انشائیہ : رات۔۔۔محمد منیب خان

چور، عاشق اور عابد سے زیادہ رات کا قدر دان کون ہوگا؟ یہی وہ لوگ ہیں جو رات میں چھپے خزانے دریافت کرتے ہیں۔ جیسے کوئی کان کن کوئلے میں چھپا ہیرا۔ چور کی منزل کھوٹی، عاشق کا راستہ آسان نہیں اور عابد کی قسمت میں سفر در سفر۔ چور منزل سےپہلے دبوچا جاۓ تو پابند سلاسل، عاشق کا کٹھن راستہ سہل ہو جاۓ تو وہ شوقِ سفر کی لذت سے محروم، اور عابد کی عبادت شرف قبولیت حاصل کر لے تو صوفی یا ولی ٹھہرے۔ ولی کی ولایت، عاشق کا معشوق اور چور کا راز آشکار رات ہی کرتی ہے۔

رات کی بہت سی تہیں اور پرتیں ہیں۔ رات کے انداز جدا جدا ہیں۔ کہیں کلب کہیں کلیسا اور کہیں کوٹھا آباد، کہیں مصنف کا خیال نثرکی منزل مراد، کہیں شاعر کا نظم بنتا خواب، کہیں شبنم کے موتیوں سے سجا گلاب، کہیں کتاب کے پلٹتے اوراق کہیں نہ بھولنے والےمناظر کے سیاق و سباق، کہیں لفظوں میں جھڑپ اور کہیں جسموں میں تڑپ، کہیں چہرے پہ تھکن اور کہیں بستر پہ شکن، کہیں مسجدوں  میں رب کی یاد اور کہیں میخا نے آباد، کہیں سوتے میں دیکھنے والے سہانے خواب اور کہیں خوابوں کے ڈر سے نہ سونےوالی آنکھیں۔ کہیں آنسو کہیں قہقہہ ،کہیں سسکی کہیں آہٹ اور کہیں کُرلاہٹ۔

دن بہت سے تضادات کی یکسانیت کے حصول کے لیے ہے کہ ہر شخص اپنے چہرے پر ایسا چہرہ سجا لیتا ہے جو سب کو قابل قبول ہولیکن رات ہوتے ہی سب اپنا اپنا اصل روپ اپنا لیتے ہیں، گویا رات قید سے آزادی ہے۔ رات انسان میں چھپی رحمانیت اور شیطانیت دونوں کو رہائی عطا کرتی ہے۔ رات سفر میں کٹے یا حضر میں یہ جاگنے والے کو کچھ نہ کچھ لوٹاتی ہے۔ رات کو تاریکی اور یاسیت کااستعارہ بنا دیا گیا۔ جبکہ رات تو پُر امید اور روشن ہے۔ ہر طرف پھیلی سیاہی کے باجود چمکتا چاند اور ٹمٹماتے ستارے اُمید کےپیامبر ہیں۔ چاند عاشق کی طرح بے چین و بے قرار لیکن منور، عاشق کروٹ بدلتا ہے تو چاند بھی کروٹ بدلتا ہے۔ عاشق کا ہمسفر بس چاند ہی تو ہوتا ہے۔ رات سرمایہ ہے اس کے لیے جس کے پاس خیال کی دولت ہے۔ رات خود جاگتی ہے اور دوسروں کو سلاتی ہے لیکن جاگنے والے کو بہت کچھ لوٹاتی ہے۔

انسان خود نہیں جاگتا اسکا نصیب اسے جگاۓ رکھتا ہے  اور شاید یہ ممکن نہیں کہ جاگتی آنکھوں اور روشن دماغوں کو رات کچھ لوٹائے  نہیں۔ رات ہر دو خیالوں کو تقویت دیتی ہے اچھا اور بُرا۔ رات ہر دو انسانوں کو موقع دیتی ہے اچھا بُرا۔ دن کو نہ سلجھنے والی گتھیاں رات کو سلجھائی جاتی ہیں۔ چاندنی کی پھوار سوچ کو تازگی عطا کرتی ہے، بہت سے عقدے رات کو وا ہوتے ہیں۔ بہت سی دلیلوں کا جواب رات عطا کرتی ہے رات دن بھر کا تجزیہ بھی اور نتیجہ بھی اور یہی رات مہمیز ہے اگلے دن کے لیے بھی۔ رات آرزوبھی ہے اور تکمیلِ آرزو بھی۔ رات جستجو بھی ہے اور آب جُو بھی۔

رات کا اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو گا کہ خالق خود پہلے آسمان پہ جلوہ افروز ہو کر مخلوق کے نالہ نیم شبی کو شرف قبولیت عطاکرتا ہے۔نزولِ  قرآن ہو یا جہنم سے آزادی کی ساعتیں یہ اعزاز  رات کو ہی نصیب ہوا، رب نے اپنے محبوب کو آسمانوں کا سفر بھی رات کو کروایا، شہادت امام حسین رضہ بھی تو غروب آفتاب کی منتظر رہی، رات کی نمازوں کو ہی منافقین پہ بھاری کہا گیا، سحر وافطار بھی رات سے ہی منسوب ہوئے۔

رات خیال کو جِلا بخشتی ہے، سوچ کو پَر عطا کرتی ہے اور لفظوں کو طاقت ِ پرواز دیتی ہے رات انسان کا آئینہ ہے۔ رات خود نابینا ہے لیکن صاحب ِ فکر کے خیال کا زینہ ہے۔ دن دنیا سے متعارف کرواتا ہے رات اپنی ذات کو آشکار کرتی ہے۔  یہ رات کا اعجاز ہے کہ قہقہےلگانے والوں اور ہچکیوں سے رونے والوں کی شناخت پوشیدہ رہتی ہے۔ فرش پر رہنے  والا انسان عرش والے کے کتنا نزدیک ہے یہ راز بس رات کو ہی معلوم ہے۔ رات حاصل کرنے والوں کو سلام، رات بھر محض جاگنے والوں کے لیے الم اور رات کے مخلصین کے لیے کامیابی کاعَلم۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *