• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • دینی مدارس کی عصری معنویت اور ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کے نکتہ نظر کا ” تحقیقی وتنقیدی جائزہ “۔۔۔۔۔۔(قسط2)ظفرالاسلام سیفی

دینی مدارس کی عصری معنویت اور ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کے نکتہ نظر کا ” تحقیقی وتنقیدی جائزہ “۔۔۔۔۔۔(قسط2)ظفرالاسلام سیفی

باب دوم طہارت وعبادت میں مصنف مدارس کے معمولات کو انکی فی نفسہ شرعی حیثیت کے تناظر میں بیان کرنے کے ساتھ بتلاتے ہیں کہ مدارس کو اپنی عملی زندگی علمی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے،وہ مدرسہ کو فرد کی تشکیل شخصیت اور اسکی کردار سازی کا مرکز قرار دیتے ہیں۔انکے مطابق مدرسہ ایک طالب علم کو تربیت کے ایسے نظم میں لاتا ہے جس میں اسکے لیے حصول علم،مذہبی فرائض کی سرانجام دہی اور صلاح وتقوی کی کیفیات پیدا کرنا مشکل نہ رہے۔

باب سوم میں مصنف علماء کی شخصیت پر انکے تعلیمی وتربیتی نکتہ ہائے نظر کے تناظر میں کلام کرتے ہیں،انکا کہنا ہے کہ مولنا غلام احمد وستانوی دارالعلوم دیوبند میں پہلو بہ پہلو سیکولر وجدید علوم کے داخل نصاب ہونے اورشرعی روایتی علوم کے ساتھ مادی علوم کے امتزاج کے متمنی تھے مگر مدارس کا علمی حلقہ اس مزاج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں،یہی وجہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب مولانا موصوف دارالعلوم کے مہتمم تھے اور جدیدعلوم کے داخل نصاب ہونے کے امکانات بھی تھے اس سب کے لیے راہ ہموار ہوپائی نہ نصاب میں کسی قسم کی کوئی ترمیم وتبدیلی ممکن ہوسکی،بلکہ جب انہوں نے مسند اہتمام پر اپنے ان خیالات کا اظہار کیا تو اک ہنگام رستاخیز بپا کر کے انہیں ا س کام سے روک دیا گیا۔مصنف کے نزدیک مدرسہ کی راسخ العقیدگی کی روایت میں تجدد کا رنگ بھرنے کا یہ ایک شاندار موقع تھاجو گنوا دیا گیا،مصنف اس باب میں ابن خلدون کے بھی مداح ہیں کہ انہوں نے تنقیدی فکر کے پروان چڑھنے کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ فلسفہ اور سائنس کی بات بھی کی۔

مصنف اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ روایتی علوم کے ساتھ مادی علوم کے امتزاج کی یہ کوشش ایک صدی سے جاری رہنے کے باوجود ناکام ہے اور دینی حلقے میں نصاب بابت فکری جمود کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے،مصنف ان توسیعی تبدیلیوں کے بارآور نہ ہونے کی وجہ روایتی حلقے میں پائے جانے والے اس خوف کو قرار دیتے ہیں جو مادی علوم کے اسلامی تہذیب کے لیے سم قاتل ہونے کا ہے،مسلم مذہبی فکر کو نت نئے مناہج سے روکنے کا ہی نتیجہ ہے کہ علماء سیاسی وسماجی سطح پرانحطاط کا شکار اور باہر کی دنیا سے کٹ کر اپنی ذات میں سکڑتے اور سمٹتے جارہے ہیں،مصنف کو گلہ ہے کہ فارابی،ابن سینا، ابن ہیثم،غزالی،ابن خلدون ایسے مفکرین یونان وہندوستان سمیت دیگر ثقافتوں سے استفادہ کرتے تھے تو آج کی مذہبی روایت پس وپیش کا مظاہرہ کیوں کر رہی ہے؟

عرضداشت:
میری نظر میں علوم اسلامیہ کے ساتھ مادی علوم کے امتزاج کی بحث کو ہندوستان میں انگریزی تسلط کے دوران مادی علوم کی تاریخ کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے،ہم جانتے ہیں کہ لارڈ میکالے کے تصور تعلیم نے ہندوستان میں جب اپنی جڑیں مضبوط اور ثقافتی اقدار پر اپنے تباہ کن اثرات ڈالنا شروع کیے تو علماء نے اسلامی تہذیب،شناخت واقدار کے تحفظ کے لیے خالصۃ علوم اسلامیہ کی درسگاہیں قائم کرکے ان اثرات کے سامنے بند باندھنے کی جدوجہد کی،انکا خیال تھا کہ مادی علوم تجرباتی طور پر اسلامی تہذیب وثقافت کے لیے تباہ کن ہیں،اس نکتہ نظر کی متعدد وجوہات تھیں مگر مزاحمت کی نفسیات بہرحال اسکی وجہ نہ تھی،ایرانیوں کی عداوت نے فارسی سے اور یہود ونصاری سے عداوت نے عبرانی وسریانی سے اگر امت مسلمہ کو نہیں روکا تو انگریزی سے ایسا کیا عناد ہوسکتا تھا جو اسکے حصول کے لیے مانع بنتا؟۔۔

واقعہ دراصل یہ ہے کہ عبرانی وسریانی کے حکم وارشاد کے وقت یہود ونصاری کو وہ تہذیبی،ثقافتی اور سیاسی برتری وتفوق حاصل نہ تھا جو آج تھا یاہے،سیاسی وتہذیبی برتری رکھنے والی اقوام کی زبان ورسوم میں اشتغال لامحالہ ان غالب اقوام کے تہذیبی رنگ کے جمنے کا باعث بنتا یا بن سکتا ہے اور عملی طور پر ایسا ہوا بھی،لہذا یہ سوال کہ سریانی وعبرانی کا حکم اگر سرورکائنات دیتے رہے تو انگریزی کی ممانعت کیوں لاطائل،عبث اور تاریخی تناظر سے ناآشنائی ہے،اندریں حالات انگریزی تہذیب کے سم قاتل اثرات سے سماج کو محفوظ رکھنے کی خاطر علماء نے مدارس کے تعلیم وتربیت کے ماحول کو جدید علوم سے دور رکھا،دارالعلوم دیوبند کی بنیاد اسی نکتہ نظر اور مقصد عالی کی بنیاد پر رکھی گئی مگر دوسری طرف سرسید احمد خان مرحوم دنیوی ترقی کی راہ سے اسی طرح دینی مقاصد حاصل کرنے کے متمنی تھے جیسے ڈاکٹر ابراہیم موسی سمیت ہمارے ایک حلقے کا نکتہ نظر ہے،سرسید کہا کرتے تھے کہ ”فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں،نیچرل سائنس بائیں ہاتھ میں اور لاالہ الا اللہ۔۔۔ محمد رسول اللہ کا تاج سر پر ہے،وہ دیانتداری سے جدید علوم میں مہارت کو امت کے مسائل کا لازمی حل سمجھتے تھے مگر عملا ایسا ہوسکا نہ وہ کامیاب ہوئے۔چنانچہ انکے ایک رفیق شیخ محمد اکرم لکھتے ہیں کہ ”وہ (سرسید)مغربی علوم کے ساتھ ایمان کامل اور صحیح مذہبی تربیت کو ضروری سمجھتے تھے لیکن اس میں انہیں پوری کامیابی نہ ملی۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ
” جن لوگوں نے مسجدوں کی چٹائیوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی ان میں تو سرسید،محسن الملک اور وقار الملک جیسے مدبر اور منتظم پیدا ہوئے،جو لوگ انگریزی سے قریب قریب ناواقف تھے اور جن کے لیے مغربی ادب ایک گنج سربستہ تھا انہوں نے نیچرل شاعری اور ایک جدید ادب کی بنیاد ڈالی او رآب حیات،سخن دان فارس،شعروشاعری،مسدس حالی جیسی کتابیں تصنیف کرڈالی لیکن جن روشن خیالوں نے کالج کی عالیشان عمارتوں میں تعلیم حاصل کی اور جن کی رسائی مغرب کے بہترین اساتذہ اور دنیا بھر کے علم وادب تک تھی وہ مطمح نظر کی پستی اور کیرکٹر کی کمزوری سے فقط اس قابل ہوئے کہ کسی معمولی دفتر کے کل پرزے بن جائیں “

نیز ایک بڑی وجہ مادی علوم کے داخل نصاب نہ ہونے کی اکابر علماء کی جانب سے اسکی مخالفت ہے چنانچہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ طریق مفید ثابت نہ ہوگا بلکہ جذبات کا محفوظ رہنا مشکل ہے جسکا نتیجہ گمراہی ہے۔حضرت مولانا یعقوب نانوتوی کی رائے میں ”جدید علوم نقد اور دینی علوم ادھار کی مانند ہیں اور اذہان کا ادھار چھوڑ کر نقد پرسمجھوتہ طے شدہ امر ہے اس سب میں دینی علوم غیر مقصود بن کر رہ جائیں گے “حضرت مدنی اسے ایک ایسا سحر قرار دیتے ہیں کہ جسکا سدباب نہ ہوا و امت بڑی آفت میں مبتلا ہوجائیگی،حضرت علی میاں دینی مدرسے میں دنیاوی تعلیم کو ”ظلم عظیم“ اور خلاف دیانت قرار دیتے ہیں،اکبر الہ آبادی نے مادی علوم کو والدین سے بغاوت کا باعث قرار دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ
ہم ان تمام کتابوں کو قابل ضبطی سمجھتے ہیں ۔۔۔جنہیں پڑھ کر بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں ۔۔۔۔
علامہ اقبال نے بھی اسکے قریب قریب ہی کچھ فرمایا کہ
اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم ۔۔۔ایک سازش ہے فقط دین ومروت کے خلاف
اسکی تقدیر میں محکومی ومظلومی ہے ۔۔۔۔قوم جو کرنہ سکی اپنی خودی سے انصاف

پھر تجرباتی طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ دینی ودنیاوی علوم کے امتزاج نے ہر دوعلوم میں قابلیت کو متاثر کیا،ایک مثال بھی ایسی نہیں پیش کی جاسکتی کہ جسمیں اس امتزاج سے نکلے کسی فاضل نے معاصر دنیا کے کسی چیلنج سے نبردآزمائی میں اپنا کردار اد کیا ہو،جن لوگوں نے اپنے اداروں کی چار دیواری میں اس تجربے سے خود کو اور طلباء کو گذارا وہ بہتر جانتے اور جان سکتے ہیں کہ ایسا کہنا جتنا آسان ہے عملی طور پر کرنااتنا ہی مشکل ہے۔قابل عمل رائے کی حد تک البتہ ایسا کہا جا سکتا ہے کہ بعد از فراغت منتخب طلباء کے لیے انگریزی زبان یا جدید علوم کا کوئی ایسا نظم تشکیل دے دیا جائے جس سے ان ضرورتوں کو پورا کیا جا سکتا ہو جسکا اظہار اس نصاب کے مویدین وقتا فوقتا کرتے رہتے ہیں مگر درس نظامی کے پہلو بہ پہلو جدید علوم کو داخل نصاب کرنا ماضی کی ناکام مثالوں کے تسلسل اور اس میں مزید ایک اضافے کے سوا کچھ نہ ہوگا۔۔۔۔

مصنف کو اس پر بھی اعتراض ہے کہ مدارس دینی تعلیم کو بجائے خود ایک مقصد کیوں قرار دیتے ہیں،ایسا کیوں نہیں کہ آسان معاش کے لیے بہتر دنیا داری کا تصور پیش نظر رکھاجائے،اس ضمن میں مصنف مولانا سعید احمد پالن پوری کے ارشاد ”اگر ہمارے طلباء نے دینی علوم کو مقصد سمجھ کر حاصل نہیں کیا بلکہ صرف ایک ذریعہ سمجھ کر حاصل کیا تو ہماری ساری کوششوں پر پانی پھر جائیگا“ کو دنیا سے دامن کشی کا نظریہ قرار دیتے ہیں،انکے نزدیک اس تصور تعلیم نے فضلاء مدارس کو غیر محفوظ اور دورخے جذبات کا شکار کردیا ہے،مدارس کا عصری تعلیم اور یونیورسٹیز کے الحاق سے دامن بچانا دراصل اس اندیشے کی نیاد پر ہے کہ طلباء کیرئیر پسند نہ بن جائیں،انکی تربیت ایک ایسے داعی کی حیثیت سے کی جاتی ہے جو بعد از فراغت فقط دعوت دین کے لیے خود کو وقف کردے ۔۔۔۔۔

عرضداشت:
میری نظر میں یہ فرمودات حصول علم کے اصل مقصد سے عدم آگہی پر مبنی ہیں،سوال یہ ہے کہ آسان معاش اور بہتر دنیا کا تصور آپ کس اور کونسے علم کے پیش نظر رکھنے کی بات فرمارہے ہیں؟اگر تو اس سے مراد خالصۃ دنیاوی ومادی علوم ہیں تو اس میں کوئی حرج ہے نہ ہمیں اعتراض،یعنی مادی علوم سے وابستہ کوئی طالب علم اگر اپنا مقصد حصول علم کسب معاش اور بہتر دنیا داری بتلاتا ہے تو اس میں کوئی حرج ہے نہ جواز میں کوئی دو آراء،کیونکہ یہ محض بہتر دنیا داری کی سمت ایک اٹھتا ہوا قدم ہے اور اس میں شرعا ًکوئی قباحت نہیں، حضرت انس سے روایت ہے کہ
”ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم مربقوم یلقحون فقال:لولم تفعلو لصلح
قال فخرج شیصا فمر بھم فقال مالنخلکم قالوا قلت کذا وکذاقال انتم اعلم بامردنیاکم “
(مسلم شریف،کتاب الفضائل)
کہ سرورکائنات ﷺ چند لوگوں کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ وہ کجھور میں گابھ لگارہے تھے،حضور نے فرمایا کہ اگر تم یہ نہ کرو تو بہتر ہوگا۔ان لوگوں نے چھوڑ دیا،کچھ مدت بعد جب سرورکائنات کا گزر ادھر سے ہوا تو ان سے ان کجھوروں بابت استفسار فرمایا،جس پر ان لوگوں نے بتلایا کہ آپ کے ارشاد فرمانے پر ہم نے وہ کام روک دیا تھا تو حضور نے فرمایا ”انتم اعلم بامر دنیاکم “ کہ تم دنیا کے معاملات کو جیسا بہتر سمجھو کرو “ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بہتر دنیا داری کے لیے شرعی دائرہ میں کسی بھی کام کو کیا جا سکتا ہے،لہذا عصری ومادی علوم کو اس نکتہ نظر سے حاصل کرنے میں اسوقت تک کوئی قباحت نہیں جب تک اس سے کوئی دینی وشرعی امر متاثر نہیں ہوتا۔
اور اگر آپ کی مراد اس سے دینی علوم ہیں تو لاریب کہ یہ ایک سنگین زاویہ فکر ہوگا،دینی علوم کے حصول سے پیش نظر جذبہ رضائے خداوندی اور اس علم کو بجائے خود مقصد بنانے کی فکر ہونی چاہیے،اگر خدانخواستہ ایسا نہیں بلکہ کسب معاش یا وہ بہتر دنیا داری پیش نظر ہے جو آنجناب فرما رہے ہیں تو یہ لاریب کہ اپنے آپ کو ان وعیدات کا مستحق بنانا ہے جو سرورکائنات ﷺ نے متعدد احادیث میں ارشا دفرمائیں۔ابوداود شریف کی درج ذیل روایت ملاحظہ ہو۔
عن ابی ھریرۃ ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من تعلم علما یبتغی بہ وجہ اللہ،لایتعلمہ الالیصیب بہ عرضا من الدنیا
لم یجد عرف الجنہ یوم القیامۃ یعنی ریحھا
(ابوداود،ابن ماجہ)
جس آدمی نے اس علم کو جس سے رضائے خداوندی حاصل کی جاتی ہے اگر اسکے حصول کا مقصد دنیا کا سامان ومال ہو تو وہ جنت کی خوشبو بھی قیامت کے دن نہ سونگھ سکے گا۔نیز عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنھما کی روایت ہے کہ
”من تعلم علما لغیر اللہ او اراد بہ غیر اللہ فلیتبوا مقعدہ من النار “
(ترمذی شریف)
کہ جس نے علم سے غیر اللہ کا ارادہ رکھا اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنالے۔نیز امام شعرانی نے طبقات میں سفیان ثوری کا یہ قول نقل فرمایا کہ
”اذا فسد العلماء فمن یصلحھم وفسادھم بمیلھم الی الدنیا،واذا جر الطبیب الداء الی نفسہ فکیف یداوی غیرہ “
(ذکرہ الشعرانی فی الطبقات)
فرمایا کہ جب علماء بگڑ جائیں تو کون انہیں سدھارے؟ علماء کا بگاڑ یہ ہے کہ وہ دنیا میں مشغول ہوں،کیوں نہ جب طبیب بیماری کو اپنی طرف کھینچے تو وہ کسی اور کا کیسے علاج کرے گا؟
نیز امام ذوالنون مصری کا علماء سے یہ ارشاد بھی لائق توجہ ہے،فرمایا کہ
اذا ادرکنا الناس واحدھم کلما ازداد علما ازداد فی الدنیا زھدا وبغضا وانتم الیوم کلما ازداد احدکم علما ازداد فی الدنیا حبا وطلباومزاحمۃ
وادرکناھم وھم ینفقون الاموال فی تحصیل العلم وانتم الیوم تنفقون العلم فی تحصیل المال
(ذکرہ الشعرانی فی الطبقات)
کہ اسلاف کا علم جب بڑھتا تھا تو انکی دنیا میں بے رغبتی وزہد بھی بڑھتا تھا مگر تمہارا علم بڑھتا ہے تو تمہیں دنیا سے محبت،دنیا طلبی اور دنیاوی اشتغال بھی بڑھنے لگتا ہے،اسلاف اپنے مال حصول علم کے لیے خرچ کیا کرتے تھے اور تم اپنا علم حصول مال کے لیے خرچ کرتے ہو۔
ان روایات کے تناظر میں آپ خود ہی فیصلہ فرمائیے کہ درست وہ ہے جو ارباب مدارس کرتے ہیں یا وہ ہے جو آپ ارشاد فرمارہے ہیں۔
مصنف کو علم کی سینہ بہ سینہ منتقلی پر بھی اعتراض ہے،وہ اس روایت کو ” علم کو ارباب علم وذوق کے ایک مخصوص طبقے تک محدود رکھنے“ کی علامت قرار دیتے ہیں،انکے نزدیک علماء کا اپنے علمی محاضرات کے لیے انٹرنیٹ،گوگل وسکائپ کی طرف متوجہ ہونا استاد سے بالمشافہ تعلیم کے تصور پر سمجھوتہ کرنا ہے ۔۔۔

عرضداشت:
اگر ہمارا خیال یہ ہے کہ ہم فقط تحریر ی نقوش سے حصول علم میں کامیاب ہوسکتے ہیں تو یقیناً ہم ذہنی استعداد کی بہت نچلی سطح پر کھڑے ہیں،طب وحکمت کو فقط قرطاس پر منقش ہیئت میں دیکھنے والے کو کیا آپ ڈاکٹر وحکیم تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوجائیں گے؟اگر نہیں تو پھریہاں سینہ بہ سینہ روایت پر اعتراض کیوں؟میری نظر میں اسے ”ایک مخصوص طبقے تک علم کو محدود“ کرنے کے بجائے ”علم کی درست منہج پر تحصیل“ کانام دیا جائے تو ذیادہ بہتر ہوگا۔واقعہ یہ ہے کہ کتب بینی اسوقت تو کارآمد ہوسکتی ہے جب آپ قرآن وحدیث اور فقہ وگرائمر اور انکے مکمل اصولوں کو درس وتدریس کے باضابطہ پراسیس سے گزر کر جان چکے ہوں بصورت دیگر محض کتب بینی سے کماحقہ اخذ مطلب اور فہم معنی امر مستبعد تو کیا ناممکن ہے۔مثلاً آپ ایک نص پڑھ کر اس سے ایک مسئلے کا استنباط کرتے ہیں یہ جانے بغیر کہ یہاں ایک نص ایسی بھی موجود ہے جس نے اس کے حکم کو منسوخ کردیا ہے جیسے قرآن میں ایک موقع پر ارشاد خداوندی ہے ”یاایھا الذین امنو انفقوا ممارزقناکم من قبل ان یاتی یوم لابیع فیہ ولا خلۃ ولا شفاعۃ “ اس آیت میں بروز قیامت مطلق شفاعت کی نفی ہے،اب فقط مطالعہ کا عادی اس سے یہی معنی اخذ کرے گا کہ روز قیامت کوئی شفاعت نہیں حالانکہ دیگر آیات میں صراحت ہے کہ نفی اس شفاعت کی ہے جو بلا اجازت ہو۔ایسے ہی ممکن ہے کہ وہ ایک لفظ کو اسکے لغوی معنی میں لے کر ایک نوع کا مسئلہ مستنبط کرے حالانکہ اس لفظ کا لغوی معنی شرعا مطلوب ومقصود نہ ہو جیسے ایک موقع پر سرورکائنات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے استفسار فرمایا کہ ”من المفلس ؟“ کہ مفلس کون ہے تو صحابہ نے لغوی معنی سامنے رکھتے ہوئے عرض کی کہ ” المفلس من لادرھم لہ ولا متاع “ کہ مفلس وہ ہے جسکے پاس مال ومتاع نہ ہو،اس پر سرورکائنات نے انکی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ ” ان المفلس من امتی یاتی یوم القیامۃ بصلاۃ وصیام وزکاۃ ویاتی قد شتم ھذا وقذف ھذا واکل ھذا وسفک دم ھذا وضرب ھذا فیعطی ھذا من حسناتہ وھذا من حسناتہ فان فنیت حسناتہ قبل ان یقضی ما علیہ اخذ من خطایاھم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار“ کہ مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ زکوۃ کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگا مگر اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی،کسی پر تہمت لگائی ہوگی،کسی کا مال کھایا ہوگا،کسی کا خون کیا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا،پس اسکی نیکیاں ان لوگوں کو دی جاتی رہینگی جن کے ساتھ اس نے ظلم وذیادتی کی،اگر اسکی نیکیاں پہلے ختم ہوگئی تو ان مظلومین کی برائیاں اسکے کھاتے میں ڈالی جاتی رہیں گی،یہاں تک کہ اسکے پلے کوئی نیکی نہ بچے گی اور نامہ اعمال انکی برائیوں سے بھر جائیگا،پھر اسکے بارے میں جہنم میں پھینکے جانے کا حکم ہوگا۔

اس حدیث میں غور کریں کہ صحابہ نے کچھ سمجھا اور حضور نے اسکے برخلاف دوسرا مطلب انکے سامنے بیان فرمایا۔۔۔۔۔اسی طرح قرآن کریم کی آیت ”الذین آمنو ولم یلبسو ایمانھم بظلم “ میں صحابہ نے ظلم کو لغوی معنی میں لیا تو سرورکائنات نے اصلاح فرمائی کہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسے کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرماتے ہوئے کہا تھا کہ ”ان الشرک لظلم عظیم “ تو یہاں ظلم سے وہ شرک مراد ہے۔
معلوم ہوا درس وتدریس کے لیے کسی شیخ ومربی کا ہونا ضروری ہے جیسے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”لایزال الناس بخیر مااخذوا العلم عن اکابرھم “ نیز امام مالک کا مشہور مقولہ ہے کہ ”اطلب ھذا الامر من عند اھلہ “ موسی بن یسار کا قول مروی ہے کہ ”لا تاخزوا العلم الا من افواہ العلماء“ کسی نے خوب کہا کہ ”من دخل فی العلم وحدہ خرج وحدہ ای من دخل فی طلب العلم بلاشیخ خرج منہ بلا علم “ ابو حیان اندلسی کے اشعار اس عنوان پر پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں،ذرا پڑھیے
یظن الغمر ان الکتب تجدی اخا ذھن لادراک العلوم
وما یدری الجھول بان فیھا غوامض حیرت عقل افھیم
اذا رمت العلوم بغیر شیخ ضللت عن الصراط المستقیم
وتلتبس الامور علیک حتی تصیر اضل من توما الحکیم
(نفح الطیب من غصن الاندلس الرطیب للمقری 2/564)
ان گزارشات کو سامنے رکھ کرانصاف کے ساتھ ذرا ارشاد فرمائیے کہ کیا ارباب مدارس واہل علم کی جانب سے علم کی سینہ بہ سینہ روایت کی کوئی اہمیت وضرورت نہیں اور یہ کہ کیا یہ واقعی علم کو ایک مخصوص طبقہ تک محدود کرنے کی دانستہ یا نادانتہ کوشش ہے؟
مصنف مدارس میں کسی طالب علم کے علمی میثاق یا علم سے عہد نامہ کا ذکر بھی کرتے ہیں، وہ ابوالبقاء کفوی کے نظریہ ”تعلیم عمل کا کنایہ یا مجاز مرسل ہے“ کو ذکر کرنے کے ساتھ بتلاتے ہیں کہ علماء نے علم برائے عمل کے حصول کو ہی اس باب میں معیار قرار دیا ہے،مولانا تھانوی کے ملفوظ ”علم بجائے خود حصول نجات کا عمل ہے“کا حوالہ بھی اسی تناظر میں ہے، اس ضمن میں وہ قرآن کی نصیحت وموعظت کا اور اسکے حکیمانہ اسلوب کا ذکر بھی کرتے ہیں،انکا کہنا ہے کہ قرآن صرف زبان سے پڑھنے کا عمل نہیں بلکہ وہ دراصل جسم سے پڑھنے یعنی جسم پر اسکی کیفیات کو محسوس کرنے کا عمل ہے،وہ مشہور برطانوی مستشرق آرتھر جے آربری کے ترجمہ قرآن کے موقع پر ایک سفید ریش بوڑھے کی پرسوز تلاوت کا ذکر بھی کرتے ہیں کہ کیسے اسکی پرسوز آواز نے آرتھر کے دل میں تموج پیدا کیا۔

علم،گناہ اور ماورائی دنیا کے عنوان پر امام محمد بن ادریس شافعی،امام وکیع اور حضرت تھانوی کے اقوال کا حوالہ دے کر بتلایا گیا کہ گناہ کس طرح حصول علم کی راہ میں روڑہ بنتے ہیں،مصنف اسکی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ یادداشت دراصل عبادات اور مذھبی رسوم سے گہرا تعلق رکھتی ہے اسوجہ سے اس سے عدم احتیاط بڑے نقصانات کا پیش خیمہ بن سکتی ہے،مگر ساتھ ہی مصنف نے یہ بھی کہہ دیا کہ ”مسلم کاسمولوجی اپنے اندر وھی دستانوی خصوصیات رکھتی ہے جو دیگر مذاہب رکھتے ہیں۔ ۔۔۔۔

عرضداشت ۔۔۔۔
خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ مولف مسلم کاسمولوجی میں کس قسم کی داستانوں کی بات فرما رہے ہیں،قرآنی کاسمولوجی کے مطابق خدائے بزرگ وبرتر کی ذات سب سے اعلی وبالا ہے اسکے بعد انبیاء پھر انکے اصحاب کا مقام ومرتبہ ہے اگلا درجہ ملائکۃ اور پھر انسان اپنے اعمال کے مطابق درجہ بدرجہ ہیں،آخر میں کل کائنات ومافیھا کا درجہ ہے۔ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ کائنات وکونیات سے متعلق جو امور منصوص ہیں انہیں قطعی سمجھنا اور ان پر بعینہ ایمان لانا ایمان کا لازمی تقاضا ہے البتہ وہ کچھ جو اس باب میں تخمینوں،اندازوں اور مفروضوں پر مبنی ہے انکا ایمان سے تعلق ہے نہ اسے مسلم کاسمولوجی کہنا درست ہے۔ اگر ہم مسلمان ہیں تو کونیات وکاسمولوجی سے متعلق منصوصات کو داستان نہیں کہہ سکتے اور جو امر منصوص نہیں بلکہ مفروضوں پر مبنی باتیں ہیں انہیں ہم مسلم کاسمولوجی کا نام نہیں دے سکتا،اس تناظر میں مولف کا فرض تھا کہ وہ یا اپنی پوزیشن واضح کرتے یا مسلم کاسمولوجی میں موجود داستانوں کی داستانوی حیثیت پر کھل کر کلام فرماتے مگر ہر دو امور کے اہتمام کے بغیر مولف کو بہرحال وہ نہیں کہنا چاہیے تھا جو انہوں نے کہا۔

جاری ہے

Advertisements
julia rana solicitors

دینی مدارس کی عصری معنویت اور ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کے نکتہ نظر کا ” تحقیقی وتنقیدی جائزہ “۔۔۔۔۔۔(قسط1)ظفرالاسلام سیفی

Facebook Comments

ظفر الاسلام
ظفرالاسلام سیفی ادبی دنیا کے صاحب طرز ادیب ہیں ، آپ اردو ادب کا منفرد مگر ستھرا ذوق رکھتے ہیں ،شاعر مصنف ومحقق ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply