موت کے سوداگر۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی/قسط3

دس اقساط کی تیسری قسط!

ٹرک اپنی منزل کی طرف روں دواں تھا اور سکندر اِس سوچ میں ڈوبا ہوا تھا، کہ نہ  تو اُس کے پاس کوئی پیسے ہیں اور نہ  ہی کوئی جان پہچان والا، وہ ایسی حالت میں کیا کرے گا شہر جاکر کس سے ملے گا اور کون اُس کو سہارا دے گا اِتنے بڑے شہر میں، انہی سوچوں میں وہ گُم تھا کہ ٹرک ڈرائیور کی آواز پر چونک پڑا

اور بھائی سناو کہاں جانا ہے شہر میں کوئی رشتہ دار ہیں کیا؟ یا گھومنے پھرنے، ڈرائیور نے پوچھا

جی ہاں! ایک دوست سے ملنے جانا ہے اور شاید وہاں کچھ نوکری کرلوں، سکندر نے کھوکھلے پن سے جواب دیا۔

کیوں گاوں میں دل نہیں لگتا کیا؟ یہ بات بھی ٹھیک ہے گاوں میں جوان آدمی زیادہ دیر تک نہیں رہ پاتا کچھ نا کچھ کرنے کا جوش ہوتا ہے زندگی کے اِس عمر میں، ڈرائیور نے خود ہی اپنے سوال کا جواب پیش کرتے ہوئے کہا.

بس ایسا ہی سمجھیں، میں بھی کچھ کمانے ہی نکلا ہوں گاوں سے، سکندر نے بھی جواباً کہا.

ڈرائیور نے ٹرک میں ڈیش بورڈ میں لگے ہوئے ٹیپ ریکارڈر کے بٹن کو دبایا اور عطاء اللہ عیسی خیلوی کی آواز گھونجنے لگی۔

لگ بھگ دو گھنٹوں کے بعد وہ شہر کی حدود میں داخل ہو چکے تھے اور پھر ایک بڑی سی منڈی نما جگہ کی طرف ڈرائیور نے گاڑی موڑ دی۔

لو جی ہم تو اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے یہی شہر کی شروعات ہے یہاں سے آپ کو اپنی مطلوبہ جگہ تک رکشے میں جانا ہوگا بھئیا، ڈرائیور نے سکندر کی طرف دیکھ کر کہا۔

جی ہاں آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے لفٹ دی اور یہاں تک پہنچایا، سکندر نے ممنون نگاہوں سے اُس کی طرف دیکھا اور ہاتھ ملا کا ٹرک سے باہر اتر گیا

وہ اُس جگہ سے باہر کی طرف آیا اور قریب قریب کے ہر شئے کو دیکھنے لگا، سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کے غول چلے جا رہے تھے بے ہنگم شور اور رکشوں کی آوازیں کبھی کبھی اُس کے سامنے سے کوئی رکشہ قریب رک جاتا اور اُس کا ڈرائیور اِس سے کہیں جانے کا پوچھتا اور وہ انکار میں سر ہلاتا، اُس کی جیب میں کوئی بیس روپے تھے جو وہ رکشے والے کو دینا نہیں چاہتا تھا، وہ سڑک کے کنارے کنارے چلتا رہا اور شہر کے اور قریب ہوتا رہا، یوں چلتے چلتے اُس جگہ سے کافی دور آگیا تھا جہاں وہ ٹرک سے اترا تھا، شام کے سائے لہرا رہے تھے سورج کی گرم تپش دھیرے دھیرے ختم ہو رہی تھی مگر پھر بھی حبُس سا تھا جس کی وجہ سے اسے بہت پیاس لگ رہی تھی، اِسی دوران شام کے آذان کی آواز بلند ہوئی، آواز اس کے قریب ہی سے آرہی تھی وہ کچھ اور چلا تو اپنی بائیں طرف لوگوں کو دیکھا جو ایک سمت جارہے تھے اسے محسوس ہوا کہ وہ سب نماز پڑھنے جارہے ہیں تو وہ بھی اُن کے ساتھ اُس طرف چل پڑا، قریب ہی ایک مسجد تھی وہ وہاں داخل ہوا، دروازے کے نزدیک ہی وضو کے لئے جگہ تھی اُس نے وہاں وضو کی، اور نماز کھڑی ہونے کا انتظار کرنے لگا، امام صاحب نے تکبیر ختم ہونے کے بعد نماز پڑھانی شروع کی، اللہ اکبر! کچھ دیر بعد نماز ختم ہوئی تو وہ وہی مسجد میں بیٹھا رہا، وہ آج کے گزرے ہوئے دن کے بارے میں سوچنے لگا کیسا خوفناک قدم اُس نے اٹھایا تھا اپنے بوڑھے باپ کو یوں اکیلا چھوڑ کر وہ گھر سے نکلا تھا اُس نے اپنی بوڑھی ماں کے بارے میں بھی نہیں سوچا کچھ دیر یہی حالت اس پر مسلط رہی کہ اچانک اُس کی سوچ میں پھر اُس عزم نے سر اٹھایا کہ گاوں کے دھول مٹی کی زندگی نہیں گزارنی انہی سوچوں میں وہ کافی دیر بیٹھا رہا حتی کہ مسجد میں اِکا دُکا لوگوں کے سوا کوئی باقی نہ رہا، اُس نے چاروں طرف نگاہ ڈالی اور پھر وہ ابھی اٹھ گیا، کافی اندھیرا ہو چکا تھا اور وہ اُس بارے میں سوچتا رہا کہ رات کہاں بسر ہوگی، نا تو اُس کے پاس اتنے پیسے تھے کہ وہ کسی ہوٹل میں جاکر کمرہ کرائے پر لے اور نہ  ہی اسے کوئی جانتا تھا، انہی سوچوں میں غرق وہ ایک بار پھر آوارہ گرد کی طرح شہر کی  سڑکوں پر گھومتا رہا وہ کافی تھک چکا تھا اُس کے پاوں شل ہونے کو تھے وہ سوچ رہا تھا کہ کسی ایسی جگہ وہ کچھ دیر کو رکے جہاں اسے کوئی دیکھ نہ  سکے، اسے یہ بھی معلوم تھا کہ شہر میں پولیس والے راتوں کو اجنبی اور مشکوک لوگوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یہ ایک دوسرا مسئلہ تھا جو کافی خوفناک بھی تھا، چلتے چلتے وہ ایک بڑی عمارت کے قریب پہنچا اس نے دیکھا کہ عمارت کوئی دو منزلہ تھی مگر اس کا پھیلاؤ بہت زیادہ تھا، اس عمارت میں کوئی روشنی نا تھی مکمل تاریکی میں ڈوبی ہوئی یہ عمارت آسیب زدہ دیکھائی دے رہی تھی اُس کے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کیوں نا رات یہیں  بسر کی جائے اس لئے کہ شاید یہاں کوئی نہ  رہتا ہو اس سوچ نے اس کے ذہن میں جڑ پکڑی اور وہ عمارت کے گرد چکر اس امید پر لگانے لگا کہ شاید کوئی دروازہ ہو جہاں سے وہ اندر داخل ہوسکے، اسے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑی جیسے ہی وہ ایک زاوئیے سے مڑا اس نے دیکھا کہ ایک دروازہ موجود ہے وہ وہاں پہنچا اور دروازے کے قریب جاکر اس نے دروازے پر زور آزمائی کی مگر دروازہ بند تھا، تب اس نے دیکھا کہ دروازے کے بائیں طرف دروازہ کچھ مڑا اور اندر کی طرف دھنسا ہوا ہے ایسے جیسے کسی نے اس جگہ پر کسی بھاری اور وزنی شئے سے ٹکر ماری ہو وہ اس کے قریب گیا اور ہاتھ سے چھو کر دیکھنے لگا، اسے محسوس ہوا کہ اس طرف کا جو لوہے کی چادر لگی ہے اس کی  کیلیں اور نٹ بولٹ کھلے ہوئے ہیں اور کچھ قوت صرف کرنے سے وہ چادر اندر کی طرف مڑ جاتی ہے، اس نے اسی جگہ پر ہاتھ سے دباو ڈالا وہ جگہ اندر کو دبتی چلی گئی سکندر نے اور زور لگایا اور جب وہاں اتنی جگہ بن گئی کہ ایک بندہ اندر جا سکے تو اس نے اپنے پیر وہاں داخل کئے اور پھر اسی انداز میں لیٹ گیا وہ سرکتا ہوا اندر کو داخل ہورہا تھا اتنی سی جگہ میں انسانی وجود کو داخل کرنا شدید مشکل تھا لیکن وہ کرتا بھی تو کیا کرتا، اس کے سامنے کوئی دوسرا راستہ نہ تھا، اس کی یہ کوشش رائیگاں گئی اور اس نے اپنے پیر واپس باہر کو نکالے اور اس دیوار کی طرف دیکھنے لگا جو تقریباً بارہ فٹ بلند تھی اس کے ذہن میں اور کچھ نہیں آرہا تھا، ایک بار تو اس نے سوچا کہ یہاں سے آگے جائے شاید کوئی دوسری جگہ مل جائے رات بسر کرنے کے لئے مگر پیسوں کی کمی اور پولیس کا خوف اسے جانے نہیں دے رہا تھا تبھی اس نے دیوار سے کچھ دور جاکر دیوار پر چڑھنے کے لئے دوڑ لگائی اور اسے ناکامی ہوئی، دیوار بہت بلند تھی، یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ ابھی تک وہاں سے کوئی بھی راہگیر نہیں گزرا تھا ورنہ اسے دیکھ کر ضرور شکوک و شبہات میں مبتلا ہوجاتا، اس نے ایک دوسری کوشش کی اور اس بار اس نے اپنے ہاتھ دیوار کے سروں میں جمانے پر کامیابی حاصل کرلی اس نے بازوں کے طاقت سے اپنے بھاری جسم کو اوپر کی جانب کھینچا اور پوری قوت لگا کر جسم کو دیوار کے سرے تک لے جانے میں کامیاب ہوگیا، سکندر نے دیکھا کہ دوسری طرف ایک کھلا سا ہال ہے، وہ دیوار سے کود گیا اور آہستہ آہستہ اس جانب بڑھنے لگا، کچھ دور اسے ایک چھوٹا سا کمرہ دکھائی دیا وہ اسی جانب چل پڑا قریب ہوکر اس نے کچھ لمحے دروازے سے کان لگائے اور کچھ سننے کی کوشش کرنے لگا لیکن کچھ سنائی نہیں دیا۔۔ مکمل خاموشی، اس نے دروازہ کھولنے کے لئے ہاتھ بڑھایا اتفاق سے دروازے میں کوئی تالا نہیں تھا وہ کھلتا ہی چلا گیا، اس نے ہاتھ آگے کی طرف کئے اور اندھوں کے سے انداز میں اسے ہوا میں چلانے لگا کچھ ہی قدم جانے کے بعد اس کے پیر کسی چیز سے ٹکرائے اس نے جھک کر اس چیز کو چھونے کی کوشش کی اسے محسوس ہوا کہ وہ کوئی چارپائی تھی، وہ دوسرے طرف گھوم گیا اور وہاں کچھ تلاش کرنے لگا اس نے یہ اندازہ لگایا کہ شاید رات کافی بیت چکی ہے وہ اسی کوشش میں تھا کہ کوئی چیز ایسی ہاتھ لگے جس کو روشن کرکے وہ اس ماحول کو جان سکے کہ اچانک گاڑی رکنے کی آواز آئی اور پھر اس میں سے کچھ لوگوں شاید اترے تھے دوسرے لمحے اس کا جسم پسینے میں شرابور ہوگیا کیونکہ وہ لوگ اسی عمارت کے دروازے کو کھول رہے تھے جس میں وہ چوروں کی طرح داخل ہوا تھا، اس نے جلدی سے اس کمرے کا دروازہ بند کیا جس میں وہ موجود تھا، عمارت کا بڑا دروازے کھلنے کی آواز آئی اور ایک گاڑی عمارت میں داخل ہوئی، اس نے ہاتھوں سے ٹٹول کر یہ دیکھا کہ اس کمرے کے دروازے میں اندر کی طرف سے کوئی کنڈی یا لاک موجود نہیں تھا، اس نے دروازہ بند کیا اور اس کے ساتھ ہی کھڑا ہوگیا اور خود کو ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرنے لگا، باہر گاڑی سے اترے ہوئے آدمیوں کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھی۔
جاری ہے ۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
منتظر ہیں ہم صور کے، کہ جہاں کے پجاری عیاں ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *