فطرت اور محبت۔۔شاہد محمود

شجاع نے پہاڑ کے دامن میں اپنی جھونپڑی میں زندگی کو ہمیشہ بہت خوبصورت پایا تھا۔ پانچ چھ برس کی عمر میں ماں باپ تو ماں باپ وہ تو اپنے آپ کو بلند و بالا پہاڑ، پہاڑ کی چوٹیوں کو گھیرے بادلوں، پہاڑ کے پیچھے سے اُگتے سورج، پہاڑ سے بہتے جھرنوں، لہلہاتے درختوں، چہچہاتے پرندوں اور چوکڑیاں بھرتے جانوروں کا بھی لاڈلا سمجھتا تھا۔ اور سمجھتا بھی کیوں  نہ  ۔۔۔۔ ہر چیز اس پر پیار ہی پیار نچھاور کرتی تھی۔ جھرنوں کا ٹھنڈا میٹھا پانی اس کی پیاس بجھا تا اور وہ خوب جی بھر کر اس پانی میں کھیلتا بھی ،نہاتا بھی اور جھرنے کنارے لگے درختوں سے پھل اتار اتار کھاتا ،اور بسا اوقات تو کسی درخت کی چھاؤں تلے ہوا اور جھرنے کے پانیوں کی لوری سنتے میٹھی نیند سو جاتا اور اس کے بابا کی کوئی بکری یا بکری کا میمنا اسے سوتا دیکھ اس کا منہ پیار سے چاٹ کر اسے جگا دیتا اور وہ بکریوں اور مینوں  کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرنے لگتا ۔۔

اس کی ماں جو روٹی اسے دیتی وہ اسے بکری کے میمنو ں کے  ساتھ مل بانٹ کر کھا لیتا، اور  ایک دن اس کی ماں نے دیکھا کہ میمنے کے ساتھ ساتھ اس کا بیٹا بھی آرام سے بکری کا دودھ پی رہا ہے اور بکری بھی دونوں بچوں کو پیار کر رہی ہے۔ شجاع جیسے جیسے بڑا ہوتا جا رہا تھا اس کی شخصیت میں فطرت کی تمام رعنائیاں اُجاگر ہوتی جا رہی تھیں ۔۔۔ اپنے نام کی طرح بہادر تو وہ تھا ہی لیکن محبت بانٹنے والا بہادر ۔ اس کی ماں جب بھی اس سے پوچھتی کہ شجاعت اپنی سب چیزیں لوگوں میں بانٹ دیتے ہو تو شجاع کہتا ماں میں نے آپ سے اور بابا سے ہی سیکھا ہے کہ آپ اپنے سے زیادہ ہم بچوں اور بکریوں اور درختوں کا خیال رکھتے ہیں ۔ پھر میں نے اپنے دوستوں سے بھی یہی سیکھا ہے کہ محبت دیالو ہوتی ہے بس دینا جانتی ہے، بانٹنا جانتی ہے ۔۔۔۔

تو ماں نے پوچھا یہاں وادی میں تمہارے کون سے ایسے دوست  ہیں  جن سے یہ سب سیکھا ہے ؟۔۔ تو شجاع نے بتایا کہ پہاڑ، پہاڑ سے بہنے والا جھرنا، پہاڑ کے پیچھے سے ابھرنے والا سورج، وادی میں لہلہاتے درخت وغیرہ سب اس کے دوست ہیں اور میرے سب دوست اپنی چیزیں باقیوں میں بانٹ دیتے ہیں ،جیسے سورج اپنی روشنی و حرارت، جھرنے اپنا پانی اور درخت اپنے پھل اور تو اور بکریاں اپنا دودھ بھی ہمیں دے دیتی ہیں، تو ماں میں نے فطرت سے یہی سیکھا ہے کہ جو ہمارے پاس ہے وہ دوسروں کے ساتھ مل بانٹ کر استعمال کرنے کے لئے ہے اور وہ بھی بغیر کسی بدلے کی توقع کے ،کہ محبت دیالو ہوتی ہے دینا جانتی ہے اور ماں، محبت ایک ایسا خوبصورت جذبہ ہے کہ جتنا بانٹتے جاؤ، اسے جتنا تقسیم کرو یہ اس سے زیادہ ضرب کھا کر آگے بڑھتی  جاتی ہے اور آپ کے پاس کئی گنا بڑھ کر واپس آتی ہے۔ محبت ایک دریا ہے جس میں ندیاں و جھرنے سب شامل ہوتے رہتے ہیں اور اک دن محبت کا دریا کائنات کے وسیع تر محبت کے سمندر میں مل کر امر ہو جاتا ہے۔

شجاع کی ماں نے بڑھ کر اس کا ماتھا چوم لیا اور کہا بیٹا مجھے تم پر فخر ہے پر یہ بتاؤ تمہارے دل میں کوئی خواہش نہیں پیدا ہوتی ۔۔۔ شجاع نے کہا ماں، من مندر کی سب خواہشیں اوپر والا جانتا ہے، ہماری خواہش کا نتیجہ ہمارے لئے اچھا ہو تو ہمارے لئے پوری کر دیتا ہے، نتیجہ اچھا نہ ہو تو ہمیں بچا لیتا ہے لیکن اگر ہم من مانی پر آ جائیں تو خواہش حرص و ہوس بن جاتی ہے ، طمع بن جاتی  ہے اور فطرت اپنے وجود میں پنپنے والی ایسی بیماریوں کا علاج جانتی ہے ۔۔ اگر نفس کے پیچھے چلنے والا فطرت کے جھٹکے سے سنبھل جائے تو سنبھل جائے ورنہ اس سے دوسرے عبرت پکڑ کر اپنا راستہ، اپنی سمت درست کر لیتے ہیں ۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *