عورت مارچ کی نہیں بلکہ انسانیت مارچ کی ضرورت ہے۔۔رمشا تبسم

آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔مگر میرے مطابق خواتین یا مَردوں کا عالمی دن منانے سے بہتر ہے ہم انسانیت کا عالمی دن منا لیں اور انسانیت مارچ منعقد کروائیں۔پھر انسانیت کے عالمی دن پر ہم انسانوں کے حقوق کی بات بلاامتیاز رنگ, نسل ,ذات پات, جنس,مذہب,فرقہ اور عمر کے کریں۔ہم ارادہ کریں کہ ہم کسی صورت کسی انسان کو کسی قسم کی ایذا نہیں پہنچائیں  گے اور نہ ہی انکی حق تلفی کریں گے۔ اور بحیثیت انسان جو قوانین کی ہمیں ضرورت ہے انکا مطالبہ ریاست سے کریں۔اور ان حقوق سے متعلق مذاہب سے راہنمائی حاصل کریں۔اسلام اور تمام مذاہب ہر صورت انسانیت کی بقاء اور انکے تحفظ کے متعلق قوانین رکھتے ہیں۔ اور پھر معاشرے میں جنسی تفریق کے بغیر ہر انسان کی عزت کا خیال رکھا جائے۔

مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہو رہا اور نہ ہی ایسا ہونے کا امکان ہے۔مرد کسی مرد کو بُرا کہہ لے یا عورت کسی مرد کو بُرا کہہ لے,بات قابل قبول ہے۔مگر مرد کسی عورت کو کچھ بھی کہہ لے تو یہ توہین ِعورت کے زمرے میں آتا ہے جس کی معافی کسی صورت ملنا ممکن نہیں۔
میرے مطابق نہ تو مجرم کے جرم سے جنس کا تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی مظلوم کے ظلم سہنے سے جنس کا تعلق ہوتا ہے۔ہماری جیلوں میں مرد,عورت,بچے اور ہر مذہب ہر فرقے سے تعلق رکھنے والے مجرم اپنے اپنے جرم کی سزا کاٹ رہے ہیں۔اسی طرح ہمارے معاشرے میں مرد ,عورت, بچے اور ہر انسان ہر قسم کا ظلم و ستم سہہ رہا ہے۔اور مرد و عورت ہر کوئی محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا خیال رکھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔پھر ایسے میں صرف خواتین کا دن منا کر مَردوں کو نشانہ بنانا کہاں کا انصاف ہے؟ خواتین کے اس عالمی دن پر خواتین کے حقیقی مسائل کی بات نہ کر کے صرف ہر صورت فحاشی ,عیاشی اور آزادی کا مطالبہ کر کے ظلم و ستم سہتی خواتین کا ذکر نہ کرنا درحقیقت ان محنت کش اور مظلوم خواتین کی توہین ہے اور یہ اب فیشن بن چکا ہے۔ ہم چلیں انسانوں کے حقوق کی بات نہ کر کے صرف خواتین کی بات کر بھی لیں تو اس کے لئے صرف منفی پہلو کا ذکر کرنا سراسر زیادتی ہے۔کیا ہمارے معاشرے میں ہر ایک عورت مظلوم ہے؟اگر ایسا ہے تو پھر یہ ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے،سڑکوں پر موم بتیاں لیے گھومنے والی عورتیں کون ہیں؟یا پھر وہ خود کو عورت مانتی ہی نہیں؟؟اور اگر ہر عورت ظلم و ستم نہیں سہہ رہی تو پھر معاشرے میں کامیاب اور باوقار طریقے سے زندگی جینے والی خواتین کا ذکر کیوں نہیں کیا جا رہا؟کیوں انکی کامیابی کے پیچھے دن رات محنت کرنے والے والدین,بھائی اور شوہر کا ذکر نہیں کیا جاتا؟کیوں خواتین کے عالمی دن کو خالصتاً مَردوں کے خلاف مورچے میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور مردوں سے نفرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اور یہ نفرت کا اظہار زیادہ تر آپ کے بھائی اور باپ سے نہیں بلکہ شوہر سے ہے۔تو خواتین کے عالمی دن کو پھر “شوہر مخالف” دن کا نام دے دینا چاہیے۔
کوئی بھی معاشرہ سو فیصد ہر شخص یا ہر جنس کے لئے موافق نہیں ہوتا۔دنیا بھر میں تمام ممالک میں مرد , عورت اور بچے نہ تو تمام حقوق حاصل کیے ہوئے جنت جیسی زندگی گزار رہے ہیں اور نہ ہی تمام لوگ ظلم و ستم سہہ رہے ہیں۔لہذا ایسے میں صرف اپنے معاشرے کو منفی ثابت کرنا اور ہر صورت اس بات کا شور کرنا کہ یہاں خواتین کو جوتی کی نوک پر رکھا جاتا ہے سراسر جہالت ہے۔
ہم سکولوں ,کالجوں ,یونیورسٹیوں میں بے شمار لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرتا دیکھتے ہیں۔اور عمومی طور پر خواتین کی شرح مردوں سے زیادہ ہی ہوتی ہے۔خواتین ہر شعبے میں کام کر رہی ہیں وہ ڈاکٹر,وکیل ,جج, انجینئر ,پائلٹ , ٹیچنگ,میڈیا,کھیل کے میدان میں ہونے کے ساتھ ساتھ فوج اور سیاست میں بھی ہیں گو کہ ہر شعبے میں خواتین کام کرتی نظر آتی ہیں۔ لہذا اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں خواتین تعلیم بھی حاصل کر رہی ہیں اور باوقار طریقے سے نوکری بھی کر رہی ہیں۔خواتین جائیداد کی بھی مالک ہیں۔کاروبار کی بھی۔ انکی مرضی سے انکی شادی بھی کی جاتی ہے۔انکی پسند نا پسند کو اہمیت بھی دی جاتی ہے۔ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ان کے باپ,بھائی, شوہراور بیٹا ہر صورت دن رات محنت کرتے ہیں۔ایک باعزت اور کامیاب عورت کی کامیابی کے پیچھے اسکے باپ, بھائی اور شوہر کی دن رات کی محنت ہوتی ہے۔پھر ایسے میں ایک عام عورت کے مسائل سالن گرم کرنا,موزے ڈھونڈنا,سگریٹ پینے کی اجازت حاصل کرنا,سڑکوں پر غیر اخلاقی طریقے سے اٹھنا بیٹھنا,اپنی بے پردگی پر دوسروں کو نظریں نیچے کرنے کا کہنا, بے حیائی کی اجازت مانگنا,بچے پیدا نہ کرنے کا نعرہ لگانا,شوہر کی بے عزتی کرنے کا حق مانگنا,ذرا سی بات پر طلاق کا حق مانگنا وغیرہ وغیرہ بالکل نہیں ہیں۔ کیونکہ با حیا نہ سہی مگر با عزت عورت کو اپنی اور اپنے اہل خانہ کی عزت کا خیال بھی ہوتا ہے اور اسکو رشتوں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔لہذا ان فضول مطالبات سے ایک باکردار عورت کا کوئی تعلق نہیں۔
مگر ہم اس بات کو بھی جانتے ہیں کہ کچھ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ نہیں دی جاتی۔ان کو تعلیم کا حق حاصل نہیں۔انکو ووٹ کا حق حاصل نہیں۔انکی مرضی کی اہمیت نہیں ۔ان کی شادی زبردستی کی جاتی ہے۔ان کو ونی کیا جاتا ہے۔کاروکاری کیا جاتا ہے۔زندہ درگورکیا جاتا ہے۔اکثر دفاتر میں جنسی ہراساں کیا جاتا ہے۔راہ چلتے بُری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ریپ کیا جاتا ہے۔ بیٹی پیدا کرنے پر مجرم ٹھہرایا جاتا ہے۔شادی سے انکار پر تیزاب پھینکا جاتا ہے گولیاں ماری جاتی ہیں۔غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔گھر کی چاردیواری کو ان کے لئے جہنم بنا دیا جاتا ہے۔گھروں میں کام کرتی ملازمہ کو جنسی اور جسمانی تشدد کا سامنا رہتا ہے۔نوکری کرتی خواتین کو انکی محنت کی مناسب اجرت نہیں دی جاتی۔بھٹہ مزدور خواتین کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔مگر ایسے میں ان حقیقی مسائل سے نظریں چرا کر فحاشی کا پرچار کرنا اور کھلے عام فحاشی کی ریاستی سطح پر اجازت مانگنا سراسر غلط ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ خواتین کا عالمی دن مسلسل متنازع بنتا جا  رہا ہے۔اور اس دن کو حقیقی مسائل کا ذکر کرنے اور خواتین کی خدمات کو سراہنے کی بجائے تفریح کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔اور ٹیلی ویژن پر بیٹھی مختلف این۔جی۔او کی سربراہان کے لئے یہ غیر ملکی فنڈنگ اور ناجائز آمدن کا ذریعہ ہے۔لہذا انکا مقصد فضول باتیں کرکے پیسے کمانا ہے اور مسائل جوں کے توں موجود ہیں
اوپر بیان کردہ خواتین کے مسائل بھی خالصتاً خواتین کے نہیں بلکہ انسانیت کے مسائل ہیں۔اور مرد اور عورت دونوں ان مسائل سے دوچار ہیں۔تعلیم حاصل کرنے سے مرد بھی محروم ہیں۔پسند کی شادی کا اختیار انہیں بھی نہیں۔خاندانی رسم و رواج پر انکی خواہشات بھی قربان کی جاتی ہیں۔کاروکاری مرد بھی ہوتے ہیں۔جنسی زیادتی لڑکے بھی سہہ رہے ہیں۔قتل مرد بھی ہو رہے ہیں۔لہذا ہمیں جنسی تفریق کے بغیر انسانیت مارچ کی ضرورت ہے تاکہ ہم انسانوں کی بات انسان بن کر کرسکیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *