مردم شماری ہو تو بیشمار ،مردم شناسی ہو تو نایاب۔۔عدنان انور

اک مشور کہاوت ہے کہ  انسان اور گھوڑے کو تھپکی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تھپکی کا مطلب ہے موٹیوشن ،کسی بھی شخص کی کامیابی یا ناکامی میں اس کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے ،عموماً لوگ موٹیوشن اپنے والدین، اساتذہ یا معاشرے کے ان لوگوں سے حاصل کرتے ہیں جو اپنے فن میں ماہر ہوتے ہیں ،یا اپنے شعبے میں کامیاب ہو چکے ہوتے ہیں کیوں کہ تھپکی وہی شخص دے سکتا ہے جس نے زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کیا ہو،اچھےاور برے حالات سے نبرد  آزما ہوا ہو، اور زندگی کی سختیوں اور مصیبتوں کی بھٹی میں  جل  کر کندن ہوا ہو لیکن ہمارے ملک میں بدقسمتی سے یہ اک پروفیشن بنتا جا رہا ہے دس پندرہ ،سال کے کم عمر  لوگ موٹیویشنل سپیکر بن چکے ہیں۔ مجھے ان  پر  کوئی اعتراض نہیں ،یقیناً وہ اچھے سپیکر ہوں گے۔ اعتراض اسے اک پروفیشنل کے طور پر اپنانے پر ہے، دو چار کتابیں  پڑھ کر اور کامیاب لوگوں کے قصے سنا کر حقیقی معنی میں موٹیویٹ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کم عمر موٹیویشنل  سپیکرز نے ابھی تک اپنی عملی زندگی میں شاید مشکلات کا مقابلہ ہی نہیں کیا، ان سے نبرد  آزما ہی نہیں ہوئے، تو کیونکر اور کیسے کامیابی کے گُر سکھا سکتے ہیں۔۔۔ کیسے لوگ ان کو فالو کریں جبکہ  انہوں نے ابھی تک خود اپنی منزل کو حاصل نہیں  کیا ہوتا، اور وہ سخت محنت ،جدوجہد اور تحمل جو کامیابی کے لئے درکار ہے ،وہ  انہوں نے ابھی تک صرف کتابوں  میں پڑھی ہوتی ہیں ، عملی طور پر نہیں۔

نک ووجیسس ایک آسٹریلین نژاد موٹیویشنل سپیکر ہے جو کہ  پیدائشی طور پر دونوں ہاتھوں اور پیروں سے مزدور تھے ،اب وہ ایک اچھے رائٹر، تیراک اور موٹیویشنل سپیکر ہیں، ان کے علاوہ دنیا میں  کئی نام گنوائے جا سکتے ہیں، جیسے جیک ما اور لس براؤن یہ تمام لوگ ناصرف اچھے موٹیویشنل سپیکر ہیں، بلکہ  انہوں نے عملی زندگی میں  بی کامیابیاں سمیٹی ہیں،یعنی گفتار اور کردار دونوں کے غازی ہیں۔

یہاں میں  پاکستانی نژاد منیبٰہ مزاری کا نام بھی لوں گا، جو کہ اک حادثے کی وجہ سے معذور ہو چکی تھی اور مشکل  حالات میں کس طرح  مشکلات کا مقابلہ کیا، وہ قابلِ  دید ہے ،ایسے لوگ خود اپنی ذات میں موٹیویشن ہوتے ہیں اور ہمیں ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے۔

ہمارے ملک میں  موٹیویشنل  سپیکرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ یہ ہے کہ  ہمارے پاس بڑے لوگوں کی سخت کمی اور فقدان ہے۔بقول مختار مسعود کے بڑے آدمی انعام کے طور پر دیے اور سزا کے طور پر روک لیے جاتے ہیں ، عطاء تو اسی کے حق میں ہوتی ہے جو حقدار ہو ،آخر قدرت ایک سپاس نا آشنا قوم کو بڑے آدمی کیوں عطاء کرے۔

شاید ہم سے کوئی بڑی غلطی ہو گئی ہے یا ہم اس کے حقدار ہی نہیں، کہ ہمیں بڑے لوگ عطاء کیے جائیں، شاید ہم نے ان بڑے لوگوں کی قدر نہیں کی جوہمیں قدرت کی طرف سے عطاء کیے گئے تھے۔
دعا ہے کہ خدا اس قوم کے حق میں  بہتر کرے ،تاحال ہماری قوم کا حال  یہی ہے، بقول مختار مسعود “مردم شماری ہو تو بیشمار اور مردم شناسی ہو تو نایاب”۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *