برکت۔۔ربیعہ سلیم مرزا

چینی کی قیمت 70 روپے سے بڑھ کے 80روپے ہو گئی ۔وزیراعظم نے اسکا نوٹس لے لیا ۔۔۔

ٹی وی کی تیز آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی ۔
“اٹھ بھی جاؤ مجھے بھوک لگی ہے ”

اس بندے کی اتنی صبح آنکھ کیسے کھل جاتی ہے ۔اس نے ابھی سوچنا چاہا ہی تھا مگرا س کی سوچ اپنے شوہر کی آواز میں دب گئی۔۔

“صبح صبح عورتیں اٹھ کے برتن کھڑ کائیں ، تو برکت ہوتی ہے ”

اسے اٹھنا ہی پڑا ، ہاتھ دھو، کُلی کر چولہے کے آگے جا کھڑی ہوئی ۔وہ کچن میں آگیا
“پر اٹھے بل دار اور محبت سے بنانا، عورت کی محبت کھانے میں دکھتی ہے” ۔دس کروڑ پاکستانی مردوں کی طرح اسے بھی وہم تھا کہ وہ عورتوں کی ساری نفسیات سمجھتا ہے۔
وہ چپ رہی ،پانچ چھ پراٹھے بنا نے میں ہی وہ تھک جا تی۔کہاں سے آئے ہر روز اتنی محبت؟۔۔۔۔۔بچےبڑے ہورہے تھے محبت کا ذخیرہ کم پڑنے لگا تھا۔
ہر کوئی انفرادی محبت کا متقاضی ۔۔مگر اس بندے کو ہمیشہ اپنی پڑی رہتی ہے ۔

لڑکپن میں ابھی شعور کی ابتداء تھی ۔کسی کی نظر کا احساس بھی ہوتا تو اماں کی گھرکیاں شروع ۔
“بی بی، یہ نین نخرے اپنے شوہر کے لیے بچا رکھو۔عورت پہ اس کے شوہر کا حق ہو تا ہے ،تمام محبت اس کے لئے سنبھال رکھنا ۔”
یوں محبت اس کے اندر کہیں سیونگ اکاؤنٹ میں جمع ہوتی گئی۔ ۔دل کو انتظار ہی رہا ۔

جلد ی جلد ی گھر کو  سمیٹتے، دوپہر کے کھانے کا خیال آیا۔ایک خوفزدہ سی کیفیت میں پکانا شروع کیا ، اک ذرا محبت کی کمی نمک مرچ کا توازن نہ بگاڑ دے۔
“جیسے لکڑی کی ڈوئی سالن میں رس چھوڑ تی ہے۔ایسے ہی عورت کے ہاتھوں میں رس ہوتا ہے ۔”
شام کو چائے تیار کر کے اس نے محبت سے چھو کے شوہر کو اٹھایا ۔
“ابھی سونے دو ۔ٹانگوں میں درد ہے ۔”
کپ ٹیبل پہ رکھا اور  اس کے پاؤں دبانے شروع کر دئیے ۔۔۔۔محبت بھرا لمس محسوس کر کے وہ اٹھ کر بیٹھ گیا
“لاؤ تمہیں دبا دوں”
“نہیں آپ کے ہاتھ چبھتے ہیں ۔آپ سے نہ دبایا جائےگا”

دل کچھ اور سننے کا منتظر تھا ۔دل چاہا اس کے لہجےمیں کہوں “محبت کے بغیر تو مٹی بھی نہیں گوندھی جاسکتی”
ہر رات سونے کا خیال بےچین کر دیتا،آج بھی نیند پوری ہو پائے گی یا نہیں ۔؟
صبح پھر وہی ناشتے سے پہلے سینکڑوں بار سنا فقرہ
“آج تو تم نکول کڈمین لگیں ۔”
کئی بار دل میں آیا کہہ دوں
“مجھے تو ہر بار تم ہی تم لگے،
کسی اور کے خیال کا گزر ہی نہیں ۔۔کبھی وہ ناز سے پوچھ بیٹھتے ۔
“تمہیں مجھ سے محبت ہے “۔؟
“نہیں “۔وہ شرارت سے جواب دیتی۔
سچ ہی تو تھا محبت تو ملی ہی نہیں ۔
“چار بچے ہو گئے ۔۔اور تمہیں محبت ملی ہی نہیں ،اور کتنی چاہیے ۔”
وہ قہقہہ لگا کر ڈراموں کے سنے ڈائیلاگ دہراتا
وہ دونوں بازو کھول کر بتاتی کہ اتنی، مگر دل کے ساتھ پلکیں بھی نم ہو جاتیں ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *