نہیں تو کرونا کو کرنے دو۔۔ جو وہ کر رہا ہے

مجھے مکمل سچائی کا کوئی دعوی تو نہیں مگر دو تین سالوں سے کم کم اور گزشتہ چند مہینوں سے طبعیت میں کچھ اس قسم کی دنیا اور لوگوں سے بیزاری پیدا ہو تی جا رہی تھی کہ یہ سوال صبح و شام دل میں اٹھنے لگ گیا تھا کہ آخر یہ دنیا اب تک کیوں اور کیسے قائم ہے۔ ہر دن ایک نئے دھوکے، جھوٹ، منافقت اور دوغلے پن کا دریا سامنے نظر آتا اسے پار کیا جاتا ہے تو اگلے دن پھر اسی قسم کے ایک اور دریا کا سامنا ہو تا ہے۔منیر نیازی کو سلام۔ معروف کامیڈین امان اللہ خان کے دنیا سے رخصت ہو نے کی دیر تھی کہ کرونا کی بھی ہمت بڑھ گئی۔صاف دل کے لوگ کسی بھی روپ میں ہوں استاد ہوں، ڈاکٹر ہوں، رائٹر ہوں، مجسمہ ساز ہوں، کسان ہوں، گلوکار ہوں،یا جگت باز ہوں یقین جانئے ان کی وجہ سے خاندانوں،محلوں،شہروں اور ملکوں بلکہ اس پوری کائنات کو بڑا آسرا ہوتا ہے۔ورنہ کالے دل والے کسی مسیحائی والے شعبے میں بھی چلے جائیں اسے بھی بے آسرا کر دیتے ہیں۔

یہ” صاف دل” ہوتا کیا ہے؟ یہ نہیں کہ ایسا دل رکھنے والوں کو غصہ نہیں آتا ،یہ نہیں کہ وہ کوئی فرشتہ ہو تے ہیں، ہر کمزوری سے مبرا ۔۔نہیں بلکہ یہ وہ دل ہو تا ہے جو چھوٹا نہیں ہو تا، اس کے اندر دوسروں کے لئے بلاوجہ بغض یا حسد نہیں ہو تا، وہ صرف اپنے غموں کو سمیٹتے ہو ئے نڈھال ہو تا ہے کسی کی خوشیوں کی فکر میں خود کو نہیں جھلساتا۔وہ دوسروں کی خوشی میں خوش اور اپنی خوشی میں اداس ہو جاتا ہے کہ شاید اس پر کسی اور کا حق ہو۔۔ میں نے کسی کا حق تو نہیں چھین لیا؟ کیامیں اس خوشی کا حقدار بھی ہوں؟ صاف دل کے لوگ کسی کے کمزور لمحوں میں اسے نیچا نہیں دکھاتے،ممکن ہو تو سہارا دیتے ہیں ورنہ خاموش ہو جاتے ہیں۔صاف دل لوگوں کا معیار ِ دوستی صرف اور صرف محبت اور خلو ص ہو تا ہے نہ پیسہ، نہ عہدہ، نہ کوئی مالی نقصان یا فائدہ۔ وہ محبتوں کے لئے کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔وہ رشتوں کو اور دوستیوں کو محبت کی بنیاد پر نبھانا چاہتے ہیں نہ کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا مقابلے بازیوں کے لئے۔ ایسے کچھ چیدہ چیدہ لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے یہ دنیا شایدرہنے کے قابل تھی۔۔لگتا جنوری بیس بیس تک دنیا کی یہ خوش فہمی بھی ختم ہو گئی۔۔ دنیا کی یہ خوش فہمی ختم ہو ئی اور ساتھ ان چند ایک لوگوں کی بھی جو آج بھی صرف اور صرف کاسۂ ہاتھوں میں تھامے اپنوں اور غیروں سے خلوص اور محبت مانگتے پھرتے تھے۔

ایک طرف دہریوں کی زبان میں کہا جا رہا ہے کہ ہر مذہب کی عبادت گاہوں کے بند ہونے سے ظاہر ہو تا ہے کہ سائنس جیت گئی اور خدا ہار گیا۔میرے خیال میں خدا ہارا نہیں ،یہ تو وہ مذہبی رسمیں اور عمارتیں ہاری ہیں جو انسانوں نے انسانوں کو ایک ریوڑ میں ہانکنے کے لئے بنائی ہیں۔وہ سپر پاور جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس نے تو ثابت کر دیا کہ سائنس جتنی مرضی ترقی کر جائے،اس کے سامنے وہ بے بس ہے۔سائنسی ترقی کے باوجود انسان اندرونی طور پر غیر مہذب ہی رہا، جنگلی ہی رہا اور انسان کی یہ حرکتیں انسان کے اس منصب کی تذلیل کا باعث بن رہی تھیں، جس پر خدا نے تمام فرشتوں کو پیچھے دھکیل کر انسان کو فائز کیا تھا۔کیا انسان خدا کو خدا ہی کے کیے گئے ،فیصلے پر شرمندہ نہیں کر رہا تھا؟کیا انسان اس رتبے کے قابل رہ گیا تھا؟ خود کو اشرف المخلوقات کہنے والا، نا انصافی دوغلے پن اور منافقت کے جس درجے پر جا پہنچا تھا وہاں پر صرف ایک اندھی گھاٹی تھی جہاں جا کر اس کوگم ہو نا ہی ہونا تھا۔

اور دوسری طرف ہمارے مولوی صاحبان کہہ رہے ہیں کہ مسجدوں میں ہاتھ سے ہاتھ ملا کے گھٹنے سے گھٹنا ملا کے نماز پڑھو اور مسجدوں کے خلاف اس سازش کو ناکام بنا دو،یہ کس سازش کی بات کر رہے ہیں؟ سازش تو انسان نے اپنے خلاف خود ہی کر لی ہے۔ انسان کا سب سے بڑا دشمن خود انسان ہی ہے۔ کبھی ان مذاہب کے نام پر اور کبھی ثقافتوں کے نام پر اور کبھی وطن پرستی کے نام پر انسان نے انسان کو جب جب قتل کیا تو اس سے نہ تو کسی مذہب کو نہ تہذیب کو نہ ثقافت کو کوئی فائدہ پہنچا،ہاں البتہ انسانیت کا بہت بڑا نقصان ہوتا رہا۔۔ اور ہو تے ہو تے ہر سو سال بعد فطرت خود سے پوچھنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ بول اب تیری رضا کیا ہے، یہ انسان، اس کائنات کے قابل بھی ہے کہ نہیں؟ انسانی سطح ہو یا ملکوں کے فیصلے، طاقت کے نشے میں غرق لوگوں کے واسطے اس تباہی میں پنہاں بہت سبق ہیں:

چھپ کر وار کرنے والا یہ ننھا سا وائرس انسان کو مار سکتا ہے تو منافقت میں ڈوبے یہ چھ چھ فٹے انسان کس قدر زہریلے ہو تے ہیں جو نجانے کتنے معصوم دل لوگوں کو جذباتی اور جسمانی طور پر مارتے رہتے ہیں۔
فطرت کے سامنے ہم بے بس ہیں تو اکڑ کس بات کی، جب خدائی قہر برسانے لگے تو دولت، عہدہ، ترقی کس کام کی ہے؟ اور پھرگھن کے ساتھ گیہوں بھی پسنے لگتا ہے۔۔۔امیر غریب سب ایک قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔۔ شائد موت سب سے بڑی منصف ہے کسی میں تفریق نہیں رکھتی۔۔۔

جب ایک ذرے سے بھی کم اوقات ہے تو دوسروں سے برتر نظر آنے کی جنگ کیسی؟

یہ وقت ہے ایک نئی دنیا بسانے کا۔۔۔ جیسے دو روٹھے محبوب بہت دیر جدائی کا کرب جھیلنے کے بعد ایک دفعہ پھر سے مل جاتے ہیں تو وہ نئی محبت اور زندگی کے عہد و پیمان کرتے ہیں، بالکل اسی طرح اس آفت کے گزر جانے کے بعدانسان کو فطرت کے ساتھ نیا معاہدہ سائن کر نا ہو گا وہ فطرت جس میں درخت، پرندے، جانور، آبی جانور اور دوسرے انسان بھی شامل ہیں۔۔ اور جس کی سب سے اہم شرط یہ ہو گی کہ انسان خود سے سچ بولنا شروع کردے، اپنے اندر جھانک کے دیکھے کہ وہاں کی ضرورتیں کیا ہیں۔ آج جو یہ موقع مل رہا ہے تو فائدہ اٹھا کے دیکھے تو سہی کہ من کے اندر ہے کیا؟ احسان فراموشی؟ نا شکری؟ نا انصافی؟ د ھوکہ؟ جھوٹ؟ منافقت؟ حسد؟ مقابلہ بازی؟ احساس ِ برتری؟ تکبر؟ نفرت؟ کیا ان عناصر کے ساتھ کوئی انسان اشرف المخلوقات ہو سکتا ہے؟ کرونا وائرس کا علاج سائنس دان ڈھونڈ لیں گے مگر اس کے بعد بھی ان سب برائیوں کے ساتھ انسان کو اشرف المخلوقات کہنا جائز ہو گا؟اور اس طوفان کے بعد بھی انسانی دل و دماغ سے خوبصورت کونپلیں نہ کھلیں تو اور کتنی دیر خالی سائنس بغیر اخلاق کے اس کائنات کو بچا سکتی ہے؟

کچھ ہندوؤں کے پنڈت صاحبان کہہ رہے ہیں کہ گاؤ کا موتر پیو اور کرونا کو بھگا دو۔ ایسے نام نہاد مذہبی مداریوں سے بھی جان چھڑانے اور انہیں سمجھنے کا بھر پو ر موقع ہے۔ کسی انسان کو خدا تک پہنچنے کے لئے ایسے کسی سرکس کے مداری کی ضرورت نہیں چاہے، وہ پادری ہے یا مولوی یا پنڈت۔ جو مذہبی رہنما انسان کو انسان بننا نہ سکھا سکے، اپنی روح کو پاکیزہ رکھنا نہ سکھا سکے، انسان کو انسانیت نہ سکھا سکے میرے نزدیک وہ چاہے کس بھی مذہب کا ہو ایک مداری سے کم نہیں جو ڈگڈی بجا کر تماشہ دکھاتا ہے اور صرف اپنی جیب اور خواہشیں بھرتا ہے۔

میں نے ابھی تک کسی ملا،کسی پنڈت کے منہ سے یہ نہیں سنا کہ” یہ آفت آئی ہے تو آؤاپنے دل کے کالے پن کو دھو لیں، ظلم کر نا بند کریں، دلوں کی سختی کم کر کے ایک دوسرے کے کام آئیں، جھوٹ نہ بولیں، نیکی کرنے والے کو ذلیل نہ کریں، جھوٹے کو تاج نہ پہنائیں، خوشامد سے بچیں، ذخیرہ اندوزی نہ کریں، مشکل گھڑیوں میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔۔ یا کم از کم اپنے جسم کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی روح کی صفائی بھی کر لیں کہ ہو سکتا ہے رب نے یہ موقعہ اسی لئے دیا ہو۔ نہیں!! بلکہ اس کے برعکس وہی مذہبی تماشوں کی ترویج ہو رہی ہے۔ مسجدوں کے خلاف سازش کی کہانیاں سادہ لوح عوام کو بیچی جا رہی ہیں اور کہیں گائے موتر کا کاروبار عروج پر ہے۔

سوچنے سمجھنے والوں کے لئے اس قدرتی آفت میں بہت نشانیاں ہیں۔ مگر لگتا ہے وہی دلوں میں قفل اور آنکھوں کے آگے پردے ہیں اور رہیں گے۔۔ کشمیریوں پر انڈیا کا ظلم ہو یا چین میں مسلمانوں کی نسل کشی یا انڈیا میں مسلمانوں پر ظلم یا فلسطین کی سالوں پر محیط خون بھری کہانی، دنیا کو آج بھی ان مظالم اور دوہرے معیارات کااحساس نہ ہواتو پھرکبھی بھی نہیں ہو گا۔۔ اس آسمانی آفت نے کرونا کے روپ میں انسانوں اور قوموں کے لئے احساس کرنے کا ایک موقع دیا ہے۔۔۔۔

میں ایسی دنیا کے خواب دیکھ رہی ہوں کہ میرے بچے پھر سے ہرے بھرے میدانوں میں بھاگے دوڑیں ، سوکر کھیلتے، سائیکل چلاتے پھریں گے،دوستوں کی محفلیں جمیں گی مگر کسی کی دل آزاری کے بغیر، رشتے داروں میں بغض، حسد اور آپسی کینہ ختم ہو جائے گا۔مائیں اپنے تمام بچوں کو انتہائی انصاف سے اپنے پروں تلے چھپا لیں گی، باپ گھنا سایہ بنے انہیں دنیا کے مادی طور پر کامیاب ہی نہیں بلکہ اخلاقی طور پر اچھا انسان بنائیں گے۔ استادوں کا حصول تعلیم پر زور صرف اچھی نوکری کے لئے نہیں بلکہ اچھا انسان بننے کے لئے بھی ہو گا، مذہبی رہنما رسم و رواج کے کاروبار سے اٹھ کر انسانوں میں جو بھی دین ہو اس کی روح گھولیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے امید ہے یہ خواب خواب نہیں رہے گا۔۔ اگر دنیا کو قائم رہنا ہے تو ایسی ہی خوبصورتی اور توازن کے ساتھ قائم رہے ورنہ کرونا جو کر رہا ہے اسے کر نے دیں۔۔گندگی اور غلاظت میں ڈوبی دنیا کو بچا کر کریں گے کیا؟ پھر سے روز مریں گے روز جئیں گے؟

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نہیں تو کرونا کو کرنے دو۔۔ جو وہ کر رہا ہے

  1. دردبھری تحریر۔ البتہ نہ پہلے کبھی لوگ ان حالات کی وجہ سے بدلے نہ آئندہ بدلیں گے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *