• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بابو سر واقعے میں جاں بحق ہونے والی بچی کا انکل کے نام خط۔۔سخاوت حسین

بابو سر واقعے میں جاں بحق ہونے والی بچی کا انکل کے نام خط۔۔سخاوت حسین

پیارے انکل!

مجھے امید ہے آپ مجھے یاد کرتے ہوں گے۔ میری آنکھیں یہاں بھی آپ لوگوں کو تلاشتی ہیں۔ مجھ سے قدرے فاصلے پر بابا ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ آج بھی اس جان  سے جانے والے لمحے کو بھول نہیں پاتے۔

آپ نہیں جانتے مگر انکل  !اس حادثے سے دو دن پہلے میں نے بابا کی گود میں بیٹھ کر کتنی سلفیاں لی تھیں۔ کتنی دیر ان سے لپٹی رہی تھی۔ جب انہوں نے پیار سے میری پیشانی پر بوسہ دے کر کہا تھا کہ “میری بیٹی بڑی ہوکر ڈاکٹر بنے گی۔”

تو میرے لبوں پر بکھری ہنسی کتنی دیر فضا میں گونجتی رہی تھی۔ میں کتنی  دیر مان اور خلوص کے ساتھ بابا کو دیکھتی رہی تھی۔ جن کی انگلیوں کی پوروں میں چھپی محبت مجھے اپنے وجود میں محسوس ہوتی تھی۔ جب رات کو میں تنہائی سے ڈر کر ان کے سینے سے لگتی تو وہ پیار سے سمجھاتے کہ”میری رانی روشنیوں کی ملکہ ہے ۔ وہ بھلا اندھیروں سے کیوں ڈرے گی۔”

تب میں ان کے سینے سے لگ کر کتنی دیر سکون کا احساس پاتی۔

پیارے انکل! آپ نہیں جانتے مگر مجھ سے قدرے دور بابا خفا بیٹھے ہیں ۔ کہہ رہے ہیں کہ میری بیٹی آج بھی اپنوں کی یاد میں آنسو بہاتی ہے جو اسے جانے کے چند لمحوں بعد ہی بھول گئے ہیں۔میں ان کو کیسے سمجھاؤں کہ ان کی ڈاکٹر بیٹی کی لاش کتنی دیر سڑک کے کنارے پڑی رہی۔ جب وہ مررہی تھی تو کتنی آرزوئیں اس کے جسم سے نکل کر فضا میں پرواز کررہی تھیں۔ میں ان کو کیسے سمجھاؤں کہ میرے ننھے ہاتھوں پر جب جب خون کی چھینٹیں پڑرہی تھیں، جب میری سرمئی آنکھیں خون کے قطروں سے بھر چکی تھیں اور میں گڑیا سے لاش میں تبدیل ہورہی تھی تو کتنی تکلیف سے گزر رہی تھی۔ میں کتنا روئی تھی، میں نے بابا کو کتنا پکارا تھا مگر وہ خود کسی سیٹ کے نیچے موت کی وادی میں سو چکے تھے۔

آپ نہیں جانتے مگر مجھے اندھیری راتوں سے خوف آتا تھا مگر جب اس چھوٹی عمر میں مجھے قبر میں اتارا گیا تو کتنی دیر میں ان ہاتھوں کو دیکھتی رہی جو مجھے دفن کررہے تھے۔ انکل میرے ساتھ میرے بابا بھی دفن ہورہے تھے۔ میرے عزیزوں کی قبریں بھی میرے ساتھ ہی تیار ہورہی تھیں۔ میں چلائی،  روئی۔۔ میں نے بابا کو کتنی صدائیں دیں۔ ان کو بتایا کہ مجھے اندھیروں سے ڈر لگتا ہے مگر وہ بھی دور زندگی کی بازی ہار کر قبر میں اتر رہے تھے۔

پیارے انکل ! جب ہم گاڑی میں بیٹھے تھے تو سب رشتے داروں نے کتنی دعاؤں سے مجھے رخصت کیا تھا۔ کتنے رشتے داروں نے میرے ماتھے کا بوسہ لیا تھا۔ میری ہنسی کی جلترنگ سے فضائیں گونج رہی تھیں۔ جب میں سب سے ہاتھ ملا کر رخصت ہوئی تبھی میرے ایک عزیزرشتے دار نے کہا تھا کہ “بابا کی رانی ! جانے کب لوٹے گی۔”

انکل انہیں بتا دینا کہ بابا کی رانی اب کبھی نہیں لوٹے گی۔ وہ دکھوں کی گود میں سو گئی ہے۔ اسے درد نے لوری دے کر اپنی آغوش میں سُلا لیا ہے۔

آپ نہیں جانتے مگراس دن بس میں سب کتنے خوش تھے۔ سب کے لبوں پر ہنسی تھی۔ بلتستان سے لوٹ آنے کا دکھ سب کے دلوں میں موجود تھا۔ حسرتیں کبھی آنسو بن کر کسی کے چہرے پر یاس کی لکیر پیدا کردیتیں تو کبھی کوئی کھسیانی ہنسی ہنس کر کونے میں لگی بس کی کھڑکی سے پرے منظروں میں خود کو ڈھونڈنے لگ جاتا۔

پیارے انکل!بابا نے ہوٹل پر مجھے ڈھیرسارا کھانا کھلایا تھا۔ جب وہ چائے پی رہے تھے تب میں غور سے ان کو دیکھ رہی تھی۔ ان کے ماتھے کی شکن مجھے دیکھ کر لمحے بھر میں دور ہوگئی تھی۔تبھی مجھے گود میں اٹھا کر وہ گاڑی تک لے گئے تھے۔ کتنی دیر میرے ساتھ کھیلنے کے بعد بابا سو گئے تھے۔ ان کے چہرے سے جھانکتا محبت کا نور میں کیسے بھول سکتی ہوں۔

بابا مجھ سے اب بھی دور ناراض بیٹھے ہیں۔ کہتےہیں جس دنیا کے لوگ ہمیں اتنی جلدی بھول گئے میں انہیں کیوں خط لکھنے بیٹھی ہوں۔ مگر انکل میں کیسے بتاؤں کہ درد میری رگوں میں اتر چکا ہے۔ صبح آٹھ بجے جب بس کا سانحہ ہوا تو میں نے ہر سو انسانوں کی لاشوں کو بکھرے دیکھا۔ انکل! کتنی مائیں میری ماں کی طرح چیخ رہی تھیں۔ کتنے بابا اپنے بچوں کے نام لے کر آخری ہچکیاں لے رہے تھے۔ کتنے بچے بابا کہہ کر موت کا جام پی رہے تھے۔ بابا! کتنی گڑیائیں بچوں کی موت کے ساتھ سڑک پر بکھر گئیں۔ کتنے ننھے ہاتھوں نے اس دن آخری دفعہ زندگی کی التجا کی۔

پیارے انکل! اس حادثے میں ہم سب مر گئے مگر ہماری موت کے بعد دنیا والے یہ سوچتے رہے کہ کس کا کتنا قصور ہے اور کہیں کوئی ہنس کر ہماری تصویریں ہر جگہ بھیجتا رہا۔ کوئی یہ سوال کرتا رہا کہ ہمارے نام کے ساتھ شہید لگے گا یا ہلاک لکھا جانا چاہیے۔ ہم سب کے لفظوں میں زندہ رہے مگر انکل کل رات جب میں نے لوگوں کے ارد گرد جھانکا تو کوئی بھی ہمیں نہیں جانتا تھا۔ سب ہمیں بھول چکے تھے۔

بابا کی رانی کی لاش اب بھی انہی سڑکوں پر صدائیں دے رہی ہے۔ ہمارا خون اب بھی انہی سڑکوں پر آرزوں کے لٹنے کی داستان سنا رہا ہے۔ بابا کی رانی ڈاکٹر نہ بن سکی۔ کتنے بچوں کے بابا موت کی آغوش میں چلے گئے اور ان کے بچے اب بھی رات کو ڈر کر بابا کو پکارتے ہیں۔ کئی بچے اپنی ماما کو بلا رہے ہیں مگر چچا کوئی نہیں سن رہا۔

ہم سب خفا یہاں فاصلے پر بیٹھے ہیں۔ مگر انکل! بابا نے پوچھا ہے کہ آپ سے پوچھوں کہ جو زندہ ہیں وہ واقعی زندہ ہیں۔ انکل بابا جھگڑتے ہیں کہ جو زندہ ہیں وہ سب بھی مرچکے ہیں۔ ان سب کی بھی اخلاقی موت ہوچکی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ دنیا والوں کو قصور وار سمجھانے میں ہماری موت بھی ناکام رہی۔ میں چلتی ہوں۔ بابا بہت ناراض ہورہے ہیں۔

آپ سب کی مرحوم بیٹی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *