ایک سیلفی کا سوال ہے بابا ۔۔سلیم مرزا

بخدمت جناب عطاءالحق قاسمی صاحب ۔
میں مسمی سلیم مرزا ،عمر پچاس سال ,رنگ کافی حد تک استعمال شدہ سکنہ کامونکی عرض پرداز ہوں کہ فدوی گذشتہ ڈھائی تین سال قبل موٹر سائکل اور مزدا ٹرک کے بےجوڑ حادثے میں جوڑ جوڑہِل گیا تھا ۔
دائیں بازو میں کو ئی گول چیز جو سوزوکی کار کے جوائنٹ بال جیسی ہوتی ہے، ٹوٹ گئی تھی ۔
ڈاکٹروں نے کابلی سامان کی  سمگلنگ پہ پابندی کی وجہ سے کوئی ایک آدھ دیسی پیچ لگا کر کام چلا دیا ۔جس کا نتیجہ یہ نکلا ،فدوی اب اکثر مصافحے سے گریز کرتے ہوئے ،معانقے پہ انحصاری ہے ۔
آپ کو یہ سب بتانے کا مقصد یہ نہیں تھا  بلکہ یہ بتانا تھا کہ بیرونی ضربات کے علاوہ کوئی ناہنجار چوٹ دماغ کو بھی جالگی اور خاکسار تبھی سے اول جلول سا ہوگیا ہے ۔
ہونا تو یہ چاہییے تھا کہ میں شاعر بن جاتا، کیونکہ چوٹ بھی تھی ،موقع بھی تھا اور اس دکھی معاشرے کا دستور بھی ۔۔مگر سر پہ بال نہ ہونے کی وجہ سے کوئی “اولی “چوٹ لگ گئی ۔
اور اردو شاعری مزید ایک علی زریون سے بچ گئی ۔
مسمی محمد سلیم سکنہ کامونکی ان دنواک  حادثاتی مزاح نگار ہے،اور ادبی حلقوں میں سلیم مرزا کے نام سے اسلاف اور احباب کو ہجو کرتا پایا جاتا ہے ۔
گئے برس ایمبیسڈر ہوٹل میں آپ کی زیر صدارت ایک مشاعرے میں آپ کو دیکھنے کی تمنا میں بھی گیا تھا ۔اور سوچا تھا آپ کیساتھ ایک سیلفی لے لوں گا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے ۔
مگر ہوا یہ کہ نظامت پہ مامور نوخیز اختر گل سکنہ لاہور نے اپنی تصویر اور آدھے پئے سگرٹ سے سرفراز فرما کر ثواب دارین دبوچ لیا ۔
بعد میں اندرونی ذرائع سے نیاز اے نائیک قسم کے لوگوں نے بتایا کہ یہ برخوردار قاسمی صاحب کے سامنے سگریٹ نہیں پیتا، اسی لئے ہر شاعر کو  سٹیج پہ بلا کر خود ھال سے کھسک آتا ہے ۔
لو جی اپنے تعارف میں اصل بات پس منظر میں چلی گئی ،جیسے موجودہ حکومت میں حکومت ہی غائب ہے ۔
ویسے اس حکومت کا ایک فائدہ ضرور ہے، کہ بوٹے کو یہ پتہ چل گیا کہ “گال کڈھنی “کس کو ہے ۔
میرا دل تو چاھتا ہے کہ میں آپ کو ادب کے افق پہ چمکتا ہوا ماہتاب لکھوں ،مگر ناسا والوں سے ڈر لگتا ہے کہ وہ کو ئی قدغن نہ لگادیں کہ “اے کی چن چاڑھ ریا ایں  ”
بالفرض محال وہ مان بھی جائیں تو مولویوں کا ڈر ہے، وہ کہیں گے کہ سائنس کو تو آج پتہ چلا ہے ،1319 سال پہلے فلاں کتاب میں فلاں حوالہ ہے، کہ قاسمی صاحب کا ظہور ہند کے ایک شہر میں ہوگا۔جہاں چھتوں پہ لوہا دوڑ رہا ہوگا ۔
چنانچہ کسی بھی فلکیاتی اور آفاقی حقیقت سے چھیڑ چھاڑ کیے بغیر احقر صرف اتنا کہنے کی جسارت کرتا ہے کہ آپ کو پڑھ کر لکھنا سیکھا ۔
اور کتابت سے میرا اور آپ کی بھابھی کا نان و نفقہ چل رہا ہے ۔
آپ ادب کا سمندر ہیں اور ہم نہر لوئر چناب ۔
اگر ملاقات کا وقت مل سکے تو خاکسار خود کو دریائے بیاس سمجھے گا ،اور شملہ معاہدے کو قطعاً نظر انداز کردے گا ۔
اُمید ہے کہ آپ آج ملاقات کا کوئی وقت دے کر میری آنے والی نسلوں پہ احسان کریں گے ۔جو بعد میں آنے والی نسلوں کو بتائیں گی یہ عطاءالحق قاسمی صاحب ہیں اور کھبے پاسے والا گنجا ہمارا دادا ۔
میں صرف تصویر کھنچوا کر نکل لوں گا ۔
چائے میں پیتا نہیں اور سگریٹ کے بارے میں مجھے ممتاز مفتی نے ایک بار کہا تھا کہ جب کبھی آؤ، اپنے لیکر آنا ۔
تو پھر آج ۔۔۔۔۔؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *