کنڈل۔۔۔ربیعہ سلیم مرزا

آج نویں جماعت  کا نتیجہ نکلا تھا ۔شاہ رخ اپنے باپ کے تابڑ توڑ جوتے کھا کر، بنا کچھ کھائے پِیے ، جو سر پٹ بھا گا تو عالم وحشت میں قصبے سے جڑے قبرستان کوبھی کراس کر گیا۔جہاں شاہ رخ کو باپ سے وراثت میں مار کٹائی ، غصہ اور لعن طعن ملی تھی وہیں ماں سے کچھ دھندلی یادوں کے علاوہ بے پناہ خوبصورتی ملی۔اسی وجہ سے شاید اس کا نام شاہ رخ رکھا گیا ۔
اسی باپ سے تنگ آ کر اسکی ماں نے خود کشی کی ۔۔
عجیب سی جگہ تھی۔۔ناک سے کچھ سینکنے کی مہک ٹکرائی تو پیٹ میں کچھ اینٹھن کا احساس ہوا۔بھری دوپہر اور ہُو کا عالم۔سوائے بابے کے ٹھیلے کے کچھ نہ تھا۔بھلا اس ویرانے میں خریدنے والا کون تھا۔
شاہ رخ کے پاؤں سن ہو رہے تھے۔اسے لگا وہ خود بخود اس ٹھیلے کی طرف رواں ہے۔بابا اِک لمحہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرا تا اور پُراسرار سی دعوت دیتا۔
یہ لے۔۔کھا لے،جلدی سے کھا لےتیرے لیے ہی بنا یا ہے۔
جا لے جا۔بھاگ جا۔۔اس بیری کے درخت پہ چھپ جا۔

جا بھاگ جا۔جا بیری پہ چھپ جا۔تیرے جیسے  کو اس نے چھپا یا ہے۔
اس نے نان میں دو کالے سے کباب لپیٹ کر اسے پکڑائے،اور ہلکا سا ٹہو کا دے کر دھکیلا ۔قصبے والے بتا تے تھے کہ کئی جوان لو گوں نے بیری والے کنویں میں کود کر جان دے دی، کسی کا وجود نہیں ملا۔شروع سے یہ بیری اور کنواں منحوس کہلا تے تھے۔شاید آج وہ بھی یہیں آن پہنچا تھا۔

اس کی یادوں کی پٹاری سے ایک عکس نکلاکہ ایک دفعہ گاؤں والوں نے اس بیری کو کا ٹا بھی تھا۔
یہ سو سالہ بیری بڑھتے بڑھتےاپنی جڑوں سے ایک کنڈل کا روپ دھار چکی تھی۔گاؤں والوں نے وہی کنڈل کاٹ کر، کنو ئیں کی کگر پکی کرنے کے لیے جما دیا۔
اب نہ صرف وہی کنڈل دوبارو اگ چکا تھابلکہ پوری بیری اپنی نحو ست اور رعب و دخشت سے قائم تھی۔۔عالم وحشت میں وہ بیری پہ پاؤں دھرتا چلا گیا۔بلندی پہ تنے کی چوڑائی اتنی تھی کہ وہ نیم دراز ہو کے  بے تابی سےکھانا کھانے لگا۔عجیب سی مہک تھی کباب کی۔۔مگر بھوک سے نڈھال وہ پیٹ بھرتا گیا۔اب گہری شام میں بابا بھی دُکھی نہیں دے رہا تھا۔تنے سے ٹیک لگا تے ہی ماں کا خیال آیا کہ وہ بھی تو یہیں ہے۔کچھ خوف کم ہوا۔
کچھ دیر میں تارے بھی نظر آنے لگیں گے۔اس نے سوچا۔۔

اندھیرا، حشرات الارض، خوف کے باوجود اسے نیند آنے لگی تھی۔ایک پہر ہوا ہو گا۔یوں لگا کوئی تنا چر چرا یا ہے۔پشت کی طرف سے کوئی اوپر چڑ ھا تھا۔اس نے آنکھیں پھا ڑ کر دیکھا۔وہم جان کر آنکھیں موند لیں۔قریب سے کسی نے گہرا سانس لیا۔وہم حقیقت بن رہا تھا۔وقفے وقفے سے چر چراہٹ بڑھنے لگی۔کبھی دائیں، کبھی بائیں ۔
اسے دھیما سا یاد آیا جب وہ سو تے میں کبھی ڈر جا تاتو ماں اسے چھو ٹی چھو ٹی آیات پڑ ھا تی۔اسے مکمل یاد نہیں آیا۔بسم اللہ سے آگے وہ کچھ زیادہ پڑھ نہ سکا۔اس نے غور کیا جب بھی وہ کچھ الفاظ دہرانے لگتا۔ارد گرد کھلبلی مچ جاتی۔پھر کچھ وقت کے لیے خاموشی چھا جا تی۔اسی آنکھ مچولی   میں وقت اور سرک گیا۔اسے لگا کہیں لکڑی پھٹ رہی ہے۔ابھی ایک اونگھ آئی ہی تھی کہ کسی کے کچھ نگلنے کی آواز آئی۔کچھ ہڈیاں ٹوٹنے جیسی آواز تھی شاید۔ ۔
اسے اپنی ہوا ئیاں اُڑتی محسوس ہو ئیں۔وہ رفتہ رفتہ تنے کے اندر جا رہا تھا۔ یا تنا اسے نگل رہا تھا ۔
کسی درد کا کوئی احساس نہ تھا۔اس نے تڑپنے کی را ئیگاں کوششش کی۔اس کے بے تحاشا چیخنے کی آواز زیا دہ دور نہ گئی ہو گی کہ اس ویرانے میں سننے والا کون تھا۔اس کے ذہن میں جو آخری خیال آیا وہ اپنی ماں کا تھا۔کیا اسکے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *