عاجزانہ درخواست۔۔مہرساجدشاد

جناب عزت مآب سرکار حاکم ہر وقت !

کچھ ناہنجار بے وقوف لوگوں کا خیال ہے کہ ہر دور میں تفنن طبع کیلئے فرمانرواں  اپنے درباروں میں مسخروں کو رسائی دیتے رہے ہیں، وہ مانتے ہیں کہ عوام کی خدمت کے تھکا دینے والے کام میں کچھ طبیعت کی آسودگی کیلئے طنز و مزاح بھی ہونا چاہیے، لیکن یہ لوگ ایسے گستاخ اور منہ پھٹ ہیں کہ برملا کہتے پھرتے ہیں کہ یہ جگتیں، یہ لطیفے، یہ چٹکلے ،حاکم کی زبان سے زیب نہیں دیتے ، نہ یہ ریاست کا سرکاری بیانیہ بن سکتا ہے کہ دشمن کو ریاست جگتیں مارے ،چٹکلے چھوڑے، گانے گا کر جنگ ِ موسیقی برپا کرنے کا منفرد انداز اپنائے۔

حضور والا ! ان ناسمجھ لوگوں کو نظر انداز کریں اور ہماری تجاویز پر غور فرمائیں ، اگر پائلٹ پکڑنا اور اسے چائے پلانا اب ہمارا قومی دن قرار دیا گیا ہے تو پھر ریاستی سطح پر تمام جیلوں میں اس عظیم واقعہ کی یاد میں اس دن سب قیدیوں کو فنٹاسٹک چائے پلائی جائے، سارا سال مجرموں سے لڑنے والی پولیس فورس کو فنٹاسٹک چائے کیساتھ دو دو بسکٹ بھی عنایت کیے جائیں ،تو یقیناً  اس یادگار دن کو چار چاند لگ جائیں۔ جب یہ ہمارا قومی دن بن ہی چکا ہے تو کیوں نہ اس دن  سکول کے بچوں کو اساتذہ سمیت آدھا گھنٹہ سڑک پر کھڑا کیا جائے تو دوہرا فائدہ ہو گا ،کشمیر پر احتجاج بھی اور فنٹاسٹک چائے کا دن منانا بھی ، لیکن چائے سب بچے گھر سے بنوا کر تھرماس میں ڈال کر لائیں ،تاکہ قومی خزانے کو نقصان نہ پہنچے۔ البتہ بیوروکریسی کو حکم جاری فرمایا جاوے کہ وہ دفاتر کے میٹنگ روم میں چائے پارٹی کریں اور چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑ کر فنٹاسٹک چائےپیتے ہوئے فنٹاسٹک چائے کا نعرہ مارتے ہوئے ،ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر چڑھائیں ، آخر دشمن کو ساڑنے کا اس سے اچھا طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔

اگر فوری طور پر فنٹاسٹک عسکری چائے بھی مارکیٹ میں لانچ کر دی جائے تو محبان وطن کی بدولت اندرون و بیرون ملک بہت مقبولیت حاصل  ہو گی، یقیناً اس پائلٹ والی فنٹاسٹک چائے کی جو دھوم دنیا بھر میں ہو چکی ہےاس کی بدولت یہ چائے ہم دنیا بھر میں ایکسپورٹ کر کے کثیر زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔ ابھینندن کی وردی ،اس کا تباہ شدہ جہاز اور وہ کپ ،جس میں اس نے چائے پی تھی ان چیزوں کو اگر ایک فیسٹیول منعقد کر کے وہاں نمائش میں رکھا جائے اور اسکی انٹری پر بڑی قیمت پر فنٹاسٹک چائے کا کپ دیا جائے ،تو یہ فیسٹیول بھی کثیر آمدنی کا مستقل ذریعہ بن سکتا ہے۔اس فیسٹیول میں ہر سال نیا نغمہ بھی جاری کیا جا سکتا ہے اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں کر سکے گا۔ اگر اس موقع پر ورلڈ الیون کیساتھ ایک یادگار میچ بھی منعقد کروا دیا جائے تو دنیا بھر میں دشمن کے سینے پر مونگ دلنے کا موقع ملے گا ،پھر اس میچ کی آمدن کو کشمیر کے مظلوم عوام کیلئے مختص کر دیں تو کشمیر کے مسئلے پر غور و خوض کیلئے کئی میٹنگز کا خرچہ وغیرہ بھی نکل آئے گا۔ آخر ففتھ جنریشن وار کی ڈاکٹرائین کو عوام تو نہیں سمجھ سکتے، حضور آپ کو ہی یہ کٹھن کام بھی کرنا پڑے گا۔ جناب کا اقبال بلند ہو اور دبدبہ قائم و دائم  رہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *