درویش نامہ۔۔۔انعام رانا

برباد ہوئی وہ قوم جو محسن کش نکلی اور خوار ہو گا وہ شخص جو محسنوں کو بھول گیا۔
طبیعت ہے کہ بے چین ہے، نیند ہے کہ آتی نہیں، سرور ہے کہ خاک ہوا۔ الحذر الحذر، اس ملک خداداد میں یوں بھی ہونا تھا کہ غزوہ ہند کی فوجوں کا سپہ سالار یوں شٹل کاک بنایا جائے۔ اک ناول نویس قاضی کی یہ جرات کیونکر ہوئی کہ سوائے سیاستدانوں کے کسی پہ قلم اٹھائے اور فوج کو کیا ہوا کہ اپنے ہی سالار کو یوں عدالتوں میں تضحیکِ کلام و قلم کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھتی ہے اور خاموش ہے۔ عزیزی بلال سے کہا اور فورا ًآسٹریلیا سپہ سالار کو کال ملائی، وہی سپہ سالار کہ کتنی ہی راتیں تھیں جو کبھی اسکی لائبریری میں دھویں کے مرغولوں سے حکمت کشید کرتے گزریں۔ ایکسٹینشن تو اسے بھی ملی تھی کہ یہی چلن ہے زندہ قوموں کا، وہ اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں۔ کسی انگریز نے فون اٹھایا اور اک ناقابل فہم لہجے میں انگریزی کی بوچھاڑ کی۔ عزیزی بلال کو فون تھمایا تو اس نے ڈکشنری کی مدد لی اور بتایا کہ کوئی نوکر ہے اور کہتا ہے جنرل جزیرے کے درمیان کہیں بھیڈاں کھسی کر ریا اے۔

آہ کروں تو کیا کروں، چین کیوں نہیں پڑتا۔ افسوس تم کو تولا گیا اور تم کم نکلے۔ تاریخ سے خود کو دلاسہ دینے کی کوشش کی کہ وہ عظیم عمر رض، جس نے دوران جنگ سپہ سالار بدل دیا تھا مگر کوئی آواز بلند نہ ہوئی، مگر وہ روحانیت کے اعلی مقام پہ فائز لوگ اور کہاں یہ کپتان، کپتان کہ جسکا مجسمہ تراشتے داڑھی کے بال سفید کر لیے مگر وہ ان ہی بالوں کی سفیدی کی لاج نہ رکھ سکا۔ اچانک درویش کا خیال دل میں آیا اور گاڑی گوجر خان کو بھگائی۔

پہنچا تو چہرے پہ بیتابی تھی، دل میں بے چینی اور زباں پہ شکوہ، آواز لامحالہ لرزتی ہوئی نکلی کہ کب تک، آخر کب تک یوں معصوم سپہ سالار کہ جوانیاں جن کی اس قوم کی خدمت میں چاندی ہو گئیں اور بڑھاپا سونا، یوں سرعام مزاح بناتے جائیں گے۔ اک فقط تین سال سے ہوتا ہی کیا ہے ، پلک جھپکتے میں گزر جاتے اور جاٹوں کا سپوت عظیم کچھ دن اور اس قوم کی خدمت کر لیتا۔ جاٹ تو ہل پہ بیٹھا مان نہیں، یہ تو پھر سپہ سالار تھا۔

درویش نے میری فریاد کے بیچ استغراق میں جھکی گردن اٹھائی، لال سرخ آنکھوں سے کچھ دیر مجھے یوں تکا جیسے میں ہوں ہی نہیں اور پھر سرگوشی ابھری، “سگریٹ ہے ای؟، گولڈ لیف بھی اب گجر خان میں دو نمبر مل رہا ہے”۔ جی کٹ گیا، تف ہے اس قوم پہ جو اپنی قسمت کے فیصلوں میں دخیل بزرگوں کو اصلی سگریٹ بھی نہ  دے سکے۔ فورا ًپوری ڈبی بارہ سگریٹ بطور زادِ راہ نکال کر درویش کے آگے رکھ دی۔

درویش نے لمبا کش کھینچا، سرور سے اک جھرجھری لی اور گویا ہوا، “ پریشاں کیوں ہے، جسے ہم سادہ سمجھے تھے وہ سادہ نہیں ہم سادہ نکلے”۔ مگر حضرت اتنی نالائقیاں، اپنے محسن کی اک چھوٹی سی ایکسٹینشن میں اتنی غلطیاں کہ ناول نویس قاضی اک نیا افسانہ لکھنے پہ اتر آیا ہے۔ ھل جزا الاحسان الا لاحسان؟ فقیر نے قہقہ لگایا اور ارشاد کیا، “جو ساڈے نال ہوئی بُھل گیاں ایں؟ ارے قلم نویس اس شخص کی تاریخ دیکھ، یہ لمبا عرصہ اسے برداشت ہی نہیں کرتا جس نے اس پہ احسان کیا ہو کہ زیر بار رہنا اسکی فطرت نہیں۔ ماجد خان سے تجھ تک، یہی تو ہوتا رہا۔ اب ایک ایسا سپہ سالار کیسے برداشت ہو جو ہر روز فقط مسکرا کر یاد کرا دے کہ ہمارے بعد کس کو ستاؤ گے۔ کچھ غلطیاں جان بوجھ کر کی جاتی ہیں کہ انکا انجام بہتر نتائج دیتا ہے۔ مان لو قلم نویس کہ یہ شخص جسے چاہے  یوتھیا بنا دیتا ہے یا توتیا”۔
دل لرز کر رہ گیا، تو کیا ہم سب۔۔۔۔۔۔ آہ برباد ہوئی وہ قوم جو محسن کش نکلی، ہائے انشاللہ خوار ہو گا وہ شخص جو محسنوں کو بھول گیا۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *