مشرف کو سزائے موت، مگر۔۔۔سیدشاہد عباس

واقعات، حادثات، سانحات، کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی کا راستہ طے کرتے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ دیکھا جائے کوئی بھی قوم کسی بھی حادثے، سانحے یا واقعے کے بعد کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ اور پاکستان میں بھی ترقی کی گاڑی سست روی سے چل رہی ہے لیکن بہرحال اس میں پیٹرول ابھی موجود ہے اور امید یہی ہے کہ موجود رہے گا۔ کیوں کہ جہاں اس میں ایندھن ختم ہونے کی بری خبر سننے کو ملتی ہے تو اچانک کچھ نہ کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ یہ پھر سے فراٹے بھرنے لگتی ہے۔ یہ الگ بات کہ ان فراٹوں کی رفتار باقی دنیا کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔

جمہوریت کی مضبوطی پاکستان کے قیام سے آج تک کا اہم مسئلہ رہا ہے۔ جمہوری ادارے بھی یقینی طور پر تب ہی مضبوط ہوں گے جب جمہوریت مضبوط ہو گی۔ لیکن صد افسوس کہ ہمارے ہاں جمہوریت کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اس کو مضبوط بنانے کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔ عوام مگر امید کے دیے کی لو ء سے لوء  لگائے بیٹھے ہیں۔ لوء پھڑپھڑاتی ہے تو دل پھڑپھڑاتے ہیں۔ دیے کی لوء  پورے جوبن پہ ہوتی ہے تو عوام بھی سکون کا سانس لیتے ہیں۔ جمہوریت کا کھیل جاری و ساری ہے۔ اور اس سے کئی لکھ پتی  ہو گئے کئیوں کی شیروانیوں کی پھٹی جیبیں ان کے خلوص ثابت کرتی رہیں۔

جمہوریت کی ترقی کا جن بوتل سے کب باہر نکلے گا نہیں معلوم، لیکن بہرحال ہر حکومت، ہر سیاسی جماعت اس نعرے کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے۔ مشرف نے دو تہائی اکثریت رکھنے والے میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ وجوہات پہ اتنی بحث ہو چکی ہے کہ اب اس پہ بحث کرنا فقط وقت کا ضیاع ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ گزرتے وقت کی تہوں میں سے ہر کچھ عرصے بعد اس سانحے سے جڑا کوئی نا کوئی سچ سامنے آتا رہے تو اور اُس سچ پہ بحث ہوتی رہے گی۔ مشرف نے نواز شریف کی نا  صرف حکومت ختم کر دی بلکہ جلاوطن بھی کر دیا گیا۔ یاد رکھیے۔ آمر کبھی بھی تن تنہا آمریت مسلط نہیں کرتا بلکہ اس کے کچھ حواری ایسے ہوتے ہیں اس کا ساتھ دینے کے لیے ضرورت پڑنے پہ نا صرف آمریت کی بیساکھیاں بننے کو تیار رہتے ہیں بلکہ وقت آنے پہ جمہوریت کے علمبردار بھی بن جاتے ہیں۔ اور حیرت کا پہلو یہ ہے کہ ہر جگہ اُن کی خوب آؤ بھگت بھی ہوتی ہے۔ کچھ ایسا ہی حال پاکستان کے ساتھ بھی ہے۔

سزا کس کو ہوئی، جزا کا حقدار کون ٹھہرا، پس زنداں کون جائے گا، تخت پہ براجمان کون ہو گا، آمریت کے پہلو میں نغمہء مفادات کون گنگنگائے گا، جمہوریت کے سفر میں قید و بند کی صعوبتیں کون اُٹھائے گا، اس تمام بحث سے قطع نظر ہم موضوع بحث کو ہی مکمل یوٹرن دے دیتے ہیں۔ آمریت یقینی طور پر ملک کے لیے نقصان دہ رہی ہو گی، بناء بحث و مباحثے مان لیتے ہیں۔ لیکن ہم اس حقیقت سے پہلوتہی کیوں کر لیتے ہیں کہ آمر بذات خود تو ایک انسان ہوتا ہے اور اکیلا انسان اپنی پالیسی کو عملی سطح پہ ناٖفذ کرنے کے لیے جن جمہوری گویوں کو سہارا بناتا ہے وہ کیسے صاف بچ نکلتے ہیں؟ ایوب خان نے اقتدار سنبھال لیا، فیلڈ مارشل بن گئے، 65 کی جنگ ہوئی، قصے، کہانیاں، حقیقتیں سنائی دیتی رہی ہیں، سنائی دی جاتی رہیں گی، ڈیم بن گئے، اور آج تک قائم ہیں۔ یحییٰ خان آئے، اور پھر کیسے گئے کچھ راز زباں زدِ عام ہیں باقی پردے کے پیچھے ہیں۔ ضیاء آئے اور پھر کیسے گئے پوری دنیا نے دیکھا۔ باری آ گئی مشرف کی، وہ آئے، تختہ اُلٹا، ملک سنبھال لیا، مکے لہرائے، اور پھر وردی کو سلام کر کے الوداع ہوئے، صدارت بھی رفتہ رفتہ کھسکتی گئی، اور آج معطون ٹھہرے، مقدمہ چلا، غدار قرار دیے گئے باوجود پاکستان کی  جنگوں میں حصہ لینے کے، اور 12 اکتوبر کے اہم ترین قدم اٹھانے  کے بجائے سزا 2007 کے اقدامات پہ پا گئے، اور سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

داستانِ آمریت جمہوریت کے ناول میں بڑی دلچسپ ہے۔ آج بھی ایوب خان ہوں یا مشرف کوئی بھی جب لفظوں کی سنگ باری سہتا ہے تو اکیلا سہتا ہے۔ تن تنہا طعنوں کا بوجھ تاریخ کے دھار ے میں خود اُٹھائے ہوئے ہے۔ لیکن کیا ہم نے آج تک سوچنے کی زحمت کی کہ اِن تمام آمروں سے زیادہ خطرناک تو ہمارے ملک کے لیے آمروں کے وہ حواری ہوئے ہیں جو وقت پڑنے پہ اُن کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہم آمریت کو بُرا کہتے ہیں لیکن انہی آمروں کا ساتھ دینے والوں کو دوبارہ سے سینے سے کیسے لگا لیتے ہیں۔ ناصرف اُن کو کاغذ کی پرچی پہ اُن کے نام کے سامنے ٹھپے لگاتے ہیں بلکہ ان کے انتخابی نشانوں کے بیجز بھی سینے پہ سجاتے ہیں۔ کیا یہ حضرات قصور وار نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ سزا کے حقدار نہیں ہیں۔ کہاں ہیں مشرف کو باس ماننے والے شوکت عزیز؟ کہاں ہیں ق لیگ کے وہ سرخیل جو بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے؟ کہاں ہیں وہ سیاسی گروہ  جو سمجھتے تھے مشرف مکمل درست کر رہے ہیں؟ اگر مشرف غلط ہیں تو یہ لوگ کیسے ٹھیک ہو گئے؟ خدا کرئے اس ملک میں جمہوریت جیسی بھی ہو بس چلتی رہے، لیکن تاریخ گواہ ہے اور مستقبل چیخ چیخ کے یہ سچ ثابت کرے گا کہ جب بھی کسی آمر کو چاہے وہ باوردی ہو یا سول آمریت کا سرخیل، یہ حضرات ہمیشہ حاضر و پکار پہ بھاگے چلے آنے کو تیار رہیں گے۔ اور یاد رہے آمریت کو ہم نے مخصوص حالات میں مخصوص اداروں سے منسلک کر دیا ہے۔ جب کہ حقیقت میں تو سول آمریت بھی اُتنی ہی ملک کے لیے نقصان دہ ہے جتنی باوردی آمریت۔ لیکن ہم سوچنا گوارا نہیں کرتے۔

مشرف کو خصوصی عدالت نے سزائے موت سنائی ہے۔ عدالت جانے، حکومت جانے، اور مشرف کے وکلاء جانیں۔ ہمارا بھلا اس سے کیا لینا دینا۔ لیکن عرض بس اتنی سی ہے کہ جرم کا ساتھ دینے والے افراد بھی کیا سزا میں حصہ دار ہوتے ہیں کہ نہیں؟ کسی بھی موقع پر مجرم کا ساتھ دینے والے اور کبھی اس ساتھ پہ شرمندہ نہ ہونے والے کیا کبھی عوام کا غضب بھی دیکھ پائیں گے یا ہمیشہ عوام کو یرغمال بنائے رکھیں گے؟ ویسے ہم اس حوالے سے زیادہ بحث اس لیے بھی نہیں کرتے کہ اکثریت تو آج عوامی عہدے سنبھالے بیٹھی ہے۔ اور بات اگر چل نکلے گی تو پھر موجودہ وفاقی کابینہ تو پھر۔۔۔۔

Avatar
سید شاہد عباس
مکتب صحافت کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھنے کی کوشش ہے۔ "الف" کو پڑھ پایا نہیں" ی" پہ نظر ہے۔ www.facebook.com/100lafz www.twitter.com/ssakmashadi

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *