جواب آں غزل ۔۔۔ سید مصطفین کاظمی

ہمارا معاشرہ عجیب کشمکش میں ہے۔ ایک طرف ساری دنیا ایک جان لیوا وبا کے ادراک اور اس کے ممکنہ علاج کی تدبیر میں مصروف ہے لیکن ہمارے پاکستانی دانشوڑ گویا کسی اور سیارے کے باسی ہیں۔ جعلی لبرل اور فرقہ واریت کی آغوش میں پلنے والا صحافتی اور مذہبی طبقہ مختلف ناموں سے فیس بک کے صفحات پر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے کہ کرونا وائرس ایرانی حکومت نے زائرین کے ذریعے پاکستان بیجھا ہے لہذا اسلام کو شدت کیساتھ خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔  حالانکہ دنیا بھر کے چوٹی کے ریسرچر اس وائرس کی ابتداء کا تعین کرنے سے قاصر ہیں لیکن بھائی لوگ فیصلہ کرکے قلم تک توڑ چکے۔

نہر کے اس پار بھی ہٹ دھرمی اور منافقت کسی صورت کم نہیں ہے کچھ دن پہلے ایک بظاہر تعلیم یافتہ حضرت نے سکھر قرنطینہ کے باہر چھابڑی سجا لی اور اپنے سمیت وہاں موجود تمام لوگوں کو کرونا سے بالمشافہ متعارف کروا کے دم لیا۔ ایک اور محترمہ کو وائرس رجب کے کونڈوں کیخلاف بین الاقوامی سازش کا حصہ دکھائی دے رہا ہے۔  عراق اور ایران میں شیعی علوم اور فقہی مراکز میں بزرگان نے اس حوالے سے فتاویٰ جاری کر دیئے لیکن ملک خدا داد بسنے والے چند مادر پدر آزاد مومن کب مانتے ہیں وہ تو من کہی کریں گے  اور اپنے ساتھ اورں کو بھی ٹھکانے لگا کرکے چھوڑیں گے۔ ایک اور نیم حکیم مومنین کو گھروں پر مجالس کرانے کی ترغیب دے ہیں وبا کی دنوں میں مجلس کے سوال پر جواب ملا گھر والوں کیساتھ کر لیں حالانکہ اس پہلے ان کا موقف مختلف تھا لیکن کمال ڈھٹائی کیساتھ یہ بھی ارشاد ہوا کہ ذکر اہلبیت نحوست دور کرتا ہے اور خاک شفا تو ہے ہی شفا وغیرہ وغیرہ الغرض جس کا جیب میں جو بھی نسخہ اور جس کی الماری میں جو دوا ہے بس یہی تریاق ہے۔

میں نے عقیدت کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے والے افراد سے متعدد بار سوال کیا کہ قبلہ
آج مکہ، مدینہ، نجف، کربلا جیسے مقدس اور اسلام کی اساس کا درجہ رکھنے والے مقامات اس وائرس کی وجہ بند کیوں کر دیے گئے ہیں تو جواب میں یا تو کوئی بغلیں بجانے لگا تو کسی نے مجھ پر مذہب اور خدا کی توہین کی حد لگا دی۔

بھائی بات سادہ سی ہے اور یہ بات قدرت کے اصولوں کی ہے اگر خدا نے کسی چیز کا مضر صحت ہونا طے کر دیا ہے تو پھر آپ جو مرضی کر لیں اس کا استعمال نقصان دے ہی ہوگا۔  قرآن سر پر اٹھا کر اگر ٹرک کے سامنے آہیں گے تو بھی کچلے جائیں گے۔ اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو اور میڈیکل کی ڈگری اسے بیماری بچاؤ اور اس کا علاج تو سکھا سکتی ہے لیکن اس ڈگری کا یہ مطلب نہیں کہ ڈاکٹر صاحب پر کوئی بیماری حملہ آور نہیں ہوگی۔ اگر کوئی زہر کھا کر اس کے اوپر شہد کھا لے تو کیا زہر اثر نہیں کرے گا؟ اور ہمارے تو نو اماموں کو زہر دے کر شہید کیا گیا تھا۔

ابھی یہ تحریر لکھ رہا ہوں کہ اپنے کچے سنی اور پکے شیعہ رانا صاحب کی بابت معلوم ہوا کہ جامع الازہر، نجف اور قم سے فتویٰ ملنے کے باوجود ملک کے  جید سنی شیعہ علماء نماز جمعہ کرانے پر تلے ہوئے ہیں تو اس ضمن میں میری دست بستہ رائے یہ کہ ان سب کو جلد از جلد سافٹ ویئر اپڈیٹ کی ضرورت ہے اور یا کم از کم وبا کے دنوں میں انہیں ائشولیشن کی ضرورت ہے۔ میرے پروردگار کا اسلام عقل اور فہم کا دین ہے یہ دین جہالت کے اندھیرے کو مٹانے آیا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں بھائی لوگ پھر سے تاریکی کے مسافر ہیں اور اپنے ساتھ سارے معاشرے کو بھی اسی سمت میں کھینچ رہے ہیں۔

Avatar
سیدمصطفین کاظمی
لوگوں نے گفتگو میں کریدا بہت ہمیں ۔ ہم خود سے ہمکلام تھے اکثر نہیں ملے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *