگیاہے۔(مؤطا امام مالک:۲۷۶۶)

ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ حضرت سعد بن عبادہؓ سے ملنے کے لیے تشریف لے گئے ۔آپؐ نے کہا: السلام علیکم۔ کوئی جواب نہیں ملا۔ پھر السلام علیکم کہا ،مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ تیسری مرتبہ پھر السلام علیکم کہا ،پھر کوئی جواب نہیں آیا تو آپؐ خاموشی سے واپس ہوگئے۔حضرت سعد ؓ پیچھے سے دوڑ کر آئے ، آپؐ سے چمٹ گئے اور عرض کیا:اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے ہر بار آپ کا سلام سنا، لیکن میں چاہتاتھا کہ آپؐ بار با ر میرے لیے سلامتی کی دعاکریں۔اللہ کے رسولؐ نے کسی طرح کی ناگواری کا اظہار نہیں کیا۔(ابودائود:۵۱۸۵) اس لیے کہ قرآن مجیدمیں حکم دیا گیاہے کہ جب تم کسی کے گھر جائو تو اجازت لو۔ اگر کوئی جواب نہ ملے تو واپس ہوجائو۔(النور:۲۷)

مساوات بنی آدم:

حقوق کے سلسلے میں آخری بات یہ ہے کہ ہر انسان بحیثیت انسان ان حقوق کا مستحق ہے،چاہے وہ رشتہ دار ہو یا اجنبی ، آقا ہو یا غلام،چاہے وہ جس سماجی حیثیت کا مالک ہو، اللہ کے رسولﷺ نے اس چیز کی ضمانت دی ہے کہ اس کے تمام بنیادی حقوق ادا کیے جائیں اور اس میں ذرا بھی کوتاہی نہ کی جائے ۔ خطبۂ حجۃ الوداع میں آپؐ نے پہلے سورئہ حجرات کی تلاوت کی :

یٰأَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنٰکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقٰکُم(آیت:۱۳)

’’لوگو!ہم نے تمہیںایک مرد اور ایک عورت سے پیداکیااور تمہیں قوموں اور قبیلوںمیں تقسیم کیا، تاکہ تمہارا ایک دوسرے سے تعارف ہو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہے۔‘‘

پھر فرمایا:

ألَا لَافَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلیٰ عَجَمِیٍّ ، وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلیٰ عَرَبِیٍّ ، وَلَا أحْمَرَ عَلیٰ أسْوَدَ وَلَا أسوَدَ عَلیٰ أحْمَرَ إلَّا بِالتَقْویٰ(مسند احمد:۲۳۴۸۹)

’’نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر، نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر ، نہ کسی کالے کو کسی گورے پر، نہ کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت ہے۔ اگر فضیلت ہے تو صرف تقویٰ کی بنیاد پر ۔‘‘

اس حدیث کی معنویت ،جامعیت اور عظمت کا احساس ہمیں اس وقت ہوگا جب اس زمانے کا عرب سماج ہماری نگاہوں میں ہو۔عرب اپنے آپ کو دنیا کی تمام مخلوقات سے برتر سمجھتے تھے۔اسی لیے وہ ان کو’ عجم‘ کہتے تھے۔ عجم کے معنیٰ ہوتے ہیں گونگا۔پھر عربوں میں بھی بعض قبیلے ایسے تھے جواپنے آپ کو برتر اور دوسرے قبیلوںکو حقیر سمجھتے تھے۔مثال کے طور پرقریش کے لوگ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتے تھے ۔چنانچہ وہ حج کے دوران مزدلفہ تک ہی جاتے تھے اور دوسرے لوگوں کو تمام مراسم کی ادائیگی کرنی پڑتی تھی۔دوسرے قبائل میں بھی اونچ نیچ کا تصور راسخ تھا۔عربی شاعر کہتاہے:

فَغُضِّ الطَّرْفَ اِنَّکَ مِنْ نُمَیْرٍ فَلَا کَعْباً بَلَغْتَ وَلَا کِلَابا

’’تو قبیلۂ نمیر کا آدمی ہے، اپنی نگاہ جھکاکر رکھ۔تو نہ کعب کے برابر پہنچ سکتاہے ، نہ کلاب کے برابر‘‘۔

جس سماج میں قبیلوں کے درمیان اتنی اونچ نیچ تھی، اس میں آپؐ نے اعلان کیا کہ کسی طرح کی کوئی اونچ نیچ نہیں ہے۔ بحیثیت انسان تمام انسان برابر ہیں۔یہ محض آپؐ کی تعلیمات ہی نہیں تھیں ،بلکہ ان پر آپؐ نے عمل کرکے دکھایا۔جب مکہ فتح ہوا تو آپؐ نے حضرت بلال ؓ کو بلایا اور فرمایا : بلال! ’’ خانۂ کعبہ کے اوپر چڑھ کر اذان دو۔روایات میں آتاہے کہ یہ منظر دیکھ کر بعض لوگوں کی قبائلی عصبیت بھڑک اٹھی ۔ ایک شخص تو کہنے لگا: اچھا ہوا کہ اس منظر کو دیکھنے سے پہلے میرے باپ کا انتقال ہوگیا۔لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے ہر طرح کی جاہلی عصبیت اور اونچ نیچ کو ختم کیا۔

اُمت کی ذمہ داری:

آخر میں اس جانب توجہ دلانا ضروری معلوم ہوتاہے کہ حقوق انسانی کے چارٹر کی دفعات پر ہم تنقید کرتے ہیں تو کہتے ہیںکہ یہ تو صرف خوب صورت نعرے ہیں،اچھے اچھے سلوگنس ہیں،محض اعلانات ہیں،لیکن ان کے پیچھے قوتِ نافذہ نہیں ہے۔اس کے مقابلے میں ہم اسلامی تعلیمات پیش کرتے ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات پیش کرتے ہیں اور ان کے امتیازات بیان کرتے ہیں۔لیکن ہمارے لیے غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ اگر ہم بھی ان ارشادات اور تعلیمات کو مختلف مواقع پر صرف بیان کردیاکریں ،ہماری زندگیوں میں ان کے اثرات نہ پائے جاتے ہوں تو گویا ہم بھی ان ارشادات کو خوب صورت نعروں کے انداز میں پیش کرنے والے ہوں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود بھی ان تعلیمات پر عمل کریں اوراپنی زندگیوں میںانہیں نافذ کریں۔افسوس ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کے سلسلے میں اللہ کے رسول ﷺ کی ان تعلیمات پرکما حقہ عمل نہیں کیاجاتا اور ان کی حیثیت خوب صورت نعروں کی ہوکر رہ گئی ہے۔ مسلم ممالک کا حال ہمارے سامنے ہے۔ان میں انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے شاید اتنی غیر مسلم ممالک میں بھی نہیں ہوتی ۔ ہم میں سے ہر شخص کو اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے اور اللہ کے رسولﷺ کی دی ہوئی ان تعلیمات پرعمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

بشکریہ زندگی نو دہلی دسمبر 2018

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *