درویشوں کا ڈیرا: ایک تاثر۔۔۔خورشید اکرم

درویشوں کا ڈیرا اردومیں لکھنے والے دو ادیبوں کے درمیان لکھے گئے خطوں پر مشتمل اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے۔ کیونکہ رابعہ الرَبّاء اور سہیل خالد کے درمیان کوئی ایسا رشتہ نہیں ہے جسے کوئی نام دیا جا سکے۔ کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے ملے تک نہیں اور نہ ہی اس طویل مکالمے کے دوران اس کا کوئی امکان بنتا نظر آیا۔ لیکن ان میں ایک ایسا روحانی رشتہ قائم ہو گیا جس نے دونوں کو انسانی اعتبار کے رشتے میں باندھ لیا۔ سہیل خالد کی ادبی خدمات سے ایک عرصے سے واقف ہوں لیکن رابعہ الرَبّاء کے متعلق میری واقفیت اس کتاب کے مطالعے سے پہلے تک واجبی سی تھی۔

انہوں نے پچھلے دنوں اردو افسانہ کا ایک انسائیکلو پیڈیا (اردو افسانہ عہد حاضر میں) ترتیب دیا اور اس  سلسلے میں اسرار گاندھی صاحب کے رابطے میں آئیں اور پھر ان کے وسیلے سے میرے رابطے میں۔ انہوں نے میری بھی ایک کہانی اپنے انتخاب میں شامل رکھی۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ رابعہ خود بھی افسانے لکھتی ہیں۔ لیکن ان کی کوئی کہانی میں نے نہیں پڑھی۔ اس لئے جب میں نے اس کتاب کو اٹھایا تو میرا ذہن خالی سلیٹ کی طرح تھا۔ لیکن جیسے جیسے میں اس کتاب کو پڑھتا گیا اس میں دلچسپی بڑھتی گئی اور رابعہ پرت در پرت کھلتی گئیں اور میرے دل میں ان کے لئے قدر ومنزلت بھی بڑھتی گئی۔ اب میں کہہ سکتا ہوں کہ میں انہیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں، اتنی اچھی طرح جتنا میں اپنے دوستوں کواور عزیزوں کو جانتا ہوں۔

رابعہ اور سہیل خالد نے ایک مکالمے کی شروعات کی۔ اور دونوں باتوں کے بہاؤ میں بہتے چلے گئے۔ اس دوران انہوں نے اپنی اپنی ذات کی پرتیں کھولیں۔اپنی اپنی زندگی کے ان رازوں کو ایک دوسرے کے سامنے آشکار کیا جن کا تعلق انسانی سماج، انسانی ذات اور انسانی نفسیات سے ہے۔ یہ ان دونوں کی بپتا نہیں ہے، دکھڑا نہیں ہے، ناآسودگیوں اور محرومیوں کا نوحہ نہیں ہے بلکہ ان سے برآمد شدہ اخذ ونتائج کا مہذب اظہار ہے۔ زندگی کو اس کے پردے اٹھا کر دیکھنے اور دکھانے کا جذباتی، تفکراتی اور تاثراتی رد عمل ہے۔ یہاں آپ بیتی میں جگ بیتی کی جھلکیاں ہیں۔ مگر یہ ویسی نہیں ہیں جیسی شاعری میں ہو تی ہیں، رمز و ایما کے پردے میں۔ویسی جیسی مکالمے میں ہوتی ہیں جب رموز عاشقاں عاشق بدانند کا معاملہ چل نکلتا ہے۔ اور یہاں اس کی صورت یوں بنی کہ ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور، سات سمندر پار بیٹھے دو انسانوں کے درمیان ایک ایسا غیر مرئی دھاگہ بندھ گیاجس میں دوریاں بے معنی ہو گئیں۔ اور باطنی وجود ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ گئے۔ سہیل  نفسیات کے معالج ہیں، پاکستانی ہیں، ایک عرصے سے کینیڈا میں رہتے ہیں۔ ان کے یہاں نہ صرف یہ کہ زندگی کے ایک لمبے سفر کا تجربہ ہے بلکہ ان کے یہاں دو تہذیبوں کے ارتباط و انجذاب سے پیدا شدہ ایک اور طرح کا عمرانی شعور ہے، جو نہ خالصتاً اہل مشرق کے یہاں مل سکتا ہے نہ اہل مغرب میں۔

اس کے بر عکس رابعہ کا سفر ایک چھوٹے سے دائرے میں ہے۔ وہ ایک عورت ہے لیکن عورت پن کے بھی کئی تجربوں سے نا آشنا ہے۔ اس کے پیروں میں ایک بندھن ہے جس نے اس کے پاؤں کو فطری رقص سے روک رکھا ہے۔ لیکن وہ ایک بہت ہی حساس، سنجیدہ، غور و فکر کرنے اور چھوٹے چھوٹے واقعات و وقوعات جو بظاہر انسانی معمولات کا حصہ ہیں،ان سے اپنے حصے کے معنی کشید کر کے اپنے شعور کے خزانے میں ڈال رکھنے والا انسانی وجود ہے۔ رابعہ زندگی سے لبریز ایک انسانی وجود ہے جس کی نگاہ عمیق ہے اور دل میں کشادگی ہے۔ جس کو شاید پہچانا نہیں گیا کیونکہ دنیا اس کے ظاہر کو دیکھ کر سرسری گزر جاتی ہے۔ اس ظاہر کو جو آب وگل سے بنا ہے۔ اور اگر سہیل اور رابعہ کے درمیان یہ مربوط مکالمہ، جو اکثر طویل خطوں میں درج ہو گیا ہے،نہ ہوا ہوتا تو ہم ایک انسانی وجود کے زر و جواہر سے محروم رہ جاتے۔ سہیل خالد کی باتیں علم و آگہی سے پیدا شدہ اور دانشوری و انسانی و عمرانی نفسیات کے پیچ و خم اور ان کے مشاہدات سے پر ہیں۔ جبکہ رابعہ کی باتیں گھر، خاندان اور ایک محدود سماجی ربط سے پیدا ایک عورت کے شعوری و لا شعوری اثرات، اکتشافات، مشاہدات اور بجائے خود محدود سماجی تفاعل کے کیف وکم، تلخ و شیریں تجربات کے نتیجے میں ٹوٹتی بنتی اور ڈھلتی نفسیات کا بے محابا اظہار ہے۔ سہیل خالد کے یہاں ایک سلیقہ حسن ادائیگی کا ہے جو ان کی ایک عمر کی قلمی مشق و مزاولت کا ثمرہ ہے۔ رابعہ کے یہاں ایک داخلی ریاضت کا ہے۔ یہاں اظہار کی ایک ایسی فطری تڑپ ہے جو زبان کے سانچے کو توڑتی ہے اس لیے ان کی نثر بسا اوقات حسین بھی ہے اور معنوی بلاغت سے معمور بھی۔
میرے خیال میں درویشوں کا ڈیرا مکتوباتی ادب میں ایک گرانقدر اضافہ ہے۔ بلکہ زور بیان اور نثر کی پر کاری کے ظاہری لباس سے قطع نظر،حیات انسانی کے ادراک و شعور کی پرت در پرت جہتوں کی گرہ کشائی کے اعتبار سے دیکھیں تو یہ کتاب مکتوباتی ادب کے سر پرغرور کی دستار ہے۔
۲ اپریل ۰۲۰۲ نئی دہلی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *