• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • میاں نواز شریف کے لندن میں ہونے والے ٹیسٹس اور علاج کی صورتحال۔۔ غیور شاہ ترمذی

میاں نواز شریف کے لندن میں ہونے والے ٹیسٹس اور علاج کی صورتحال۔۔ غیور شاہ ترمذی

SHOPPING

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے اہلخانہ نےان کی طرف سے میاں صاحب کی ضمانت کی مدت میں توسیع کے لئے محکمہ داخلہ پنجاب کو درخواست دے دی ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ میاں نواز شریف کو انڈر سیکشن 401 (2) کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 ءکے تحت مزید ریلیف کے لئے حکومت پنجاب کو درخواست دینے ہو گی اور قرار دیا گیا تھا کہ جب تک حکومت پنجاب درخواست پر فیصلہ نہیں کرے گی، نواز شریف ضمانت پر ہی تصور کیے جائیں گے۔ – اس درخواست پر ضمانت میں توسیع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے لئے پنجاب حکومت نے 4 رکنی کمیٹی بنا دی ہے جس میں صوبائی وزیر قانون، چیف سیکرٹری پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب اور ہوم سیکرٹری شامل ہیں۔ کمیٹی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرنے کے لئے میاں نواز شریف کی بیماری اور لندن میں ان کے ہونے والے ٹیسٹ رپورٹس اور ان کے معالجین کی۔ سفارشات کو زیر غور لائے گی- حالات و واقعات کے مطابق میاں نواز شریف کی ضمانت کی مدت میں توسیع کر دی جائے گی-

ڈاکٹر شمسی

میاں نواز شریف کی بیماری اور سروسز ہسپتال میں جاری ان کے علاج پر کافی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا- میاں نواز شریف کے پلیٹلیٹس انجیکشن ڈوز اور سٹرائیڈز ٹریٹمنٹ  کے باوجود بھی نارمل نہیں ہو رہے تھے- اس لئے ان کے مرض کی تشخیص کے لئے کراچی سے پاکستان میں ہڈیوں کے گودے کی پیوند کاری (بون میرو ٹرانسپلانٹیشن) کے بانی ڈاکٹر طاہر سلطان شمسی کو خصوصی طور پر بلوایا گیا تھا- ویسے اس حوالہ سے نون لیگ کی قیادت کو سوچنا چاہئے کہ گزشتہ 35 سالوں میں کم از کم 20 سالوں تک پنجاب میں ان کی حکومت رہنے کے باوجود بھی ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کے حامل صوبے میں کوئی ایک ڈاکٹر بھی ایسا نہیں، جو اتنی قابلیت رکھتا ہو کہ نواز شریف کی بیماری کی تشخیص کر سکتا- یہ تو نون لیگ اور میاں شہباز شریف کی انتظامی اور خصوصاً صحت عامہ کی سہولتوں پر بہت بڑا سوال اٹھ رہا ہے کہ پنجاب اور لاہور میں اتنے بڑے ڈاکٹر اور ادارے موجود ہیں، لیکن پھر بھی انہیں میاں نواز شریف کے مرض کی تشخیص کے لئے کراچی سے ایک معالج بلانا پڑا- ڈاکٹر طاہر شمسی جیسی قابلیت پنجاب کے ڈاکٹروں میں کیوں نہیں؟- ہم اب تک ایسے افراد کی تیاری کیوں نہیں کر پائے؟- یقیناً میٹرو بس، سڑکیں، انڈر پاس، بجلی بنانے کے منصوبے، رنگ روڈز اور اورنج ٹرین جیسے پراجکٹس عوام کے لئے ضروری ہیں مگر تعلیم اور صحت ایسے شعبے ہیں میاں صاحب جو ہر شہری کی بنیادی ترین ضرورت ہیں-

ڈاکٹرر فیصل سلطان

پنجاب میڈیکل بورڈ کی سفارشات اور وزیر اعظم عمران خاں و وفاقی کابینہ کی اطراف سے اعتراض نہ ہونے کی تحریری یقین دہانی کے بعد عدالت عالیہ اسلام آباد سے ضمانت ملنے کے بعد جب میاں نواز شریف کی لندن   جانے والی ائیر ایمبولینس میں سیٹ پر بیٹھنے والی فوٹوز اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو تحریک انصاف کے ورکرز نے کہرام مچا دیا اور میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کو جھوٹا اور جعلی بھی قرار دیا گیا- سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی بہت سے ویڈیوز اور تصاویرایسی بھی وائرل کی گئیں جو 2 سال پرانی تھیں- عام آدمی کے پاس تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا اس لئے یہاں کے ’خبری چینلوں‘ میں بیٹھے ہوئے بہت سی قابل احترام شخصیات کی جانب سے بھی بے بنیاد باتیں کی گئیں- جنہیں ان بیماریوں اور علاج سے متعلق ذرا بھی کچھ نہیں پتا تھا وہ سب بھی اپنی اپنی ہانکتے رہے اور نہایت بے سروپا گفتگو کرتے رہے۔ – حالانکہ میڈیکل بورڈز کے بے شمار ماہرین نے میاں نواز شریف کی ٹیسٹ رپورٹس دیکھیں اور انہیں علاج کے لئے لندن جانے کی سفارش کی- ان ماہرین میں وزیراعظم عمران خان کی خاص ہدایت پر شوکت خانم کینسر ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹرر فیصل سلطان نے بھی میاں نواز شریف کی رپورٹس اور حالت سورسز ہسپتال جا کر دیکھی اور اس کی تصدیق کی کہ میاں نواز شریف واقعی بیمار ہیں-

سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ ماہرین تحریک انصاف کے ٹائیگرز کے اس شعر میں کسی نے پنجاب میڈیکل بورڈ اور ان کی خصوصی دعوت پر پرائیویٹ طور پر بلائے گئے ڈاکٹر طاہر سلطان شمسی کی رائے نہیں لی اور نہ پوچھنے کی زحمت کی کہ کیسے بستر پر لیٹے میاں نواز شریف ائیر ایمبولینس جہاز میں کرسی پر بیٹھ کر سفر کرنے کے قابل ہوئے؟- چونکہ تحریک انصاف کی طرف سے اس ایشو پر بات کرنے کا اصل مقصد سیاسی پوائنٹ سکورنگ تھی اس لئے وہ صرف اس پر تنقید کرتے رہے اور شکوک کا اظہار کر کے قوم کے اذہان کو میاں نواز شریف کی سنگین بیماری کے خلاف مشکوک بناتے رہے جیسا کہ اس سے پہلے وہ بیگم کلثوم نواز شریف کی بیماری کا مذاق اڑا کر کرتے تھے- تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ٹائیگرز کا پراپیگنڈہ اسی وقت زائل ہوا جب بیگم کلثوم نواز کی وفات ہوئی- یقین جانیں کہ اس موقع پر بھی نفرت کا بازار گرم کرنے والے تحریک انصاف کے کچھ سو شل میڈیا ایکٹوسٹ یہ کہتے رہے کہ بیگم کلثوم نواز کی وفات تو بہت پہلے ہو چکی تھی لیکن شریف فیملی نے سیاسی فوائد اٹھانے کے لئے انہیں مصنوعی طور پر زندہ رکھا ہوا تھا اور جب ایسا ممکن نہ رہ سکا تو ان کی ڈیڈ باڈی بھی بہت دنوں تک وہاں رکھی گئی-

اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایسی سوچ رکھنے والے لوگوں کو اگر پنجاب میڈیکل بورڈ اور ڈاکٹر طاہر سلطان شمسی اگر سمجھانا چاہتے تو بھی کیسے سمجھاتے کہ میاں نواز شریف سفر کے قابل بن گئے تھے تو تب ہی باہر گئے تھے ورنہ اس سے پہلے تو میڈیکل بورڈ نے ہی انہیں سفر کرنے سے روکا تھا۔ – سفر کی اجازت کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ تھے- مریض کی ایک کیفیت ’انتہائی نگہداشت‘ والی ہوتی ہے، ان کی وہ حالت تو نہیں تھی، سوائے درمیان کے کچھ وقت کے، اب بھی انہیں جہاز پر لفٹ سے چڑھایا گیا تھا- بس وہاں سے دو چار قدم چل کر وہ نشست پر بیٹھ گئے۔- پلیٹلیٹس بڑھانے کے انجیکشنوں اور سٹیرائیڈز کی کئی ایک  بھاری مقدار دینے  کے بعد ہی وہ اس قابل کر دئیے گئے تھے کہ یہ سب کر سکتے۔- ڈاکٹروں نے تو انہیں بمشکل اور مسلسل کئی کوششوں کے بعد اس قابل کیا کہ وہ سفر کر سکیں مگر ہمارے’ سیاسی’ حکمران پریس کانفرنس کر کے مذاق اڑاتے رہے کہ میاں نواز شریف کس سنگین بیماری کا شکار ہیں جو چل کر ائیر ایمبولینس جہاز پر بیٹھے ہیں اور یہ کیسی ائیر ایمبولینس ہے جس میں جہاز کے فرسٹ کلاس والی سیٹیں لگی ہوئی ہیں- اس موقع پر سنجیدہ حلقوں کی طرف سے چاروناچار اور بالآخر یہ سوال اٹھا ہی دیا گیا کہ کیا میاں نواز شریف کو بھی بیگم کلثوم نواز کی طرح اپنی جان دے کر ہی اپنی سنگین بیماری کا ثبوت دینا پڑے گا؟- یہ کیسے ظرف والے حکمران ہیں جو اپنی ہی حکومت کے بنائے پنجاب میڈیکل بورڈ ، بورڈ کی دعوت پر بلائے ہوئے ڈاکٹر طاہر سلطان شمسی اوراپنے زیر انتظام چلنے والے ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل سلطان کی رپورٹس پر بھی اعتماد نہیں کرتے؟- صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے رچایا جانے والا پریس کانفرنسز اور سوشل میڈیا شو ہرگز بھی قابل تعریف نہیں تھا جناب عالی!-

اس وقت لندن میں جاری میاں نواز شریف کے علاج کے دوران ہونے والی ٹیسٹ رپورٹس نے پنجاب میڈیکل بورڈ، ڈاکٹر طاہر شمسی اور شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر فیصل سلطان کی مشترکہ تشخیص کی تصدیق کر دی ہے کہ میاں صاحب کے دل کی بیماری کافی پیچیدہ ہے- ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بتا چکے تھے کہ میاں صاحب کے دل کی 90 فی صد شریانیں بند ہیں- انہوں نے 2 بائی پاس سرجریاں کرائی ہوئی ہیں- پانچ اسٹنٹ بھی انہیں ڈلے ہوئے ہیں- یہاں کے ڈاکٹروں کی آنکھوں دیکھی بات کو لندن میں ہونے والی ٹیسٹ رپورٹس نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ ایک تسلیم شدہ بیماری ہے- ڈاکٹر طاہر شمسی کو سروسز ہسپتال میں انفرادی طور پر نہیں بلکہ بطور ’سبجیکٹ سپیشلسٹ’ بلایا‘ گیا تھا- میڈکل بورڈ پنجاب کی طرف سے انہیں پرائیوٹ کنسلٹنٹ کے طور پر بلایا گیا اور انہوں نے اپنی اکلوتی پریس کانفرنس میں خود پرکسی بھی طرح کے دباؤ کی واضح تردید کرتے ہوئے صرف میاں نواز شریف کی بیماری سے متعلق بات کی- انہوں نے کہا تھا کہ میاں نواز شریف کے بگڑتے ہوئے اور مسلسل کم ہوتے ۔ پلیٹ لیٹس کا علاج یہاں لاہور میں ہو سکتا تھا لیکن میاں نواز شریف پلیٹ لیٹس کے علاج کے لئے لندن نہیں گحے تھے بلکہ دل کی بیماری کے علاج کے لئے گئے تھے جس کا علاج پلیٹلیٹس گرنے کے عمل کے دوران یہاں نہیں ہو سکتا تھا- ڈاکٹر شمسی نے اس پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ۔ مریض میں ’پلیٹ لیٹس‘ کی کمی کے دوران دل کا دورہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔- اس پریس کانفرنس میں ہی ڈاکٹر شمسی نے میاں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی طرف سے میاں نواز شریف کو گردوں اور دل کے عارضے لاحق ہونے کی بھی تصدیق کی- ڈاکٹر شمسی نے کہا کہ سروسز ہسپتال میں میری موجودگی کے دوران ہی میاں نواز شریف کو بہت نازک کیفیت میں دل کا دورہ پڑا تھا۔-

SHOPPING

میاں نواز شریف فیملی کی طرف سے ان کی ضمانت میں توسیع کے لئے چیف سیکرٹری پنجاب اور ہوم سیکرٹری پنجاب کو دی جانے والی درخواست نون لیگی قیادت کی طرف سے بروقت “موو” ہے- ایسا کرنے سے اگر اس درخواست کے ساتھ منسلک لندن میں ہونے والےمیاں نواز شریف کے ٹیسٹوں کی نوٹری سے تصدیق شدہ رپورٹس کو اگر پنجاب حکومت کی بنائی کمیٹی مسترد بھی کر دے تو شریف فیملی کے پاس اس کمیٹی کے فیصلہ کو چیلنج کرنے کے لئے عدالت عالیہ اسلام آباد سے رجوع کرنے کا موقع حاصل رہے گا- ویسے تو ان رپورٹس کی بنیاد پر توقع کی جا رہی ہے کہ میاں نواز شریف کو لندن سے بہتر علاج کے لئے امریکہ جانے کے لئے ضمانت میں توسیع مل ہی جائے گی لیکن اگر حکومتی کمیٹی نے تحریک انصاف کے دباؤ میں مخالفانہ فیصلہ کیا تو انہیں عدالت عالیہ اسلام آباد میں شریف فیملی کی طرف سے دائر کردہ اپیل میں تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹس کو مسترد کرنے کی وجوہات سے آگاہ کرنا پڑے گا جو میڈیکل معلومات نہ رکھنے والی اس کمیٹی کے لئے اس وقت تک بہرحال ایک بہت مشکل مرحلہ ہوگا جب تک وہ اس میں ڈاکٹر طاہر شمسی یا ان جیسے دیگر ماہرین کو شامل نہیں کرتی-

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *