دِیوا بال پنجابی دا

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ پہاڑوں سے پگھل کر دریا بننے والی برف کا پانی اٹک کے پاس ٹھنڈا، میٹھا اور شفاف کیوں ہوتا ھے، اور وہی پانی جب پنجاب کی نہروں میں بہتا ہے تو رتا اور گدلا کیوں ہو جاتا ہے، پھر وہی پانی جب دریائے سندھ کے ڈیلٹا سے سمندر میں اترتا ہے تو کیچڑ نما اور بدذائقہ انجام تک کیسے پہنچتا ہے؟

پنجابی زبان کا شرف کوئی ایک نہیں بلکہ یہ صدیوں پر پھیلا ہوا ایک تسلسل ہے جس میں صوفیاء سے لیکر بھگتوں، گرووں اور ادباء تک بیش بہا گوہر آبدار پیدا ہوئے اور ہندوستان کی سرزمین پر علم و ادب، تصوف، انسان کی اساس، فکری زاویوں، وطنیت، محبت، سماجی قدروں، کائناتی اسرار اور انسانیت کی تعلیم جیسے گہرے نقوش چھوڑتے گئے۔

tripako tours pakistan

پنجابی زبان کا اختراع ہزاروں سال پہلے آریائی دور کی پراکرت زبان سے ہوا ہے، یہ کوئی چلتی پھرتی زبان نہیں بلکہ اس کے باقائدہ حروف تہجی اور گرامر کے اصول متعین ہیں، دو ایک صدیاں قبل اس کی لغت بھی مرتب کی گئی، ایک پرانے دور کی مرتب شدہ ڈکشنری آرکائیو۔ڈاٹ۔او۔آر۔جی پر محفوظ ہے جس سے میں خود بھی استفادہ کیا کرتا ہوں۔

پنجابی زبان میں ادبی تحریر کا آغاز تقریباً نو سو سال پہلے بابا فریدالدینؒ شکر گنج سے ہوتا ہے، ان کے ساتھ ساتھ خواجہ فریدؒ، سلطان باہوؒ، شاہ حسینؒ، میاں محمد بخشؒ، ہاشم شاہؒ، بابا بلھے شاہؒ، میاں علی حیدرؒ اور دیگر درجنوں بڑے نام بھی شامل ہیں جنہوں نے پنجابی زبان کو لازوال ادبی معراج عطا کی، پندرھویں سے انیسویں صدی کے درمیان مسلمانوں نے پنجابی زبان میں بے مثال منظوم تحریریں رقم کیں جس میں صوفیانہ کلام اور کافیوں کو بہت پزیرائی ملی۔
>br>

اِٹ کھڑکے، دُکڑ وجے، تتا ہووے چُلھا,
آن فقیر تے کھا کھا جاون، راضی ہووے بُلھا

اب یہ چُلھا ٹھنڈا ہو رہا ہے جس میں آخری پھونکیں مار مار کے بابا نجمی ہلکان ہو چکا ہے مگر گیلی لکڑیوں میں سلگنے کی کوئی رمق باقی نظر نہیں آتی اس لئے کہ اب دنیا میں زبان و ادب کی بقا اپنے ساتھ منسلک معاشی مفاد اور سماجی حیثیت کے ساتھ وابستہ ہے۔

اکھراں وچ سمندر رکھاں، میں اقبال پنجابی دا,
جھکھڑاں دے وچ رکھ دتا اے، دیوا بال پنجابی دا

قومی ادب، صحافت اور میڈیا سے عروج پانے والے پنجابیوں نے کبھی واپس مڑ کے پنجابی کی طرف دیکھا بھی نہیں، نہ دیکھنے کا ارادہ ہے، قیام پاکستان کے بعد پنجاب نے اپنی ساری توانائیاں اردو کیلئے وقف کر دیں اور موجودہ ادبی ذخیرے کا بڑا حصہ پیدا کیا، اس کے باوجود کہ اردو ادب میں پنجاب کے ادیبوں کا حصہ کسی بھی دیگر زبان کے طبقے سے کہیں زیادہ ہے پھر بھی اہل ادب پنجاب اور پنجابی کو کمتر ہی سمجھتے ہیں، اس حال تک پہنچانے میں اپنی ناقدری خود کرنیوالوں کا حصہ یا چشم پوشی کرنیوالوں کا کردار بہت اہم ہے۔

بابا نجمی نے سچ کہا ہے کہ اردو کا دامن بھرتے بھرتے آپ نے اپنی زبان کا سونا مٹی میں ملا دیا

لوکی منگ منگا کے اپنا، بوہل بنا کے بہہ گئے نے,
اساں تاں مٹی کر دتا اے، سونا گال پنجابی دا

جہڑے آکھن وچ پنجابی، وسعت نہیں تہذیب نہیں,
پڑھ کے ویکھن وارث، بلھا، باہو، لال پنجابی دا

مزدور کے تن پر موجود کپڑوں کے سوا ہر کسی کے گیلے کپڑے دھوپ میں سوکھ جاتے ہیں، پھر جس بھٹی پر آپ جتے رہے اس کے ظروف میں سے کوئی بھی آپ کی پزیرائی کیلئے نہیں بولتا، بحیثیت ادیب آپ کو اس خدمت کی اکنالجمنٹ تو مل جاتی ہے لیکن آپ کو ادب کے بڑے حصے دار نہیں مانا جاتا اور آپ کی اپنی شناخت کی کوئی قدر بھی نہیں ہوتی، اس کے ثبوت جابجا بکھرے پڑے ہیں، تازہ واقعہ دو سال پہلے کا ہے جب ایک ادبی مجلے میں کسی شاعر کا بیان چھپا کہ پنجابی زبان سے مردار کی بو آتی ہے، کوئی کتنا بھی معتبر کیوں نہ ہو اسے کسی لحاظ سے بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہماری پہچان کو مردار کی بدبو سے تشبیہ دے لیکن ادبی فضا میں ایسی دُھول بھی موجود ہے۔

اگّ وی ہمتوں بہتی دتی، پھر وی بھانڈے پِلّے رہے,
بھامبڑ جہیاں دھپاں وچ وی، میرے لِیڑے گِلّے رہے

دوش دیؤ نہ جھکھڑاں اتے، سر توں اڈے تنبوآں دا,
کلے ٹھیک نئیں ٹھوکے کھورے، ساتھوں رسے ڈھلے رہے

یہاں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اردو ہماری قومی زبان ہے اس کی خدمت بھی ہمارے اوپر فرض ہے لیکن اس فریضے کو ادا کرتے ہوئے پنجابی کو نظر انداز کر دینا مناسب طرز عمل نہیں تھا، یہ غلطی ہم سے ہوئی ہے کہ پنجاب کا ادیب متوازن نہیں رہا، اس توازن کیلئے استاد دامن نے بروقت توجہ بھی دلائی تھی۔

اردو دا میں دوکھی ناہیں,
تے دشمن نہیں انگریزی دا

پچھدے او میرے دل دی بولی,
ہاں جی ہاں پنجابی اے

ہاں جی ہاں پنجابی اے

پنجابی زبان مسلمانوں میں شاہ مکھی یعنی اردو اور غیر مسلموں میں گرمکھی یعنی ہندی والے رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، بولنے میں پنجابی کے کئی لہجے ہیں جن میں ماجھی لہجہ جو لاہور اور گورداسپور کے خطوں میں بولا جاتا ہے یہ اس کا بنیادی لہجہ ہے، اس کے علاوہ ملتانی، جانگلی، ہندکو، پوٹھوہاری، کشمیری اور کئی دوسرے لہجے بھی ہیں جو بدلتے ہوئے جغرافیے کے ساتھ ساتھ اپنا رچاؤ بساؤ بھی بدل لیتے ہیں لیکن اپنے بنیادی ثقافتی چوکٹھے سے باہر نہیں نکلتے۔

دنیا کے 15 کروڑ لوگوں کی مادری زبان پنجابی ہے اور 1999 کی شماریات کے مطابق دنیا میں 11 ویں نمبر پر بولی جانے والی بڑی زبان ہے، جس میں ہندو مت، سکھ مت، عیسائیت اور اسلام کے پیروکار شامل ہیں، ان میں بڑی تعداد بالترتیب مسلمان اور سکھوں کی ہے اس کے بعد عیسائی ہیں اور ہندو ان سب سے کم تعداد میں ہیں، ہندوستانی پنجاب میں اسے پنجاب اسٹیٹ کی سرکاری زبان کی حیثیت بھی حاصل ہے۔

دنیا جیون چار دیہاڑے، کون کسے نال رُسے,
جہ وَل ونجھاں، موت تتے وَل، جیون کوئی نہ دَسے

سر پر لَدناں ایس جہان نوں، رہنا تاں ناہین کِسے,
کہے حسین فقیر سائیں دا، موت وٹیندی رَسے

پنجابی ادب میں لوک داستانیں اور قصہ خوانی بھی ایک دلپزیر روایت رہی ہے جس کو وارث شاہؒ صاحب نے ہیر رانجھا لکھ کر اوج ثریا سے نوازا، اس سلسلے میں حافظ برخوردارؒ کی داستان مرزا صاحباں، میاں محمد بخشؒ کی سوہنی مہینوال، ہاشم شاہؒ کی سسی پنوں، اور داستان پورن بھگت ایک اضافی باب ہے۔

ربّ جانے کی آکھن چھلاں نسّ نسّ آ کے کنڈھیاں نوں,
پچھلے پیریں کیوں مڑ جاون سینے لا کے کنڈھیاں نوں

اک وی سوتر اگے پچھے اپنی تھاں توں ہندے نئیں,
کھورے چھلاں جاون کہڑیاں قسماں پا کے کنڈھیاں نوں

محفل عاشقاں وِچ جے بَیٹھنا ایں ، گھر بار پہلے کرکے چَوڑ، تے آ

گھاٹ عِشق تے جان نوں چھٹنا ایں، جَھل سَکنا ایں جے ایڈی سَوڑ ، تے آ

تلخیٴ مَرگ تےاک قطرہ آب ہے نیئں، جَھل سَکنا ایں جی ایڈی اَوڑ، تے آ

شہد سمجھنا ایں نِم تُوں ہے کَوڑا، چَکھ سَک نا ایں جے ایڈی کوڑ، تے آ

قدم قدم تے ٹھوکراں ہَین ٹھیڈے، جے کر دِس دا ای ایڈی رَوڑ، تے آ

پَرے قہقہہ دیوار توں گھر اُس داِ، کر سَـَک نا ایں جے ایڈی دَوڑ ، تے آ

رستہ تیز تلوار دی دھار نالوں ، رَکھ سَک نا ایں جے کرم پوَڑ، تے آ

بس یہی کل سرمایہ نہیں بلکہ مسلمان صوفیاء کے علاوہ، ہندو بھگتوں اور سکھ گرووں نے بھی اپنے اپنے کلاموں کے ذریعے زندگی کے بے بہا معنی آشکار کئے اور جبر و استبداد سمیت ہر دنیاوی غلاظت کو بھی واشگاف الفاظ میں للکارا دیا اور عشق کی راہوں پر لگی گھاتوں کا بیان بھی سنایا۔

بابا گورو نانک صاحب نے اپنے مذہب کی بنیاد ہی پنجابی زبان پر رکھی اور گرو گرنتھ صاحب کے بیشتر پاٹھ پنجابی زبان میں لکھے، سکھوں کے پانچویں گرو، ارجن دیو سنگھ، حضرت میاں میر کے ہم عصر اور ان کے دوستوں میں بھی شامل تھے، گرو ارجن سنگھ نے جب گروگرنتھ صاحب کی تالیف کی تو اس میں مسلمان صوفیاء کے کلاموں کو بطور خاص جگہ دی، سکھوں کے گردواروں میں ہمارے صوفیاء کا کلام آج بھی گروگرنتھ صاحب کا حصہ سمجھ کے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔

لاہور کے استاد دامن اور استاد امام دین گجراتی کا نام لئے بغیر یہ سفر مکمل نہیں ہو سکتا، ان دونوں کا نمونہء کلام پیش ہے۔

جنت کی سیٹیں تو پُر ہوچکی ہیں، تو جلدی سے دوزخ میں وڑ مام دینا

تری ماں نے پکائے مٹر مام دینا، تو کوٹھے تے چڑھ کے اکڑ مام دینا

حسینوں کی زلفیں کہاں تیری قسمت، تو کھوتی کی پُوشل پکڑ مام دینا

قیام پاکستان کے بعد استاد دامن ایک بار انڈیا گئے اور وہ مشہور زمانہ نظم پڑھی کہ پنڈت نہرو سمیت سب کو "بُک بُک آنسو" رُلا دیا۔

بھاویں مونہوں نہ کہئے پر وچو وچی,
کھوئے تسیں وی او کھوئے اسیں وی آں

ایہناں آزادیاں ہتھوں برباد ہونا,
ہوئے تسیں وی او ہوئے اسیں وی آں

جیوندی جان ای موت دے مونہہ اندر,
ڈھوئے تسیں وی او ڈھوئے اسیں وی آں

جاگن والیاں رج کے لُٹیا اے,
سوئے تسیں وی او سوئے اسیں وی آں

لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے,
روئے تسیں وی او روئے اسیں وی آں

پنجابی زبان کی بقا کے بارے میں استاد کا کہنا ہے۔

ایتھے بولی

پنجابی ای بولی جائے گی

اردو وچ کتاباں دے ٹھنڈی رہے گی

ایہدے لکھ حریف پئے ہون پیدا

دن بدن ایہدی شکل بندی رہے گی

اودوں تیک پنجابی تے نہیں مردی

جدوں تیک پنجابن کوئی جَندی رہے گی

پاکستان بننے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اس پر ایسے لب کشائی کی کہ

پاکستان مکان اک بن گیا اے

وسن چور اتے تے سادھ ہیٹھاں

بھج بھج کے وَکھیاں چُور ہوئیاں

مڑ کے ویکھیا تے کھوتی بوڑھ ہیٹھاں

ذرائع ابلاغ پر سرکاری جبر کے آگے اپنے احساسات کو اس شکل میں بیان کیا۔

توں شکاری میں پنچھی آں وچ پنجرے,
جے بولن نہیں دیندا تے پھڑکن تاں دے

ادب و ادیب کی سماجی صورتحال پر یوں کہا۔

راگ سمجھ وچ آ گیا ڈوریاں دے,
اودھروں ویکھیا تے گونگے گان لگ پئے

ہُن نہیں جے شاعر بُھکھے مرن لگے,
کیوں جے بنک مشاعراں کران لگ پئے

ایوب خان کی فوجی مداخلت کو یوں بیان کیا۔

خانہ جنگی توں سانوں بچا لیا اے,
صدقے جاواں میں اپنی آرمی دے

وانگ عینک دے نک اتے بیٹھ کے,
دوویں کن پھڑ لئے نیں آدمی دے

سندھی زبان کے متعدد اخبار نکلتے ہیں، پنجابی کے کسی اخبار کا نام بتا دیں جو پنجاب میں بکثرت چھپتا یا پڑھا جاتا ہو؟ ایک روزانہ سجن لاھور سے نکلتا تھا پھر بند ہو گیا، سن نوے میں پھر جاری ہوا دو سال میں پھر بند ہوگیا، یہ بھی ہفتے میں دو دن چھپتا تھا، میں خود سجن کا پرستار رہا ہوں، روزنامہ خبریں والوں کا روزانہ خبراں نکلا تھا اب پتا نہیں ہے یا بند ہو گیا ہے۔

خورے کیوں نہیں زمین دی گل کردے

بندے جیہڑے ایہہ پتلے خاک دے نیں

جہاں پنجابی خاک کے پتلوں نے بڑے پیمانے پر اپنی زبان اور ثقافت سے خود انحراف کیا ہے وہاں بہت سے مردان حُر ایسے بھی ہیں جن کی خدمات کا نام نہ لینا بیوفائی کے سوا کچھ نہیں۔

شفقت تنویر مرزا صاحب امروز میں لکھتے تھے، وہ بند ہوا تو انگریزی اخبار ڈان سے وابستہ ہوئے، مرزا صاحب نے انگریزی پنے پر ہمیشہ پنجاب کے مسائل، ثقافت، ادب اور زبان کی بات کی، وہ پنجابی ہیروز اور ادیبوں کو بھی انگریزی صفحات پر سراہتے رہے، انسان چاہے تو کیا نہیں کر سکتا مگر لگن ہو تو بات بنتی ہے، بابا نجمی پنجابی کا کھیہڑا چھوڑ کے کچھ اور کرتے تو شائد وہ بھی ٹائی لگا کے ہونڈا سوک پہ ادبی مجلسوں میں آتے جاتے مگر پنجابی کی خدمت میں زندگی فنا کر دی لیکن پنجابیوں سے انہیں کتنی پزیرائی ملی یہ ایک سوالیہ نشان ہے، شفقت تنویر مرزا صاحب کی خدمات ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسرے پلڑے میں ان کی عزت افزائی کا سامان اگر کہیں سے ملے تو ضرور لے کے آئیے کیونکہ دوسرا پلڑا اکا دکا تعریفی کلمات کے علاوہ بلکل خالی پڑا ہے۔

اوکھا نہیں تے سوکھا وی نہیں کرکے کھانا

مڑھکے دے نال جسم وی لُونا ہو جاندا اے

ڈاکٹر سعید بھٹہ صاحب، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، ڈاکٹر ریاض شاہد، ڈاکٹر یونس احقر، ڈاکٹر اجمل نیازی اور پنجابی زبان میں ڈاکٹریٹ کرنے والے بیشمار لوگ، پنجابی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں آفر کرنیوالی پنجاب یونیورسٹی لاہور اور پٹیالہ کی پنجابی یونیورسٹی، معاصر ادب میں پاکستان سے، منیر نیازی، انور مسعود اور خالد مسعود، ہندوستان سے، امرتا پریتم، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر، موہن سنگھ، شو کمار بٹالوی، سرجیت پاتر، کتابوں میں استاد دامن کی دامن دے موتی، اشفاق احمد صاحب کی کھٹیا وٹیا، واصف علی واصف کی بھرے بھڑولے، شریف کنجاہی کے جگراتے، موہن سنگھ کے ساوے پتر، امرتا جی کی نَویں رُت، منیر نیازی کی سفر دی رات، سائیں عشقی کی عشق اللہ دی ذات، سائیں اختر لہوری کی اللہ میاں تھلےآ، رزاق شاہد کی گونگیاں چیکاں، فیض احمد فیض صاحب کی رات دی رات، شیو کمار بٹالوی کی لاجونتی اور وجاہت مسعود کی پنجابی شاعری، افسانوں میں منشا یاد کا وگدا پانی، امرتا جی کی ایک سیٹی مار مترا، پنجابی ادب پر تحقیق میں امرجیت چندن کی لکھتم پڑھتم، شفقت تنویر مرزا صاحب کے بیمثال مختلف مقالے اور تحقیق پنجابی ادب اور مشتاق عادل کی تحقیقی کتاب ساہیوال دے ہیرے اسی تسلسل کا حصہ ہیں جس کی بنیاد پنجابی ادب نے رکھی تھی۔

پنجابی کو زندہ رکھنے والے جوانمردوں میں شامل سلیم کاشر کی اس نظم میں فصاحت و بلاغت کا جو انداز ہے اسے دیکھ کر پنجابی زبان کے چہنیک کو فخر ہونا چاہئے کہ وہ کسی نکمی زبان کا نمائندہ فرد نہیں ہے۔

جو بول زبانوں نکل گیا

اوہ تیر کمانوں نکل گیا

میں دل وچّ اوہنوں لبھنا واں

اوہ دور اسمانوں نکل گیا

خواباں نہ تک، خواباں بدلے

یوسف کنیانوں نکل گیا

ہمدرد کنارے بن بیٹھے نے

جد میں طوفانوں نکل گیا

میں گھر دی اگ لکاؤندا ساں

دھووں روشن دانوں نکل گیا

جو غیر لئی تپ اٹھدا سی

اوہ لہو شریانوں نکل گیا

کاشؔر توں ہن کی پُچھدے ہو

جد درد بیانوں نکل گیا

پنجابی سمیت ہر زبان کا ادب صاف ستھرا ہے اور پنجابی سمیت ہر زبان کا وسیب یا کلچر گالیوں سے بھی اٹا پڑا ہے، موجودہ دور کی سب سے قابل فخر انگریزی زبان اپنے دامن میں گالیوں کا وسیع ذخیرہ لئے ہوئے ہے، اور ذخیرہ بھی ایسا کہ جس کا ایک ایک لفظ ہر مستور اور شرم انگیز چیز کا نام اس طرح سے آشکار کرتا ھے کہ بہت سے گندے اعمال کی تصویریں نظر آنے لگتی ہیں، بس سوال صرف یہ ہے کہ کون کسی چیز میں کیا دیکھتا ہے؟

ایک طرف احساس کمتری اور دوسری طرف کارپوریٹ مائنڈ نظام تعلیم نے انگریزی کے علاوہ ہر زبان کو کمتر قرار دے دیا ہے، اپنی مادری زبان کو جہالت سمجھنا بذات خود ایک عیب ہے جبکہ ہر علاقائی زبان میں ایسی ایسی آفاقی سچائیوں پر مبنی کلام موجود ہے جو کسی طرح بھی فلسفے، حکمت اور دانائی کے بلند پایہ معیار سے کم نہیں، علاقائی ادب کا وسیع خزینہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی مادری زبان قابلیت کی راہ میں رتی بھر بھی رکاوٹ پیدا نہیں کرتی بلکہ وہ لوگ جن کی کہی گئی باتوں سے معنی کھوجنے پر ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں جاری کی جاتی ہیں وہ انہی علاقائی زبانوں میں معنویت کے سمندر قید کرگئے ہیں، مادری زبانوں میں کوئی عیب نہیں، عیب صرف یہ ہے کہ ہم کسی دوسری زبان کو عزت کا معیار گردان کر خجل ہو رہے ہیں۔

پنجابی کے ڈھولے، ماہئے، دوہڑے، لوریاں اور بولیاں علیحدہ سے ایک ناقابل نظر انداز ذخیرہ ہیں۔

باریں باریں برسیں کھٹن گیا تے کھٹ کے لیاندے تارے

اج میرے لوں لوں وچ اوہدے سفنے لین ہلارے

الہڑ بلہڑ باوے دا,
باوا کنک لیاوے گا

باوی بیہہ کے چھٹے گی,
سو روپیہ وٹے گی

اور

ککلی کلیر دی

پگ میرے ویر دی

لائیے ایسی نغمگی اور شیرینی سے بھرپور لوریاں اور لڈیاں جو صرف پنجابی زبان کا ہی خاصہ ہیں۔

پنجابی کی ایک مختصر مگر جامع ترین نظم ہے۔

اج دی گل تے ناہیں بَچیا

ماڑا ڈگا، مڈھوں لاء ای

ہیٹھاں وگدا آیا اے

سعید فارانی کی کتاب "پنجابی زبان نہیں مرے گی" ۱۹۸۸ میں جہلم سے شائع ہوئی تھی، وہ لکھتے ہیں کہ ۱۹۸۲ میں پنڈی کے ایک مشنری اسکول سے دو بچوں کو صرف اس لئے خارج کردیا گیا کہ وہ آپس میں پنجابی بول رہے تھے، ایک اسکول میں پنجابی بولنے پر باقائدہ جرمانہ بھی کیا جاتا تھا، کسی اسکول میں پنجابی بولنے پر استانی ایک بچی کی انگلیوں میں پنسل پھنسا کر دباتی رہی اور بچی روتی رہی، پنجابی وسیب کے سجے کھبے کو سمجھنے والے بچے پی۔ٹی اور ڈرل کے پیرئیڈز میں دائیں مڑ اور بائیں مڑ کا فرق نہ سمجھنے پر کئی دہائیوں تک پٹے ہیں، فارانی صاحب نے ایک اور جگہ لکھا کہ اسکول انسپکٹر نے بچوں سے گنتی سنی تو ایک بچے کو اس وقت تھپڑ دے مارا جب اس نے انسٹھ کو اناٹھ کہا۔

سپاں ورگے تھور دے بُوٹے,
کنڈے جنہاں دے لوں لوں چُبھن

تے ڈکن میرے پیر,
میں کیویں پُٹاں پیر…!

پنجابی رسالے لہراں میں چھپنے والی سالک صاحب کی بات فارانی نے بیان کی کہ بس میں کنڈکٹر نے جب پچوَنجا کہا تو بہت سے غیر پنجابی اس کا مزاق اڑانے لگے، سالک صاحب نے پوچھا، میاں کیا ضمانت ہے کہ لفظ پچپن بہت خوبصورت اور تہذیب یافتہ ہے، ممکن ہے یہ پچپن ہمیں بھی برا لگتا ہو، دلیل نہ تمہارے پاس ہے نہ ہمارے پاس ہے پھر مزاق اڑانے کا مقصد؟

لوڑاں دی سولی چڑھ جاون روز انملے ہاسے,
عشق محبت جھوٹے قصے درد سری دیاں گلاں

ایک ڈاکٹر اور سول سرونٹ کے حوالے سے فارانی صاحب نے لکھا ہے کہ وہ پنجابی ہو کر اردو بولتے تھے کیونکہ اس سے عام لوگوں اور ان کے درمیان کلاس کا فرق نمایاں ہو جاتا تھا، افسر کا رعب جم جاتا اور ڈاکٹر کو فیس اچھی ملتی تھی، ایک اسی مثال کو پورے پنجابی سماج پر پھیلا لیں تو پنجابی زبان سے اپنوں کی اپنی بےاعتناعی کا المیہ واضع ہو جاتا ہے۔

شہراں دے وچ آکے اج اوہ بندے چار رہیا اے

پنڈاں دے وچ رہ کے جیہڑا ڈنگر چار نہیں سکیا

پنجابیت سے پِھرتی ان آنکھوں کے پیچھے صرف نظریہ ضرورت کا عمل دخل ہے، دریائی پانی کی طرح انسان بھی وقت کی گزرگاہوں میں اپنا رنگ بدلتا ہے، اس کی مثال جو لوگ ٹرین کا سفر کرتے ہیں وہ جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے وہ لاہور سے کراچی کیلئے اکانومی کلاس میں بیٹھ جائیں، صادق آباد تک پنجابی چلتی ہے پھر اکا دکا اردو کے الفاظ گفتگو میں در آتے ہیں، سکھر کے بعد یہ الفاظ جملوں میں بدل جاتے ہیں اور حیدرآباد آنے تک سب خالص اردو بولنے لگتے ہیں، کراچی اترتے ہوئے، چک لے، پھڑ لے، سانبھ لے کی جگہ، یہ اٹھاؤ، وہ اٹھاؤ، دھیان سے، سنبھل کے بھیا جیسا انداز سامنے آتا ہے، واپسی کا سفر بھی کراچی سے نکلنے کے بعد اسی طرح زبان کا رنگ بدلنے لگتا ہے اور لاہور پہنچنے تک ہر کوئی اپنی اصلیت میں واپس آجاتا ہے۔

احتجاج کرنے والوں سے گزارش ہے کہ پنجابی زبان آج خود اپنے ہی بدلتے ہوئے سماج کے آگے شکوہ کناں ہے، دوسروں پر پھٹکار کرنے کی بجائے انہیں پنجابی زبان کا ادبی چہرہ دکھائیں تاکہ وہ اٹک کے پاس اس دریا کی شفافیت اور مٹھاس دیکھے نہ کہ سمندر برد ہوتا ہوا گدلا چہرہ دیکھ کر اسے فاؤل لینگویج قرار دے۔

ساجن تُمرے روسڑے، موہے آدر کرے نہ کوئے

دُر دُر کرن سہیلیاں، میں تُر تُر تاکوں توئے

اج آکھاں وارث شاہؒ نوں، امرتا جی نے جب یہ نظم لکھی تو اس وقت بھی بعض لوگوں نے ان سے سخت شکوہ کیا تھا کہ یہ بات وارث شاہؒ کی بجائے گرونانک صاحب سے کہنی چاھئے تھی، اور سرخوں نے کہا کہ یہ بات لینن یا اسٹالن سے کہنی چاھئے تھی، یہ سارے شکوہ کناں کوئی جاہل نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگ ہی تھے مگر تھے متعصب اور امرتا جی اس بات کو خوب سمجھتی تھیں، آج وہ زندہ ہوتیں تو شائد ایک بار پھر وارث شاہ کو ہی پکارتیں۔

اج آکھاں وارث شاہ نوں ,
کتھوں قبراں وچوں بول

ہوش مک گئے ایس قوم دے,
کوئی مت دی کنڈی کھول

اور غیروں کو بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ آپ کو جو زبان اچھی نہیں لگتی آپ اسے نہ پڑھیں نہ بولیں مگر کسی زبان سے وابستہ افراد کی دل آزاری کرنے اور مزاق اڑانے کا وطیرہ کسی طرح بھی مستحسن نہیں، ہماری نہیں ماننا چاہتے تو نہ مانیں لیکن اپنی پسندیدہ زبان کی ہی مان لیں، آپ ہی کی انگریزی میں کہتے ہیں۔

Beauti lies in the eyes of beholder

پھر بھی ہماری پہچان، ہماری زبان، سے تکلیف نہیں جاتی ہے تو آپ کی زبان میں بس یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ

If you can’t bear the heat, just leave the kitchen.

Avatar
لالہء صحرائی
ایک مدھّم آنچ سی آواز ۔۔۔ ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا ۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *