اکھانڑاں نی کھوج وچ۔۔۔طارق بٹ

عمر کے اس حصے میں یاداشت اکثر دھوکا دینے لگتی ہے مگر لکھنے بیٹھا تو مدت پہلے تحریر کردہ قصہ یوں سامنے آ گیا جیسے کبھی بھولا ہی نہ تھا،ڈرون کیمرے نے پرواز لی اور چند لمحات ادھر ادھر گھوم کر اپنے پر کھولے پھر ایک انگڑائی لینے کے بعد طویل غوطہ لگاتے ہوئے ایک جگہ فریز ہو گیا منظر دیدنی تھا بکھرے بالوں اور میلے کچیلے لباس میں ملبوس وہ شخص شہر کے بیرونی دروازے کے اندرونی جانب چوکڑی مارے بیٹھا تھا ہاتھ میں جوتا اٹھائے ہر آنے جانے والے سے التجا کر رہا تھا آپ کو آپ کی ماں کا واسطہ جاتے جاتے مجھے سات جوتے لگاتے جائیں کچھ لوگ اس کی التجا سن کر رک جاتے اور اسی کے جوتے سے اس کی فرمائش پوری کر کے آگے بڑھ جاتے اور کچھ اس کی التجاوں کو خاطر میں لائے بغیر اپنا راستہ لیتے میں حیران کہ آخر ماجرا کیا ہے ڈرون کیمرے کو مزید نیچے کیا اور آواز بھی بڑھا دی اتنے میں ایک کہانی کار دکھائی دینے والا شخص اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا پھر ان دونوں کی گفتگو سے ساری کتھا میری سمجھ میں آ گئی –

کہانی کار نے اس سے پوچھا درویش قصہ کیا ہے کیوں ہر راہ گزر کے سامنے اپنا جوتا اور اپنا ہی سر پیش کیئے دیتے ہو وہ بولا سننا ہی چاہتے ہو تو سنو میں وہ بد نصیب ہوں جسے ایک حسین و جمیل لڑکی سے عشق ہو گیا میں اسے اپنا شریک سفر بنانا چاہتا تھا مگر اس ظالم نے ایسی شرط رکھ دی جو پوری کرنا میرے بس میں نہ تھا میں نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور ہر وقت گم صم رہنے لگا ایک دن ماں نے ماجرا پوچھا تو میں نے بتا دیا کہ ماں وہ ظالم حسینہ اپنے آپ کو میرا بنانے کے لئے تمہارا دل مانگتی ہے ماں تو ماں ہوتی ہے صاحب اس نے کہا یہ کون سی بڑی بات ہے ماں کا تو سب کچھ ہوتا ہی اولاد کا ہے تو مجھے مار کے میرا دل لے جا اور اسے اپنا لے بس صاحب ماں کا یہ کہنا تھا کہ شیطان مجھ پر غالب آ گیا میں نے ویسا ہی کیا ماں کا دل نکال کر میں بھاگا بھاگا اپنی زندگی کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک مجھے ٹھوکر لگی اور میں دھڑام سے گرا میرے ہاتھ سے ماں کا دل بھی زمین پر گر گیا دل سے آواز آ رہی تھی بیٹا چوٹ تو نہیں لگی بیٹا چوٹ تو نہیں لگی بس صاحب وہ دن تھا اور آج کا دن میں اپنے بخت کو پیٹتا ہوں اور عقل کو پٹواتا ہوں “۔

مذکورہ داستان ایک نالائق اور ناہنجار بیٹے کی تھی جسے ماں کا مرتبہ معلوم نہیں تھا تو اسے ماں کی محبت کا خاک پتا ہوتا اب ذکر چلے گا اس بیٹے کا جس کی ماں نے اسے پروان چڑھاتے ایسی تربیت کی کہ نہ صرف جنم دینے والی ماں کی قدروقیمت دل میں گھر کر گئی بلکہ ماں بولی سے محبت کا ایسا درس ملا کہ قلم ہاتھوں میں لیتے ہی اس نے ماں بولی کی ترویج پر مائل کر دیا میری مراد نوجوان پوٹھوہاری صحافی اور قلم کار فیصل عرفان ہے اس نوجوان نے ماں اور ماں بولی سے محبت کے اظہار کے لئے اس کٹھن راستے کا انتخاب کیا جس پر چلنے سے بڑے بڑے قلم کاروں کو پاوں میں چھالے پڑنے کا اندیشہ انہیں چپ سادھنے پر مجبور کرتا رہا –

مصنف:طارق بٹ

” پوٹھوہاری اکھانڑ تے محاورے ” فیصل عرفان کی وہ تخلیق ہے جسے صحیح معنوں میں قطرہ قطرہ اکٹھا کر کے دریا بنانا کہا جا سکتا ہے کہ ایک ایک اکھانڑ کی تلاش میں اسے کس کس گاؤں اور ڈھوک کا سفر نہیں کرنا پڑا ہو گا اس دوران میں یقیناً کسی نہ کسی گاؤں یا ڈھوک میں کسی نہ کسی مجھ جیسے کھڑوس بابے سے بھی پالا پڑا ہو گا جس کو آٹھ دس اکھانڑ تو یاد ہوں گے مگر وہ انہیں اپنی میراث بنا کے بکل میں باندھ کر بیٹھا ہو گا اور کسی بھی قیمت پر آگے منتقل کرنے کو تیار نہ ہو گا ایسے میں عزیزی فیصل عرفان کو کتنی منتیں اور ترلے کرنے پڑے ہوں گے درویش سوچتا ہے تو ایسے کام کے آغاز سے پہلے ہی کانوں کو ہاتھ لگا کر دم سادھ کر بیٹھ جاتا ہے –
میرا ڈرون کیمرا وہاں کا منظر دکھانے سے قاصر ہے لہذا میں تصور کی آنکھ سے وہ منظر دیکھ سکتا ہوں کہ ایک دور دراز کی ڈھوک میں ایک نوے سالہ مائی صاحبہ کی تلاش میں فیصل عرفان پہنچا کہ کہیں سے معلوم پڑا تھا کہ ان مائی صاحبہ کے پاس بھی چند انمول اکھانڑ محفوظ پڑے ہیں جو وہ موقع کی مناسبت سے استعمال کرتی رہتی ہیں فیصل عرفان ڈھوک تک تو پہنچ گیا مگر مائی صاحبہ تک کیسے پہنچے کہ ان کے ہاں پردے کی شدید پابندی، ایسے موقع پر وسیلہ کام آتا ہے کہ مائی صاحبہ کا پوتا ان سے سن کر فیصل تک پہنچائے اور فیصل اپنی ڈائری میں نوٹ کرتا جائے مگر مائی صاحبہ کے پوتے سے چھوٹی عمر کا فیصل ان تک رسائی حاصل نہ کر پائے اور کف افسوس ملتا رہ جائے کہ شاید مائی صاحبہ کے پاس سے براہ راست مزید بھی کچھ مل پاتا اسی لئے تو عرض کیا کہ یہ کوئی سوکھا کام نہیں جس کا بیڑہ اس سچے پوٹھوہاری بیٹے نے نہ صرف اٹھایا بلکہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر دم لیا-
مواد اکٹھا ہو گیا سکھ کا سانس لیا کہ مشکلیں آسان ہو گئیں چھان بین اور توضیحات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے یہ بھی ایک کٹھن مرحلہ مگر ماں بولی سے محبت نے اس پتھریلے راستے کو بھی آسان بنا دیا کہ سچی لگن سے دماغ کے بند دریچے کھلتے چلے گئے ایک گراں قدر سرمایہ اکٹھا ہو گیا مگر کیا مقصود صرف اکٹھا کرنا تھا؟ جی نہیں اب تو یہ سب فیصل کے پاس امانت تھا اگر اپنے پاس ہی رکھتا تو خیانت ہوتی اس بیش قیمت خزانے کو ہر پوٹھوہاری تک پہچنا چاہیے مگر اس کے لئے مایہ ضروری کہ اس کے بغیر تو پوٹھوہاری اکھانڑ تے محاورے کتابی صورت میں سامنے نہیں آ سکتی تھی رب کائنات نے سبب فرما دیا کہ وہی اختیار رکھتا ہے کتاب تیار ہو گئی مارکیٹ میں دستیاب ہے امین فیصل نے اپنا فرض پورا کر دیا کہ سالوں کی محنت سے اکٹھا کیا پوٹھوہاری اکھانڑ خزانہ ہم پوٹھوہاریوں کی رسائی کے لئے بک اسٹالوں پر سجا دیا اس نے اپنے آپ کو امین ثابت کر دیا اب ذمہ داری میری اور آپ کی کہ اس بے بہا قیمتی تحفہ کو بک اسٹال پر پڑا نہ رہنے دیں خریدیں اور اس سے نہ صرف خود مستفید ہوں بلکہ اپنی اس نئی نسل کو بھی اس جانب مائل کریں جنہیں اپنی ماں بولی کا ایک لفظ تک نہیں آتا کہ اسکول میں وہ منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بولتے ہیں اور گھر میں اردو اگر کبھی غلطی سے دادا، دادی یا نانا، نانی سے سنا ہوا کوئی ایک بھی لفظ لاڈ پیار میں انہی کو لوٹا رہے ہوں تو جدید دور کے مما پپا کی ڈانٹ سے آئندہ کے لئے تائب ہو جاتے ہیں ایسی اولادیں امریکہ یا برطانیہ منتقل ہو کر دادا، دادی کے ساتھ ساتھ مما پپا کو بھول جاتی ہیں کہ جنہیں ماں بولی سے پیار نہیں ہوتا انہیں ماں سے بھی پیار نہیں ہو سکتا وہ کسی من موہنی صورت کے لئے ماں کا دل تو نکال سکتی ہیں ماں کا دل رکھنے اور اس کا مان بڑھانے کے لئے فیصل عرفان کی طرح اکھانڑوں کی کھوج میں در در کی ٹھوکریں نہیں کھایا کرتیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *