سوشل میڈیا: خدشات، کرنے کا کام

سوشل میڈیا، خدشات، کرنے کا کام
طاہر علی خان
سوشل میڈیا معلومات میں اضافے،رائے کے اظہار، ابلاغ، تنقید اور تفریح کا ایک انتہائی طاقتور عامل بن کر سامنے آیا ہے۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ اس میں اکثر پوسٹیں الزام تراشی، جھوٹ، افواہوں، بدتہذیبی اور عدم برداشت کا مظہر ہوتی ہیں اور سب سے خطرنک رجحان یہ ہے کہ انتہاپسند افراد اور تنظیمیں بھی اپنا موقف اور مواد گھر گھر پہنچانے کے لیے اس سے بھرپور کام لے رہی ہیں۔ یہ سستا ،فوری اور انتہائی موثر ذریعۂ اظہار اگر اس طرح انتہاپسند گروہوں کو آسانی سے میسر رہا تو اس سے معاشرے میں امن، رواداری اور استحکام کو بڑا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔مشال خان واقعے میں سوشل میڈیا کے اسی منفی استعمال کے ذریعے ہی جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے وہ ماحول پیدا کیاگیا تھا جس نے باالآخر اس بےگناہ کی جان لے لی۔
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے برعکس سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بہت بے خوفی سے اپنا کام جاری رکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنی شناخت چھپا کر دوسرے نام سے بھی یہ کام کر رہےہیں۔حکومت سوشل میڈیا پر توہین رسالت ؐکے خلاف ایکشن لے رہی ہے تاہم اس کے منفی استعمال کے دیگر مظاہر پر اتنی توجہ نہیں دی جارہی جتنی درکار ہے۔جھوٹا پروپیگندہ کرنا،مخالفین پر بلاثبوت بہتان اورالزام لگانا، مخالفین کو کافر یا غیروں کا ایجنٹ قرار دینا، بعیر تصدیق کے مواد شیئر کرنا، کمنٹ کرتے ہوئے غلط اور نامناسب الفاط کااستعمال کرنا، مخالفین کےمجسمے اور کارٹون تیار کرکے نازیبا الفاظ کے ساتھ پوسٹ کرنا، گالیاں دینا، لوگوں کے ایمان اور کردار پرشک کرنا اور سازشی نظریات اور اعدادوشمار کے ذریعے کنفیوژن پھیلانا اس کے منفی استعمال کی چند ایک صورتیں ہیں۔سوشل میڈیا پر لوگ فوٹوشاپ ٹیکنالوجی استعمال کرکے مخالف سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی ایسی تصویریں شیئرکر دیتے ہیں جن میں ان کے جسم یا ،سر جانوروں کے بنائے جا تے ہیں یا مرد سیاستدانوں کو برقعے اور عورت کے لباس میں لپ اسٹک کے ساتھ دکھایا گیا ہوتاہے جبکہ ساتھ ہی انتہائی نازیبا تبصرے بھی کیے جاتے ہیں۔
ایک معاصر ویب سائٹ پر جب ملالہ یوسفزئی کا انٹرویو شائع ہوا اور میں نے اپنےفیس بک وال پر پوسٹ کردیا تو ایک دوست نے ملالہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔’’ ۔ اور اپنی کتاب آئی ایم ملالہ میں تم نے جو بکواس کی ہے کہ داڑھی والوں کو دیکھ کر تجھے فرعون اور برقع دیکھ کر پتھر کا زمانہ یاد آتا ہے‘‘۔ اس پر میں نے پوچھا یہ بات کتاب میں کس صفحے پر کہی گئی ہے اوریہ کہ کیا انہوں نے یہ کتاب خود پڑھی ہے۔ انہوں نے کتاب خود نہ پڑھنے کا اقرار کر دیا اور ساتھ ہی آئندہ بغیر تصدیق کے ایسی کوئی بات نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ایک تصویر پچھلے دنوں فیس بک پر نظر سے گزری۔ ایک سیاستدان کے سامنے انواع اقسام کے کھانے رکھے ہوئے تھے جبکہ دوسرا زمین پر بیٹھا سادہ کھانا کھا رہا تھا۔ پہلے کو عوام دشمن اور کرپٹ جبکہ دوسرے کو ایماندار قرار دیا گیا تھا۔’’انکو ختم کرنا ہوگا یہ لوگ روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں‘‘۔ ’’سارے دجالی مولویوں کو پھانسی دو۔‘‘ ’’نواز کے پاس دولت ہے اس لیے سارے جرنلسٹ ان سے کچھ ہتھیانے کے چکر میں ان کا ساتھ دےرہےہیں‘‘۔ ’’توہین رسالت کا قانون جنہیں منظور نہیں ہمیں وہ یہودی ایجنٹ منظور نہیں۔‘‘ یہ چند ایک سوشل میڈیا پوسٹوں کی مثالیں ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ صرف ان پڑھ اور کم تعلیم یافتہ لوگ نہں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی سوشل میڈیا کا یہ منفی استعمال دھڑلے سے کررہے ہیں کیونکہ انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کیا ان کے ساتھ بحث کی جاتی رہے گی خواہ ان کے سدھرنے کا کوئی امکان ہی نہ ہو؟ یا ان کو دوست لسٹ سے ختم اور بلاک کیا جائے گا؟ میرا خیال ہے جب کوئی مسلسل التجاؤں اور تنبیہات کے باوجود بھی سدھرنے پر مائل نہ ہو تو ایسے جاہلوں اور کٹ حجتی کرنے والوں سے الجھنے کی بجائےان سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے تاہم اس سے معاشرے کو درپیش خطرہ تو پھر بھی ختم نہیں ہو جاتا۔
ہمیں اپنےالفاظ اور انداز، دونوں کو مناسب رکھنا ہوگا اس لئےکہ جس طرح یہ بات اہم ہے کہ کونسی بات کی جائے اور کونسی نہیں اس طرح یہ بھی اہم ہے کہ بات کی کیسے جائے۔ ہمیں اور ہماری پوسٹوں کوسچائی، رواداری، احترام، غیر جانبداری، تہذیب اور حکمت کا ترجمان ہو نا چاہئے۔ افراد ہوں، تنظیمیں یا قومیں ،وہ دوسروں کی تنقیص سے نہیں بلکہ اپنے محاسن سے آگے بڑھتی ہیں۔
کسی شخص اور پارٹی سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اسے کافر، توہین رسالتؐ کا مرتکب، یہودی ایجنٹ، غدار، اسلام و دشمنوں کا آلۂ کار اور منافق قرار دیکر اس کو اور اس کے متعلقین کی زندگی کو خوامخواہ خطرے میں ڈال دیا جائے۔
سوشل میڈیا استعمال کے صحیح استعمال کو یقینی بنانا، اس کےمنفی استعمال کو روکنا اور اس کو انتہاپسندی کے فروغ کے لیے استعمال نہ ہونے دینا حکومت اور ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں اب تک کما حقہ توجہ نہیں دی گئی۔ اب ان امور کو یقینی بنانا ہوگا ورنہ ملک میں امن، اعتدال پسندی اور رواداری کا فروغ خطرے میں پڑجائے گا۔

طاہرعلی خان
طاہرعلی خان
طاہرعلی خان ایک ماہرتعلیم اورکالم نگار ہیں جو رواداری، احترام انسانیت، اعتدال اورامن کو عزیز رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *