• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • دنیائے اسلام کا ایک مقدس ترین اور زائرین سے لبالب بھرا کربلا شہر۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط 1

دنیائے اسلام کا ایک مقدس ترین اور زائرین سے لبالب بھرا کربلا شہر۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط 1

تو آج کربلا کے لیے روانگی تھی۔رات کو ہوٹل آنے پر نسرین سے پتہ چلا میں نے فکر مند سی ہو کر اپنے آپ سے کہا تھا۔
”لو ان کا تو کوچ کا پروگرام ہے اور میری بغداد کے نوسٹلجیاکی تشفی ہونے میں نہیں آرہی ہے۔ابھی تو ڈھیر ساری چیزیں باقی ہیں۔آج کا آدھا دن تو گل ہی ہوگیا۔وگرنہ کافی کچھ دیکھا جاسکتا تھا۔“
افلاق ٹیکسی ڈرائیور پر بھی تھوڑا ساغصہ آیا۔صبر بھی نہ ہوسکا۔اُسی وقت موبائل بجادیا۔بیبے سے بچے کا لہجہ سکون بھرا تھا۔
اُس نے میرے لہجے میں کچھ چھپے، کچھ کُھلے تفکرات محسوس کرلئیے تھے۔
”آپ اطمینان سے سوجائیے اب قافلے کے ساتھ جو کچھ دیکھ سکتی ہیں اُسے دیکھیے۔باقی میں ہوں نا۔“چلوتسلی ہوگئی۔
باتھ روم میں پانی نہیں تھا۔ ترقی یافتہ ملکو ں میں اپنے وطن کے ساتھ موازنوں کی صورت جو آہیں کلیجے سے نکلتی ہیں اُن میں یاس کی گھلاوٹ زیادہ ہوتی ہے۔عراق جیسے جنگ اور دہشت گردی کے مارے ملک میں مماثلت کے رنگوں میں کوفت،دُکھ اور چبھن  جیسی کیفیات کا تاثر زیادہ نمایاں ہوکر اذیت کا باعث بن رہا تھا۔
موڈتو سویرے سویرے ہی برہم ہوگیا تھا۔کچھ نکالنے کیلئے پر س کھولا تو پچیس ہزار دینار کا نوٹ غائب۔ اب پورے پرس کی شامت آگئی تھی۔پر وہاں ہوتا توملتا۔سو فیصد شک کا گمان ساتھ والی پر تھا۔مگر گھر اور باہر ایسے معاملات میں تماشے کرنے سے مجھے ہمیشہ چڑ سی رہی ہے۔اپنی مرحومہ ماں کی اِس بات سے مجھے سو فیصد اتفاق رہا ہے کہ کھیسہ اپنا سانبھوتے چور کسے نوں نہ آکھو۔(یعنی اپنی جیب کی حفاظت کرو اور چور کسی کو نہ کہو)
پھر میری پھٹکار کا نزلہ خود میرے اپنے اوپر گرا۔”کیا تھا جو خود اپنے ہاتھ سے دے کر نیکی کمالیتی۔پروہ تیرے مقدر میں ہوتی تب نا۔“
بس تو ہونٹوں کو سیئے رکھا کہ جب رات کو گھوڑے بیچ کر سونا ہے تو سرہانے رکھے پر س میں کوئی بھی آسانی سے ہا تھ ڈال کر کچھ بھی نکال سکتا ہے۔چلو دفع کرو۔
بغداد سے کربلا،کوفہ اور نجف اشرف کے شہر دراصل میسوپوٹیمیاکے علاقے ہیں۔دجلہ و فرات سے مستفیذ ہونے اور اِن کی زرخیزی سے بھرپور فائدہ اٹھانے والے۔
صبح تھی تو کیا سورج حسبِ معمول قہر آلود تھا۔گاڑی کے شیشوں سے پردہ ہٹا کر چہرہ شناسی کرتی تو ویرانیوں کے جھکڑ نظر آتے۔ذرا بغداد سے نکلے تو شارع الغظ کا بڑا سا بورڈ دیکھا۔سڑک بن رہی تھی۔ساتھ ہی خوبصورت فلیٹوں کا سلسلہ تھاپر اردگرد گند بکھرا پڑا تھا۔راستے میں جابجا چیک پوسٹیں، ریت کی بوریوں سے بنی مدافعتی دیواریں، کچے پکے گھروں پر مشتمل بستیاں اور چوراہوں پر لگے بورڈوں پر ان کے نام درج تھے۔چند دکانوں پر مشتمل بازار، گرما، تربوزوں کے ڈھیر سجائے اور بیچتے نوعمر لڑکے اورکہیں کھیتوں کے پھیلے سلسلے آپ کی توجہ کو کھنچے چلے جاتے تھے۔
ایک تو جگہ جگہ چیک پوسٹوں کا سیاپا۔گاڑی رک جاتی۔پولیس کا پورا جتھا چیکنگ کے جدید ترین آلات کے ساتھ اندر آتا۔پہلا مرحلہ تو گُھوگُھور کر دیکھنے کا ہوتا یوں جیسے القاعدہ کے لوگ ہوں۔
صحرا کا نخلستان دیکھنے کا بھی اپنا مزا ہے۔بلدیہ مصیب کا جب دیدار کرتے تھے کوئی عقب سے حضرت عون کے مزار کی بات کرتا تھا۔
مدیترہ کربلا سے خارجیوں کیلئے راستے بنائے گئے تھے۔ان دو رویہ راستوں کی تنگی نظر پر گراں گزرتی تھی۔اطراف کوڑے کباڑ سے لدے پھندے ہوئے تھے۔اب جا بجا افسوس اور دُکھ کی آہوں سے فضاؤں کو غم آلود کرنے کا فائدہ؟
بلدیہ کربلا میں بسوں کا اڈہ کیسی کسمپرسی کی تصویر دکھتا تھا۔ کھجوروں کے جھنڈوں کی کہیں کہیں چھدری چھاؤں میں کھڑے سوزوکیوں کیلئے بھا ؤ تاؤ ہو تے دیکھتے حشر ہوگیا تھا۔ سوزوکیوں میں بیٹھ جاؤ،اُتر جاؤوالا معاملہ من و عین وہی بغدا د و الی صورت۔ریڑھیوں میں سامان کی لد لدائی اور ”چلو پیدل مارچ کرو۔“
اب تیل نکلنے والی بات تھی نا۔
دھوپ کربلا کی گلیوں میں اتری ہوئی تھی۔ویرانی کا گھمبیر سا تاثر ہر شے پر بکھرا ہوا نظر آیا تھا۔ مکانوں کی خستگی اور کہنگی بھی بڑی نمایاں تھی۔
برقی تاروں کے بے ہنگم پھیلاؤسے بھی کوفت ہو رہی تھی۔ درختوں کی شجر کاری ضرور تھی مگر کثرت کہیں نہ تھی۔ یہ شہر پوری دنیائے اسلام کیلئے مقدس ترین جسکی زیارت کیلئے آنے والوں کا ایک نہ ختم ہونے والا تانتا۔ اسے تو خوبصورتیوں کا مرقع بنانا چاہیے تھا۔ اسکے ویرانوں کو نخلستانوں میں بدل دینا چاہیے تھا۔ تیل کے ذخائر سے مالا مال ملک اور زائرین سے بھی لبالب بھرا ہوا۔
ہم ایک طویل بازار سے گزر رہے تھے۔دو رویہ عمارات سے گھرا ہوا کشادہ سڑک والا بازار جو ٹرن لیتے ہوئے سیدھا مزار مقدس تک جاتا تھا۔بازار، اس میں بنی دو منزلہ،ایک منزلہ، سہ منزلہ عمارتیں اور گاڑیوں کی کثرت تھوڑی سی خوشی دیتی تھیں کہ ان کا حال احوال بہتر نظر آتا تھا۔
ہوٹل فندق الجنائن قلب روضہ عالی امام میں گھسا ہوا تھا۔دو چھلانگیں مارو اور مرکزی گیٹ پر پہنچ جاؤ۔ میں نے بھونچکی سی ہو کر وسیع و عریض ریسپشن روم کی دیواروں پر عظیم المرتبت حضرت امام حسین ؓ کی وجہیہ صورت تصویروں کو دیکھا تھا۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے جلوے بھی وہاں بکھرے ہوئے تھے۔ تصورات نے جھٹکا کھایا تھا۔اب اس پر بھی شکر گزاری ہوئی کہ کہیں اُس عظیم ہستی کاپیکر نہیں تراش لیاوگرنہ تو ہم جیسے مارے جاتے۔اب تو اپنی مرضی ہے جیسی مرضی تراش لیں۔
کمرے اچھے تھے۔ شکر تھا کہ لوگ چار تھے اور ا ے سی آن تھے ۔ جی چاہتا تھا لیٹوں اور سو جاؤں۔مگر میں سو نہیں سکتی تھی۔ مجھے مائع کی شکل میں ہر طور تین چار گلاس اپنے اندر انڈیلنے تھے۔ سو اٹھی اور باہر نکلی۔ ہوٹل کی عقبی گلی سے ایک اور بازار میں داخل ہوئی۔حلب لیابوتل لی واپس آئی تو ہوٹل کے مالک آغا یاس علی سے ہیلو ہائے کی۔پاس بیٹھی اور پوچھا۔
”آغا آپ کیا سوچتے ہیں؟“
”میری تو دلی تمنا ہے کہ امریکہ یہاں جم کر بیٹھ جائے۔میرا تو کاروبار ٹھپ ہوا پڑا تھا۔ ایرانی زائرین پر پابندیاں تھیں۔ گرما میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے۔ اب دیکھو کھوّے سے کھوّا چھلتا ہے۔ مجال ہے جو میرے تین ہوٹلوں میں سے کسی ایک میں چھوٹا موٹا سا کمرہ بھی دستیاب ہو۔ہاؤس فل۔
میرا اندر پانی کی کمی سے تڑخ رہا تھا۔ آغا کی اِن جی جلانے والی باتوں پر مزید تڑخنے لگا۔
فوری اٹھنے میں سلامتی درکار تھی۔ کوریڈور میں چلتے ہوئے سُست سی چال کے ساتھ ساتھ چہرے پر بھی جھلاہٹ تھی اور لہجے میں بھی۔
”ارے یہ آغاکمبخت تو من و عن میرے مرحوم ابّا جیسا ہے جنہیں آزادی تو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ رہ رہ کر وہ کمبخت مارے گورے یاد آتے رہتے۔
”بڑا امن تھا اُن زمانوں میں۔ارے اکیلی عورت چاہے بیس تولے سونا پہن کر کلکتے سے پشاور جاتی۔مجال ہے جو اُسے کوئی ڈر ڈُکر ہوتا۔ میاں جی کا کاروبار کتنا بڑھا ہوا تھا؟گھر میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں۔“
میں تو سر پکڑکر بیٹھ جاتی تھی۔ شکر تھا کہ انہوں نے یہ آج والا زمانہ نہ دیکھا۔پہلے ہی چل بسے۔
دودھ اور سوڈے نے جلتے بلتے کلیجے کو ٹھنڈا کرکے رکھ دیا۔
اٹھی تو تازہ دم تھی۔کربلا کی شام خوبصورت تھی۔سنہری کرنیں اگر چہار سو سونا بکھیرتی تھیں تو میرے بلند مرتبت عالی امام کے روضہ مبارک کا گنبد بھی نگاہوں کو خیرہ کرتا تھا۔ روضہ مبارک کے اندر شیشے کی جھلملاہٹوں، روشینوں اور زیبائشی کام کی کوئی انت نہ تھی۔ نقاشی اور مینا کاری میں رنگوں کا امتزاج نگاہوں کو کھینچے لئیے جاتا تھا۔
ہم نے بھی عقیدتوں اور محبتوں کو کیسے زرو جواہر میں لپیٹ لیا ہے۔
یہاں آہ وزاریاں تھیں۔ سسکیاں تھیں۔خاموش آنسووں کے ساتھ چاہتوں اور محبتوں کے نذرانے تھے۔
جالیوں تک میری کہاں رسائی تھی؟ کیسے جگہ بنائی نہیں جانتی۔ کسی انجانے ہاتھ نے جیسے پکڑ کر تھام لیا۔
علی اصغر اور علی اکبر بھی وہیں آرام فرماتے ہیں۔
تو یہاں صدیوں پہلے صحرا تھا۔جس نے میرے عرب کے راج دلارے کا خون پیا اور سیراب ہوئی اور اب رہتی دنیا تک اِسے ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے کی کہانی سناتے رہنا ہے۔ محبتوں کے نذرانے پیش کیے۔مغرب ادا کی اور حضرت عباس کے روضہ مبارک کی طرف چلی۔
روضہ مبارک سے پہلے بڑا وسیع و عریض میدان تھا۔ خوش رنگ قالینوں پر عورتوں،مردوں بچوں کے جمگٹھے موجیں مارتے تھے۔ پیڈسٹل پنکھے چلتے تھے اورایک بھریا میلے کا سا سماں تھاجو طبیعت کو شگفتگی دیتا تھا۔
خواتین کے ایک گروپ کے پاس بیٹھ گئی۔زبان کا مسئلہ بڑا ٹیڑھا تھا۔تاہم پتہ چلا کہ ترکمانی فیملی تھی۔
میری آنکھوں میں یقینا ً ناواقفیت کے رنگ ہوں گے۔ قریب بیٹھے مرد نے فوراًتوجہ کی تھی۔
عراق میں سُنی تقریبا ًتیس فیصد،شیعہ ساٹھ،کرد پانچ سے سات فیصد،ترکمانی 2 سے تین اور بقیہ اقلیتں جن میں عیسائی،یہودی،آرمینئین،یزیدی اور اشوری ہیں۔ ترکمانی لوگ سُنی عقیدے کے حامل زیادہ اربل Arbil اورکرکوک Kirkuk میں رہتے ہیں۔ ترکمانی بولتے ہیں جوٹرکش زبان کی ہی ایک شکل ہے۔
جنگ کے بارے میں میرے سوال پر مردنے امریکہ کیلئے جس نفرت کا اظہار کیا اس سے کہیں زیادہ صدام کیلئے تھا۔ اور تو اپنی قومیتوں کیلئے بھی اُس کی گوہر افشایناں مزے کی تھیں۔
”یہ جو کُرد ہیں ناسچی بات ہے ان کا تو نہ دین، نہ ایمان۔کبھی کِسی کے پیچھے بھاگتے ہیں کبھی کِسی کے۔خودمختاری اور آزاد علاقہ کردستان انہیں پھر بھی نہیں ملے گا۔چاہے اسرائیل کے تلوے چاٹیں،چاہے امریکہ کی مٹھی چاپیاں کریں۔اور یہ سُنی نوّے فیصد اینٹی امریکن،شیعہ50% پچاس فیصدپروامریکی اورپچاس فیصد اینٹی امریکی۔
نتیجتاً پورے ملک کی باگ دوڑ سنبھال کر بیٹھ گئے ہیں اور سُنیوں کا بیج ماررہے ہیں۔50% پچاس فیصدشیعوں نے پہلے امریکیوں کو رگڑا لگایا۔پھرامریکیوں کو سمجھ آگئی۔اب دونوں کو لڑوا کر ایک دوسرے کا بیج مار رہے ہیں۔ کر ک پر اتنی شدید بمباری ہوتی تھی کہ دیہاتوں کے دیہات تباہ ہوگئے۔ موت گلیوں میں ناچتی تھی اور بچوں بوڑھوں سے اسپتال بھرگئے تھے۔
یہ تو ظالم ہیں ہی۔اندر خانے جانے ہم سے کن صدیوں کے بدلے لے رہے ہیں۔ مگر یہ نام کے مسلمان،ہمارے ہمسائے،ہمارے ماں جائے حکمران کیسے خود غرض اور اپنے مفادات کے حصاروں میں گھرے ہوئے ہیں۔ اردن کو دیکھیں۔ان بڑے فریبیوں کا چیلا چانٹا ہمیں مارنے کیلئے اُنکا سامان بھی اپنے راستوں سے بھیجتا تھا اور ہمیں زندہ رکھنے کیلئے اپنے کاروباری طبقے سے خوردونوش اور دیگر اشیاء کی تجارت بھی کروا رہا تھاگویا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں۔
قریب بیٹھی ایک دوسری فیملی بھی ہماری باتیں سُنتی تھی۔ بڑی نازک اور خوبصورت سی خواتین تھیں جن کے گورے چٹے خوبصورت بچے انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھتے اور انگریزی سمجھتے اور تھوڑی تھوڑی بول بھی سکتے تھے۔
یہ بچے افنان،محمد علی اور فریال تھے۔ ساری فیملی انڈین فلموں کی عاشق۔ہند کو پسندکرنے والی، ایشوریارائے،امتیابھ بچن،شاہ رخ خان،سلمان اور عامر خان کی دیوانی۔
بچوں نے ان کے بارے میں سوال کرکر کے پاگل کردیا تھا۔ میں بھی اِس پیاس کو بجھانے میں ناکام تھی کہ میری ہندی فنکاروں سے کون سی عصری معلوماتی رفاقت تھی۔وحید مراد،صبیحہ،شمیم آرا ء یا سنتوش کمار کی بات ہوتی تو یقینا ً شرابور کردیتی۔
پر اِن ہند والوں پر غصہ آرہا تھا۔کمبخت ماروں نے کیا یورپ،کیامشرق وسطیٰ،کیا وسطیٰ ایشیا سب جگہوں پر اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں۔ استنبول کے بازاروں  میں اِن کے ناموں کی پکاریں ہیں۔ مصر کی دور افتادہ جگہوں پر ریڑھیوں اور تانگے بان ان کے عاشق صادق۔ایشوریہ رائے کے ذکر پر تو چہرے ٹہنیوں پر لگے گلابوں کی طرح کِھل اٹھتے ہیں۔ کہیں سمر قند، بخارا میں ان کے کارناموں کی دھومیں ہیں اور جنوب مشرقی ایشیا کے شہرتو خیر ان کی مٹھی میں ہیں ہی۔
ہماری بشری انصاری،شہناز شیخ اور مرینہ خان کے بھی بہترے عاشق پیدا ہوجاتے اگر ہمارے سفارت خانے کچھ ہل جل کرنے والے ہوتے،پر انہیں اپنے پیٹوں کے کنوئیں بھرنے سے فرصت ملے تو کچھ ملک و قوم کا سوچیں۔
اب اٹھی کہ چل کر حضرت عباس علمدار کو سلام کر آؤں۔ چار آنسوؤں کانذرانہ پیش کر آؤں۔مرکزی گیٹ پر ہی گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ عقیدت مند آگے بڑھنے کی کوشش میں ایک دوسرے کا ملیدہ کرنے میں دل و جان سے مصروف تھے۔بس یوں لگا جیسے ایک قدم آگے بڑھا تو حُسن کی پریوں اور جٹی مٹیاروں کے پاؤں میں قیمہ بن جاؤں گی۔
”نہ بھئی نہ۔واپس پلٹی تھی۔رات گہری ہوگی تو دیکھوں گی۔“
ہوٹل کے ریسپشن پر کافی لوگ تھے۔ سوچاذرا بات تو کروں۔جنگ کے حوالے سے پوچھا۔
”جنگ بڑھکوں سے نہیں جیتی جاتی۔دشمن بھی وہ جس کی جنگی ٹیکنالوجی کا زمانہ معترف۔اس زون کا انچارج صدام کابیٹا قصے حسین تھا۔لفٹیننٹ جنرل رعد علی ہمدانی کربلا ریجن کو کمانڈکر رہا تھا۔دونوں میں ٹھن گئی تھی۔قصے حسین یہاں سے فوجیں شمال کی جانب بجھوانا چاہتا تھا جبکہ ہمدانی کے خیال میں ایسا کرنا غلطی تھی۔امریکی فوجیوں نے کشتیوں میں فرات کو عبورکیا اور ہمارے سروں پر آموجود ہوئے۔“
”آپ کی ہمدردیاں کن کے ساتھ تھیں؟“میں نے پوچھاتھا۔
”پکی پکی حملہ آوروں کے ساتھ۔“
مجمع میں سے اکثریت کی آوازیں تھیں۔سچی بات ہے ایسی صاف گوئی پر ہنسی چھوٹ گئی۔
”کمبخت ڈکٹیٹرتھا۔ بدترین ظالم تھا۔ سفاک تھا۔ انسانی جذبات سے عاری شخص تھا۔ہمیں ماتم کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ عزاداریوں کی محفلیں نہیں سجتی تھیں۔سوز خوانی نہیں ہوتی تھی۔ماتمی جلوس نہیں نکل سکتے تھے۔ہمارے کاروبار پر جھاڑو پھیرا ہوا تھا۔ وہ ہمارے عقیدے کا دشمن تھا۔اُس نے ہم پر جانے کب تک مسلّط رہنا تھا؟“
بارہ تیرہ کے مجمع میں سے صرف دو آوازیں تھیں جن میں ایک جس نے اُسے سراہتے ہوئے کہا تھا ۔
”تو اب دیکھ رہے ہو نااِن انتہا پسند دہشت گرد ٹولوں کی کرتوتیں۔کیسے انہوں نے ہمارے شکنجے کس دئیے ہیں کہ باہر نکلو تو واپسی کا پتہ نہیں ہوتا۔ اُس نے کم از کم اِن سبھوں کو نتھ تو ڈال رکھی تھی۔“
”کڑوا سچ تو یہ ہے کہ شیعہ اور سُنیوں کی پرانی دشمنیاں اور عداوتیں بھی ہیں ایک طرف، عربوں اور کردوں کے درمیان دبے ہوئے نسلی فسادات بھی پوری شدت سے جاگ گئے ہیں۔ تیل کے وسیع ذخائر سے مالا مال شمالی کرد علاقوں اور کم وسائل کے حامل مرکز کے درمیان علاقائی اور معاشی کھینچا تانی بھی بہت بڑھ گئی ہے۔
دوسرے نے جوشیلی آواز میں کہا تھا۔
”دنیا کا سب سے بڑا گر کوئی لعنتی ہے تو وہ یہ کمبخت امریکہ ہے۔یہ اُس  نے ہمیں صدام سے نجات نہیں دلوائی۔اُس نے ہماری نسلوں کا بیٹرہ غرق کیا۔بدترین اقتصادی پابندیوں کا شکار کیا۔کیا اُس کا شکار صدام یا اس کی آل اولاد ہوئی۔ نہیں۔ہم غریب لوگ اور ہمارے بچے دوائیں نہ ملنے کے سبب مرے اور اپاہج ہوے۔“
1988میں ایران نواز کُردوں کے دیہاتوں پر جس طرح زہریلی گیس کی بارش کی گئی اُس کے پیچھے کِس کی ہلّا شیری تھی۔1990 اور 1991میں شیعاؤں کو کچلاگیا۔ایسا کرنے میں کِس کی شہہ تھی؟
ایران عراق جنگ کے پس منظر میں بھی امریکہ اسرائیل عزائم تھے۔میناحم بیگن کا بیان تو ابھی بھی ریکارڈ پر ہے۔
”ہم خوش ہیں دو مسلمان ملک ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ان کی کمزوری ہماری مضبوطی ہے۔“سچی بات ہے دونوں ملکوں کے سربراہوں کو ڈوب مرنا چاہیے تھا۔ گالیوں کی ایک بوچھاڑ برسی۔بش،ٹونی بلیئر،رمز فیلڈ، کولن پاول،کونڈو لیزا رائس سب کو اسمیں نہلایا۔ خود تو اپنی محفوظ کچھاروں میں بیٹھے ہیں اور ہمیں جہنم میں سڑنے چھوڑ دیا۔
موجودہ حکومت کیا ایک نمائندہ حکومت ہے؟کیا یہ جمہوری ہے؟ایک کٹھ پتلی حکومت اور وہ بے غیرت اپنی کارپوریشنوں کا پیٹ بھر رہا ہے۔“
تبھی بڑے سے طباق میں تلوں سے سجا شہدبھرے کوٹ سے دمکتا جلیبی جیسے بلوں میں الجھا گرم گرم سمون خوشبوئیں اڑاتا کمرے میں آکر تپائی پر سج گیا تھا۔
اور وہ سب جو مجھ سے باتوں میں اُلجھے ہوئے تھے۔ ندیدوں کی طرح اس پر لپکے اور اس کی تکہّ بوٹیاں شروع ہوگئیں۔میں نے تو کھسکنے میں ہی عافیت جانی۔
اور جب میں اپنے کمرے کی طرف آتی تھی۔میرا راستہ ایک اُدھیڑ عمر کے مرد نے روکاجس نے بڑی شستہ اردو میں مجھے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی ہے اور عرصہ دراز سے نجف اشرف اور کربلا میں رہ رہا ہے۔مسلکی اعتبارسے وہ خود بھی شیعہ ہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ عراق کی بقا شیعہ سُنی اتحاد میں ہے۔عراق کی موجودہ حکومت اور یہ سب ٹولے ایران نواز ہونے کے ناطے اس کے حق میں نہیں۔کوئی چھ ماہ پہلے کوفہ کے جس زائرن گروپ پر عراقی فوج اور امریکی ہیلی کاپٹروں نے حملہ کیا تھا وہ حواطم اور خضائل قبائل کے لوگ تھے جو شیعہ ہونے کے باوجود مقتدی الصدر کی مہدی ملیشیاکو ناپسند کرتے ہیں ان کے ہاتھوں کئی بار زک اٹھا چکے ہیں۔جنوبی عراق کے عرب شیعہ بھی شیعہ سُنی اتحاد کے قائل اور ایران نژاد آیت اللہ سیستانی سے اختلاف رکھتے ہیں۔اِن گروپوں کی آپس میں نہ صرف اتفاق رائے ہے بلکہ یہ سُنی شیعہ اتحاد کے بھی بڑے داعی ہیں اور یہی بات عراقی حکومت اور امریکیوں کیلئے قابل قبول نہیں۔
بڑی لمبی آہ بھرتے ہوئے میں کمرے میں داخل ہوئی تھی۔اب بھلا مجھے نزاّر قبانی کیوں یاد نہ آتا۔
”دشمن تو چیونٹی کی طرح ہماری کمزوریوں کے راستے آیا ہے۔“
رات گیارہ بجے حاضری کیلئے باہر آئی تو نظارے حرم کعبہ جیسے ہی تھے۔ برقی روشنیوں کی تندی و تیزی ایسی بلاکی کہ رات پر دن کا گمان گزرے۔ عشاق کے پُرے۔دوکانوں پر خریداریاں۔آپ عالی مقام امام حسین کے بھائی اور علم بردار کربلا میں صرف سقہ گیری کرنے پر مامور تھے۔ فرات سے کن مصیبتوں اور جتنوں سے پانی لائے مگر آپ عالی وقار کے خیمے تک پہنچ ہی نہ پائے اور شہادت نوش فرمالی۔


واپس آتے ہوئے میں نے خود سے کہا تھا۔
”پرانے کربلا کو دیکھنے میں بھلا وقت کتنا لگے گا؟یہی کوئی دو تین گھنٹے۔بقیہ وقت کا کیا مصرف ہوگا؟پرانا شہر روضۂ مبارک کے اردگرد ہی پھیلا ہوا ہے۔ صبح افلاق کو پہنچنے کا کہنا ہے۔کل کا دن ضائع نہیں ہونا چاہیے۔“
ناشتہ حسب معمول غریبڑہ ساتھا۔ تین چار عورتیں پراٹھے پکانے میں ہلکان ہو گئی تھیں۔رات کا سالن تھا اور چائے۔چلو شکر نو بجے اٹھ کر بغیر کہیں جائے یہ نیم ٹھنڈا نیم گرم نصیب ہوگیا تھا۔
اپنے آپ کوحسب معمول عراقی عورت کے قالب میں ڈھالااور پرانا شہر دیکھنے نکلی۔ ناشتے کے بعد نکلنے سے پہلے افلاق کو فون کرتے ہوئے پہنچنے کا کہہ دیا تھا۔
چارپانچ فٹ چوڑی گلیوں میں چلتے اورانہی گلیوں میں کہیں کہیں بنی ہٹیاں (دوکانیں)جنکی خستگی کو دیکھتے ہوئے میرا جی دھپ سے وہاں بیٹھ جانے اور بین ڈالنے کوچاہتا تھا۔
کیا اُس نے کبھی اِن گلی کوچوں کو نہیں دیکھا تھا؟وہ جس کے محل کی وسعتوں کا کوئی شمار نہ تھا۔دنیا کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک اور غربت کی پسماندگی اِس درجہ پہنچی ہوئی۔اِن میں چلتی، کہیں کھلے دروازوں سے تنگ و تاریک ڈیوڑھیوں میں جھانکتی، کہیں دروازوں پر ٹنگے ملگجے پھٹے پردوں پر نظریں ڈالتی،خوبصورت چہروں والے بچوں کو چلتے پھرتے دیکھتی چند گھروں میں گھسی بھی۔وہی غربت کے دہلانے والے منظر۔ایک کمرہ، کہیں صحن کے نام پر بہتان، ہوا اور روشنی کی گزرگاہ سے محروم۔ ان میں بسنے والی عورتیں جن کے پیلے پھٹک مدقوق چہروں کے نیچے غالباً خون کی کوئی رگ ورید نہیں تھی۔ زبان کا مسئلہ ہر جگہ آڑے آنے کے باوجود کچھ بھی تو سمجھنا مشکل نہ تھا۔چیزیں تو عیاں تھیں۔
”پروردگار اِس مسکین و یتیم ملت اسلامیہ کو کب کوئی دیدہ ور نصیب ہو گا؟ کب اِن دروازوں پر علم کی روشنی دستک دے گی اور کب گلیوں میں پھرتے ان مفلوک الحال بچوں میں ویسی علم دوست شخصیتیں پیدا ہو ں گی جنہوں نے اس ناکارہ سی قوم کو ایک شاندار  ماضی  ورثے میں دے کر دوبارہ ان کے ہاں جنم لینے سے منہ پھیر لیا ہے۔“

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *