سرل المیدا اورقومی سلامتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبط حسن گیلانی

SHOPPING

سرل المیدا کا نام سنتے ہی پہلی تصویر جو دماغ میں بنتی ہے۔ایک سرسراتی لچکتی ہوئی گوری دوشیزہ جو کسی المیدا نام کے انگریز کی بیٹی ہے۔اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہم ہیں ہی ایسے۔کسی بھی شے کو جانے بغیر اس کا تصور قائم کر لینے والے۔جیسا کہ ہمارے ایک بزرگ ہیں ، تاریخ اسلام پر کتاب لکھ رہے ہیںاور اس کے بعد تاریخ برصغیر پر ایک کتاب لکھ کر بہت سارے مغالتوں کو دور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک دن ان کے سامنے کسی نے سروجنی نائیڈو کا ذکر کیا۔تو فرمانے لگے ہم انگریزوں کو تاریخ کے معاملے میں قابل بھروسہ نہیں سمجھتے۔یہی کچھ آج کل ہمارے کچھ بزرگ دانشور سرل المیدا کے ساتھ کر رہے ہیں۔سرل جو کراچی کا جم پل اور پاکستان کا بیٹاہے۔اکسفورڈ کا پڑھا ہوا  ایک  انگریزی روزنامے میں کالم لکھتا ہے۔اسے اتنے ہی لوگ جانتے ہیں جتنے اس انگریزی اخبار کو پڑھتے ہیں۔لیکن پچھلے دو ہفتوں سے وہ پاکستان میں انتہائی شہرت حاصل کر چکا ہے۔جب اردو پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر وہ روزانہ کی بنیاد پر موضوع گفتگو ہے۔ اور بین الاقوامی میڈیا پر بھی اسے بین الاقوامی شہرت مل رہی ہے۔ وجہ ؟۔ایک چھوٹی سی خبر جس کے ذریعے اس نے بقول حکومت قومی سلامتی کو دائو پر لگا دیا۔ جس کی پاداش میں اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا۔اس خبر کو میں نے بھی پڑھا۔ایک پاکستانی ہونے کے ناطے وہ خبر میرے لیے ایک تسلی بخش خبر تھی۔البتہ ایک صاحب الرائے پاکستانی ہونے کے ناطے میرے دل میں چندایک خدشات اُبھرے۔ جن کا اظہار کرنے کا سوچ ہی رہا تھا۔کہ حکومت اور عسکری ادارے درست سمت کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں اس سلسلے میں بہت محتاط ہونا پڑے گا۔قانون سے ماورا کوئی بھی کام اس حساس معاملے کو مزید الجھانے کا سبب بن سکتا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔لیکن دوسرے دن ہی اس خبر کو کسی اور طریقے سے برتا گیا۔

اس خبر پر ایک سرسری سی نظر ڈالتے ہیں۔ایک انتہائی اعلیٰ سطح کا اجلاس جس میں سول حکومت کے سیکریٹری خارجہ نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی دن بہ دن بڑھتی ہوئی تنہائی پر تشویش کا اظہار کیا۔ وہاں پر موجود ایک انتہائی اہم خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے اس تشویش سے اتفاق کیا ۔ وطن کے ایک محافظ سپاہی ہونے کے ناطے انہوں نے اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔کہ اس سلسلے میںحکومت جو بھی قدم اٹھاے گی ہمارا تعاون اس کے ساتھ ہوگا لیکن ایسا تاثر نہیں جانا چاہیے کہ ہم ایسا کچھ بھارت کے دبائو پر کر رہے ہیں۔ان کی اس بات سے کسی بھی پاکستانی کو بھلہ کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ اس اجلاس کی خبر میڈیا تک پہنچنے کے بعد اعلیٰ عسکری قیادت کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ان کے مطابق خبر میڈیا تک کیسے پہنچی؟۔اور اسے اصل سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کیوں کیا گیا؟۔ ان کی یہ تشویش بھی سمجھ میں آنے والی بات ہے۔لیکن حکومت نے اس معاملے کو جس طریقے سے برتا وہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔اس صحافی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں اتنی عجلت میں کیوں ڈالا گیا؟۔ کیا اس نے کوئی جرم کیا تھا؟۔چوہدری صاحب نے  آج ہی اس سلسلے میں ایک بھرپور پریس کانفرنس کی ہے۔انہوں نے خبر پر جو تبصرہ کیا اس سے اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے یہ بات کیسے مان لی جائے کہ حکومت کا اس صحافی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا درست اور جائز قانونی عمل ہے؟۔اور ایسی خبر اخبار تک پہنچ کر قومی سلامتی کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنی ہے؟۔ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا کہ عراق میں ابوغریب جیل کے اندر امریکی فوج کے ہاتھوں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے ظلم کی خبر تصویروں کے ساتھ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے شائع کی تھی۔ کیا امریکہ نے اس صحافی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا تھا؟۔کیا کسی نے اس خبر کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا تھا؟۔اس کے برعکس تبصرہ نگاروں نے اس خبر کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک مثبت اقدام قرار دیا تھا۔

SHOPPING

ایک سینیر بزرگ صحافی کا کہنا ہے کہ کسی بھی خبر کو شائع کرنے کا ذمہ دار اخبار کا ایڈیٹر ہوتا ہے نہ کہ خبر تلاش کر کے لانے والا کارکن صحافی۔حکومت اگر اس بات کو اپنی تشویش اور تحفظات تک محدود رکھتی۔اس بات کی انکوائری کرتی کہ اتنے حساس اور اہم معاملے کی خبر وقت سے پہلے شائع ہونے سے اس کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تو بہت سارے لوگ حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ اس کی ہاں میں ہاں ملاتے۔لیکن صحافی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا اسے قومی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دینا۔ ایسا عمل ہے جس کو کوئی بھی صحافی یا باشعور پاکستانی درست قرار نہیں دے گا۔یہ آزادی اظہار رائے پر حملہ ہی تصور ہو گا۔ایک پاکستانی اپنی حکومت سے یہ سوال کرنے کا حق رکھتا ہے۔ کہ جنرل مشرف جنہوں نے آئین کوپامال کرتے ہوئے ایک منتخب حکومت کا تختہ اُلٹا۔نو سال تک غیر قانونی و غیر آئینی طریقے سے حکومت پر قابض رہے۔این آر او جیسے سیاہ اور غیر آئینی اقدام سے عوام کے مسترد شدہ سیاسی ملبے کو دوبارہ سے ان کی دہلیز پر لا پھینکا۔اور آپ نے اُس سیاسی گند کو پھر سے جھاڑے پھونکے بغیر’’ سیاسی تعمیر‘‘ کا حصہ بنا لیا۔ ان کے لیے تو آپ کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ مکڑی کا جالا ثابت ہوتی ہے۔ لیکن ایک کارکن صحافی اور اخبار نویس کے لیے ایک بھوکا شِکرا۔پاکستان اور پاکستانیوں کو دنیا کس نظر سے دیکھتی ہے؟۔ پاکستان اقوام عالم میں اپنی اندرونی و بیرونی پالیسیوں کے سبب کس حد تک بدنام ہو چکا ہے؟۔اس ملک کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو اپنے خون پسینے کی کمائی سے سہارا دینے والے بیرون ممالک مقیم پاکستانی کیسی کیسی نظروںاور کیسے کیسے تبصروں کا سامنا کرتے ہیں؟۔ وہ اپنی آئیندہ نسلوں کے مستقبل سے کتنے پریشان ہیں؟۔کبھی ٹھنڈے دل سے غور کیا آپ نے؟۔کیا ساری دنیا کو یہ سب کچھ بھارت نے سمجھایا ہے؟۔ وہ خود کچھ دیکھنے اور سمجھنے سے قاصر ہیں؟۔ہم حساس قومی معاملات کو بھارت سے توجہ ہٹا کر انہیں بین الاقوامی عالمی برادری کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی صلاحیت کب پیدا کریں گے؟۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *