بھاگ بھری

میں اپنی زمینوں کی طرف چکر لگانے گیا تو رستے میں بھاگ بھری کی کُٹیا پڑتی تھی، سوچا اس کا احوال پوچھتا چلوں، سلام کر کے اندر داخل ہوا تو نسیمِ غلاظت نے میری ناک کی تواضع کی۔ ہر طرف چھوٹی موٹی چیزیں بکھری ہوئی تھیں، ایک کھٹولہ سا پڑا تھا جس پہ بھاگ بھری اپنے ہڈیوں کے پنجر پر سوکھی چمڑی چڑھائے بیٹھی تھی اور مونگ پھلی کے بیج نکال رہی تھی۔ اس کے بڑھاپے کے کھنڈرات پر جوانی کے محل کی اینٹ تک باقی نہ رہ گئی تھی۔ الجھے میل زدہ بال شاید جوؤں کی لشکر گاہ ہونگے۔ ٹوٹے ہوئے دانتوں کے بیچ سے نسوار بہہ رہی تھی۔ چڑیلوں کا نہ جانے کوئی وجود ہے یا نہیں مگر میرے ذہن میں چڑیل کا جو تصور تھا اس کی زندہ تصویر بھاگ بھری تھی ، نہ جانے کب آخری بار اس نے ناخن تراشے ہونگے۔

بھاگ بھری کی یہ حالت دیکھ کر مجھے اسکا ماضی یاد آ گیا جب میں اپنے جانوروں کو پانی پلوانے لے جاتا تو اکثر یہ مجھے دیکھ کر روک لیتی اور لاڈ پیار کرتی۔ میں چار پانچ سال کا تھا اور اس وقت شاید اس کی عمر پینتیس چالیس کے قریب ہو گی۔ ان دنوں یہ اپنا بہت خیال رکھتی، سجتی سنورتی، کاجل لگاتی، اچھے سے اچھے کپڑے پہنتی، شاید وہ یہ سب اس وقت اپنے خاوند کے لئے کرتی تھی۔

بھاگ بھری کی شادی اس سے کم از کم پندرہ سے بیس سال چھوٹے، اس کے ماموں کے اکلوتے بیٹے سے ہو چکی تھی۔ اس وقت وہ چار پانچ سال کا ہو گا۔ اس کے پیچھے بھی حالات کی ستم ظریفی ہی رہی تھی کیونکہ بھاگ بھری کا تعلق خدمت گار ذات سے تھا تاہم اس کا ماموں پڑھ لکھ کر پٹواری بن گیا تھا اور پٹواری معاشی حالت کیسے بدلتی ہے، یہ تو آپ سمجھ سکتے ہیں۔ پٹواری صاحب کو ان کی بہن نے مجبور کیا اور دو جانوں کو معاشرتی، معاشی، اخلاقی استحصال کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ بھاگ بھری کے ماموں کی بیوی انتقال کر چکی تھیں اور وہ اپنے شوہر کی ماں بن کر اس گھر میں بیاہی گئی۔ اس نے اپنے شوہر کا ماں کی طرح ہی خیال رکھا۔ اسے نہلانا، سکول کے لئے تیار کرنا، اس کے ساتھ کھیلنا اور اگر اسے کسی نے کچھ کہہ دیا ہو تو اس کے ساتھ جھگڑنے چلے جانا۔

وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور بھاگ بھری بڑھاپے کی طرف بڑھتی رہی اور اس کا شوھر جوانی کی طرف۔ آخرکار بھاگ بھری کی محنتیں رنگ لے آئیں اور اس کا بیٹوں جیسا شوہر جوان ہو گیا۔ میٹرک کر کے لاہور گیا اور ایک سرکاری محکمے میں ملازم ہو گیا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ بھاگ بھری کی ان سسکتی راتوں میں کبھی شبِ زفاف کا بھی گزر ہوا کہ نہیں مگر اس کا شوہر اسے خرچہ وغیرہ بھیجا کرتا اور چار چھ مہینے بعد چھٹی بھی آجاتا۔ بھاگ بھری اپنے مجازی شوہر کے علاوہ کبھی کسی بچے کی ماں نہ بنی۔ پھر اسی بات کو لے کر اس کے اپنے شوہر سے جھگڑے شروع ہوئے۔ اس کا شوہر کہتا مجھے دوسری شادی کرنے دو، تمھیں الگ گھر ملے گا تمھارا نان نفقہ پورا ہو گا مگر بھاگ بھری اپنے احسانات جتاتی اور کسی صورت راضی نہ ہوتی۔ پھر ان جھگڑوں نے طول پکڑا اور ایک دن وہ آ گیا جب بھاگ بھری کو اس عارضی رشتے سے آزاد کر دیا گیا۔ اسے زیور سامان اور کافی نقدی ملی جسے لے کر وہ اپنے بھتیجوں کے گھر چلی گئی۔ اس کا یہ اثاثہ آہستہ آہستہ اس کے بھتیجے کھا گئے ۔ بھاگ بھری لوگوں کے گھر کام کرتی، کسی کی زمین پر مونگ پھلی وغیرہ کاشت کروا کے اس سے گزارہ کرنے لگی۔
اس کے سابقہ شوہر نے دوسری شادی کر لی اور خوش و خرم زندگی بسر کر رہا ہے۔ بھاگ بھری کو کسی نے پیسے دئیے کہ حج کر آؤ مگر اس کے بھتیجوں نے اسے جانے نہ دیا اور کہا کہ اپنے لیے زمین لے کر کمرہ بنا لو ( تا کہ مرنے کے بعد انہی کے کام آ سکے)۔ اب بھاگ بھری کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اس کی نظر بھی جواب دے چکی ہے، چلنے پھرنے سے بھی قاصر۔ اب کوئی زمیندار اپنی مونگ پھلی اسے دے گیا تھا تا کہ اجرتاً بیج نکال دے۔

اب وہ انتظار کر رہی ہے کہ کب اسے قیدِ زیست سے رہائی کا پروانہ آتا ہے۔ بھاگ بھری کے مرنے پر شاید اس کے لئے رونے والا بھی کوئی نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی اس کے سارے ارمان، امنگیں اور خواب بھی دفن ہو جائیں گے۔ وہ اب بھی اپنے شوہرسے محبت کرتی ہے، ایسی محبت جو وصال کے بعد بھی ادھوری رہ گئی ، ادھوری محبت کی ادھوری کہانی۔

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *