رمضان ، قرآن اور مقامات القرآن۔۔طلحہ سہیل فاروقی

رمضان اور قرآن کا تعلق بڑا خاص تعلق ہے ایک جانب ذکر کی صورت میں تلاوت قرآن ہے اور دوسری جانب قیام اللیل میں سماعتِ قرآن۔ ہر آدمی خوش الحانی سے آیات ِربانی کی تلاوت کرنا اور سننا پسند کرتا ہے یہاں یہ لطف دو آتشہ تب ہوتا ہے جب سننے ولا جمالیاتی ذوق سے آشنائی رکھتا ہو۔ دنیا ایسے خوش الحان لوگوں سے بھری پڑی ہے جو آیات کی تلاوت کرتے ہوئے “تنزیل من رب العالمین” کی تفسیر سمجھا دیتے ہیں ۔

“مقامات القرآن” بھی قرآنی جمالیات کی ایک ایسی ہی انتہا ہے جس سے ذرا سی بھی آشنائی دوران ِسماعت آپ پر وجد طاری کر دینے کے لئے کافی ہے ۔ یہاں کسی ناآشنائے فن و ادب کا گزر نہیں یہ قرآن کے پیغام کی وہ تفہیم ہے جہاں پڑھنے والا ،سننے والے کے سامنے محض لہجوں سے تمام صورتحال کا نقشہ سا کھینچ دیتا ہے۔ آواز کا زیروبم، تفسیر کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے ۔ کہیں جب پیغام ربانی کی عظمت وجلا ل کا ذکر آئے تو “مقام الرست” میں پڑھتا سنیں گے یا ” مقام العجم ” میں ، خدا جب بندوں سے مخاطب ہو کر کچھ سمجھانا چاہ رہا ہو گا تو “مقام السیکاء” میں پڑھنا ہو گا۔ فرحت و انبساط ، نداء و بشارت کے لئے ” مقام نہاوند” اور جہاں کہیں حزن و ملا ل کی کیفیت کا بیان آئے تو کبھی “مقام الصباء ” ہوگا تو کبھی “مقام الحجاز” ۔ غرضیکہ کونسا ایسا موقع ہے جس کی مناسبت سے لہجوں کی ادائیگی کا اہتمام نہ کیا گیا ہو؟

فن ِقرأت یوں تو قرونِ اولی سے ہی چلتا چلا آرہا ہے لیکن فن کی موجودہ صورت کے خدوخال کو صحیح معنوں میں جنہوں نے مرتب کیا ، شیخ مصطفی اسماعیل ؒ ان میں سے ایک اہم نام ہیں ۔کس مقام کی ادائیگی کیسے ،کہاں اور کیوں ہوگی، دلیل کے طور پر عموما انہی کی تلاوت کو پیش کیا جا تا ہے ۔ فن کی معراج کو جاننا ہو تو “قال عفریت من الجن ۔۔۔” لکھ کر یوٹیوب پر تلاش کر لیجیئے ، فن کی معراج سمجھ آجائے گی ۔

مراتب ِقرأت میں “تحقیق” کی طرز پر پڑھنے والوں میں ایک معروف نام شیخ صدیق منشاوی ؒکا ہے جنہیں “قاری الحزن” بھی کہا جاتا ہے ، مقام ِنہاوند پڑھنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ایک اور نام شیخ عبدالباسط عبدالصمدؒ – ایک آسمانی آواز۔جنہوں نے ہر مقام کو اوج ِ کمال عطا کیا۔ ہمارے ہاں مکمل قرآن جو قاری عبدالباسط کی آواز میں عموما دستیاب ہے وہ “مقام العجم ” میں ہے ۔ ماضی قریب کے قراء میں شیخ شحات انورؒ کا ایک الگ مقام ہے ۔ فن پہ کمال دسترس رکھنے کی وجہ سے “امیرالنغم”کے لقب سے بھی جانے گئے۔شیخ شحات کے پڑھے ہوئے “مقام البیات و النہاوند” بالخصوص سننے لائق ہیں ۔اگر قرآن کی صوتی تصنع سے بالکل پاک سماعت کا دل چاہے اورجس میں مقامات کا لحاظ بھی رکھا جا رہا ہو مگر ادبِ قرآن کو فوقیت دی جا رہی ہو تو شیخ خلیل الحصریؒ کو سنیے۔علاوہ ازیں شیخ محمد رفعت ؒ، قاری راغب مصطفی غلوش اور دکتور احمد النینع ، چند وہ نام ہیں جو اپنے فن کی وجہ سے پہچانےجاتے ہیں ۔

مراتب ِ ِقر أ ت میں “تحقیق ” کی طرزمیں پڑھنے والے دور حاضر کے کچھ قراء کرام میں یاسر شرقاوی ، شیخ الناصر حرک،یوسف جبر قابل ذکر ہیں۔ کم عمر قراء حضرات میں یوسف جبر سے بہتر فن ِقرأت سے آشنائی رکھنے والا شاید ہی کوئی ہو۔ علاوہ ازیں ایرانی قراءحضرات کا بھی ایک مخصوص انداز ہے جو بہت عمدہ ہے ۔ جواد فروغی اچھا پڑھنے والوں میں سے ایک ہیں ۔پاکستانی قراء کرام میں قاری صداقت علی،قاری ابراہیم کاسی اور انوارالحسن وہ چند نام ہیں جو دوران تلاوت ، مقامات کا لحاظ رکھتے ہیں ۔

مراتب ِقرأت میں دوسرا اہم انداز “حدر” ہے جو عموما آئمہء حرمین کا مخصوص انداز ہے لیکن یہ بھی صرف یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں ایسے ایسے باکمال حاملینِ فن موجود ہیں کہ مثال نہیں ملتی ۔آئمہءِ حرمین کے علاوہ شیخ مشاری العفاسی کا لہجہ دنیا بھر میں مقبول ہے ۔شیخ حسن صالح کی انفرادیت آپ کو کہیں نہیں ملے گی ان کی ِقرأت ،” تحقیق “اور “حدر” کا واحداور عمدہ ترین امتزاج ہے۔شیخ رعد الکردی بھی ایک دھیمے اور منفرد انداز کے انتہائی عمدہ قاری ہیں ۔ حدر کے سلسلے کی میرے نزدیک سب سے عمدہ اور اور پراثر ترین آواز شیخ عکاشہ کامینی کی ہے۔ یہ مقامات کے ساتھ ساتھ مختلف “روایات” کو جس طرح پڑھتے ہیں وہ بے مثال ہے۔ ان کی قرأت سننے کے بعد کسی دوسرے انداز کو پسند کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *