• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(دوسرا دن)۔۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(دوسرا دن)۔۔۔گوتم حیات

کراچی میں لاک ڈاؤن کا دوسرا روز بھی اختتام پذیر ہو گیا۔ اس وقت رات کے دس بجنے والے ہیں، میں اپنے بستر پر اداس بیٹھا کورونا وائرس کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ آج صبح دیر سے میری آنکھ کھلی، جب اُٹھ کر موبائل چیک کیا تو ساڑھے آٹھ ہو رہے تھے۔ باہر سے چڑیوں کی سریلی آوازں کے ساتھ ساتھ ایک کوّے کی بھی آواز آ رہی تھی، مگر کھڑکی کھولے بنا میں دوبارہ سو گیا۔ دوسری بار جب سو کر اُٹھا تو بارہ بج چکے تھے۔ میں نے منہ ہاتھ دھویا اور اپنی ایک ٹیچر کو فون کیا، سوچا آج اُن کی طرف ہو آؤں مگر میری بدقسمتی کہ اُن سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ اس کے بعد میں نے فیس بُک پر کچھ نوٹیفیکیشن چیک کیے اور نیچے کچن کی طرف ناشتہ کرنے چلا گیا۔ رات کی دال گرم کر کے پراٹھے کے ساتھ کھائی جو کہ میری بھابھی نے صبح ہی صبح بنا کر رکھ دیے تھے۔ چائے کی پتیلی بھی لبا لب بھری ہوئی چولہے پر رکھی تھی لیکن مجھے ہوٹل کی چائے پینے کی ایسی بری لت لگ چکی ہے کہ اپنے گھر پر بنی ہوئی چائے مجھے زہر معلوم ہوتی ہے، اس لیے میں چائے پیے بنا واپس اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔

آج میں نے ٹی وی نیوز کا بائیکاٹ کیا اور پورا دن ٹی وی والے کمرے کی طرف نہیں گیا۔ شام کے وقت بوجھل دل کے ساتھ ٹی وی کے کمرے پر قدم رکھا تو وزیراعظم صاحب کی کسی تازہ پریس کانفرنس یا تقریر کے چرچے تھے، ہر چینل پر وزیراعظم کے فرمودات کو خبر بنا کر پیٹا جا رہا تھا اس دوران ایک اچھی خبر بھی دیکھنے کو ملی کہ آج کے دن بہت کم کیسز کرونا کے تشخیص ہوئے۔ یہ ایک غیرمعمولی اور خوش آئند خبر تھی۔ اس کے بعد میں واپس اپنے کمرے میں چلا گیا اور ابھی لیٹا ہی تھا کہ چھت پر سے کوّے کی آواز آنے لگی۔ اس وقت مجھے کوّے کی آواز بہت ہی بھلی لگی اور میں سوچنے لگا کہ پچھلے چھ دنوں سے میں نے سڑکوں پر چلتی دھواں اور دھول اُڑاتی گاڑیوں اور ان کے شور کو نہیں سنا۔ ایک لمحے کے لیے میں نے اپنے آپ کو بہت خوش قسمت تصور کیا کیونکہ مجھے گاڑیوں کی آوازیں اور ان کے انجن سے نکلتے ہوئے آلودہ دُھویں سے شدید نفرت ہے لیکن پھر خیال آیا کہ اس آلودہ شور کا بھی اپنا مزہ ہے، گاڑیوں کے انجنوں سے نکلتا کالا دھواں زندگی کی علامت ہے اور زندگی کی ان روشن علامتوں کو یوں کرونا سے ڈر کر خاموش نہیں ہو جانا چاہیے۔ کیا میں اپنی زندگی میں دوبارہ سڑکوں پر شور مچاتی، دھواں چھوڑتی گاڑیوں کا دیدار کر پاؤں گا۔۔۔

کتنے دنوں سے میں نے بسوں کے کنڈیکٹروں کا بھی شور نہیں سنا۔ آج مجھے بس کے کنڈیکٹر بیحد یاد آرہے ہیں۔ ابھی وہ لوگ کس حال میں ہوں گے، ان کی روزانہ کی آمدنی تو اس کرونا نے چھین لی کیا اب یہ کرونا اُن کے تندرست بدنوں کو بھی اپنا نوالہ بنانے کی تیاری کر رہا ہو گا؟

اب رات کے پورے دس بج چکے ہیں اور محلّے بھر کی مساجد سے اذانوں کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں ہیں۔ یہ اذانیں علماء حضرات کے احکام پر کرونا وائرس سے بچنے کے لیے دی جا رہی ہیں۔ کاش ان اذانوں کے اثر سے یہ کورونا وائرس اپنی موت آپ مر جائے۔

ان اذانوں کو سن کو مجھے اس شہر میں کرفیو کے زمانے کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ دو دہائیوں قبل جب کراچی میں کرفیو لگا تھا تو رات گئے وردی والے بغیر اجازت گھروں میں گھس کر محض شک کی بنا پر نوجوان لڑکوں کو پکڑ کر اپنے ساتھ زبردستی لے جاتے تھے اور پھر اُن کے  عزیزواقارب لڑکوں کی جلد بازیابی کے لیے محلّے بھر میں “آیتِ کریمہ کا ختم” کرواتے تھے۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اس آیتِ کریمہ کی برکت سے وردی والے ہمارے بے گناہ لڑکوں کو چھوڑ دیں گے۔ لیکن ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ کوئی زندہ سلامت خیریت سے واپس آئے۔ عموماً بہت سے لڑکے جعلی پولیس مقابلوں کے نام پر مار دیے جاتے تھے اور پھر کچھ دن بعد اخباروں کے صفحات میں ان کی موت کی اطلاع یوں دی جاتی تھی کہ فلاں لڑکا ڈکتی کرتے ہوئے پولیس مقابلے میں مارا گیا، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال بھیج دیا گیا ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *