فیمینزم کیا ہے۔۔فرید مینگل/قسط4

SHOPPING

عورت پر پدر شاہی جبر کا مختصر جائزہ

چین جو کہ آج جدید ٹیکنالوجی میں بازی لے جا چکا ہے۔ جہاں سرمایہ دارانہ نظام آہستہ آہستہ خاموشی سے اپنے پیر جمانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ گو کہ کہنے کو تو کمیونسٹ پارٹی کی حکمرانی ہے مگر اس کی پالیسیاں استحصالی ہیں۔ کینیا ہو کہ سری لنکا یا پھر بلوچستان بڑی خاموشی سے چین اپنے سامراجی حکمت عملی کو ” منی ٹریپ“ پالیسی کے تحت بڑھا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت چین اب تک سری لنکن پورٹ ”ہمبنٹوٹا“ اور حال ہی میں کینیا کے پورٹ ”ہمباسا“ پر قبضہ کر چکا ہے۔

جاگیرداری عہد میں اس چین میں بھی عورت مسلسل پدرشاہی جبر کا شکار تھی۔ قدیم چینی سماج میں عورت کو کم تر اور بوجھ سمجھا جاتا تھا اور یہ کہا جاتا تھا کہ عورت ہونا اس کے پچھلے گناہوں کا نتیجہ ہے۔ یعنی کہ پچھلے جنم میں مرد نے گناہ کیے ہونگے اس لیے ان گناہوں کی بدولت اسے اس جنم میں عورت بنا دیا گیا ہے۔

چین میں بچیوں کے پیروں میں لوہے کے جوتے پہنا دیےجاتے تھے تاکہ ان کے پیر چھوٹے رہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ چھوٹے پیروں کے ساتھ عورت کا چلن چینی مرد کی نگاہوں میں رومانی ہوجاتا تھا۔ اس جبر کے سبب بچیوں کا چلنا بھی دشوار ہوجاتا تھا۔ بچیوں کی شادی کے لیے کوئی خاص عمر متعین نہیں تھی۔ جب کہ مرد کو اختیار تھا کہ جب بھی چاہے اسے طلاق دے۔

چینی بادشاہ خود کو آسمان کا بیٹا کہتے تھے۔ اس غرض سے جو بادشاہی محل ( جسے اب عام طورپر ممنوعہ شہر کہا جاتا ہے) میں 9999.5 کمرے تعمیر کیے گئے تھے۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری اپنے سفر نامہ چین ”چین آشنائی“ میں لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ چینی ملّا ” مذہبی پیشوا“ نے کہہ رکھا تھا چونکہ آسمان پر خدا کے محل میں 10 ھزار کمرے ہیں۔ اس لیے زمین پر اس کے بیٹے ”چینی بادشاہ“ کے محل میں 10 ہزار سے کم کمرے ہونے چاہیے۔ ان شاہی محلات میں چین بھر سے خوبصورت عورتوں کو چھانٹ کر لایا جاتا تھا اور وہ زندگی بھر اس میں قید رہتی تھیں۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری مزید لکھتے ہیں کہ ” بادشاہ کے حرم میں صرف 50 دوشیزائیں نہیں ہوتی تھیں۔ بلکہ کوژو عہد سلطانی میں ایک بادشاہ کی تین ملکائیں، نو درجہ اوّل کی داشتائیں، 27 درجہ دوئم کی داشتائیں، 81 نچلے درجے کی داشتائیں تھیں۔ یعنی کہ ایک مرد نے 130 خواتین کو محض اپنی ہوس پوری کرنے کےلیے رکھا تھا۔ اس کے علاوہ کنیزیں اور لونڈیاں اس کے علاوہ ہوتی تھیں۔ ہان اور تانگ عہد سلطانی میں ”شاہی حرم“ میں 9 ہزار عورتیں موجود تھیں۔ اور تانگ عہد سلطانی میں سوآن زونگ کے وقت شاہی حرم میں 40 ہزار عورتیں مردانہ جبر کا شکار تھیں۔

اب ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس شاہی حرم میں عورت کس طرح جبر کا شکار رہی ہوگی۔ فیصلہ سازی، آزادی نمائندگی کے ساتھ ساتھ عورت کے جنسی خواہشات بھی پوری نہیں ہوتی تھیں۔ ان عورتوں کی نگرانی کے لیے ہجڑے ان پر مقرر کیے گئے تھے۔ جو عورت ذرا سی بغاوت کرتی یا آواز اٹھاتی اسے قتل کردیا جاتا تھا۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *