ہماری غربت کیسے ختم ہوگی۔۔۔امجد خلیل عابد

مجھے مزدوری کرتے ہوئے دس سال سے زیادہ ہوگئے ہیں- میں پورئے یقین سے کہہ سکتا ہوں کوئی بیرونی طاقت ، کوئی ریاست، کوئی امیر رشتہ دار، کوئی کمپنی ، کوئی فلاحی ادارہ، کوئی معجزہ، کوئی سفارش کا دھکا ،ہماری غربت ختم نہیں کرسکتا- کتنے لوگ ہوتے ہیں انتہائی بااثر شخصیت کی سفارش کی پرچی سے آپ کی میرٹ پرستی کی ہوا نکال دیتے ہیں، لیکن پرچی پڑھنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ صاحبِ رقعہ حامل ہذا محض آفس بوائے ہی لگ سکنے کی جملہ قابلیت رکھتے ہیں- البتہ اپنا نام اور ‘آئی لو یو ‘ جیسے چند الفاظ بھی انتہائی خوشخطی سے لکھنے کا عشروں پہ محیط تجربہ رکھتے ہیں- کسمپرسی افسوسناک ہوتی ہے- اپنی ذاتی صلاحیتوں کی تلوار ساتھ رکھنی پڑتی ہے، سفارش کا جوہری ہتھیار تب ہی کام کرتا ہے- ہماری ذاتی صلاحیتیں سفارش کے الیکٹرونک مائیکرو کنٹرولر کا سافٹ ویئر ہوتی ہیں-
یہ ہم خود ہوتے ہیں جنہیں غربت کے جن کو اپنی محنت کے زورِبازو سے قابلیت کی بوتل میں بند کرنا ہوتا ہے- میں نے جب سے عملی زندگی میں قدم رکھا ، مجھے دنیا کے بڑے کامیاب لوگوں کی کہانیاں پڑھنے کو کہا گیا- میں نے برعکس یہ فیصلہ کیا کہ کیوں نے اپنے اطراف بکھری جیتی جاگتی کہانیوں کو پڑھا جائے- آسودہ زندگی گزارنے والوں کی مشکلات سے کامیابی تک کی کہانی سے حوصلہ کشید کیاجائے اور ناکامی، مایوسی اور بدحالی سے لڑتے ،لڑکھڑاتے افراد کے غلط فیصلوں پہ نظر رکھ کر عبرت پکڑی جائے- آپ کو بھی بےشمار نہیں تو سینکڑوں فون یا میسجز موصول ہوتے ہونگے کہ ہمارئے لیے ‘جاب’ کا بندوبست کیا جائے- میں ہر رابطہ کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ آپ کس نوعیت کا کام کرنا پسند کرتے ہیں- جواب تین طرح کا ہوتا ہے؛ اول : جی ہمیں تو کوئی اندازہ نہیں بس ہمیں کہیں بھی اڑا دیا جائے- دوم:بس کوئی صاف ستھراکام ہو،کمپیوٹر میں انگلیاں مارلیتا ہوں، میری میٹرک پاس ہے- سوم: اپنے پاس ہی کسی ٹکنیکل کام میں لگا لیں، آپ کے پاس یہ ہوگا کہ ”کام” جلدی سیکھ جاؤں گا-
ہم نے ایک لمبا عرصہ یہ سوچنے میں گزاراکہ آخر میں یا کوئی بھی فرد خود کو کامیاب کس وقت گردان سکتا ہے- کیونکہ خواہش اور موسیقی سرحد و پاسپورٹ کی حدودوقیود سے ماوراء ہوتی ہیں- ساری سوچ و بچارکے بعد ہم نے کامیابی کا یہ پیمانہ طے کیا کہ جس دن ہم اپنی تمام ضروریات کا بوجھ خود اٹھانے لگتے ہیں اس دن ہم کامیاب ہوجاتے ہیں- اگرچہ یہ کامیابی مکمل نہیں ہوتی جزوی ہوتی ہے- جب کسی کمپنی میں کام کرنے والا الیکٹریشن ، پاکستان میں، اتنا کمانے لگے کہ مکان کا کرایہ، بجلی گیس پانی کے بل، بچوں کے تعلیمی اخراجات جیسے تیسے پورےکرنے لگے، میں سمجھتا ہوں وہ الیکٹریشن ایک کامران شخص ہوتا ہے- اس امکان کو میں رد نہیں کرتاکہ ہوسکتا ہے اسے دو کام کرنے پڑتے ہوں، میرا تجربہ کہتا ہے دو کام کرنے والےلوگوں کو بیماریاں نہیں لگا کرتیں- یہ بھی ممکن ہے کہ بجلی گیس پانی اس الیکٹریشن کی فیملی کو ماپ ماپ کر اور کفایت شعاری سے استعمال کرنا پڑتا ہو، عین ممکن ہے بچوں کا داخلہ اچھے گرامرسکول، یا ڈیفنس جیسے پوش علاقوں میں واقع معروف منیجمنٹ سائینسز یونیورسٹی میں نہ ہوسکتا ہو- مگر میرے پیمانہِ کامیابی کے اعتبار سے سرکاری یا اوسط درجے کے نجی اداروں سے بھی تعلیم پالینا، کفایت شعاری سے بجلی گیس پانی اور کچن چلانا بھی کسی برائی یا ناکامی کے زمرئے میں نہیں آتا- سب سے بڑی ناکامی اپنی ضروریات کے لیےکسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا یا ضروریات کے لیے ترسنا ہے-
سرکاری اداروں میں سکیلوں اور گریڈوں کے جھولوں میں پڑے جھولتے ، توندوں کی بڑھوتری، سستی اور کاہلی میں خود کفیل چھوٹے بٖڑے ملازمین کو میں کامیابی کی کسی بھی قطار میں شمار کرنے کو آمادہ نہیں- نجانے کیوں مجھے محسوس ہواکہ جو بھی مستقل بنیادوںپہ سرکاری” داماد ” بنتا ہے وہ دو چیزوں کی بڑھوتری میں خود کفیل ہوجاتا ہے-اول توندِ لطیف دوم ریشِ شریف- دونوں کے بڑھانے سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم نے جو زندگی میں جوکرنا تھا وہ محض یہی گریڈوں کا حصول تھا ، بڑھی توند اعلان کرتی ہے کہ ہمیں کھانے کی بھک نہیں اور داڑھی مبارک کی طوالت سے یہ جتانا مقصود ہوتا ہے کہ ہم نہ صرف دین کو سمجھ بھی چکے بلکہ عمل پیراء بھی ہیں- مجھے دفتری کام سے اکثر سرکاری دفترکا چکر لگانا پڑتا ہے، ان کی اونگھتی ڈولتی کاہل شکلیں بتا رہی ہوتی ہیں کہ وہ دینِ مبین کو کتنا سمجھے ہیں-داڑھی رکھنا ایک ا نتہائی مبارک عمل ہے لیکن اسی کو مکمل دین سمجھ لینا افسوسناک- پرائیویٹ بینکوں، کارپوریشنوں ، کال سنٹرز میں کھٹا کھٹ اپنی زمہ داریاں نبھاتے باریش افراد مجھے ہمیشہ سے ہی ہانٹ کرتے ہیں-
میرے رول ماڈل، میرے ہیرو پرائیوٹ و کارپوریٹ سیکٹر کے وہ سجیلے مردو زن ہیں جنہوں نے کامیابی و خوشحالی کی نہر کسی ریفرینس ، حوالے اور سفارش کی کدال کے بناء کھودنے کا عہد کیا ہوتا ہے- لیکن اس نکتہ پر میں مکمل جذباتیت اور “میرٹ اندھا ہوتا ہے” کا شکار بھی نہیں ہونا چاہتا- جب کوئی فرد پرائیویٹ سیکٹر میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیت و قابلیت کا لوہا منوا لیتا ہے، کچھ ذاتی پی آر بھی بنا لیتا ہے تو میں اس کو یہ حق دیتا ہوں کہ وہ اپنے لیے خود سے کمائے گئے ریفرنسز کو استعمال میں لاسکتا ہے- نجی اداروں میں کارفرماء پلمبر، الیکٹریشن ، ریسپشنسٹ ، آپریشن آفیسر، آفیسر گریڈ -ون، آفس اسسٹنٹ سے لیکر ایگزیکٹو ہیڈ تک سب ہیرو ہیں – البتہ آفس بوائز اور ٹی بوائز نے مجھے جتنا مایوس کیا ہے اتنا میں پاکستانی ستر سالہ تاریخ کے حکمرانوں سے بھی نہیں ہوا- نجانے پینٹری کچنز میں پڑے کیوں اونگھتے رہتے ہیں، نجانے کیوں ہر کارپوریٹ فائٹ کا پیادہ بن جاتے ہیں- نجانے کیوں اپنی تعلیمی استعداد بڑھانے کا نہیں سوچتے-
بہرحال اس آفاقی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ لاکھ کامیابی کے منتر پڑھے جائیں، جنہیں ٹس سے مس نہ ہونا ہو ، جوں کبھی کان پہ ان کے رینگا نہیں کرتی۔۔۔۔۔۔!!!!!!

Avatar
امجد خلیل عابد
ایک نالائق آدمی اپنا تعارف کیا لکھ سکتا ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *