ہرن،شکاری اور کُتا(اختصاریہ)۔۔جواد بشیر

شکاری کی چاندی ہوگئی تھی،اُس کے ہاتھ اس بار ہرن لگا تھا۔
جنگل سے واپسی پر رات ہوچلی تھی،رستے میں لٹیروں کو پتہ چلا تو شکاری کو لُوٹنے کا منصوبہ بنایا،اور تینوں نے طے شدہ منصوبے کے مطابق اپنی اپنی جگہ سنبھال لی۔
شکاری ہرن کو لے کر جیسے ہی پہلے لٹیرے کے قریب سے گزرا،لٹیرے نے آواز لگائی،خیریت ہے۔۔۔؟آج کُتے کا شکار کرلائے ہو۔۔
شکاری ہنسا اور آگے چل پڑا۔۔

تھوڑی دور جاکر دوسرے لٹیرے نے کہا:دماغ ٹھیک ہے صاحب؟کُتے کا ہی شکار کرلیا۔۔
شکاری کا ماتھا ٹھنکا،مگر اپنے یقین کے بھروسے آگے بڑھتے ہوئے سوچتا اور خود کو سمجھاتا گیا کہ نہیں،یہ ہرن ہی ہے۔۔

تیسرے نے گرم لوہے پر ہتھوڑا مارا:
صاحب نظر خراب ہے یا دماغ؟
کُتے کا ہی شکار کرلائے ہیں۔۔

شکاری نے ہرن وہیں پھینکا اور خوف کے مارے بھاگ کھڑا ہوا۔۔۔لٹیروں کی تو موج لگ گئی!

کہانی پرانی ہے،مگر آج کے تناظر میں دیکھیے تو آپ کے ساتھ یہی سلوک ہورہا ہے۔
کل میڈیا نے کہا “کرونا ہے”۔۔ہم نے کہا”ہے”۔
کل تک یہ گرمی سے مر جاتا تھا،ہم نے کہا کہ مر جاتا ہے۔
اب یہ گرمی سے نہیں مرتا،میڈیا نے کہا اور ہم نے مان لیا۔۔

ہاتھ،منہ اور ناک کو ہر وقت صاف کرتے رہے،
لوگوں میں چھوت اچھوت قائم کرتے رہیں ،تو آپ کو نہیں ہوگا،میڈیا نے کہا اور ہم نے سر جھکا دیا۔۔

آگے مزید نہیں لکھنا چاہوں گا۔۔۔۔۔آپ سمجھدار ہیں!

جواد بشیر
جواد بشیر
تحریر بارے اپنی رائے سے کمنٹ میں آگاہ کیجیے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *