اپنی مٹی سے جُڑا لکھاری فیصل عرفان۔۔۔روؤف کلاسرا

پوٹھوہار کی خوبصورت دھرتی پر ویسے تو کئی خوبصورت لکھاریوں اور ادیبوں نے جنم لیا ہے لیکن سب نے اردو میں لکھا اور بہترین لکھا۔ لیکن فیصل عرفان ایک ایسا نوجوان ہے جس نے اپنی دھرتی ماں اور ماں بولی پر کام کیا اور شاندار کام کیا۔ وہ اس احساس کمتری کا شکار نہیں ہوا کہ اس کی پوٹھوہاری کہاوتوں یا اکھانڑ کی کتاب کون خریدے گا، کون پڑھے گا پھر کون سمجھے گا اور پھر کیا کوئی سراہے گا بھی اسے یا اس کا سارا کام ضائع جائے گا؟
اس نوجوان نے بہت اعلیٰ کام کیا ہے۔ بڑی محنت اور ریسرچ کی ہے۔ ہماری سرائیکی زبان میں یہ شاندار کام جناب شوکت مغل صاحب نے کیا۔ ایسے لوگ ہمارا مان ہیں جو کمرشل یا پیسے کمانے کے لیے ایسے کام نہیں کرتے بلکہ ماں بولی کی محبت میں کرتے ہیں۔ یہ کام جنون سے ہی ممکن ہے۔ اگر شوکت مغل اور فیصل عرفان نے ایسے کام کبھی دنیا کے مہذب ملکوں میں کیے ہوتے تو انہیں ہزاروں سال پرانی تہذیبوں، کلچر اور بولی کو زندہ رکھنے کے انعام کے طور پر ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی جاتی۔ انہیں سرکاری انعام سے نوازا جاتا۔ ادبی یا ثقافتی تنظیمیں انہیں بلا کر عزت اور احترام سے نوازتیں۔ مقامی لوگ انہیں سر پر بٹھاتے

اور ان کی کتب بیسٹ سیلر ہوتیں اور نئی نسل کو یہ پرانے جملے اور محاورے پڑھائے جاتے کہ ہر ایک اکھانڑ کے پیچھے انسانی تمدن، ہزاروں سال کی ذہانت اور تجربات چھپے ہوئے ہیں۔ اس خطے کی تاریخ، تمدن، تہذیب اور دانائی کا راز ان کہاوتوں، جملوں اور اکھانڑ میں چھپا ہوتا ہے۔ پوٹھوہار کی دھرتی ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس دھرتی کے ایک بہادر سپوت راجہ پورس نے سکندر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا کہ دشمن نے بھی داد دی۔ ایرانی بہادر سمجھے جاتے تھے لیکن سکندر کی فوج کے آگے وہ سب بھاگ گئے تھے اور ایرانیوں نے اپنے سردار دارا کا سر قلم کر کے سکندر کو پیش کیا تھا اور جان چھڑائی تھی لیکن پوٹھوہاری راجہ پورس کی قیادت میں میدان میں ڈٹے اور لڑے۔ ہار جیت سے زیادہ اہم ان کا لڑنا تھا۔ مغلوں کے دور میں بھی پوٹھوہار کی دھرتی نے ہی مزاحمت جاری رکھی تھی۔

فیصل عرفان

مجھے نہیں پتہ اکادمی ادیبات کس بنیاد پر کن کتابوں کو سال کی بہترین کتاب کا انعام دیتی ہے۔ لیکن اسے پوٹھوہار کے اس فرزند کی اس بہترین کاوش پر انعام دینا چائیے۔ شاہد صدیقی صاحب اگر اس وقت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہوتے تو ان سے کہتا نوجوان فیصل عرفان کا لیکچر یونیورسٹی میں رکھوائیں تاکہ وہ ہمیں اپنے اس شاندار کام، ریسرچ اور کوشش بارے بتائیں اور نئی نسل کچھ ان سے سیکھے۔ یہ ایک جینوئن ریسرچ اور محنت ہے جو اس نوجوان نے کی ہے اور گھبرایا نہیں۔
فیصل عرفان کی یہ کوشش پوٹھوہار کی دھرتی اور زبان پر ایک احسان ہے۔ میری اپنے دوستوں سے درخواست ہوگی وہ اس کتاب کو خریدیں، سب پتہ اور فون نمبرز نیچے دیے ہوئے ہیں۔ آپ کے پیسے ضائع نہیں جائیں گے۔ ان کہاوتوں یا پوٹھوہاری محاوروں کو پڑھتے ہوئے میں کئی دفعہ بے ساختہ مسکرایا یا قہقہہ لگایا۔
کچھ نمونے حاضر ہیں۔
لاکھیے کولوں ساکھیا چنگا
 (لکھ پتی ہونے سے بہتر وہ ہوتا ہے جس کی ساکھ اچھی ہو)
……
گڈی ٹیراں سوں تے زنانی پیراں سوں سیاڑن گشنی
(گاڑی ٹائروں سے اور عورت پیروں سے پہچانی جاتی ہے)
……
آئی تے لیٹ آں پر مھاڑیاں پٹنیاں تکو
(آئی تو میں لیٹ ہوں مگر میرا ماتم کرنا دیکھنا)
……
آپڑی لسی کی کونڑ کھٹا آخڑاں
(اپنی لسی کو کون کھٹا کہتا ہے۔ اپنی خامیاں کسی کو نظر نہیں آتیں)
……
دیہ مار ساڈھے چار
(بنا سوچے سمجھے مارے جانا)
……
در او کتیا تہاڑا مونہہ نئیں تہاڑیاں خصماں ناں
(کتا کاٹ لے تو اس کے مالک کا منہ رکھتے ہوئے اسے
چھوڑ دیا جاتا ہے)
……
ڈورے اگے گائیے انھے اگے نچئے
(بہرے کے اگے گانا اور اندھے کے اگے ناچنا)
……
ڈولی چاہڑی چھوڑو اگوں وسے نہ وسے
(ڈولی بٹھا دیں گھر بسائے نہ بسائے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *