• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کورونا وائرس, انسانی بقاء کی کنجی اور کرنے کے کام۔۔ بلال شوکت آزاد

کورونا وائرس, انسانی بقاء کی کنجی اور کرنے کے کام۔۔ بلال شوکت آزاد

دنیا بھر میں اس وقت کورونا وائرس کی ہیبت اور دہشت طاری ہے جبکہ انسان موت کی نہج پر کھڑا ہے۔

براہ راست بات کروں تو وائرس یا بیکٹیریا, آسمانی و زمینی آفات و بلیات وغیرہ کو روئے زمین پر ہمیشہ 5 عوامل نے شکست دی ہے۔

1-ڈر
2-جینے کی آگاہی
3-قوت مدافعت
4-سماجی تنہائی
5-مزاحمت کا حصول

اب ذرا ان عوامل کی تفصیل بتاتا ہوں تاکہ آپ کو باآسانی سمجھ آسکے۔

1-ڈر:

“جو ڈر گیا وہ مرگیا”, کوئی الہامی یا سائنسی کلیہ نہیں بلکہ یہ ایک انتہائی بکواس جملہ ہے جس نے انسان کو صدیوں سے خالق کائنات کے احکامات سے سرموانحراف اور انبیاء کی تعلیمات سے انکار کا جواز تک گھڑ کر دیا ہے۔جبکہ دنیا میں اللہ نے انسانوں کو داخل ہی اسی لیے کیا تھا کہ ان میں بے فکری, لاپرواہی اور بے خوفی کے جراثیم ختم ہوسکیں کیونکہ اللہ نے انسان کو تخلیق ہی ڈرنے کے لیے کیا تھا۔

ایلس سلور ایک مغربی سائنسدان ہے جس نے سالہا سال کی سائنٹیفک تحقیق سے یہ بات ثابت کی ہے کہ انسان اس سیارے کی مخلوق نہیں بلکہ اسکی ساخت اور بناوٹ ہی نہیں اس کی عادات و اطوار اور رہن سہن تک غیر زمینی ہے, مطلب اس نے واضح الفاظ میں انسان کو بطور سبجیکٹ پڑھ اور سمجھ کر یہ کہا ہے کہ اول تو انسان وہ جاندار ہے روئے زمین کا جس کا ارتقائی تھیوری سے کوئی تعلق نہیں دوم یہ خود بخود قطعی نہیں بنا یا پیدا ہوا بلکہ اس کی تخلیق میں کسی بہت بڑی سائٹیفک قوت رکھنے والے خالق کا کردار ہے۔

ایلس سلور نے اپنی تحقیق میں بہت باریکی سے انسان کے غیر زمینی ہونے کے دلائل اور ثبوت دیئے ہیں اور یہ سوال اہل علم کے لیے چھوڑا ہے کہ جب انسان کا مزاج, کھانا پینا, رہنا سہنا اور زمینی مصائب و پریشانیوں میں گھر کر ہمت ہار دینا یا مر جانا دیگر زمینی مخلوقات کے برعکس ہے تو یہ کس طرح زمین کا مالک اور باسی ہوا؟

ایلس سلور نے یہ تسلیم کیا ہے کہ انسان کسی اور سیارے (جنت) کا مکین ہے اسی وجہ سے یہ روئے زمین پر موجود مخلوق میں واحد مخلوق ہے جو دائمی مریض ہے مطلب اس تخلیق کی قوت مدافعت اور وائرس و بیکٹیریا کے خلاف مدافعتی نظام اسقدر غیر مزاحم اور کمزور ہے کہ اگر کوئی زمینی وائرس یا بیکٹیریا تھوڑا سا بھی متعددی ہوجائے تو انسان جلے ہوئے سوختہ درختوں کی طرح ڈھیر ہونا شروع ہوجاتے ہیں جیسے کہ آج کل کورونا وائرس کو دیکھ لیں۔

تو ایلس سلور کی تحقیق اور دراصل الہامی صحیفوں کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ انسان ایک درماندہ اور راندہ درگاہ مخلوق ہے جسے زمین پر صرف آزمائشی مدت پوری کرنے کی خاطر داخل کیا گیا ہے سو جتنا انسان ڈر ڈر کر اپنے دائرے میں رہے گا اتنا ہی زمینی مصائب اور مشکلات میں کم سے کم گھرے گا کہ ڈر اور خوف انسان کو خالق کے قریب لیکر جاتے ہیں اور بیشک ہمارے خالق و رازق یعنی اللہ تعالی کی یہی منشاء ہے کہ ہم ڈریں اور اس سے رجوع کریں۔

کورونا ایک ڈراؤنے خواب کی مانند نہایت خطرناک اور جان لیوا مرض ہے لہذا اس کو نظر انداز کرکے اس کا شکار مت بنیں۔

2-جینے کی آگاہی:

پہلے انسان کی تعریف الہامیت کے ماننے والوں کے نزدیک آدم و حوا کا زمین پر بھیجا جانا ہے جبکہ علمیت یا سائنس کے حامی اس کے برعکس کچھ اور کہتے ہیں پر ہر دو طرح کے افراد اس بات پر مطلق متفق ہیں کہ انسان بہرحال اس زمین کی مخلوق نہیں۔یا تو یہ کسی اور سیارے سے یہاں آکر بسا ہے یا پھر واقعی الہامی صحیفوں کی داستان انسانی حق پر ہے۔

لیکن مدعا یہ نہیں بلکہ اصل مدعا یہ ہے کہ انسان نے کس طرح ہزاروں لاکھوں سال اس سیارے “زمین” پر گزار لیے اور ابھی بھی زمین و آسمان فتح کرنے کے درپہ ہے۔

“جینے کی آگاہی”

جی ہاں, “جینے کی آگاہی” وہ کنجی ہے “ڈر” کے بعد جس نے انسان کو سمجھایا اور بتایا کہ ضرورت اور دریافت ایجاد کی ماں ہے, لہذا انسان نے ڈرتے ڈرتے اور گرتے پڑتے زندگی کا ایک ارتقائی مدار و محور خود ترتیب دے لیا جس میں گھومتے رہنے اور دریافت و ایجادات کی بدولت انسان جینے اور زندہ رہنے میں کامیاب ہوگیا۔

“جینے کی آگاہی” دینے میں اس طاقت کے وجود سے انکار کسی طور ممکن نہیں جسے آپ اور ہم سب رب تعالی کے نام سے جانتے اور مانتے ہیں۔

تمام آسمانی صحیفے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ انسان کو کس طرح جینا اور کس طرح آفات و بلیات سے محفوظ رہنا ہے۔

اس بات کا علم انسان کو تجربے نے کم جبکہ رب کے احکامات اور وقتاً فوقتاً ڈالی آزمائشوں نے زیادہ بہتر انداز میں دیا ہے۔

اس وقت کورونا سے کوئی ٹکرانے اور نبٹنے کے خواب دیکھتا یا بات کرتا ہے تو وہ مطلق بیوقوف ہی نہیں بلکہ ایک نمبر کا جاہل اور ظالم انسان ہے جو خود کا دشمن تو ہے ہی لیکن اللہ کی پسندیدہ تخلیق انسان کا بھی دشمن ہے۔

کورونا سے صرف بچا اور محفوظ رہا جاسکتا ہے فقط جینے کی آگاہی کے سر پر۔

حکومت وقت, مذہبی قیادت, علمی و سیاسی قیادت بشمول ہر وہ سمجھدار عامی و خواص جو جینے کی آگاہی دے منطق اور مضبوط دلائل کی روشنی میں تو اسے بلا چوں چراں لے لیا جائے اور سختی سے عمل کیا اور کروایا جائے کہ انسان ایک بے بس کمزور ترین مخلوق ہے اس سیارہ زمین کی لیکن اس کی طاقت دراصل ڈر اور جینے کی آگاہی رکھنا ہے۔

3-قوت مدافعت:

انسان کو زمین پر ڈر اور جینے کی آگاہی کے بعد جس چیز نے بقاء بخشی وہ ہے اسکی روحانی و جسمانی قوت مدافعت۔

مطلب سیارہ زمین کے موسم اور اسکے تغیرات کے سامنے کھڑے رہنا اور سیارہ زمین کی دیگر تخلیقات بشمول خوردبینی جان لیوا مخلوقات کے سامنے ڈٹے رہنے کے لیے ملی طاقت کو قوت مدافعت کہہ اور سمجھ سکتے ہیں۔

وائرس اور بیکٹیریا کی فطرت میں ہے کہ یہ دو انتہاؤں کو ہدف بناتے ہیں۔ اگر کوئی وائرس اور بیکٹیریا کمزور ہے تو وہ طاقتور اور صحت مند اجسام کو ہدف بناتا ہے لیکن اگر کوئی وائرس اور بیکٹیریا طاقتور ہے تو وہ کمزور اور تخلیقی کمیوں کے حامل اجسام کو ہدف بناتا ہے لیکن ایسا بالکل نہیں ہوتا اور نہ آج تک ہوا کہ کسی وائرس یا بیکٹیریا نے دونوں انتہاؤں کو بیک وقت ہدف بنایا ہو کیونکہ ابھی تک اس سیارہ زمین پر انسان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر سو سال بعد زمین آٹو موڈ پر جاتی ہے اور ری بوٹنگ کا عمل شروع ہوجاتا ہے جس میں وہی انسان اور مخلوقات محفوظ اور باقی بچتے ہیں جو ڈر و جینے کی آگاہی کے ساتھ ساتھ قوت مدافعت بھی رکھتے ہوں۔

وائرس و بیکٹیریا کے خلاف جنگ جیتنی ہے تو قوت مدافعت کو بڑھانے اور سنبھالنے کی سعی کریں کہ قوت مدافت دراصل ایک دفاعی ڈھال ہے جو کسی بھی وائرس و بیکٹیریا کے حملے کو روکنے کا کام انجام دیتی ہے۔

4-سماجی تنہائی:

قوت مدافعت کو بچانا اور پلٹ وار کرنا یا مزاحمت قائم کرنا انسانی بقاء کی اولین ذمہ داری ہے جس کے لیے فوری طور پر کسی بھی وائرس و بیکٹیریا کے حملے بعد کرنے والا اہم کام سماجی تنہائی ہے۔

سماحی تنہائی صرف کسی وائرس و بیکٹیریا ہی کے حملے سے بچنے کے کام نہیں آتی بلکہ خود انسانوں کی قتل و غارت اور برائیوں سے بچنے کے بھی کام آتی ہے۔

یہاں تک کہ اللہ نے بھی انبیاء و رسل کو انتہائی مخدوش حالات میں سماجی تنہائی کا ہی حکم جاری کیا جب کسی نبی و رسول کی سرکش قوم کو دردناک عذاب میں مبتلا کرنے کا ارادہ کیا۔

کورونا کے خلاف کوئی دوا اور علاج فلوقت کارگر نہیں لیکن ہاں سماجی تنہائی سے اس کو ہرانا اور اس کے خلاف قوت مدافعت و مزاحمت حاصل کرنا آسان اور ضروری حل ہے۔

چین اگر اس وائرس کا پہلا شکار تھا اور وہاں اس کو سماجی تنہائی سے ہرا کر بھگادیا گیا ہے تو یقین مانیں اس کے بعد اس وائرس کے خلاف روئے زمین پر سب سے زیادہ قوت مدافعت اور مزاحمت کی طاقت بھی اب چین کے پاس ہی ہے۔

ڈر, جینے کی آگاہی, قوت مدافعت اور سماجی تنہائی ملکر کسی بھی وائرس و بیکٹیریا کے خلاف ہی نہیں بلکہ ہر طرح کے حملہ آور کے خلاف شدید مزاحمت کی طاقت مہیا کرنے کے اہم عوامل ہیں۔

5-مزاحمت کا حصول:

جب انسان ڈر کر جینے کی آگاہی پر عمل کرتے ہوئے قوت مدافعت حاصل کرلیتا ہے تو آدھا کام ہوجاتا ہے اور باقی کا آدھا کام سماجی تنہائی میں جانے سے ہوجاتا ہے مطلب جب زمین کے وائرس و بیکٹیریا انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں تو انسان کی قوت مدافعت اس کو روکنے کی کوشش کرتی ہے اور جن انسانوں کی قوت مدافعت طاقتور ہو وہ وائرس و بیکٹیریا حملے کو سماجی تنہائی میں جاکر اور روک کر ایک قدم آگے بڑھ جاتے ہیں مطلب مزاحمت کی طرف۔

مزاحمت دراصل قوت مدافعت کا جوابی حملہ ہے اس وائرس و بیکٹیریا کے خلاف جو انسان کو فنا کرنے کی غرض سے انسان پر حملہ آور ہوا ہوتا ہے۔

کیسے؟

انسان ہمیشہ کسی بھی انجان وائرس یا بیکٹریا کے حملے کے پہلے ہلے میں اپنی سابقہ قوت مدافعت کے بل پر زیادہ نہیں ٹکتا لہذا جانی نقصان کا شمار زیادہ اور تیز رہتا ہے پر جوں جوں وائرس و بیکٹیریا حملے کی مدت بڑھتی ہے اور انسان اس کے سامنے ٹکنے اور اس کے خلاف لڑنے کی سعی کرتا ہے تو انسانی جسم کا ڈی این اے حملہ آور وائرس و بیکٹیریا کے ڈی این اے کو پڑھ کر اسکی کمزوریاں بھانپ لیتا ہے اور پھر وہ کمزوریاں انسانی قوت مدافعت کو فیڈ کردیتا ہے جس کی وجہ سے انسان کی نسل بقاء کی جنگ میں جیت کر اس حملہ آور وائرس و بیکٹیریا کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے۔

انسانی تاریخ میں ایسے سنگین و جان لیوا وائرس و بیکٹیریا کی درگت کی کہانیاں بھری پڑی ہیں جنہوں نے انسان کو کمزور مخلوق سمجھ کر شکار بنایا اور نقصان بھی خوب پہنچایا پر جب انسان کی مزاحمت اور قوت مدافعت ان وائرسز و بیکٹیریاز کی کمزوریاں سمجھ گئے تو آج وہی وائرس و بیکٹیریا محض قابل علاج و تدراک ہی نہیں بلکہ مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔

جدت اور وسائل کی بھرمار اور علم کی بدولت اس بار بھی انسان کورونا پر فتح حاصل کرکے اس کو بھی کمزور کرلیں گے سابقہ وائرسز و بیکٹیریاز کی طرح۔

پھر جب کسی انسان کو کورونا ایفیکٹ کرے گا تو وہ جاں بحق نہیں ہوگا بلکہ اس وائرس کے خلاف اِس وقت ڈر, جینے کی آگاہی, قوت مدافعت اور سماجی تنہائی کی بدولت حاصل کی گئی مزاحمت (اینٹی کورونا ادویات) سے وہ کورونا کو شکست فاش دیکر انسانی بقاء کا جھنڈا گاڑے گا پہلے کی طرح۔

تو اس ساری بحث اور تفصیل کا حاصل نتیجہ یہ ہے کہ بطور انسان, مسلمان اور پاکستان ہم نے اسباب اور توکل اللہ کو ساتھ لیکر چلنا ہے اور اللہ کی قسم اس وقت بہترین اسباب ڈر, جینے کی آگاہی, قوت مدافعت, سماجی تنہائی اور مزاحمت کا حصول ہے۔

کورونا وائرس سے کس طرح بچنا ہے یا بچا جاسکتا ہے اس کے لیے حکومت وقت اور متعلقہ افراد کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

انسانی بقاء کا دارومدار ہمیشہ تحربات پر ہی موقوف نہیں بلکہ کبھی کبھی بس صرف ہدایات پر عمل سے بھی بقاء کی جنگ جیتی جاسکتی ہے۔

اگر چین جیسے غیر الہامی مذہب و نظریہ رکھنے والے ملک کو اللہ شفاء یاب کرسکتا ہے اسباب کی بدولت تو اللہ ہم مسلمانوں کو اسباب و توکل اللہ کی بدولت ضرور شفاء یاب اور اس مصیبت کے خلاف فتحیاب کرے گا, ان شاء اللہ۔

کورونا سے ڈرنا بھی ہے, جینے کی آگاہی بھی حاصل کرنی ہے, کورونا سے قوت مدافعت کے بل پر بچنا بھی ہے اور سماجی تنہائی میں جانا بھی ہے تاکہ اللہ ہمیں ان اسباب کی بدولت کورونا کے خلاف بھی مزاحمت کی طاقت دے جس طرح پہلے اللہ نے ہمیں فلو, ٹی بی, ملیریا, ڈینگی, کانگو, سارس, سوائن فلو اور دیگر وائرسز و بیکٹیریاز کے خلاف مزاحمت کی طاقت دیکر ان بیماریوں کا علاج کرنا سکھایا اور انسان کی بقاء یقینی بنائی۔

امید ہے کہ احباب اس تحریر سے سیکھیں اور سمجھیں گے کہ انسانی بقاء کی کنجی دراصل ڈر, جینے کی آگاہی, قوت مدافعت, سماجی تنہائی اور مزاحمت کا حصول ہے اور ایک بار پھر سیارہ زمین سے باہر کی ایلین مخلوق انسان روئے زمین کی مخلوق کورونا وائرس کو شکست دیکر زمین پر انسانیت کا جھنڈا بلند کرے گی۔

اللہ نگہبان۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *