توسیع کا گرم آلو۔۔عارف انیس

پاکستان کی تاریخ میں کمانڈر ان چیف ہو یا آرمی چیف، ملازمت میں توسیع 1950 کی دہائی سے ہی ایک گرم آلو رہا ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک سات آرمی چیف، ایک ائیر چیف اور پانچ نیول چیف اپنے عہدے میں توسیع لے چکے ہیں۔ بوہنی پہلے پاکستانی کمانڈر ان چیف ایوب خان سے ہوئی جنہوں نے 1951 سے 1958 تک دو بار بحیثیت کمانڈر ان چیف اپنے عہدے میں بزور شمشیر توسیع حاصل کی اور پھر خودساختہ فیلڈ مارشل بن گئے اور 1969 تک رہے۔ جنرل ضیاء، جنرل مشرف اور جنرل کیانی، سب کی مدت میں توسیع ہوتی رہی۔ پاکستانی فوج، برطانوی فوج کی کوکھ سے پیدا ہوئی اور یوں تو بہت سی برطانوی روایات کو سینے سے لگا کر رکھا گیا، لیکن اس میں ریٹائرمنٹ کی روایت شامل نہیں تھی۔ بہرحال، پاکستانی افواج کا پروموشن کا سسٹم معیاری سمجھا جاتا ہے۔ جنرل کے عہدے تک پہنچنے والے تمام افراد کڑے ضابطے میں چھانے جاتے ہیں۔ پاکستانی فوج کے تربیتی اور پروموشن کے نظام کو جانتے ہوئے، یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ٹاپ براس( پہلے دس، پندرہ جرنیل )اپنے اپنے شعبوں میں کسب کمال رکھتے ہیں۔ اصولی طور پر کسی بھی فوجی یا بیوروکریٹ کو ملازمت میں توسیع نہیں ملنی چاہیے کہ قبرستان ناگزیر افراد سے بھرے پڑے ہیں۔ 1988 میں جنرل ضیاء الحق کے فضائی حادثے میں صف اوّل کے چھ جرنیل اور پانچ بریگیڈیئرز جاں بحق ہونے کے باوجود فوج میں قیادت کا کوئی بحران پیدا نہیں ہوا۔

قواعد کے حساب سے اس حساس پوزیشن پر متعین شخص کی مدت ملازمت میں ’’توسیع‘‘ کے لئے وزارت دفاع کے سیکرٹری کی جانب سے ایک ’’سمری‘‘ تیار کی جاتی ہے ۔یہ ’’سمری‘‘ کابینہ کے روبرو رکھی جاتی ہے اور اس کی منظوری کے بعد صدر مملکت کو بھیج دی جاتی ہے ۔ایوانِ صدر سے توسیع کا نوٹیفکیشن جاری ہوجاتا ہے اور بغیر کسی ڈھول ڈھمکے کے یہ اہم کام تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ ان روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اگست سے ہی وزیراعظم کا دستخط کردہ خط منظر عام پر آگیا اور یوں ایک نئے بحران کا بیج بودیا گیا۔

سپریم کورٹ نے معاملے کی نزاکت کے سبب، جنرل باجوہ کی ملازمت میں مشروط توسیع دیتے ہوئے گیند پارلیمنٹ کی ٹوکری میں پھینک دی ہے اور حکومت کو خفت اور آزمائش سے دوچار کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت پہلے ہی کئی اہم معاملات میں قانون سازی کی جگہ آرڈیننس سے کام چلا رہی ہے۔ اگر حکومت پارلیمنٹ سے بر وقت قانون سازی منظورکرانے میں ناکام ہوتی ہے تو ایک اور بحران دروازے پر دستک دے سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن، دونوں مل کر اس ذمہ داری کو نپٹا دیں۔ اس ضمن میں قانون سازی کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ توسیع کے معاملات ہمیشہ کے لیے نمٹ جائیں گے۔ سپریم کورٹ نے پاکستانی پارلیمان کو اب تاریخی موقع  دیا ہے کہ وہ پاکستانی افواج کے سربراہوں کی تعیناتی، تعیناتی کی مدت، توسیعِ مدت، ریٹائرمنٹ کے بعد کی مراعات، پینشن اور نئی نوکری کے بارے میں مثالی اصول وضع کریں جن سے ان حساس عہدوں پر تعیناتی میں کسی بھی قسم کے سیاسی عمل دخل کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *