میں شاعرہوں۔۔سلیم مرزا

سلیم ہاشمی کا دعوی تھا کہ وہ مشاعرہ تھا ۔،جبکہ میرا خیال تھا کہ میلہ مویشیاں کی طرح کا کچھ ہے ۔۔پروفیسر صاحب کہاں ماننے والے تھے ۔
مجھے گھور کر پوچھا “کیا تم بیل ہو “؟
میں مان گیا کہ مشاعرہ ہے ۔ورنہ ان کا اگلا سوال اس سے بھی  ڈینجر ہوسکتا تھا ۔جسے میں ہمیشہ ڈنگر پڑھتا آرہا ہوں ۔ممکن ہے اگر میں مان جاتا تو وہ کہتے “جا بیل شاعر کو مار ”
بیلوں اور میلوں کا اپنا موڈ ہوتا ہے ۔،چنانچہ سب سے پہلے ایک استاد شاعر کو لایا گیا ۔۔
ایک ایسا بہترین شاعر کہ جس کا ہر شعر وزن اور بحر میں گوندھ کر پرویا ہوا ۔ خود شاعر بھی اچھی طرح مانجھا ہوا دھویا ہوا ۔اسے کانوں سے سنا،حالانکہ وہاں کان پڑی سنائی نہ دے رہی تھی، دماغ کی چھلنی سے گزار کر دل میں اتار لیا۔۔
پروفیسر سلیم ہاشمی المعروف اردو والی سرکار نے مجھے داد طلب نظروں سے دیکھا ۔،مگر میری نظر شاعرہ پر تھی ۔
ایک حسین شاعرہ کہ جہاں تک نظر جائے خوبصورتی اور احساس سے ترو تازہ غزل جیسی ،اور جب اس نے پڑھنا شروع کیا تو آنکھیں سماعت سے دست و گریباں ہو گئیں کہ ابھی دیکھ لو کبھی سن لینا، پڑھ لینا ۔،مجھے ایک ہزار ایک سوفیصد یقین ہے کہ اس کی شاعری بیحد شاندار ہوگی ۔
اس کے جاتے ہی نجانے کیا ہوا ۔۔
ایک ایسے شاعر کو دعوت سخن دی گئی جس کے بیٹھنے کا  سٹائل اس زمیندار جیسا تھا جس کے مٹر اچھی قیمت پہ بک گئے ہوں ۔اس کی شاعری بھی حالات اور معاملات سے ایسی ہی تھی
تازے مٹروں کی سیل جاری ہے،اب یہی زندگی ہماری ہے،اس نے مائک یوں پکڑا جیسے رجنی کانت پستول لہراتا ہے ۔۔
پروفیسر نے مجھ سے اور شاعر سے بچ کر نکلنا چاہا ۔لیکن میلہ مویشیاں شروع ہو چکا تھا ۔میں نے فورا ًپیچھے سے پروفیسر کی قمیض پکڑ لی ۔سلیم ہاشمی میرے گھیرے سے نکلنے کی کوشش کرتا تو قمیض کا، گیرہ میرا ہوجاتا۔۔
پروفیسر ایسے چپ چاپ بیٹھ گیا جیسے رضیہ نے غنڈوں سے کمپرو مائز کیا تھا ۔۔
واہ کیا شاعری تھی ۔سواد آگیا ۔
مگر سمجھنے کیلئے ناصر مدنی کا کلیجہ چاہیے تھا،پہلی بار پتہ چلا ٹک ٹاک اپلیکیشن نہیں ہے ۔۔مکمل۔احمقانہ کمیونیکشن ہے ۔۔
“گونگے دی رمز نوں گونگا جانے ”
اس کے ہر شعر پہ داد نہیں، آہ و فغاں کا ڈوونگرے برس  رہے تھے ۔سلیم ہاشمی سکتے میں تھا ۔،کیونکہ وہ ٹک ٹاک پہ نہیں تھا۔۔
خدا خدا کرکے وہ ٹوٹے سنا کر گیا تو اس کی جگہ لڈن جعفری جیسی کوئی چیز پتلی پتلی ٹانگوں کے ساتھ تشریف لائی ۔
شور اتنا تھا کہ پروفیسر نے ڈرکر کہا کہ یہ منحنی سابندہ نما شاعر کہیں فوت ہی نہ ہو جائے، ۔پروفیسر نے شاید بندر کہا ہو ۔دروغ بر گردن سماعت
مگر جب وہ بولا تو کفن پھاڑ دیا ۔۔
سمجھ نہیں آرہا تھا کہ شاعر کہاں ہے ۔کامیڈین کہاں ہے اور بندہ کہاں ہے ۔۔
سلیم ہاشمی نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟
میں نے کہا جناب مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا ہوں؟
اگر میں سامع ہوں تو شور کیوں نہیں مچا رہا ۔؟
اور اگر آپ ادبی شخصیت ہو تو جانبر کیسے ہو؟
خدا کا شکر ہے کہ ان کے پاس دو ہی نمونے تھے ۔پروفیسر اور میں ہال سے بے حال باہر نکلے تو سلیم ہاشمی مجھے چھوڑ کربھاگ گیا ۔حالانکہ میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ اگر یہ شاعری ہے تو میں آج سے بلکہ ابھی سے شاعر ہوں ۔
میری تازہ غزل ملاحظہ ہو جیسے پروفیسر سنے بغیر بھاگ نکلا

پچھلی سیٹ سے ہاتھ بڑھایا جاسکتا تھا
خواب کو اپنی سیٹ پہ لایا جاسکتا تھا

اس کو یہ منوانے کو وہ خواب نہ تھا
اس کا میسج بھی پڑھوایا جاسکتا تھا

مت نشے میں دگنی ماری جاسکتی تھی
اس کی آنکھوں تک بھی جایا جاسکتا تھا

باتیں کرتی تھی وہ دودھ ابلنے تک
سچے پیار میں ساگ پکایا جا سکتا تھا

چاہت کے توے پہ ٹک ٹک کر کر کے
دل گردے کے ساتھ ملایاجا سکتا تھا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *