فیمینزم کیا ہے۔۔فرید مینگل/قسط6

عورت پر پدر شاہی جبر کا مختصر جائزہ

اپنے اس سلسلہ وار تحریر کے پچھلے حصے میں ہم نے بائبل اور دوسرے کتبی حوالہ جات کی روشنی میں یہودی سماج میں عورت پر پدرشاہی جبر کا مختصراً جائزہ لیا تھا۔ اب آگے بڑھتے ہوئے ہم عرب سماج میں عورت پر ظالمانہ پدرشاہی جبر کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔ جہاں مردانہ سماج و خطوں کی آزادی کے باوجود عورت مسلسل جبر کا شکار تھی۔ عورت لونڈی، کنیز اور تحفہ تحائف کی صورت میں مردوں کے بیچ بٹ رہی تھی۔ کہیں عورت زندہ درگور ہو رہی تھی تو کہیں مردانہ حوس کا شکار تھی۔ قبل از اسلام عورت کے زندہ درگور کرنے کی گواہی تو قرآن پاک کے سورتہ التکویر میں دی گئی ہے۔
مفہوم: ”یعنی جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس گناہ کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے۔“

tripako tours pakistan

عرب سماج میں لڑکی کی پیدائش کو ناگوار تصور کیا جاتا تھا۔ کیونکہ عورت ایک انسان کی بجائے صرف اور صرف مرد کی عزت، ننگ و ناموس اور غیرت وغیرہ سمجھی جاتی تھی۔ مرد اسے اپنی ملکیت، عزت و ننگ و ناموس سمجھ کر ہمیشہ اس خوف میں رہتا تھا کہ یہ بچی بڑی ہو کر کہیں اس کی عزت و آبرو کو داغدار نہ کر دے۔ اسی لیے اسے قتل کرنا اپنا حق اور اپنی شان سمجھتا تھا۔ قرآن مجید کے سورتہ النحل میں ہے:
مفہوم: ” جب ان میں سے کسی کو لڑکی کے پیدائش کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا اور غم میں گھلنے لگتا ہے۔ اس خبر کو وہ اس طرح محسوس کرتا ہے کہ خود کو اپنی قوم سے چھپائے پھرتا رہے کہ آیا وہ زلّت سہتے ہوئے اسے زندہ رکھے یا زیر زمین دفن کردے۔“

اس انسان اور عورت دشمن قبیح عمل کی تفصیل ہمیں پیر محمد کرم شاہ الازہری کی مایہ ناز کتاب ”ضیإ النبی ﷺ“ جلد اوّل میں اس طرح ملتا ہے:

”جس بچی کو قتل کرنا ہوتا اسے ناز و نعم سے پالا جاتا۔ جب وہ چھ سات سال کی عمر کو پہنچتی تو اس کا باپ جنگل میں جا کر ایک کنواں کھودتا۔ واپس آکر اپنی بیوی سے کہتا کہ بچی کو خوب آراستہ پیراستہ کرو۔ اس کو خوشبو لگاؤتاکہ میں اسے اس کے ننہال لے جاؤں۔ اسے وہاں لے جا کر کسی بہانے سے کنویں میں دھکا دے کر گرا دیتا اور کنویں کو مٹی سے بھر دیتا تھا۔“ کہتے ہیں کہ پدرشاہی سماج کے قیس بن عاصم نامی ایک جلاد مرد نے اپنے بارہ سے تیرہ بچیوں کو اسی طرح زندہ درگور کر دیا تھا۔

علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب تاریخ خلفا میں لکھتے ہیں کہ مصر میں ایک رواج تھا کہ چاند کی گیارہویں تاریخ کو اہل مصر ایک خوبصورت کنواری لڑکی کو سجا کر اچھے پوشاک و زیورات پہنا کر دریإ نیل میں پھینک دیا کرتے تھے۔ تاکہ دریا نیل کو نذرانہ پیش کیا جاسکے اور ان کی ذراعت جاری رہے۔

یعنی کہ ہر قربانی ہر ظلم کا شکار عورت نے ہی ہونا تھا۔ اب ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ اقوام یا قبیلے کسی غیر کی یلغار کا شکار تھے اور وہ ظلم قبضہ گیر ان پر کر رہا تھا۔ بلکہ آزاد قبائل و اقوام جن میں پدر شاہی تھی ان میں غاصب مرد ہی عورت کو اس طرح کے جبر کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ عرب معاشرے میں کنیزوں کو ایک دوسرے کو تحفے تحائف میں دیا جاتا تھا۔ یا پھر ان عورتوں (کنیزوں) کے مالک ان سے عصمت فروشی کرواتے تھے۔ عورتوں کی مال مویشیوں کی طرح خرید و فروخت کی جاتی تھی۔ ایسا بھی ہوتا تھا کہ دو مرد اپنے طورپر آپس میں فیصلہ کرتے تھے کہ تم اپنی عورت میرے پاس بھیجو اور میں اپنی عورت تمہارے پاس بھیج دونگا جسے نکاح بدل کہتے تھے۔

غیرت، عزت اور ننگ و ناموس کے نام پر عورت پر جبر اور پابندیوں کے نت نئے طریقے ایجاد کیے گئے تھے۔ ایک رسم یہ بھی تھی کہ جب کوئی مرد سفر پر جاتا تو وہ ایک ٹہنی کے ساتھ ایک دھاگہ لپیٹ لیتا۔ واپسی پر اگر وہ دھاگہ کھلا ہوا یا ٹوٹا ہوا پاتا تو مرد یہی سمجھتا کہ اس کی بیوی نے اس کی غیر موجودگی میں کسی مرد کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں۔ اس دھاگے کو الرتم کہتے تھے۔

پیر محمد کرم شاہؒ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عرب نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ انتہائی غریب ہے۔ عرب جس کا نام عمیلہ تھا نے اپنی مال و دولت بمع کنیزوں و لونڈیوں (عورتوں) کے اس شخص کے ساتھ برابر بانٹ دیا۔ یعنی کہ عورت ایک انسان کی بجائے ایک جنس تصور کی جاتی تھی جسے کسی کو بھی عطیہ کیا جا سکتا تھا۔

اسی طرح تاریخ ابن خلدون کے مقدمہ میں علامہ عبدالرحمٰن ابن خلدون لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ حجاج نے امرائے کسرا کی دعوتوں کے متعلق استفسار کیا تو اسے جواب دیا گیا کہ مہمانوں کے سامنے سونے کی پیالیوں میں چاندی کی میز پر لونڈیاں (عورتیں) کھانا پیش کرتی ہیں۔ جب مہمان کھانے سے فارغ ہوں تو وہ برتن و میز بمع عورتوں کے بطور تحفہ مہمانوں کے حصے میں آتی ہیں۔

مرد کی اس بالاتری و بالادستی نے عورت کو بطور انسان بھی غلام بنا دیا تھا۔ مرد کے اس پدرشاہی جبر سے عورت کی اپنی نفسیات بھی متاثر ہو چکی تھی۔ اور وہ خود کو ایک آزاد اور برابر کا انسان سمجھنے کی بجائے مرد کی ملکیت سمجھتی تھی۔ اور مرد ہی کو خوش کرنے کے لیے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کرتی تھی۔ چنانچہ ایک عرب عورت اپنی بیٹی کو اس طرح نصیحت کرتی ہے:

”پس وہ (تمہارا شوہر) تجھے نکاح میں لینے سے تیرا نگہبان اور مالک بن گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھی طرح جان لو تم جس چیز کو پسند کرتی ہو اسے نہیں پا سکتی۔ جب تک تم اس کی رضا کو اپنی رضا پر اور اس کی خواہش کو اپنی خواہش پر ترجیح نہ دو۔ خواہ وہ بات تمہیں پسند ہو یا نا پسند۔“ یعنی کہ عورت کی اپنی کوئی پسند و نا پسند نہ تھی۔ جو بھی وہ کرتی صرف اور صرف مرد کو خوش رکھنے کےلیے کرتی تھی۔

مرد نے اس معاملے میں کسی بھی عورت کو نہیں بخشا۔ حتٰی کہ اہل بیت اطہار کو بھی نہیں۔ جب کربلا کے میدان میں حق و باطل کی جنگ ہوئی تو یزیدی لشکر نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو شہید کرنے کے بعد اہل بیت اطہار کی عورتوں کو بھی نہیں بخشا اور انہیں اونٹوں پر بٹھا کر توہین آمیز انداز میں کوفہ کی گلیوں میں پھرانے کے بعد دمشق پہنچایا۔

ڈاکٹر مبارک علی کہتے ہیں کہ مسلمان حکمرانوں میں سب سے زیادہ کنیزیں (عورتیں) عثمانی خلفا کے حرم میں ہوتی تھیں۔ جب سلطان یلدرم کو تیمور لنگ شکست کے ھاتھوں ہوئی تو اس پدرشاہی نفسیات کے شکار مرد نے بھی عورت ہی کو اپنی جبر کا نشانہ بنایا۔ تیمور نے یلدرم کو ایک پنجرے میں بند کردیا۔ اور اس کی بیوی کو دربار میں برہنہ کر کے ساقی گری پر مجبور کر دیا۔ اس واقعے کے بعد عثمانی سلاطین نے شادی کرنا ترک کردی تاکہ وہ پھر سے کسی ایسے حادثے کا شکار نہ ہوں۔ لہٰذا ان کے حرم میں خوبصورت ترین عورتیں جمع کی جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں کے ماتحت گورنر خراج میں عورتیں بھی مہیا کرتے تھے۔

چینی بادشاہوں کی طرح عثمانی خلفا کے حرم میں خواتین کی نگرانی کے لیے بھی ہجڑے مقرر کیے جاتے تھے۔ ہر رات بادشاہ ایک عورت کو اپنی حوس کا نشانہ بنایا کرتا تھا۔ حرم میں عورتوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ ایک عورت پوری زندگی میں صرف چند بار ہی خواب گاہ میں بھیجی جاتی تھی۔ کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا تھا کہ ایک رات کے بعد سلطان کبھی اس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا تھا۔ اور اس طرح وہ زندگی بھر اپنی جسمانی خواہشات سے بھی محروم رہتی تھی۔ مورخین نے ذکر کیا ہے کہ متوکل کے محل میں 4000 عورتیں (لونڈیاں) تھیں۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ اگر سلطان محض ایک عورت کے ساتھ ایک رات بھی گزار دے تو پھر اس کا نمبر 3999 دن بعد یعنی کہ تقریباً 11 سال بعد آتا ہوگا۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *