• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • فضلیت مااب جناب کارڈینل جوزف کوٹ صاحب کو چوبیس چراغ کے تحفے کے ساتھ لکھا گیا خط۔۔۔۔اعظم معراج

فضلیت مااب جناب کارڈینل جوزف کوٹ صاحب کو چوبیس چراغ کے تحفے کے ساتھ لکھا گیا خط۔۔۔۔اعظم معراج

فضیلت مآب جناب کارڈینل جوزف کوٹس صاحب
سینٹ پیٹرک کتھیڈریل صدر کراچی
29.9.2019

محترم کارڈینل صاحب سلام
میں آپ کو اپنی حالیہ شائع ہونے والی کتاب ”چوبیس چراغ“ بھیج رہا ہوں میری آپ کی پہلی ملاقات جو کہ 2013ءمیں ہوئی تھی سے لے کر اب تک اس سے پہلے شائع ہونی والی ہر کتاب میں آپ کو خود حاضر ہو کر پیش کرتا رہا ہوں۔ آپ سے پہلی ملاقات نے مجھے خوشگوار حیرت سے دوچار کیا تھا کیونکہ بدقسمتی سے میری آپ سے پہلے کسی ایسے مذہبی راہنما سے ملاقات نہیں ہوئی تھی ،

اعظم معراج

جو حالات حاضرہ ملکی تاریخ سے اتنا آگاہ ہو یقیناً بہت سے ایسے ہوں گے لیکن مجھے ان میں سے آپ سے ہی ملنے کا اتفاق ہوا پہلی ملاقات سے ہی ہمارے درمیان باہمی دوستی کا رشتہ قائم ہو گیا کیونکہ میری کتابوں میں اکثر فوجی ہیروز آپ کے جاننے والے اور کئی اسکول کے ساتھی تھے دوستی، شخصیت اور پیار کا یہ رشتہ یقیناً آپ کی شفیق طبیعت انسان دوستی کا مظہر ہے آپ کی طرف سے یقیناً ان ملاقات کی بنیاد بے لوث اور خلوص پر مبنی تھی۔ لیکن مجھے یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ میری طرف سے یہ اس لالچ پر مبنی تھی۔ کہ آپ کی اس اہم مذہبی ذمہ داری پر تعیناتی سے تحریک شناخت کا پیغام آپ کے زیر انتظام تعلیمی و مذہبی اداروں میں بہت تیزی سے پہنچے گا کیونکہ مجھے یہ خوش فہمی تھی کہ آپ کے ایک انتظامی حکم نامے سے اس فکری تحریک کا بنیادی پیغام چند دنوں میں کراچی کے تعلیمی اداروں اور مذہبی اداروں میں پہنچ جائے گا اور ایسا ہوا بھی ہماری ایک ملاقات میں آپ نے ایک نوجوان فادر انتھونی ابراز کو اشاروں کنائیوں میں کہا ”معراج صاحب کا نوجوانوں سے مکالمہ کرواو جس کی بدولت آج بھی سینٹ جیمس پیرش میں تحریک شناخت کا پیغام گھر گھر پہنچ رہا ہے اسی طرح آپ نے میری موجودگی میں فادر ماریو کو دو تین دفعہ سرسری کہا کہ ڈیوسس کی سطح پر” معراج صاحب کا نوجوانوں سے مکالمہ کرواؤ“۔۔

لیکن وہ کیونکہ جہاں دیدہ راہب ہے اس لئے اسے پتہ تھا کہ یہ ادارے کی پالیسی نہیں اس لئے اس نے بھی کے اس سرسری مشورے نما حکم کو سرسری ہی لیا اور اس ضمن میں کچھ نہیں کیا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں یہ میری کوتاہی ہے۔ کہ میں ہماری ان ملاقاتوں میں آپ کو اس بات پر قائل کرنے میں ناکام رہا کہ یہ معلومات اور نظریہ آپ کے زیر انتظام مسیحی اداروں کے طالب علموں تک منظم ادارتی کوشش سے فوری پہنچنا چاہیے کیونکہ پاکستانی مسیحی نوجوان کی پاکستانی معاشرے میں بیگانگی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور یہ معاشرتی بیگانگی پاکستانی مسیحی کےلئے اس معاشرے میں فکری شعور کی راہیں دن بدن بند کرتی جا رہی ہے اور ایسی معاشرتی بیگانگی بقول بیسویں صدی کے نامور مورخ اور محقق ٹائن بی کے ”دو تہذیبوں میں توازن، ٹھہراﺅ، مقبولیت باہمی اشتراک اور ایکسچینج کے ذریعے آتی ہے۔ اور اپنے خول میں بند سوسائٹیز کی نشوونما رُک جاتی ہے اور وہ ضعف کا شکار ہو کر فناکی طرف بڑھنا شروع کر دیتی ہیں۔“ جب کہ پاکستانی مسیحی کے معاملے میں اس کا دوسرے ہم وطنوں سے تہذیبی رشتہ بھی صدیوں پرانا ہے بس مذہب کا فرق ہے اور تہذیب و تمدن کا تعلق رہن سہن کھانے پینے اور لباس سے ہوتا ہے جبکہ مذہب ایمان ، عقیدے کے ساتھ اخلاقی قدروں اورآپس میں معاملات کا حل سکھاتا ہے اور اس بیگانگی کو دور کرنے کااس سے بہتر اور کیا ذریعہ ہو سکتا ہے کہ پاکستانی مسیحی نوجوان کو اس یقین کے ساتھ ۔

”کہ کوئی بھی فرد یا کمیونٹی کسی ایسے معاشرے میں ترقی نہیں کر سکتے جسے وہ جانتے نہ ہوں اور اپنا نہ مانتے ہوں“۔ لہٰذا ہمیں اپنی نسلوں کو یہ چھ نکاتی سبق پڑھانا ہے۔”تم اس دھرتی کے بچے ہو، آزادی،سندھ و ہند(برصغیر) قیام، تعمیر اور دفاع پاکستان میں آپ کے اجداد کا شاندار کردار رہا ہے۔ لہٰذا اپنے اجداد کے تعمیر و تشکیل اور خاص کر اس کتاب کے مندرجات سے دفاع پاکستان میں قابل فخر کردار کو اپنی شناخت بناو اور دھرتی سے اپنی نسبت کو پہچان کر اس معاشرے کو سمجھ، جان اور اپنا مان کر اس میں فخر سے جیو اور اس میںفکری شعوری، تعلیمی، معاشی، سماجی، معاشرتی،علمی،مذہبی تہذیبی و سیاسی ترقی کرو“۔ اور اپنے نوجوانوں کو ہم یہ دھرتی اور معاشرے سے نسبت اور یہ قابل فخر شناخت میں گندھی معلومات اپنے تعلیمی اداروں کے ذریعے ہی پہنچا سکتے ہیں کیونکہ حکومتی اداروں اور ریاست کی اگر اس طرح کے باریک پہلووں پر نظر ہوتی تو بحیثیت پاکستانی قوم ہماری یہ حالت نہ ہوتی اس لئے ہم یہ کام خود احسن طریقے سے کر سکتے ہیں۔آپ سے ملاقات میں آپ کی اس فکری تحریک اور نظریے میں دلچسپی اور گھنٹوں اس موضع پر دلچسپی سے گفتگو جہاں مجھے خوشی اور جوش جذبے سے بھر دیتی ہے وہی ان میٹنگز اور ملاقاتوں کا اختتام مایوسی اور اداسی پر ہوتا ہے اسی وجہ سے میں نے اس دفعہ آپ سے ملنے کی سعادت کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ملاقات کے بعد والی اداسی زیادہ پریشان کن ہوتی ہے کیونکہ میری کتابیں کسی خاص مقصد سے لکھی ہوئی معلوماتی وارثت پر مبنی ہیں۔ اور ورثہ کسی بھی قسم کا ہو اگر وہ اس کے حق دار تک بروقت نہ پہنچایا جائے تو سب بیکار ہو جاتا ہے اور میری یہ 22سالہ تحقیق اس وراثت کو جمع کرنے کے لئے اس یقین سے تھی کہ جب یہ وراثت میسحی نوجوان تک منظم انداز میں پہنچے گی تو ایک فکری انقلاب آئے گا اور یہ فکری انقلاب دیگر مثلاً شعوری، تعلیمی، معاشی، سماجی، معاشرتی، علمی مذہبی، تہذیبی اور سیاسی ترقی کے دیگر انقلابات کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ اور آپ سے ملاقاتوں کے بعد اداسی کا بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک ایسی ذمہ دار شخصیت جو اپنی ذاتی حیثیت میں اس پروگرام سے سو فیصد متفق بھی ہو وہ اگر اپنی ادارتی حیثیت کو پاکستانی مسیحی میں بے ضرر فکری انقلاب لانے میں بروئے کار نہیں لا رہی تو پھر وہ لوگ جنہیں اس فکری تحریک کے اغراض مقاصد کا ادارک نہیں وہ کیسے اس میں حصہ ڈالیں گے میرے لئے آپ کا یہ رویہ حیران کن ہے کہ آپ اپنی انفرادی حیثیت میں اس فکری تحریک کے لئے رضا کارانہ طور پر کوشاں رہتے ہیں مثلاً پاکستانی مسیحی ہیروز اور شہداءکے پورٹریٹ ملتان کے بشپ تک پہنچانا اور مجھے پرجوش طریقے سے یہ بتانا کہ میں جب بھی اپنے مسلمان ملاقاتیوں سے ملتا ہوں تو اس کمرے میں ملتا ہوں جہاں آپ کے تحفتاً دیئے ہوئے پاکستانی معاشرے میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے مسیحیوں کے پورٹریٹ لگے ہوئے ہیں اسی طرح اپنے ٹی وی انٹرویوز میں ان معلومات کو فخر سے شیئر کرنا مسلمان پاکستانی علماءکے اعزاز میں دی گئی دعوت افطار میں تحریک شناخت کی فکر کو اجاگر کرتی کُتب مہمانوں کو پیش کرنا اور میرے مقصد کو سراہنا لیکن ان سب حوصلہ افزا انفرادی اعمال کے باوجود ادارتی طور پر اس مقصد کو نہ اپنانا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ اس متضاد رویے کے مشاہدے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ صرف نئی سوچ کو اپنانے کا خوف ہی ہو سکتا ہے ممکن ہے میرا مشاہدہ غلط ہو لیکن بظاہر اس کے علاوہ کوئی وجہ نظر نہیں آتی اس میں کوئی شک نہیں ہیں آئین نو سے ڈرنا ایک فطری انسانی عمل ہے لیکن اس کے بغیر انسانی تہذیب کا سفر آگے بھی نہیں بڑھ سکتا اور جو افراد خاندان، قبیلے ،کمیونٹی یا قومیں اپنے مفاد کی کسی نئی سوچ کو بروقت اپنا لیتی ہیں تاریخ گواہ ہے وہ ہی قومیں فائدے میں رہتی ہیں۔ گو کہ یہ مشکل مرحلہ ہوتا ہے شاعر مشرق نے بھی کہا تھا۔
منزل یہ ہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں
طرز کو ہن پے اڑنا آئینِ  نو سے ڈرنا
اگر کوئی اور وجہ نہیں ہے تو پھر آپ کو ضرور اس میں ادارتی کوشش شامل کرنا چاہیے۔

کیونکہ اگر آپکی مذہبی حیثیت کی منظم کوشش اس میں منظم ادارتی آرگنائزڈ کوآرڈینیٹر آرگنائزیشنل ایفروٹ طور پر شامل Organized Coordinated Organizational Effortsبھی ہو تو ہم اس تحریک کے مقاصد جلد حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ بطورِ بشپ تو صرف کراچی آپکی عمل داری میں تھا لیکن اب آپکی کاڈنیل کی حیثیت یقیناً پورے ملک کے کاتھولک تعلیمی اداروں پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور یہ معاملہ بشپ کونسل میں بھی زیر بحث لایا جاسکتا ہے اور اس طرح ہم جو بہت سارے حقوق اور انصاف حاصل کرنے کے لئے اپنی بے تحاشا توانائیاں اور وسائل جھونک دیتے ہیں اس پروگرام یعنی پاکستانی مسیحی بچوں کو انکی دھرتی سے نسبت آزادی ہند قیام تعمیر اور دفاع پاکستان میں انکے اجداد اور موجودہ نسلوں کے کردار سے آگاہ کرنے کے پروگرام کو شروع کر نے میں کسی حکومت سے اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں اور کسی این جی او سے بھیک مانگنے کی بھی ضرورت نہیں بس ہمیں اس بات کو سمجھنا اور اس بات کا ادراک کرنا ہے کہ معلومات اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے ضروری ہیں۔ اس ضمن میں مجھے یاد ہے جب ایک دفعہ آپ نے میرا تعاف فادربونی منڈیس سے کروایا تو ان سے ملاقات میں نے اپنی لمبی چوڑی تقریرکے بعد ان سے پوچھا کہ ہمارے اکثر اسکولوں کے ذمہ دارکہتے ہیں بچے کتب نہیں خرید سکتے تو انہوں نے کہا ”ہمیں ادارک ہونا چاہے یہ ہماری نسلوں کے لئے ضروری ہے کیا ہم نے کبھی سوچا ہے؟ کہ ہمارے بچے کورس خرید سکتے ہیں یا نہیں ؟یقیناً نہیں سوچا ہو گا اس لئے کہ وہ ضروری ہے“ اسی طرح اگر یہ معلومات ہمارے مسیحیوں کی بقا کے لئے ضروری ہیں تو پھر وسائل کا کوئی مسئلہ نہیں“۔بس ادراک کی ضرورت ہے کہ یہ خود شناسی خود انحصاری کا فلسفہ ہماری موجودہ اور آنے والی نوجوان نسلوں کے لیے کتنا ضروری ہے“ اور ہاں اگر میں غلطی پر نہیں تو مجھے لگتا ہے میرے زیادہ اصرار کرنے پر آپ نے مجھے ٹالنے کے لیے یا کسی مصلحت کی وجہ سے اشاروں کنایوں میں مجھے یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں آپکے جونیئرز کو قائل کرنے کی کوشش کروں تو جناب سوچنے کی بات ہے ،کہ جو آپ کی اتھارٹی سے قائل نہیں ہوتے وہ میری گزارش سے کیسے قائل ہونگے اور ہاں یہ بات بھی ہے کہ وہ مجھے تو یہ ہی تاثر دیتے ہیں لیکن آپ کے حکمنامے کا انتظار کرتے ہیں۔ لہٰذا جب آپ اس فکر سے اتنے متاثر ہیں تو پھر اس پر جنگی بنیادوں پر عمل کروائیں ھم بحیثیت کمیونٹی مجموعی طور پر پہلے ہی بہت وقت ضائع کر چکے ہیں آپ کو یاد ہو گا ایک دفعہ آپ نے میرے مشورے پر فون اٹھا کر اپنے ڈیوسس کے سیکرٹری ایجوکیشن کو فون کرکے پاکستان ایر فورس کے پہلے مسیحی شہید کے یوم شہادت پر تمام  سکولوں میں صبح اسمبلی میں خراج عقیدت پیش کرنے کا کہا تھا تیسرے دن آپ کے ایک خط سے یہ کام ہو گیا تھا اور ہمیں حکومت سے اجازت کی بھی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ آپ سوچیں اگر ہم منظم طریقے سے یہ وراثت اپنی نسلوں کو منتقل کر دیں تو جس طرح میں آپ اور اس تحریک کے دیگر رضا کار حیلے بہانوں سے ا پنی اس قابل فخر شناخت کو اجاگر کرنے کا کوئی موقع نہیں گنواتے اگر ہماری آپ کی تھوڑی سی بے ضرر کوشش سے یہ معلومات عام پاکستانی مسیحی تک پہنچ جائیں ہماری وارثت منتقل کے عمل سے ہماری کمیونٹی کا جو براہ راست فائدہ ہو گا اس میں کوئی مشکل ہی نہیں لیکن ان معلومات کے معاشرے میں پھیلنے سے ملک و قوم کا جو بلاواسطہ فائدہ ہو گا مثلاً ہماری این جی اوز مذہبی ہم آہنگی پر کروڑوں روپیہ خرچ کرتی ہیں ان معلومات سے نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا بلکہ ہمیں معاشرتی و سماجی ہم آہنگی کے فوائد بھی حاصل ہوں گے اور ہمیں بطور پاکستانی قوم معاشرتی و سماجی ہم آہنگی کی اس وقت بہت ضرورت ہے۔ اس پروگرام کی شروعات کے لئے کوئی لمبے چوڑے چندوں کی بھی ضرورت نہیں یعنی اس خود آگاہی، خود شناسی کی فکر میں خود انحصاری کا درس بھی ہے۔

ورنہ جیسے میں میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اس فکر نے مسیحیوں کے گھر گھر پہنچناتو ہے اورپہنچ بھی رہی ہے بس میری اور آپکی زندگی میں اس پر عمل شروع ہو جائے تو بہتر ہے میرے لیے خوشی کا باعث ہو گا اور اس تاریخی انقلابی قدم کو اٹھا کر آپ اس حوالے سے بھی تاریخ میں امر ہو سکتے ہیں۔آپ سے ملاقاتوں کے بعد اداسی یا مایوسی کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک ایسی صاحب اختیار شخصیت جو اس سوچ و فکر سے متاثر بھی ہے ذاتی حیثیت میں عملی طور پر اس کو پھیلا نے میں بھی کوشاں ہے اگر وہ ادارتی سطح کی منظم کوشش سے گریزاں ہے تو پھر ملک بھر کے دوسرے مسیحی مسالک کی مذہبی و سماجی شخصیات کیسے اسے اپنے ایجنڈوں میں فوقیت دے سکتے ہیں لیکن ایک بات بڑی حیران کن اور تحقیق طلب ہے کہ پاکستان و دنیا بھر میں پھیلے ہوئے عام مسیحی چاہے ان کا تعلق کسی بھی مسیحی مسلک سے ہو کسی بھی معاشی یا معاشرتی طبقے سے ہو وہ اس فکر کو پھیلانے میں پیش پیش ہیں لیکن جن مذہبی سیاسی سماجی لوگوں کے ہاتھ میں وہ پلیٹ فارم ہیں مثلاً تعلیمی ادراے مذہبی ادارے سیاسی پلیٹ فارم سماجی بھلائی کے نام پر چرچ کے زیر کنٹرول چلنے والے سماجی بھلائی کے ادارے ان تمام اداروں کے ذمے داران باقاعدہ طور پر اس فکر اور مسیحی نوجوانوں کے درمیان دیوار بنے ہوئے ہیں حالانکہ ان اداروں کو استعمال کرکے ہم تھوڑی سے کوشش سے صدیوں میں حاصل ہونے والے نتائج دھائیوں اور دھائیوں والے سالوں اور مہینوں میں حاصل کر سکتے ہیں یہ فکر انتہائی بے ضرر ہے اور کہیں بھی کسی کے مفادات سے متصادم نہیں ہے۔یہ صرف خود آگاہی وخود انحصاری کا فلسفہ ہے جس میں بقول علامہ اقبال
جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
جس میں دھرتی سے نسبت اور اس ملک قوم و معاشرے کی تعمیر و تشکیل ترقی اور اسے بنانے سنوارنے میں اپنے اجداد اور موجودہ نسلوں کے شاندار کردار کی شناخت کروا کر ان کے لیے پاکستانی معاشرے میں فکری، شعوری، تعلیمی، معاشی، معاشرتی، سماجی، علمی، تہذیبی، مذہبی وسیاسی کی ترقی کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش ہے اور یقیناًیہ فکر انکے اور انکے بچوں کے لئے بھی باعث فخر ہے جو اس کے پھیلاؤ  میں رکاوٹ ہیں اور رکاوٹ بھی وہ ادارتی سطح پر ہیں ذاتی حیثیت میں یہ صاحبان بھی اس کوشش کو سراہتے ہیں اور اس کو پھیلانے میں تھوڑی بہت تگ و دو بھی کرتے ہیں۔ فضلیت مآب اس لئے میں اس دفعہ خود حاضر ہوکر کتاب پیش کرنے کی بجائے تحریک شناخت کے اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں بھیج رہا ہوں۔اس کا قطی یہ مطلب نہیں کے میں اپنے مقصد سے ہٹ گیا ہوں یا مایوس ہو گیا ہوں۔ ہاں آپ کے رویے سے مایوس ہوں لیکن جب بھی اس جدوجہد میں کبھی ایسا مقام آتا ہے تو میں فوراً سوچتا ہوں۔ یہ فکر میں نے کسی بھی ایک فرد پر انحصار کر کے تو شروع نہیں کی لہٰذا میں اور میرے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ساتھی اپنے مقصد پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اس بات پر کامل یقین سے ڈٹے ہیں کہ کسی بھی مثبت مقاصد والی فکر کے بیج مسلسل اور یقین سے بوتے رہنا چاہیے ایسے زمانے ضرور آئیں گے جب لگن محنت صبر ریاضت سے ان بیجوں کی آبیاری ہو گی تو ان میں سے ضرور معجزوں کی کونپلیں پھوٹیں گی کیونکہ ایسی فکروں کے بیج کبھی مرتے نہیں جن میں اجتماعی انسانی فلاح کا پہلو ہو۔ مجھے یقین ہے آج نہیں تو کل یہ کوششیں رنگ لائیں گی۔ اور لا بھی رہی ہیں بس ذرا دیر ہو جائے گی۔

اس دیر کے تین نقصانات ہوں گے۔ پہلا مجھے یقین ہے چند سال بعد چرچ پاس کاریگر لوگوں میں  سے کوئی ان کتب کا چربہ کرکے اپنے مفاد کی خاطر اسکولوں کے نصاب میں شامل کروا لیں گے جبکہ یہ ہی کام اب ہو جائے تو اس سے اس فکری تحریک زیادہ فعال ہو جائے گی۔ دوسرا۔۔یہ کہ اگر پندرہ بیس سال بعد جب ان میں سے کوئی نوجوان جس کو آج میں اور میرے ساتھی مذہبی، سیاسی و سماجی راہنماوں کو باقاعدہ چکمے دے دے کر یہ معلومات پہنچا رہے ہیں ان میں سے کوئی جب بشپ کارڈنیل پوپ یا سماجی کارکن،صاحب اقتدار، سیاسی کارکن بنے گا تو یہ خود آگاہی کا سبق تاریخ کے جبر کی بدولت ارتقائی عمل سے گزر کر مستقبل کی نسلوں تک پہنچے گا اس سے وہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ کیونکہ ایولیشن (ارتقائی ) اور ریولیوشن (انقلاب)بظاہر ایک دوسرے کے متضاد عمل ہیں لیکن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بھی ہیں اگر انقلاب کا عمل بغیر کسی انقلابی فکر و پروگرام کے صرف کسی بھی قسم کے جبر،تعصب کے ردِعمل میں ہو اور وہ تیزرُوہونے کے باوجود ارتقائی عمل سے نہ گزرے تو اس ضمن میں دی گئی قربانیاں ضائع اور نتیجہ انارکی کی صورت میں نکلتا ہے اسی طرح ارتقائی عمل بھی اگر بغیرکسی انقلابی فکر اور نظریے سوچ وفکر کے اپنا سفر طے کرتا ہے تو پھر وہ کسی ایسی منزل پرہی پہنچتا ہے جہاں زمانے کا جبر اور مفاد پرستوں کی تعین کردہ سمتیں اسے لے جاتی ہیں“۔

اس لئے آج اگر اس فکر میں ادارتی کوششیں شامل ہو جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ پاکستانی مسیحیوں کے معروضی حالات کے پیش نظر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ نہایت مثبت مقاصد کا ورثہ انتہائی منفی مقاصد کے لئے استعمال ہو کر پاکستانی مسیحیوں کی سماجی، معاشرتی انارکیوں اور محرومیوں کا مزید سبب بھی بن سکتا ہے اور یہ ہی معلومات منفی نقطہ نظر سے پیش کی جائیں گی تومحرومیوں کے سوادگروں کے لئے اثاثہ ثابت ہوں گے۔ ان کے یہ اثاثے ان خاک نشینوں کے لئے اور پستیاں لاتے ہیں۔ کیونکہ مقصد ذاتی مفاد ہو گا تو اجتماعی فوائد کیسے حاصل ہو سکتے ہیں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب سے تحریک شناخت کے پلیٹ فارم سے یہ معلومات منظم انداز میں منظر عام پر آنا شروع ہوئی ہیں۔ 23مارچ، 14اگست اور 6ستمبر کی تقریبات بڑی دھوم دھام سے منعقد ہوتی ہیں لیکن ان کے مقاصد زیادہ تر اپنے بچوں کو فخر دینے کی بجائے سرکار اور ریاست کو طعنے ، مینے دینا ہوتا ہے اس لئے نہایت ہی جانفشانی سے اکٹھی کی گئی وراثت منفی مقاصد کے لئے استعمال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

تیسرا ۔۔سب سے بڑا نقصان یہ ہے میں اور میرے ساتھی جب آپ جیسے لوگوں کو قائل نہیں کرپاتے تو اپنے آپ کو ان طالب علموں کا مجرم سمجھتے ہیں جو خود شناسی کا یہ اہم سبق لئے بغیر آپ کے زیر انتظام اسکولوں کالجوں اور سیمنریوں سے فارغ ہو کر عملی زندگی میں داخل ہو رہے ہیں۔کیونکہ یہ معلومات پاکستانی مسیحیو ں کو وہ خود اعتمادی دیتی ہے جوکسی بھی فرد کو کسی بھی معاشرے میں عزتِ سے جینے کی راہ دکھاتی اور سکھاتی ہے۔ میری نظر میں پاکستانی مسیحیوں کے سماجی و مذہبی اداروں کے ذمہ داروں کی سستی یا بے حسی کی بدولت سب سے بڑا نقصان یہ ہی ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں فکری شعوری بیداری میں لوگوں نے کم ہی مذہبی اداروں کو استعمال کیا ہے تو میں کیوں مذہبی اداروں کے ذمہ داروں کو زور دیتا ہوں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں جہاں کہیں اس طرح کی فکری تحریک شروع ہوئی مثلاً برصغیر کی ہی مثال لے لیں تو سر سید کی فکر میں کمیونٹی کے عام مسلمان، مخیر حضرات اوربرصغیر کے مسلمانوں کی اشرافیہ کھڑی تھی اور مذہبی لوگ اس کی مخالفت کر رہے تھے اور دنیا بھر میں ایسا ہی ہوا لیکن پاکستانی مسیحی تاریخ انتہائی مختصر یعنی بامشکل ڈیڑھ پونے دو سو سال اور پھر تاریخی طور پر مالی و شعوری مفلسی اور پاکستانی مسیحی کا دین دنیا سب کچھ یہ ادارے ہیں اور پاکستان میں مسیحیت کا وجود ان اداروں سے پھوٹا ہے اور پاکستانی مسیحیوں کے پاس عمومی طور پر ہر چیز انہی اداروں کی بدولت ہے اور معروضی حالات بتاتے ہیں ان اداروں پر انحصار کی مجبوری کی وجہ سے پاکستانی مسیحیوں کے پاس جو کچھ نہیں ہے وہ بھی انہی اداروں کی بدولت ہے۔ گوکہ ایسی فکری ، شعوری، تعلیمی اور کسی قسم کی بھی اشرافیہ ہزاروں سال کے ارتقائی عمل سے گزر کر وجود میں آتی ہے اور ظاہر ہے ایسے افراد ہمارے ہاں بالکل نہیں پائے جاتے اس کی بہت سی برصغیر کے سماج کی تاریخی وجوہات ہیں اور جن چند لوگوں نے گرجے کی بدولت یا گرجے سے ہٹ کر تھوڑی بہت کسی بھی قسم کی ترقی کر لی ہے۔ان افراد کو انفرادی شناخت کو نمایاں کرنے کے مسائل و دیگر سینکڑوں ایسی سماجی اور معاشرتی بیماریوں کا سامنا ہے لہٰذا ایسی صورت حال کے ہوتے ہوئے پاکستانی مسیحیوں کی اجتماعی بھلائی کے لئے کسی بھی کام کے لئے ہر فرد ان مذہبی اداروں کا مرہون منت ہے اور آپ کے پیشروں نے اس ضمن میں معجزاتی کام انجام بھی دیے ہیں جن میں برصغیر اور خاص کر پاکستانی کے اجداد کو ہزاروں سال کے تاریخ کے جبر کی بدولت سماجی پستیوں سے نکال کر مسیحیت کی شناخت دیناہے اور ان پسے ہوئے لوگوں کی سماجی بھلائی کے لئے ادارے قائم کرنا جن میں تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ پنجاب میں47اور سندھ کے 6 مسیحی دیہات ہیں لیکن سب سے بڑا احسان یقینا مسیحی شناخت دینے کا ہے۔ وہ چاہے کسی بھی مسیحی مسلک کے مسیحی مشنیروں نے کیا ہو لہٰذا پاکستانی مسیحی سماج کی بنت ایسی ہے کہ جس کی ہزاروں وجوہات ہیں اور یہ ایک پورے مقالے کا موضع ہے۔ لہٰذا مذہبی اداروں کا تعاون کے بغیر ایسی کسی بھی فکر کا انقلابی ارتقائی عمل سے گزرنا نہ ممکن تو نہیں لیکن صبر آزما اور دشوار ہے اس لئے میں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی انفرادی کوششوں میں اجتماعی ادارتی کوشش کو شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیتا ہوں۔

کیونکہ جس طرح عام مسیحی مثلاً اس سماجی آگاہی کی مہم میں شاملِ ہوگیا ہے یہ تحریک اپنے مقاصد حاصل کر کے رہے گی۔ آپ کے زیر انتظام دیگر اداروں کے ساتھ سینٹ پیٹرک کالج اس میں بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ ایک تو وہاں کراچی بھر سے طالبات اور طالب علم آتے ہیں دوسرے وہاں کے تقریباً مسیحی و غیر مسیحی اساتذہ اس فلسفہ خود آگاہی سے متفق ہیں پرنسپل سمیت کئی اساتذہ اپنی ذاتی حیثیت میں یہ ورثہ مسیحی طالب علموں میں منتقل کرنے میں کوشاں رہتے ہیں لیکن منظم ادارتی پروگرام نہ ہونے کی وجہ سے وہ نسلوں کی بہتری کا کام بھی چوری چھپے انجام دیتے ہیں۔ جبکہ یہ انتہائی بے ضرر اور مثبت مقاصد والا کام ہے سینٹ پیٹرک کی ٹیم کے ساتھ ہم سی ایس ایس کی راہنمائی کا پروگرام ترتیب دے سکتے ہیںاور پھر افواج پاکستان میں کمیشن کےلئے جس طرح آپ کی نوجوانی میں سینٹ نتھنی اسکول لاہو رمیں افواج پاکستان میں شمولیت کے لئے نوجوانوں کو ترغیب دی جاتی تھی اسی طریقے کا پروگرام یہاں بھی شروع کیا جا سکتا ہے اس طرح میں اپنی بات پھر دہراتا ہوں اگر ہم نے ایک بار ذہنوں میں فکر کے بیج بو دیے اور پھر ان بیجوںکی لگن محنت، ریاضت اور عمل سے مسلسل آبیاری کرتے رہے تو معجزوں کی کونپلیں ضرور پھوٹیں گی اور پاکستانی مسیحیوں کی ہر طرح کی محرومیوں کا مداوا ہو گا۔

میں کیونکہ1997ءسے تحریک شناخت کے بینر تلے منعقدہ فکری نشستوں میں پاکستانی مسیحی نوجوانوں کو روشن مثالوں کے ذریعے سے ان کی فطری استعداد اور رجحان کے مطابق روشن مثالوں کے ذریعے ایسے پیشوں میں جانے کے لئے قائل اور مائل کر رہا ہوں جن میں جانے سے پاکستانی مسیحی پاکستانی معاشرے میں زیادہ ترقی کر سکتے ہیں۔ ان نشستوں میں بالخصوص سی ایس ایس افواج پاکستان کمیشن کے لئے منعقدہ امتحانات میں شمولیت کی ترغیب دے رہا ہوں جن پیشوں میں بطور مسیحی پاکستانی معاشرے میں زیادہ کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ سی ایس ایس مقابلے کے امتحان کیلئے بالخصوص اس لئے ضرور دیا جاتا ہے کہ مقابلے کا یہ امتحان ہر سماجی معاشرتی اور معاشی پس منظر کے پاکستانی نوجوان، خواتین و حضرات کے لئے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستانی مسیحی پاکستان بھر میں بہت سے تعلیمی اداروں کے مالک ہیں۔ اس کے باوجودپاکستان کی سول سروس میں مسیحیوں کی تعداد پچھلے 72سالوں میں نہایت ہی قلیل رہی ہے۔ یہ یقینا ًایک لمحہ فکریہ بھی ہے اور وجوہات کی کھوج کا تحقیق طلب پہلو بھی کہ ایساکیوں ہے؟۔ ہمارے یہ ادارے ہمارا ایسا ورثہ اور اثاثہ ہیں جنہیں استعمال کرکے ہم ایک فکری انقلاب برپا کر سکتے ہیں یہ ادارے ہماری موجودہ نوجوان اور آنے والی نسلوں کی بقا اور ترقی کی ضمانت ہیں بس انہیں استعمال کرنے میں پہل کریں۔ اسلام آباد ڈیوائسس کا سی ایس ایس (مقابلے کے امتحان کے لئے) کی مسیحی نوجوان بچی بچوں کےلئے راہنمائی یقینا اس طرح کی منظم ادارتی کوشش سے پروگرام شروع کرنااحسن قدم ہے اور اس سے پاکستانی مسیحیوں کے مجموعی حالات میں بہت بہتری لائی جا سکتی ہے اور اس میں پہل کرنے پر بشپ جوزف ارشد مبارکباد کے مستحق ہیں اور دیگر ڈیوسس کو بھی ایسے اقدامات کرنے چاہیے۔
آخر میں میں نے جو اپیل اس کتاب کے صفحہ نمبر دو پر پاکستان بھر کے مسیحیوں سے کی ہے وہ آپکے گوش گزار کرتا ہوں۔
آئیں ان چوبیس اوردیگرایسے ہزاروں چراغوں کی روشنی کو نوجوان مسیحیوں میں پھیلائیں تاکہ صدمے مایوسی اور فرار کی ذہنی کیفیت میں ڈوب کر معاشرتی بیگانگی کا شکار ہوتے ان دھرتی واسیوں کی روحوں کوان کی روشنی سے منور کرکے ان میں عزم، حوصلے اور اُمید کی شمعیں جلا کر ان کے لئے ان کے آباءکی سرزمین پر فکری، شعوری، تعلیمی، معاشی،سماجی ، معاشرتی،علمی، مذہبی، تہذیبی اور سیاسی ترقی کے لئے راہیں ہموار کی جا سکیں۔

والسلام
آپ کی دعاؤں کا متمنی

اعظم معراج!

تعارف:اعظم معراج پیشے کے اعتبار سے اسٹیٹ ایجنٹ ہیں ۔13 کتابوں کے مصنف ہیںِ جن میں  ، پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار۔دھرتی جائے کیوں پرائے،شناخت نامہ،اور شان سبز وسفید نمایاں ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *