تمی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟۔۔۔ماریہ تحسین

آج ایک ویڈیو کلپ نظر سے گزرا جو متعدد احباب نے فیس بک پر شئیر کیا ہوا تھا۔ معاشرے میں یہ عادت رواج پا گئی ہے کہ جو شئے ہاتھ لگے بس دھڑا دھڑ پھیلاتے جائیں۔ بن دیکھے، بن سوچے کہ آیا پھیلائی جانے والی اس ویڈیو، تحریر کا معیار کیا ہے۔ یہ کیسا رنگ بکھیرے گی؟ شاید بھد اڑانا مقصود ہو۔ خیر ویڈیو کلپ دیکھنے کے بعد میرے لیے یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ یہ ایک ذمہ دار شخص کی گفتگو ہے یا غیر ذمہ دار شخص کی۔ یہ خطاب تھا یا تمسخر؟
عزت مآب وزیراعظم عمران خان صاحب کو بلاول بھٹو کی نقل اتارتے دیکھا۔ ہو بہو اسی انداز میں بولے ہیں، جیسے بلاول بھٹو بولتے ہیں۔ عمران خان صاحب ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے اور سامعین ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ عمران خان صاحب بھی اسی قوم میں سے ہیں جو یوتھیا اور پٹواری جیسی اصطلاحات کے بغیر ایک دوسرے کو پکارتی ہی نہیں۔ کچھ سال پیچھے جائیں تو لفظ “جیالے” پیپلز پارٹی کے کارکن کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے جو کہ ایک مہذب لفظ تھا اب مذاق بن گیا۔عمران خان صاحب کے انداز پر تنقید سے پہلے ذرا پاکستان کے عمومی شہریوں کے لب و لہجےاور الفاظ کے انتخاب کا جائزہ لے لینا چاہیے کہ بحیثیت  قوم ہم صرف” بات کرنے کے انداز” میں کس قدر مہذب ہیں۔ پھر سوشل میڈیا کا چکر لگا لیں تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہم شعور کی شین سے بھی ناواقف ہیں۔ لفظ مہذب ہمیں دیکھ کر شرماتا ہے۔ باقی زندگی میں معاملات تو پھر کس حال میں ہوں گے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تاحال ہم انداز گفتگو ہی نہ سیکھ پائے۔

آپ کسی بھی فیس بک صفحہ پر کمنٹس سیکشن کو دیکھیں تو انتہائی نامناسب انداز میں بات، یہاں تک کہ گالیاں تک لکھی ہوتی ہیں۔ لعنت ملامت تو خاصا سمجھیے۔ ایک یہ بات کہ بولتے ہوئے لفظ بولا اور ہوا کی لہروں میں بکھر گیا اور ایک یہ بات کہ لفظ لکھا اور آنکھوں کے سامنے موجود ہے، پھر بھی اپنے ہی ہاتھوں سے لکھے غلیظ الفاظ کودیکھ کر کراہت محسوس نہیں ہوتی اور اگر یہ کہا جائے کہ اس گالم گلوچ میں نہ صرف نوجوان بلکہ عمر رسیدہ افراد بھی صف اول میں شامل ہیں، تو یہ غلط نہ ہوگا۔

سوچنا چاہیے کہ کیا ہم مہذب قوم ہیں؟ ہم پی ٹی آئی کے کارکن/ہم خیال ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام یا جماعت اسلامی کے، کیا ہم اختلاف کی اجازت دیتے ہیں؟ کسی سے رائے کا اختلاف رکھ بھی سکتے ہیں؟ ہم ایسا کیوں چاہتے ہیں کہ جیسی ہماری سوچ ہے ویسے سب سوچتے ہوں؟ یا جو ہم سوچ رہے ہیں اسی اندازمیں تمام لوگ سوچنا شروع کردیں۔

اگر کوئی شخص ہم سے مختلف نقطہ نظر رکھتا ہے۔ کسی بھی بات کا ان کا پوائنٹ آف ویو جدا ہے تو کیا ان کی پوسٹ کو اگنور کر کے خاموشی سے نہیں گزرا جا سکتا؟ ضروری ہے کہ آپ فوراً کمنٹ باکس میں الجھیں اور بحث برائے بحث شروع کردیں۔ جو وقت کا ضیاع بھی ہے اوراپنے اندر کی غلاظت کو “غلیظ” انداز میں باہر نکالنے کا ذریعہ بھی۔ اپنی اصلیت پر سوالیہ نشان لگانا کیا ضروری ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا نقطہ نظر درست ہے یا ہماری معلومات درست ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اپنے نقطہ نظر کے حق میں دلائل کے ساتھ ایک تحریر لکھیں اور شیئر کر لیں۔

اگر ہمیں ایک مہذب قوم بننا ہے تو فوری طور پر اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ سوشل میڈیا پر گزرتے وقت میں خود پر نظر رکھنی ہوگی۔ خود کی تربیت کرنی ہوگی۔ کچھ تجاویز گوش گزار کرتی ہوں۔ اس سے ماحول کو کچھ بہتر کیا جا سکتا ہے۔
١- ہم یہ لازم کر لیں کہ درست اور حقیقت پر مبنی پوسٹ لگائیں گے جس کا حوالہ/ مصنف/ شاعر کے نام کی آپ تصدیق کر چکے ہوں گے۔ اس طرح سے ایک تو مصنف کی حق تلفی نہ ہوگی اور دوسرا یہ کہ “جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈہ” نہیں پھیلے گا۔ کسی بھی پروپیگنڈا کا حصہ نہیں بنیں گے۔
٢۔ کوئی بھی پوسٹ کسی بھی شخص/ گروہ کا مذاق اڑانے کے لیے نہ لگائی جائے گی۔
٣۔ ضروری نہیں ہے کہ سارا مواد سنجیدہ نوعیت کا ہو، مزاح / لطائف ایسے ہوں کہ بس مزاح ہی رہے اور کسی کی دل آزاری نہ ہو۔
۴۔ اپنے شیئر کیے گئے مواد پر تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں گے۔ تنقید کو خاموشی سے برداشت کریں یا پھر بہترین انداز میں دلائل کے ساتھ جواب دیں۔ الجھنے سے گزیر کریں۔
۵۔ کسی کی بھی پوسٹ پر کمنٹس سیکشن میں کوئی فرد ناشائستہ الفاظ استعمال کرے تو ہر فرد جو اس کمنٹ کو دیکھے، فوراً ناشائستہ الفاظ استعمال کرنے والے اکاؤنٹ کو رپورٹ کردے/_بلاک کر دے اس طرح فیس بک انتظامیہ رپورٹ ہونے والی آئی ڈی کو خودبخود بلاک کر دے گی اور انشاءاللہ بہت سارے ایسے افراد کا سوشل میڈیا سے صفایا ہو جائے گا جو ناشائستہ زبان استعمال کرتے ہیں۔
٦- اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ سے وقتا فوقتا انداز گفتگو کے آداب شیئر کرتے رہیں تاکہ لوگوں کو یاد دہانی ہوتی رہے۔
> تہیہ کریں کہ تمسخر، مذاق، دل آزاری سے اجتناب کرتے ہوئے۔ اصولوں کے تحت سوشل میڈیا پر وقت گزاریں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *