بیوہ/مطلقہ کی عدت پر ایک سیکولرموقف۔۔۔(قسط 1)سلیم جاوید

دینِ اسلام، ایک ایسے نطام عدل کا داعی ہے جس میں ایک بندے کا بوجھ دوسرے کے سرپر نہیں رکھا جاتا-

قدرت نے جذبات کا نظام انسانوں میں ودیعت کیا ہوا ہے- والد کی موت پریتیم کیوں نہ روئے گا؟( حالانکہ اس یتیم کا کوئی قصور نہیں ہوتا)- اسی طرح خاوند کی جدائی پربیوی کا غمزدہ ہونا فطری بات ہے( دونوں کیسز میں فریقین بدل بھی جائیں تو کم وبیش یہی صورت ہوگی)- ایک سوگوار، اپنےغم کا اظہارکیسے کرے؟ اورباقی سماج، اس سوگوار کے غم میں کیونکر شریک ہو؟ اسکا طریقہ، مدتِ سوگ اوردیگررسومات بارے، اسلام نے بھی گایئڈ نس دے رکھی ہے-

غم وخوشی کا ایک تو فطری اظہارہوتا ہے- اس سے کس کافر کو انکار ہے؟- مگرکسی کلچر میں غم وخوشی کے اظہار کی ایسی رسم جو کسی فرد یا سماج کیلئے اذیت کا باعث بنتی ہو تو ایک مبنی برانصاف دانش بھلا کیسے اسکی تائید کرسکتی ہے؟( اسلام سے زیادہ منصف اور معتدل دین کون سا ہے؟)-

ہندوازم میں یہ بات ہے کہ خاوند مر جائے تو اسکی بیوی کو ساتھ جلایا دیا جائے – (کیوں بھئ؟-اسکا کیا قصور؟)– مولوی صاحبان نے ہمیں یہ بتایا کہ مسلمان خاوند مرجائے ( یا بیوی کو طلاق دے دے) تواسکی بیوی کو چارماہ دس دن تک اسکے گھر میں قید کردو- کیوں بھئ؟- اسکا کیا قصور؟-
مطلقہ یا بیوہ کی اس چارماہ زبردستی کی قید کو “عدت ” کہا گیا ہے اور اسکو ایک شرعی قانون قراردے دے گیا ہے-

عدت کے بارے قرآن میں دوآیات موجود ہیں-( واضح ہو کہ خدا کے قرآن میں موجود ان دو میں سے ایک آیت کو مولوی صاحبان نےاپنے زوربازو سے منسوخ کردیا ہے- خدا نے خود کہیں نہیں فرمایا کہ میں نے یہ حکم منسوخ کیا ہوا ہے)-
احباب جانتے ہیں کہ بطور مسلم سیکولرز، نہ ہم کسی پرفتوے لگاتے ہیں اور نہ کسی بندے کا فتوی ماننے کے پابند ہیں- بس خدا کا قرآن سمجھنے کی کوشش کیا کرتے ہیں – عدت کا مروجہ نظام نہ تو ہمیں اسلام کی روح عدل سے ہم آہنگ نظر آیا اور نہ ہی قرآن سے اسکا کوئی جوڑ بنتا دکھائی دیا-

فی زمانہ، یہ ایک اہم سماجی ایشو ہے اور چونکہ ایک اجتماعی قومی مسئلہ ہے تو اپنی رائے “اسلامی نظریاتی کونسل” کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کریں گے کیونکہ ہم اجتماعی دینی معاملات میں فردی فتوی جات کی بجائے، اسی قومی پلیٹ فارم کو ہی بااختیار دیکھنا چاہتے ہیں-

خاکسار کا اصل مدعا یہ ہے کہ بیوہ/مطلقہ کیلئے فی زمانہ عدت کی کوئی شرعی ضرورت ہی نہیں ہے- اپنے اس مقدمے کی طرف جستہ جستہ بڑھیں گے-

ہندوپاک میں عدت کا رواج یہ ہے کہ کسی عورت کا خاوند فوت ہوجائے توبیوی نے اب اسی گھر میں رہنا ہے ( یعنی خاوند کے گھر میں)- عموماً یہ جواینٹ فیملی ہوتی ہے- دیوروغیرہ کا غیرمحرم ہونا تو الگ ایشو ہے مگر یہ مسکین عورت اب اپنے خاوند کے بنا ایک ایسے گھر میں چارماہ تک رہنے ہر مجبور ہے جہاں سارے لوگ اسکے”غیر”ہیں- سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ قید کرنا ضروری بھی ہو تو وہ اپنے باپ کے گھر کیوں نہ جاکررہے، جبکہ وہاں اسکی عزتِ جاں کے علاوہ عزتِ نفس بھی زیادہ محفوظ رہے گی؟-

البتہ طلاق کی صورت میں عورت کو میکے میں ہی یہ تین چارماہ کی قید گذارنا ہوتی ہے- حالانکہ طلاق میں غلطی اکثر خاوند کی ہی ہوتی ہے- (ہندوپاک میں بیوی اپنی آخری کوشش کرتی ہے گھربسانے کی لہذا یہ کہنا مشکل ہے کہ طلاق میں بیوی کی غلطی ہوتی ہے)- البتہ پروین شاکر کے ایک زندہ شعر کا حوالہ دینا بھی غیرموزوں نہ ہوگا کہ:

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا –

مکررعرض کرتا ہوں کہ مسلم سیکولرز اس ایشو کو اس لئے اٹھارہے ہیں کہ یہ کسی انسان پرجبری (مذہبی یا کلچرل) رسم مسلط کرنے کا ایشو ہے- کوئی بندہ، سارا سال روزے رکھنا چاہے یا پورا مہینہ اعتکاف کی نیت سے خود کو مسجد یا گھر میں قید کردے، یہ اسکا ذاتی معاملہ ہے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں- مگر سب سے بڑا مذہبی فرض یعنی نماز بھی بزور کسی پرمسلط کی جائیگی تو ہم اس اقدام کی دینی حیثیت کو چیلنج کریں گے- چنانچہ، خاوند کے غم میں اسکی بیوہ ساری عمر شادی نہ کرے اور اسی کی چوکھٹ پردم دے دے تو اسکی وفا شعاری کو سلام ہے- مگرکسی عورت کو مذہب کے نام پرباندھ کررکھنا، اگر انسانوں کی وضع کردہ ترتیب ہے توہم آواز بلند کریں گے- لیکن یہ خدا کا حکم ہے توظاہر ہے کہ وہاں کسی مسلمان کو دم مارنے کی مجال نہیں-

سب سے پہلے تو خاکسار یہ عرض کرتا ہے کہ قرآن کی آیات میں کوئی ایسی پابندی مذکور نہیں کہ عورت نے کسی خاص گھر میں قید رہنا ہے- معلوم نہیں یہ کہاں سے رائج ہوگیا ہے؟-

قرآن تو صرف یہ کہتا ہے کہ بیوہ عورت اتنے دن اور مطلقہ عورت اتنے دن “اتنظار کرے/صبرکرے” یعنی دوسری شادی نہ کرے- اس میں تو کہیں یہ بات ذکرنہیں ہوئی کہ کسی خاص گھر میں بیٹھے رہنا بھی ضروری ہے؟- البتہ قرآن کی ہی ایک اورآیت میں یہ مذکور ہے کہ بیوہ عورت اپنے گھر سے نہ نکلے- اور یہ بات بھی بطورحکم نہیں بلکہ بطور آپشن کہی گئی –(مزے کی بات یہ کہ اسی آیت کو ہی مولوی صاحبان نے منسوخ قرار دیا ہوا ہے جس میں گھر سے نہ نکلنے کی بات ہے)-

بنا برایں، عورت کو گھرمیں محبوس رکھنا ، کوئی خدائی حکم نہیں بلکہ ایک انسانی ترتیب ہے جسکی حکمت انسانوں نے ہی وضع کی ہے کہ یہ عورت اگر باہر نکلی تو کہیں کسی اورمرد سے ربط وضبط نہ کربیٹھے( حالانکہ جس گھر میں بند بیٹھی ہے وہاں خیر سے سارے نامحرم دھڑلے سے پھرتے رہتے ہیں)- سوشل میڈیا کے اس دور میں عورت کو گھر میں اس پیش بندی کی بنا پرقید کرنا کہ کسی غیر سے ربط ضبط نہ کرلے، پرلے درجے کی حماقت ہے-

عورت کو عدت کی مدت میں کسی بھی مکان میں قید رکھنا، خدا کا حکم نہیں ہے- صرف ایک مقررہ مدت تک دوسری شادی سے منع کیا گیا ہے- ( اس بات کو آگے ڈسکس کریں گے کہ ایک خاص مدت تک اس عورت کو دوسری جگہ شادی سے کیوں منع کیا گیا) – تاہم، اس مقررہ مدت میں بھی اگر کوئی رشتہ وپیام آجائے (حتی کے نکاح بھی ہوجائے) تو منع نہیں- صرف شادی یعنی رخصتی ( تعلقات زون وشو) منع ہیں- ( خاکسار کی اس بارے بھی الگ رائے ہے جو آگے آئے گی)-

چنانچہ، جب کسی عورت کی خاوند سے جدائی ہوجائے( بیوگی، طلاق، خلع وغیرہ) اور اسی دن ہی کوئی اور اچھی پروپوزل آتی ہے تو اس پہ غوروخوض کرنے میں بھی حرج نہیں اور اگر اگلے لوگ اسی دوران نکاح پڑھانا چاہتے ہیں تاکہ ویزہ کاغذات وغیرہ تیار کروا لیں اورچند ماہ بعد رخصتی ہوجائے تو اس میں بھی کوئی شرعی رکاوٹ نہیں-

ایک عجیب بات مولوی صاحبان فرماتے ہیں کہ عدت کے دوران ، نکاح کرنا حرام ہے، کالعدم ہے اس لئے کہ یہ نکاح پہ نکاح کرنا ہے- کیوں بھئ؟ خاوند مرگیا توکیا اب مردے سے نکاح چل رہا ہے؟- آپ نے عدت کو پچھلے خاوند کی نسل کے تحفظ کی وجہ قرار دیا ہوا ہے– چلیے یہی بات مان لی جائے اور وہ عورت بچہ جننے تک کسی اور سے صحبت نہ کرے( یعنی رخصتی نہ ہو) بلکہ صرف نکاح کرنا چاہے تو اسکو “نکاح پہ نکاح” کیوں کہا گیا؟ کیا اب بھی چانس ہے کہ قبر سے نکل وہ واپس اسکو لینے آجائے گا؟- (طلاق میں البتہ یہ بات درست ہوسکتی ہے بشرطیکہ یہ اصولاًبھی درست ہو)-

قرآن کہتا ہے کہ عورت کو طلاق ہوجائے( یا خلع) توتین حیض تک( تقریبا” تین ماہ) اور اگر بیوہ ہوجائے تو چار ماہ دس دن کی عدت گذارے-مگر کیوں؟- یہ ایک مذہبی حکم نہیں ہے بلکہ ایک دینی حکم ہے جس سے ایک انسان کی وجہ سے کسی دوسرے انسان کی زندگی پراثر پڑرہا ہے تو اسکی کوئی لوجک ضرور ہونا چاہیئے- ( مذبی احکام کی کوئی لاجک نہیں ہواکرتی مگردینی احکام بغیرلاجک کے نہیں ہوتے)-

پہلے اس منطق پربات کرلیتے ہیں جو عدت کیلئے ہمارے علماء نے وضع کی ہوئی ہے اور وہ منطق یہ ہے کہ عورت کو چند ماہ کیلئے اس واسطے پابند کیا گیا تاکہ اسکے پیٹ میں اگرپہلے خاوند کا بچہ موجود ہوتو اسکی پیدائش کے بعد، اسکی امانت اسکو واپس کی جائے- چنانچہ، ہمارے غامدی صاحب کے حلقہ کے لوگ، اسی بنا پریہ کہتے ہیں کہ جدید دور میں چونکہ الٹرا ساوںڈ وغیرہ ٹسٹ سے حمل بارے معلوم ہوجایا کرتا ہے تو حمل ثابت نہ ہونے کی صورت میں مقررہ مدت کی پابندی بھی ضروری نہیں ہے-

دیکھیے، عدت کی مذکورہ بالاعلت( یعنی اس حکم کی منطقی وجہ) قرآن نے نہیں بیان کی بلکہ لوگوں نے خود سے ایک وجہ ڈھونڈ نکالی ہے- فرماتے ہیں کہ دراصل، چار ماہ میں حمل بالکل ظاہرہوجائے گا، اور اگر حمل نہ ہوا تو اب یہ عورت کسی دوسرے مرد کی کھیتی بن سکتی ہے- مگر قرآن ہی میں مطلقہ کیلئے کہا گیا کہ تین حیض تک عدت کرے- اگر نسل کا پتہ ہی لگانا مقصود ہوتا توجب ایک ماہ بعد پہلا حیض ہوگیا تو معلوم ہوگیا کہ کوئی حمل نہیں ، پھراس عورت کو اب آزاد کرو، اب اسکو مزید دوماہ کی قید کیوں دی جارہی؟- اسی قرآن میں ایک آیت یہ بھی ہے کہ بیوہ عورت ایک سال تک گھر سے نہ نکلے جسکے بارے میں علماء فرماتے ہیں کہ پہلے یہی عدت کی مدت تھی مگرخدا نے “رحم ” کھاتے ہوئے اس آیت کو منسوخ کردیا- چلیں منسوخ ہی سمجھیں لیکن جب خدا ایک سال کی مدت مقرر کررہا تھا تو کیا اسکو معلوم نہیں تھا کہ حمل کا پورا پتہ تو پچار ماہ میں چل جاتا ہے؟- پس یہ حمل ظاہر ہونے والی منطق لوگوں نے اپنی طرف سے بنائی ہوئی ہے-

یہ خاکسار چونکہ قرآن میں ناسخ ومنسوخ کے فلسفے کو نہیں مانتا ( بلکہ اسکو قرآن پر الزام سمجھتا ہے) پس میرے نزدیک دونوں ہی آیات قیامت تک کیلئے ویلڈ ہیں ( آگے ان کی تشریح کریں گے ان شاء اللہ)-

ایک اور بات بھی ذہن میں رہے- چاہے طلاق ہو یا بیوگی ، ہر دوصورت میں عورت اگرحمل ہونے کے باوجود،اپنا ابارشن کرانے کا فیصلہ کرلے( جس پر کوئ شرعی قدغن نہیں- خاکسار کا مضمون” خاندانی منصوبہ بندی ممنوع نہیں بلکہ مطلوب ہے” ملاحظہ فرمایئے) تو پھر اس صورت میں عدت کی کیا ضرورت رہی؟- (حمل والی “علت” کی بنیاد پریہ عرض کررہا ہوں-ورنہ خاکسار کے نزدیک عدت کی یہ علت ہے ہی نہیں- بلکہ اس ہدایت کی ایک دوسری وجہ ہے جو آگے عرض کروں گا)-

عدت کے مسئلہ پرآگے بڑھنے سے پہلے ایک بنیادی سوال اٹھانا چاہوں گا اور وہ یہ کہ کس منطق کی رو سے ایک عورت مجبور ہے کہ وہ بچہ خاوند کو ہی دے گی؟- وہ خود کیوں نہیں رکھ سکتی؟- وہ بھی تو اس بچے کی ماں ہے- میاں بیوی پارٹنر ہوتے ہیں تو بچہ بھی دونوں کی پراپرٹی ہوگا- یہ کیوں طے کیا گیا کہ بچہ ہمیشہ باپ کا ہوگا؟- ایک مولوی صاحب نے باپ کی ملکیت بارے یہ دلیل دی کہ مرد کے نطفہ بنا کوئی عورت بچہ پیدا نہیں کرسکتی- عرض کیا کہ کیا مرد بغیرعورت کے ایسا کرسکتا ہے؟ حالانکہ قرآن نے ہی یہ خبر دی ہے کہ ایک عورت نے بغیرمرد کے چھوئے بھی ایک بچے کو جنم دے دیا تھا لیکن کسی مرد نے بغیر کسی عورت کے کوئی بچہ پیدا نہیں کیا- پس ہمارے خیال میں تو کوئ مرد محض اپنے نطقہ کی بنا پر بچہ کا تنہا مالک نہیں بن سکتا- ہاں اگر قرآن نے یہ قرار دے دیا ہو تو چوں چرا کی گنجائش نہیں ہے( مگر قرآن نے یہ نہیں کہا)-

فرض کر لیں کہ مرد اپنے نطفہ کی بنا پربچے کا واحدمالک ہوتا ہے- لیکن اسکے مرنے کے بعد عورت کو اس لئے عدت میں روکا جاتا ہے کہ بچہ پیدا کرکے اسکے چاچے دادے کو حوالے کرے- یہ بچہ، چاچے دادے کا نطفہ تو نہیں ہے کہ ماں کواس سے محروم کیا جائے- یوں لگتا ہے کہ لڑکی کی لڑکے سے شادی نہیں ہوئ بلکہ لڑکے کی فیملی نے ایک مشین رینٹ پرلی ہوئی ہے جو پراڈکٹ انکے حوالے کرنے کے بعد ہی کہیں دوسری جگہ جاسکتی ہے-

بہرحال، اس بات کوڈسکس کرنا بھی اہم ہے کہ آخر ایک عورت کیوں کسی ” نسل کی حفاظت” کی خاطر،یہ عدت والی قید برداشت کرے؟-
( جاری ہے)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *