• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • “میرا جسم میری مرضی”سے ناراض مردوں کا اصل مسئلہ۔۔عبید اللہ ڈھلوں

“میرا جسم میری مرضی”سے ناراض مردوں کا اصل مسئلہ۔۔عبید اللہ ڈھلوں

اس نعرے کو سنتے ہی “مرد” آگ بگولہ کیوں ہو جاتے ہیں ؟ اس سے ان کی مردانگی پر سوال کیوں اٹھ کھڑا ہوتا ہے؟ وہ لاجواب ہو کر گالم گلوچ پر کیوں اتر آتے ہیں؟ اس نعرے سے مذہب کو کیا خطرہ لاحق ہے؟ اس سے ہمارے معاشرے کی کون کون سی اچھی اقدار کو خطرہ ہے؟

اس نعرے کی گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نعرےپر سب سے زیادہ غصہ شادی شدہ مردوں کو ہے۔ان میں سے ۹۹.۹۹ % وہ مرد ہیں جو اپنی بیویوں سے جنسی تعلقات میں نا آسودگی کا شکار ہیں۔ اور یہ نا آسودگی انہیں ، خفیہ تعلقات اور طوائف  خانے آباد کرنے کا جواز دیتی ہے۔ اور جب ایک  طوائف لطف اندوز ہونے کا “ناٹک” کرتی ہے تو ان “مردوں” کی نام نہاد مردانگی کو وقتی طور پر تسکین ملتی ہے! وقتی طور پر اس لیے کہ ہر ایسا مرد جانتا ہے کہ یہ تسکین اور خوشی اس کے اندر سے نہیں اُبھر رہی اور یہ کہ یہ صرف لمحاتی تسکین کے علاوہ کچھ نہیں۔

اب ایسے مرد جب اپنی بیویوں کے پاس جاتے ہیں تو اگر وہ “ گرمجوشی” کا مظاہرہ کریں تو ان کو اپنی بیویاں “ طوائفیں ” نظر آتی ہیں۔ اور اگر وہ “سرد مہر ی “  کا مظاہرہ کریں تو انہیں پھر سے ، خفیہ دوست یا  طوائف خانے   یاد آتے ہیں۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس نا آسودگی کی وجہ دونوں کی کیمسٹری میں فرق ہو۔ اور یاد رہے اس کیمسٹری کو یک طرفہ جیومیٹری سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔

کیا میرا جسم میری مرضی کا نعرہ صرف لبرل اور مغربی تعلیم یافتہ عورتوں کا مسئلہ ہے؟ تو جناب ۲۰۰۴ میں پاکستان میں ملک بھر کے ۲۶۰۰۰ گھرانوں کی شادی شدہ عورتوں سے یہ سوال پوچھا گیا؟ “ کیا جب آپ کا مرد آپ کے پاس آتا ہے تو اس میں آپکی مرضی شامل ہوتی ہے؟” ۔ پاکستان بھر کے ہر ضلع اور ہر طبقے، نسل ، عمر اور تعلیمی معیار ، ان پڑھ عورتوں کی ۹۸% عورتوں کا جواب تھا۔ “ نہیں”۔۔۔۔۔ اس ہوشربا سچ پر جب ایک فیڈرل سیکرٹری سے بات کی گئی تو اس کا کہنا تھا، بکواس ہے یہ ۔ بیوی کو انکار کا حق ہی نہیں۔ اسی طرح ایک بڑے عالم دین نے کہا ۔ اگر بیوی انکار کرے تو فرشتے ساری رات اس پرلعنت بھیجتے ہیں!مگر جب اس بات کا مستند حوالہ مانگا گیا تو جواب ندارد۔

اب جس معاشرے میں بچے مرضی کی بجائے زبردستی کے جنسی عمل سے پیدا ہوتے ہوں۔ وہ بڑے ہو کر آخر ایک دن چھوٹے چھوٹے خلیل الرحمن قمر ہی بن جاتے ہیں۔ ان  دولے شاہ کے چوہوں کی ماند پرورش پائے خلیل قمر جیسوں کا کیا معلوم کہ “ مرضی “ کے تعلق کا لطف کیا ہوتا ہے۔ جب سے عورتوں کی تعلیم عام ہوئی ہے اور عورتوں کا مجموعی شعور بھی بلند ہوا ہے تو وہ اب حقیقی خوشی کے لئے مرضی کو لازمی قرار دے رہی ہیں۔ جو بول سکتی ہیں وہ بول رہی ہیں اور جو نہیں بول سکتیں وہ اس نعرے کی خاموش حمایت کر رہی ہیں ۔ اور جو مرد اس کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ وہ در حقیقت اصلی مردانہ کمزوری کا شکار ہیں اور وہ ناجائز تعلقات اور رنڈی خانوں کا جواز قائم رکھنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ “ سرد مہر” عورتوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اب روایتی خوف اور بندش سے نکل آئیں اور مردوں کے بہت سارے “ بہانوں” کو دفنا دیں!

Advertisements
julia rana solicitors

اہم سوال یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کے بندوں کو کب “ادرک “ کے سواد کا علم ہو گا؟۔

Facebook Comments

عبیداللہ چوہدری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”“میرا جسم میری مرضی”سے ناراض مردوں کا اصل مسئلہ۔۔عبید اللہ ڈھلوں

  1. Love you, Ubaid. Very well said! It’s about time we start treating women as living human beings and let them live and grow freely and to the fullest.

Leave a Reply