اسکاٹ لینڈ کی آزادی کس حد تک ممکن۔۔طاہر انعام شیخ

2014ء میں ہونے والے آزادی کے ریفرنڈم میں اگرچہ برطانیہ سے علیحدگی چاہنے والوں کو 45کے مقابلے میں 55فیصد سے واضح شکست ہوئی تھی لیکن ان کے حوصلے نہیں ٹوٹے، جو اب بھی بدستور زندہ ہیں، وہ ایک آزاد ریاست کے طور پر یورپی یونین کا ممبر بننا چاہتے ہیں۔ برطانوی حکومت کے مطابق ریفرنڈم روز روز کا کھیل نہیں ہوتے بلکہ خود آزادی کی علمبردار اسکاٹش نیشنل پارٹی کے رہنمائوں نے گزشتہ آزادی کے ریفرنڈم کے موقع پر کہا تھا کہ یہ کم از کم ایک نسل کے لئے ہوگا۔ وزیراعظم بورس جانسن اور سینئر وزیر مائیکل گوو اس بات پر بضد ہیں کہ کیا ریفرنڈم ابھی کسی طور پر بھی ممکن نہیں لیکن 2016ء کو ہونے والے یورپی یونین سے علیحدگی کے ریفرنڈم نےا سکاٹش نیشنل پارٹی کو ایک نیا جواز دے دیا ہے۔ اس ریفرنڈم میں یوکے کے عوام نے 48کے مقابلے میں 52فیصد بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا لیکن اس کے برعکس سکاٹ لینڈ کے عوام نے بھاری اکثریت 38کے مقابلے میں 62کے ساتھ بدستور یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں رائے دی، ان نتائج پر اسکاٹش نیشنل پارٹی کی لیڈر نکولا سٹرجن نے کہا کہ اب حالات میں ایک بنیادی تبدیلی آگئی ہے، سکاٹش عوام کی اکثریت بدستور یورپی یونین میں رہنا چاہتی ہے جب کہ انگلینڈ اس سے نکلنا چاہتا ہے، چنانچہ اب برطانوی  حکومت کو اسکاٹ لینڈ کی آزادی پر نیا ریفرنڈم کرانا ہوگا اور پھرا سکاٹش نیشنل پارٹی کی یہ خوش قسمتی رہی کہ اس موقف کے بعد اسکاٹ لینڈ میں جتنے بھی الیکشن ہوئے ان میں اسکاٹش نیشنل پارٹی کو اکثریت ملتی رہی۔

اور 2019ء کے حالیہ جنرل الیکشن تو اس نے صرف انہی دو مطالبوں پر لڑے۔ ایک بریگزٹ کی مخالفت اور دوسرا اسکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے آزادی کے لئے ایک نئے ریفرنڈم کا انعقاد اور پارٹی و حکومت کی سربراہ نکولا سٹرجن نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ اگر ہم یہ الیکشن جیت گئے تو یہ آزادی کے لئے نئے ریفرنڈم کے مینڈیٹ کی حیثیت رکھے گا۔ ان الیکشن میں ا سکاٹش نیشنل پارٹی کو 59میں سے 48نشستیں ملی ہیں جس سے نکولا سٹرجن کے حوصلے زبردست بلند ہوگئے ہیں جب کہ ریفرنڈم کی مخالفت کرنے والی کنزرویٹو پارٹی اپنی سات نشستیں گنوا کر 6پر آگئی ہے۔ لبرل ڈیموکریٹ کو چار اور لیبر کو صرف ایک سیٹ ملی ہے۔ ان نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ سکاٹش آزادی کی تحریک کے متعلق یہ خیال کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ختم یا کم ہوجائے گی غلط ثابت ہوا ہے۔ الٹا یہ تحریک مزید مقبولیت حاصل کررہی ہے اور2018ء تک کے عوامی سروے کے مطابق تقریبا 48فیصد عوام اب آزادی کے حق میں ہیں، لیبر کی بری طرح شکست کے بعد اب اسکاٹش لیبر پارٹی کے رہنما بھی اپنی پرانی پالیسی پر نظرثانی کررہے ہیں کہ اسکاٹ لینڈ میں آزادی کا دوسرا ریفرنڈم ہونا چاہیے، اگرچہ ریفرنڈم میں وہ شایدا سکاٹ لینڈ کے بدستور برطانیہ میں رہنے کی حمایت کریں۔

سکاٹش نیشنل پارٹی کی رہنما اب آزادی کے دوسرے ریفرنڈم کا انعقاد 2020ء کے آخر تک چاہتی ہیں جب کہ برطانیہ کی حکومت اس کے لئے قطعی طور پر تیار نہیں لیکن نکولا سٹرجو پرعزم ہیں کہا سکاٹش عوام کی جمہوری طاقت کے بل پر برطانوی حکومت ان کے مطالبے کو ماننے پر مجبور ہوجائے گی بالکل اسی طرح جیسا کہ 1990ء کی دہائی تک وہ اسکاٹ لینڈ کی ایک علیحدہ اسمبلی کی مخالفت کرتے رہے، لیکن بالآخر اس مطالبے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ نکولا سٹرجن کا اصرار ہے کہا سکاٹ لینڈ کے عوام کو ان کی مرضی کے بغیر برطانیہ کے قید خانے میں نہیں رکھا جاسکتا، لیکن نکولا سٹرجن آزادی کے لئے کوئی غیرقانونی طریقہ استعمال نہیں کرنا چاہتیں، جیسا کہ کیلونیا نے اسپین سے آزادی حاصل کرنے کے لئے اپنے طور پر ریفرنڈم کرایا تھا، نکولا سٹرجن چونکہ برطانیہ سے آزادی حاصل کرکے یورپی یونین کا ممبر بننا چاہتی ہیں، لہٰذا اس کے لئے ان کو ایک آزاد ریاست کے لئے ضروری لوازمات اور قانونی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا، چنانچہ ریفرنڈم اور آزادی کا پورا عمل برطانوی آئین و حکومت کی اسی طرح رضامندی سے ہونا چاہئے جیسا کہ 2014ء کے ریفرنڈم میں اختیار کیا گیا تھا، اس مقصد کے لئے نکولاسٹرجن اب مکمل اور تفصیلی جمہوری مقدمہ تیار کررہی ہیں جس میں وہ مطالبہ کریں گی کہا سکاٹ لینڈ میں آزادی کے نئے ریفرنڈم کا اختیار دارالعوام اسکاٹش پارلیمنٹ کو منتقل کرے، کیونکہ ہمارا مستقبل برطانیہ کے مستقبل سے بہت مختلف ہے۔ بریگزٹ سے نکلنے کی صورت میں ہمارے پاس آزادی کے متبادل کے طور پر غور کرنے کا پورا اختیار ہونا چاہئے یہ ایک آئینی جنگ ہے جس کا فیصلہ ابھی تک کسی عدالت نے نہیں کیا۔

چنانچہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا، نکولا سٹرجن پر اپنی پارٹی کے انتہاپسند ممبران کی طرف سے آزادی کے نئے اور فوری ریفرنڈم کے لئے شدید دبائو ہے لیکن وہ صرف ریفرنڈم کرانا ہی نہیں بلکہ اسے جیتنا بھی چاہتی ہیں کیونکہ شکست کی صورت میں انہیں اخلاقی طور پر اس طرح استعفیٰ دینا پڑے گا جیسا کہ ان کے پیش رو الیکس سائمنڈ نے 2019ء کی شکست کے بعد دیا تھا، نکولا سٹرجن کو اب تک عوام کی طرف سے جو زیادہ سے زیادہ حمایت ملی وہ 2015ء کے جنرل الیکشن میں ملی تھی جس میں وہ دارالعوام کی 59میں سے 56نشستیں جیتی تھیں۔ اسکاٹش لیبر، کنزرویٹو اور لبرل ڈیموکریٹ صرف ایک ایک سیٹ حاصل کرکے بمشکل دارلعوام میں اسکاٹ لینڈ سے اپنی نمائندگی برقرار رکھ پائی تھیں لیکن اس الیکشن میں بھی ان کو 50فیصد سے زیادہ ووٹ نہ ملے تھے حالیہ الیکشن میں بھی ان کو 45فیصد ووٹ ملے ہیں فی الحال ان کی اسٹرٹیجی ہی بہتر نظر آتی ہے کہ وہ 2021ء کے سکاٹش پارلیمنٹ کے الیکشن کو زیادہ سے زیادہ اکثریت کے ساتھ جیتنے کی کوشش کریں اور آزادی کے لئے فضا مزید سازگار بنائیں، جہاں تک معاشی فوائد کا تعلق ہے جس طریقے سے برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد کے فوائد و نقصانات پر تعین سے کچھ نہیں کیا جاسکتا، یہ پالیسیوں اور صورتحال پر منحصر ہے اس طرح اسکاٹ لینڈ کے برطانیہ سے علیحدگی کے فوائد اور نقصانات پر کوئی رائے نہیں دی جاسکتی، نقصان اور فائدہ دونوں ہوسکتے ہیں۔ نکولا سٹرجن کی کوشش ہے کہ اسکاٹ لینڈ کے عوام میں بورس جانسن کی جو مخالفت پائی جاتی ہے اسے بریگزٹ اور آزادی کے ساتھ ملا کر نیا ریفرنڈم جیتا جائے لیکن یہ آسان ٹارگٹ نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *