طاہر چوہدری ایڈووکیٹ کے قانونی مشورے

سوال:میں سرکاری ملازم ہوں۔خاندان میں کچھ جھگڑا ہوا۔ہم پر ایف آئی آر درج کرا دی گئی۔اس ایف آئی آر میں میرا نام بھی شامل کروا دیا گیا جبکہ میں موقع پر موجود تک نہ تھا۔اس وقت دفتر میں تھا۔کیا کروں؟ ایف آئی آر سے کیسے چھٹکارا حاصل کروں؟ اسکی وجہ سے میری نوکری بھی خطرے میں ہے۔
جواب:پنے دفاع میں پلی آف ایلی بائی لیں۔ (Plea of Alibil)۔ اپنے دفتر کا حاضری کا ریکارڈ ساتھ لگائیں۔دفتر سے ہی کوئی گواہ رکھیں۔اپنے افسر مجاز کا لیٹر بھی لگائیں کہ آپ وقوعہ کے وقت دفتر میں موجود تھے۔پلی آف ایلی بائی آپ کو ایف آئی آر سے چھٹکارا دلا دے گی۔

سوال:میرے نکاح نامے میں یہ شرط لکھی ہوئی ہے کہ طلاق دینے کی صورت میں شوہر بیوی کو 20 لاکھ روپےادا کرے گا۔اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟کیا مجھے یہ 20 لاکھ روپے دینا پڑیں گے؟
جواب:اس ایشو پر ہماری عدالتیں بھی تقسیم ہیں۔سپریم کورٹ کی کچھ ججمنٹس ایسی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مرد کے طلاق کے حق پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔وہ یہ پیسے دینے کا پابند نہیں ہوگا۔دوسری طرف ایسی کئی ججمنٹس بھی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ نکاح دو افراد کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔کسی بھی معاہدے کی طرح اس معاہدے میں لکھی گئی تمام شرائط پر عمل کرنا بھی فریقین پر لازم ہے۔شوہر نے نکاح کے وقت یہ شرط قبول کی تھی تو اب اسے اس پر عمل بھی کرنا ہوگا۔اسے اعتراض تھا تو تب ہی یہ شرط نہ لکھواتا،نہ مانتا۔ان ججمنٹس پر عمل زیادہ ہے۔
اس دوسری رائے پر میرا بھی اتفاق ہے۔
تاہم ہر کیس میں یہ وکیل پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ قانون،عدالتی نظائر اور دلائل کی بنیاد پر کسی کو کیسے پھنساتا اور کیسے بچاتا ہے۔

سوال:میری بیوی نے میرے خلاف کیس دائر کیا ہے۔میں دوسرے شہر میں ہوں۔بیمار ہوں۔کیا میری جگہ پر کوئی اور شخص میرے مقدمے کی پیروی کرسکتا ہے؟اس سے مقدمے پر کوئی اثر تو نہیں پڑے گا؟
جواب:فیملی کیسز میں خاوند یا بیوی اپنی جگہ پر پیروی کیلئے کسی دوسرے شخص کو مقرر کرسکتے ہیں۔اس شخص کے نام مختار نامہ دینا ہوگا۔اس سے مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ہر پیشی پر اس شخص کا حاضر ہونا ضروری ہوگا تاوقتیکہ اپ خود اس مقدمے کی پیروی کرنا نہ شروع کردیں۔

سوال:پولیس ناکوں پر منہ سونگھا جاتا ہے۔تم نے شراب پی ہوئی ہے کہہ کر پولیس ملزم کو تھانے لے جاتی ہے۔کئی گھنٹے محبوس رکھتی ہے اور پیسے لے کر چھوڑ دیتی ہے۔قانون کیا کہتا ہے؟پولیس اس طرح کسی کو حراست میں لے سکتی ہے؟
جواب:قانون کہتا ہے کہ اگر کسی پر شک ہوکہ اس نے شراب پی ہوئی ہے تو پولیس اسے پکڑ کر سیدھا تھانے نہیں لائے گی۔اسے پہلے متعلقہ میڈیکل آفیسر کے پاس لے جایا جائے گا۔رپورٹ میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ شراب پی ہوئی ہے تو اس سچویشن میں بھی دو صورتیں ہیں۔اگر اس شخص نے اپنے گھر میں شراب پی تھی تو پھر بھی گرفتاری نہیں ڈالی جائے گی،پہلے مجسٹریٹ سے اجازت لی جائے گی۔تاہم اگر ملزم نے کسی عوامی مقام پر شراب پی تھی تو پھر اسے مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر ہی گرفتار کیا جاسکتا ہے۔لیکن پہلے میڈیکل کرانا لازمی ہوگا۔میڈیکل کرائے بغیر کسی کو گرفتار کیا،تھانے میں بٹھایا تو پولیس جرم کر رہی ہے۔

سوال:ایک خاتون عدت پوری کیے بغیر دوسری شادی کرلے تو کیا یہ جرم ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ایسا کرنا زنا کرنے کے مترادف ہے۔یہ نکاح قانونا درست ہوگا؟
جواب:عدت پوری کیے بغیر دوسری شادی کرنا ایک بے قاعدگی تو ہے تاہم یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ اس دوسرے نکاح پر بھی کوئی حرف نہیں آئے گا۔قانونا اس نکاح کی وہی حیثیت ہے جو کسی بھی جائز نکاح کی ہوتی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *